پرورش کیسے ؟ | Jamaat-e-Islami Women Wing
August 19th, 2018 (1439ذو الحجة7)

پرورش کیسے ؟

 

صدف آصف


بچے کی پیدائش ہر ماں کے لیے انتہائی غیر معمولی اور خوشی بھرا لمحہ ہوتا ہے۔ شدید تکالیف سہنے کے بعد جب ماں بچے کو پہلی بار اپنی گود میں لیتی ہے تو اسے لگتا ہے کہ یہی اس کی زندگی کا حاصل ہے، لیکن صرف بچے کو دنیا میں لانے سے ہی والدین کی ذمے داری پوری نہیں ہوجاتی، بلکہ اس کی صحیح طور پر پرورش اور اسے تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنا بھی والدین کا فرض ہے۔ بے شک والدین بننا ایک خوش گوار تجربہ ہے، مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ باپ بیرونی مصروفیات اور غمِ روزگار میں الجھ کر کسی حد تک ان ذمے داریوں سے آزاد ہوتا ہے، یوں اولاد کی تربیت کی بھاری ذمے داری مکمل طور پر ماں پر عائد ہوتی ہے۔ بچے کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ماں کا اولین فرض ہے۔ عام طور پر بچہ رو رو کر اپنی تکلیف کا اظہار کرتا ہے۔ ماں کو چاہیے کہ بچے کو اپنا دودھ پلائے۔ دنیا بھر میں ہر جگہ ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا سمجھی جاتی ہے۔ دودھ پلانے والی عورت چھاتی کے سرطان سے محفوظ رہتی ہے۔ ہڈیوں کی کمزوری کا بھی خاتمہ ہوتا ہے۔ ماں کے دودھ میں وہ تمام غذائی اجزا ہوتے ہیں، جو بچے کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ یہ اجزا بچے کو دست، پانی کی کمی اور نمونیا سے محفوظ رکھتے ہیں۔
اگر کوئی مجبوری ہو تو ڈبے، گائے یا بھینسیں کا دودھ بھی پلایا جا سکتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ دو حصے گائے یا بکری کا دودھ، ایک حصہ پانی اور ایک چمچہ شکر ملا کر بچے کو پلائیں۔ بوتل کو بار بار ابالنے کے بعد استعمال کریں۔ نپل اگر پرانی ہو جائے تو تبدیل کردیں، ورنہ بچے کے بیمار ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ بچے کی بیماری کا سب سے پہلے ماں کو پتا چل جاتا ہے۔ عام طور پر نو مولود کو دست، پیٹ اور کان میں درد زیادہ تر صفائی کی کمی اور بے احتیاطی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ نومولود کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا ضروری ہے، کیونکہ کہ اس طرح وہ صحت مند رہتا ہے اور اگر خدا نخواستہ وہ بیمار ہو جائے تو صرف گھریلو ٹوٹکوں پر اکتفانہ کریں، بلکہ کسی مستند معالج سے مشورہ ضرور کریں۔
ہر ماں اپنے بچے کی بہتری چاہتی ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے میں اس کی مدد کرے۔ دماغی نشوونما کے بارے میں کی گئی مغربی تحقیق سے بتا چلتا ہے کہ اوائل عمری میں بچے اپنے اردگرد رونما ہونے والے واقعات کا زیادہ اثر لیتے ہیں۔ پیدائش سے تین سال کی عمر تک کے دوران بچوں کو جو تجربات حاصل ہوتے ہیں، وہ ان کے مستقبل پر بہتر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ہر مرتبہ جب آپ اپنے بچے کو چھوئیں، پیار کریں یا اس سے باتیں کریں گے تو اس پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ درج ذیل کچھ تجاویز آپ کے بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد فراہم کریں گی اور اس کی نشوونما کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔
پیدائش کے بعد سے دو ماہ تک آپ کا بچہ سر اٹھانا سیکھتا ہے۔ ابتدا میں بچہ ماں باپ یا ان چہروں کو یاد رکھتا ہے، جو اس کے ارد گرد رہتے اور اس کا خیال رھکتے ہیں۔ اس عمر میں بچے کی نرم ہاتھوں سے کی گئی مالش اسے بہت سکون دیتی ہے۔ نو مولود رنگین اور گھومنے والی اشکال سے خوش ہوتے ہیں۔ وہ ایک فیٹ دور تک چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ ابتدا میں بچہ ان چہروں کو ہی پہچان پاتا ہے، جو اس کے قریب ہوتے یا اس کا خیال رکھتے ہیں، خصوصاً ماں کا چہرہ جسے دیکھ کر نومولود کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے اور وہ منھ سے خوشی کی آوازیں بھی نکالتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ نومولود تھوڑا سمجھ دار ہو جاتا ہے اور گھومتی چیزوں کو شوق سے دیکھتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے، جب ماں کو چاہیے کہ اس کے ہر کام کے اوقات مقرر کرے، جیسے سونا، مالش وغیرہ۔ مائوں کو ٹوکا جاتا ہے کہ نومولود کو گود میں لینے کی عادت نہیں ڈالنی چاہیے۔ یہ بچے کی صحت کے لیے مفید نہیں ہے، مگر جدید تحقیق بتاتی ہے کہ ماں کی گود بچے کو تحفظ کا احساس دلاتی ہے۔
دو سے پانچ ماہ تک کا بچہ دنیا کے بارے میں مزید سیکھتا ہے۔ اس عمر میں ماں کو چاہیے کہ وہ بچے سے باتیں کرے۔ اس طرح سے بچہ بولنا شروع کرے گا۔ ماں کی باتیں اسے بولنے میں مدد دیں گی۔ بچوں کے قریب مختلف قسم کے رنگ برنگے گھلونے رکھ دیں، اس طرح وہ چیزوں کے بارے میں مزید سیکھے گا۔ اہل خانہ کو چاہیے کہ بچے کے ساتھ کھیلیں، باتیں کریں، بچہ اس عمل سے خوش ہوگا۔ اس عرصے میں بچہ خود سے حرکت کرنے کی کوشش کرنے لگے گا۔ اس کو گرنے اور چوٹ لگنے سے محفوظ رکھنے کے لیے صاف ستھرے نرم گدے پر لٹا دیں۔ چھوٹے بچوں کو نہ خود سے بیٹھنا آتا ہے، نہ چلنا، اس طرح ان کو چوٹ لگ سکتی ہے۔ بچے کے اطراف میں کشن اور تکیہ لگا کر اسے بٹھائیں، جھولے میں لٹائیں یا بستر کے دونوں طرف تکیہ لگا کر لٹائیں، ورنہ بچہ گر سکتا ہے۔
پانچ تا آٹھ ماہ کا بچہ بیٹھنا اور پیٹ کے بل چلنا شروع کرتا ہے۔ اس عمر میں آپ کا بچہ صحیح طرح سے بول نہیں پاتا، مگر وہ آپ کے الفاظ دہرا کر جلد سیکھ سکتا ہے۔ اس عمر میں زیادہ تر بچے اجنبی چہروں سے گھبراتے ہیں اور نئی شکلوں کو دیکھ کر رونا شروع کر دیتے ہیں۔ اس وقت بچے کو تحفظ کا زیادہ احساس دلائیں، ورنہ یہ خوف اس کے لاشعور میں بیٹھ سکتا ہے۔ بچے کو نرم گدے پر لٹا دیں، اس طرح وہ پیٹ کے بل چلنے کی کوشش کرے گا اور اسے آگے بڑھنا آئے گا۔
آٹھ سے بارہ ماہ کا بچہ عمر کے اس حصے میں داخل ہو جاتا
ہے، جب وہ ہر چیز تیزی سے سیکھتا ہے۔ بچے میں تجسس کا مادہ اسے ہر چیز پکڑنے اور ہر جگہ جانے پر مجبور کرتا ہے۔ اس طرح اسے چوٹ بھی لگ جاتی ہے۔ اس عمر میں بچے کا خصوصی دھیان رکھیں۔ بچہ الفاظ کے معانی سیکھتا ہے، نقل اتارتا ہے، چلنے کی کوشش کرتا ہے اور ماں باپ اور دوسرے رشتے داروں کے چہروں کو پہچانتا ہے۔ اس عمر میں ماں اپنے بچے کی بہترین تربیت شروع کر سکتی ہے۔
ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اگر کسی بھی ملک میں دس فیصد بچے بیماریوں کا شکار ہو جائیں تو وہاں ہنگامی اقدامات لازمی ہو جاتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اس کا تناسب حد سے زیادہ ہے، جہاں بچے پیدائشی طور پر بیمار ہوتے ہیں یا پانچ سال کا ہونے سے قبل ہی مختلف قسم کی بیماریوں یا خون کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ غربت، آلودہ پانی، ناقص غذا اور تعلیم کی کمی ہے۔ مائیں اپنے بچوں کی دیکھ بھال اس طرح نہیں کرتیں، جتنی اس کی عمر کے حساب سے ضرورت ہوتی ہے۔ بعض اوقات حالات اتنی خوف ناک صورت اختیار کر جاتے ہیں کہ بچے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ والدین کو شروع سے بچوں کی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ صرف گوشت ہی کھلانے کو صحت مندی کی علامت نہ سمجھا جائے، بلکہ بچوں کو غذا میں سبزیاں، دالیں اور وہ اجزا بھی شامل کرکے کھلائیں، جن سے انہیں طاقت اور توانائی ملے۔ بچوں کی تازہ، کھلی فضا میں لے جاکر ان کے ساتھ کھیلا جائے، تاکہ وہ چست اور توانا ہو جائیں۔ انہیں ابلا ہوا صاف پانی پلائیں۔ روزانہ سوتے وقت ایک کپ دودھ پلائیں۔ تیرا کی کرنا سکھائیں۔ شام میں تیز قدمی کی عادت ڈلوائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی چھوٹی چھوٹی بیماریوں کو ہر گز نظر انداز نہ کریں، بلکہ فوراً علاج پر توجہ دیں، تاکہ وہ بڑی مصیبت سے محفوظ رہیں۔