August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

عورت کے بنیادی حقوق

 

ہر سال 8مارچ کو خواتین کے حقوق کا دن منایا جاتا ہے۔اس ضمن میں دو تین بنیادی سوالات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

٭بنیادی حقوق سے مراد کیا ہے ؟٭ان حقوق کا تعین کون کرے گا؟٭کیا ہمارے معاشرے میں عورت کو وہ حقوق مل رہے ہیں ؟ نہیں تو نہ ملنے کی وجوہات کیا ہیں ؟ اور اس کا حل کیا ہے؟

ان حقوق کا تعین کون کرے گا ؟

٭خواہشات نفس کا تابع انسان؟سوسائٹی؟وقت کی غالب قوم اور اس کے قانون دان؟ یا وہ خالق ومالک جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔

٭ کوئی معاشرہ ہو تہذیب ہو یا تمدن اس کی اصل شناخت وہ بنیادی نظریات ہیں جن پر ان کی تہذیب قائم ہے۔ ہماری تہذیب کی بنیاد دوسری تہذیبوں سے بالکل منفرد ہے ۔

٭اسلامی معاشرے میں تہذیب و تمدن اور حقوق وفرائض کی بنیاد اس کی ربانیت“ ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ اس دنیا کا خالق اور مالک ا ہے اور انسان دنیا میں اس کا خلیفہ ہے ۔اسی کا ” ملک اور اس کا امر ہے“ وہ فرماتا ہے۔

ترجمہ:”لوگوں،اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد وعورت دنیا میں پھیلا دیے۔

٭ اس لیے عورت ہو یا مرد حقوق کا تعین کرتے ہوئے ہمیں پیش نظر یہ رکھنا ہے کہ بنانے والے نے کس کے ذمے کیا فرائض رکھے ہیں اور کیا حقوق رکھے ہیں ؟

اگر ہم اس کو چھوڑ کراز خود ان دائروں کا تعین کرنے لگیں تو بھٹک جائیں گے اور افراط وتفریط کا شکار ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ نے عورت کو

٭ زندہ رہنے کا حق دیا

٭ انسانیت کے شرف سے آراستہ کیا

٭ وہ سارے حقوق دیے اور بن مانگے دیے جن کے لیے آج کی عورت ماری ماری پھر رہی ہے ۔

٭ یہ کمانے کا حق مانگتی ہے ۔اسلام کہتا ہے اس کو کما کر کھلا ،شہزادی بنا کر رکھو یہ آبگینے ہیں قواریر ہیں ان کی حفاظت کرو۔

٭وراثت دی

٭ ماں کو باپ سے تین درجے بلند مقام دیا جنت اس کے قدموں کے نیچے رکھی۔

٭اس گھر کو بھی حرم قرار دیا جہاں عورت رہتی ہے ۔

٭لڑائی جھگڑے مار کٹائی کرنے والے مردوں کو برے مرد کہا۔

٭قصاص ودیت میں برابری دی۔

٭اپنے کمائے ہوئے مال پر تصرف کا مکمل حق دیا ۔

٭ آخرت کے اجر میں برابری رکھی۔

٭شادی میں اس کی مرضی کا حق اس کو عطا کیا۔

٭ ہر لحاظ سے برابری رکھی لیکن دائرہ کار کا فرق رکھا(They are equal but not similar) برابر ہیں لیکن ایک جیسے نہیں.جب ہم نے اس الہامی ہدایت سے منہ موڑا تو بھٹک گئے ۔

٭آج کی عورت ا ورسول کی بجائے مغرب کو راہنما مانتی ہے ۔ برابری(equality)کے پردے میں یکسانیت(similarity)مانگتی ہے؟جو اس کی ساخت بھی نہیں۔

سچ بتائیں!

آزاد وہ عورت ہے جس کا شوہر کما کر لاتا ہے،اسکے ہاتھ پر رکھتا ہے،اس کی ساری ضروریات کا خیال رکھتا ہے،اس کا محافظ ہے،محبت کرتا ہے۔

یا وہ !

٭جو ڈ ائیوو میں موٹر وے پر آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کر کے آتی ہے،یا لاہور سے لندن تک پھر لندن سے لاہور ،اسلام آ باد سولہ سے آٹھارہ گھنٹے کی ڈیوٹی کر کے آتی ہے اور چاہتی ہے کہ تھک کر آرام کرے ،لیکن گھر منہ کھولے کھڑا ہے۔۔۔۔۔۔ ساری ذمہ داریاں اپنی جگہ ہیں ۔راستے میں مسافروں کو بھاگ بھاگ کر لبھانا ہے۔ تھکن کا ظہار بھی نہیں کر سکتی اور گھر آکر شوہر اور بچے سب کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں !

کون آزاد اور آسانی میں ہے خود کما کر کھانے والی یا وہ جسے سب کچھ گھر بیٹھے ملتا ہے

آج کی لبرل عورت کن چیزوں سے آزادی مانگتی ہے۔

٭ شوہر کی قوامیت سے،ماں باپ کی سر پرستی سے،بھائیوں کی غیرت بھری نگاہوں سے،مردانہ لباس پہننے کا حق مانگتی ہے، اپنے دائرے سے نکل کر مرد کے دائرے میں داخل ہونے کا حق مانگتی ہے،فوج پولیس میں بھرتی ہونے کا حق،ہر نوکری میں% 50کوٹہ مقرر کرنے کا حق، سچ بتائیے کیا یہی عورت کے حقوق ہیں جو آج کی ماڈرن عورت مانگتی ہے؟

بلکہ بات اب بہت آگے بڑھ چکی ہے۔

طوائف :بننے کا حق مانگتی ہے۔

٭ہم جنس پرستی کا حق مانگتی ہے۔

٭قتل اولاد کا حق مانگتی ہے۔

٭بغیر نکاح کے رہنے کا حق مانگتی ہے۔

جب ہم ا و رسول کا قانون سازی حق تسلیم نہ کریں گے تو شیطان نفوس ایسے ہی حقوق کا مطالبہ کریں گے۔

سوال یہ ہے کہ! ٭کیا ان تحریکوں کے نتیجے میں عورت کو حقوق مل گئے!یا وہ مزید ظلم کا شکار ہو گئی ۔اس پر غور کیجئے۔

٭عورت کے ساتھ تو مزید ظلم ہو گیا ۔اسے مردانہ ذمہ داریاں بھی کرنی پڑ گئیں ۔اس کے ذمے دوھرے کام آگئے۔وہ کمانے کی مشین بن گئی۔

٭قوامیت کے حفاظتی حصار سے نکل کروہ چوراہے پر کھڑی کر دی گئی ،سائن بورڈز پر آویزاں کر دی گئی ۔

٭اس کا تقدس کہاں کہاں پامال نہ ہوا،اس کو رشتوں سے کاٹ کر اکیلی ماں کا کردار ادا کرنا پڑا۔

٭ماں بہن،بیٹی اور بیوی کے مقدس مقام سے ہٹا کرsex workerبنا دینے کی سازش کی گئی،آج وہ بوائے فرینڈ ز کے ہاتھوں پٹنی ہے،مارکیٹ میں باس(Boss)کے استحصال کا شکار ہوتی ہے،فوج میں ساتھیوں(colleges)کے ہاتھوں عزت گنواتی ہے۔

٭تحریکیں حقوق نسواں(Feminism)کی ہیں لیکن ہوس کسی کی پوری کرتی نظر آتی ہیں!

٭بلندیوں پر دوران پرواز بھی سخت سردی میں کون اس کو مکمل لباس پہننے کی اجازت نہیں دیتا، سائن بورڈ اور میڈیا پر کس کی ہوس کے مظاہر ہیں؟دوہرا کام کر کے کس کی معاونت کرتی ہے؟

٭اگلا سوال یہ ہے کہ اسلام جو حقوق دیتا ہے کیا وہ ہمارے معاشرے میں عورت کو مل رہے ہیں ؟

اس سلسلے میں کوئی مستند سروے میری نظر سے نہیں گزرا،لیکن تمام معاشرتی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ابھی صورتحال ایسی گئی گزری نہیں جیسیNGOsدکھاتی ہیں۔ دوسری جانب صرف عورت استحصال کا شکار نہیں ہے بلکہ معاشرہ مجموعی طور پر زوال کا شکار ہے ،اچھی معاشرتی اقدار کم ہو رہی ہیں،دینی تعلیم کا اچھا بندوبست نہیں،تعلیم بے سمت ہے ،بے مقصد ہے،مہنگائی اور ضرور یات ز ندگی کی فراہمی نا پید ہیں،بے روز گاری کی شرح بہت بڑھ گئی ہے،کرپشن اور بد دیانتی نے معاشرتی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں ،خشیت الہیٰ کی کمی کی وجہ سے مادر پدر آزادی دن رات بڑھ رہی ہے ،میڈیا بے لگام ہے اور بے راہ روی کی تعلیم دے رہا ہے،مغربی تہذیب کی بے ڈھنگی نقالی ہے ،ہر میدان میں برابری کی دوڑ اور میرٹ کے قتل عام نے مردوں /عورتوں میں فرسٹریشن بہت بڑھا دی ہے ،گھریلو جھگڑے اور طلاق ان سب عوامل کے زیر اثر بڑھ رہی ہے ۔

لیکن یہ سوچنابھی اہم ہے کہ جہاں یہ حقوق نہیں مل رہے وہاں اوپر بیان کردہ عوامل کے ساتھ ساتھ کیا صرف مرد ہی عورت کا استحصال کر رہے ہیں؟ بلکہ ہمارے معاشرے میں اکثر اوقات عورت خود ہی عورت کے حقوق سلب کرتی نظر آتی ہے۔

٭بیٹی کی پیدائش پر رونے والی عورت٭ساس/بہو کے جھگڑے کی بنیاد عورت۔

٭دوسری عورت کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والی عورت۔

٭بے جا اخراجات کر کے شوہر کو کرپشن پر مجبور کرنے والی عورت،اور بے شمار پہلو ہیں جن پر ہمیں غور کرنا ہے ۔معاشرہ عورت اور مرد دونوں کے ملنے سے بنتا ہے۔

٭ہمیں سوچنا ہے کہ ہمارے معاشرتی حالات میں ہماری اصل ضروریات کیا ہیں ؟یقیناً یہاں مغرب والے مسائل نہیں ،ہماری ضروریات کچھ اور ہیں۔

حقوق نسواں (Women. Issus)پر کام کرنے والے ماہرین کو مل بیٹھ کر یہ سوچنا ہو گا! ان بنیادی سوالوں کا احاطہ کر کے اس کا جواب تلاش کرنا ہو گا۔اسلام نے اگر حقوق دیے لیکن وہ ادا نہیں ہو رہے تو غور کریں خرابی کہاں ہے؟بہت سارے معاشرتی مسائل غربت،کرپشن کے ساتھ ساتھ یہ دینی تعلیم سے دوری ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کے نظام تعلیم پر غور کرنا ہو گا۔حقوق فرائض میں احساس ذمہ داری اجاگر کرنے والی تعلیم دیں۔

٭تاریخ گواہ ہے کہ قانون کے زور پر فرائض ادا نہیں ہوتے ۔جب کہ ایمان وتقوی کی بنیاد پر ،فضل و احسان کے معاملے ہوتے ہیں اور خاندان سنورتے ہیں۔اور معاشرہ مستحکم ہوتا ہے۔اس ایمان کی آبیاری ہماری ضرورت ہے۔

٭اس کے علاوہ تعلیم کی جہت مقرر کریں،مردوں کو کیا تعلیم دیں،عورتوں کو کس تعلیم کی ضرورت ہے۔اس کا تعین کر کے نصاب تعلیم مرتب کریں ۔

٭وراثت نہیں مل رہی قدیم جہالت ہے تو فکر آخرت مردوں اور عورتوں دونوں میں پیدا کریں ۔

قبائلی رسومات:وٹہ ،سٹی،ونی،قرآن سے شادی یہ سب قرآن اور اسلام سے دوری ہے۔ساس اور بہو کا جھگڑا بھی ان گھرانوں میں نہیں ہوتا جہاں تعلیم اور تقوی ہے۔

مردوں کو روز گار دیجئے ۔غربت کے مسائل حل کیجئے ،تاکہ عورت یکسوئی سے گھر بیٹھ کر اپنا بنیادی فرض ادا کر سکے۔البتہ جہان اسلام اجازت دیتا ہے وہاں اس کے باہر نکلنے کا دروازہ بھی بند نہیں ہونا چاہیے مثلاَ تعلیم تعلم،ظب کا میدان وغیرہ،یا کوئی مجبوری آن پڑے تو کاروبار وتجارت وغیرہ کی اجازت بھی اسلام دیتا ہے اس صورت میں اسے جائے کام work placeپر تحفظ فراہم کرنا بھی معاشرہ اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔

٭مغربIMF ورلڈ بینک کی dictation میں اپنے معاشرے کی چولیں نہ ہلائیں۔ مغرب اپنی گمراہی سے واپس پلٹ رہا ہے ان کی عورتیں اسلام کے دامن میں پناہ لے رہی ہیں ۔

٭ان کے مفکرین کہہ رہے ہیں” مغربی معاشرے میں سب سے زیادہ مظلوم عورت اور بچہ ہیں ان سے عبرت حاصل کریں اور اپنے ممالک کو ان تجربات سے بچائیں۔Richard wikinsاور ایک سکالر پروفیسرPatrick Fogan کہتے ہیں۔مادی ترقی اور وسائل کے لحاظ سے امریکہ اور مغربی دنیا سب سے آگے ہیں اور خاندانی اقدارو روایات کے لحاظ سے مسلمانو تم سب سے آگے ہو۔اپنے اس افتخار کو ختم نہ ہونے دینا“ کا ش ہم سمجھ سکیں ۔۔۔۔

٭آپ سروے کروا کے دیکھیں آپ کے معاشرے میں کتنے%عورتوں کو یہ نہ پسند ہے کہ شوہر ان کو کما کر لا کر دیں اور وہ گھر بیٹھ کر اپنا کام کریں۔

بحیثیت عورت:ہمارا بنیادی حق یہ ہے کہ ہمیں ”عورت“ کی حیثیت سے جینے دیا جائے۔٭کمانے والی مشین نہ بنایا جائے۔

٭بحیثیت مسلمان عورت لباس پردہ حجاب ،حیا ،چادر اور چار دیواری ہمارے حقوق ہیں۔ کسی فرد اور کسی حکومت اور کسی ملک کو یہ اجازت حاصل نہیں کہ وہ ہم سے یہ حق چھیننے یا اس پر قدغن لگائے ۔ہماری عزت ناموس کی حفاظت کی ذمہ داری ہمارے محرم مردوں کے ساتھ ساتھ حکومتوں پر بھی عائد ہوتی ہے ۔

٭کسی حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ عافیہ صدیقی کو ڈالروں کے عوض بیچ دے ۔آمنہ جنجوعہ اور پاکستان کی بے شمار عورتوں کے ساتھ کشمیر ،فلسطین،عراق اور افغانستان کی عورتوں کے شوہروں اور بھائیوں اور جگر کے ٹکڑوں کو اٹھا کر ان کی روحوں اور بدنوں کو زخموں سے چھلنی کر دیں،اور حقوق نسواں کی تنظیموں پر بھی یہ حق عائد ہوتا ہے کہ وہ حقوق کی بات کریں تو محض مغربی عورت کی نقالی نہ کریں ۔مشرق کے دکھوں کو بھی دیکھیں۔کیا اس مہذب دنیا میں ان کے زخموں پر رکھنے والے پھائے میسر نہیں؟