November 22nd, 2017 (1439ربيع الأول3)

تعمیر پاکستان اور آج کی عورت

 
تعمیر پاکستان سے مراد ایسے پاکستان کی تعمیر ہے جو اسلامی نظام کی شکل پوری دنیا میں عملی طور پر دکھائے، جہاں کے مساجد، بازار، تعلیمی ادارے، سیاسی ادارے، قومی ادارے، انسانو ں کے رویے، نظام حیات سب کے سب کلمہ لا اللہ الاللہ کی تصویر پیش کریں۔
تعمیر پاکستان کے لئے سب سے پہلی ضروری چیز یہ ہے کہ خاندان کا نظام مضبوط اور درست ہو اور خاندان کے استحکام کے لئے ضروری ہے عورت تعلیم یافتہ اور اپنے حقوق کی آگہی ہی نہ رکھتی ہو بلکہ مکمل احساس تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی تحریم و تکریم کو بھی قائم رکھے ۔
عورت چاہے جس زمانے کی ہو معاشرے کی تعمیر میں، ترقی میں، اور کسی بھی نظریے کے پرچار میں اس کا کردار اہم ترین رہا ہے۔کہیں حضرت خدیجہؓ کی شکل میں بہترین معاون اور دست راست کے کردار میں، تو کہیں حضرت عائشہؓ کی شکل میں تعلیم و تربیت کا میدان سنبھالے، تو کہیں حضرت فاطمہؓ کی شکل میں معاشرے اور خاندان کے لئے اپنا آپ وقف کرتی ہیں، تو کہیں سر زمین پاکستان کی آزادی میں بی اماں کا کردار ادا کرتی ہیں۔
جب بات آج کی عورت کی ہو تو عورتوں کا ایک طبقہ تحریک نسواں اور Lib کی بات کرتا ہے تو دوسرا طبقہ انتہائی پسماندگی کی زندگی گزار رہا ہے جہاں اسے ایک انسان کا درجہ بھی نہیں دیا جا رہا ہر دو صورتو ں میں عورت کا کردار تعمیر پاکستان میں ہو یا استحکام پاکستان کے لئیے ، تکمیل پاکستان اور خوشحال پاکستان کے لئے خطرناک ہے۔
ویمن اسلامک لائرز فورم کے قیام کا مقصد یہی ہے کہ آگاہی پروگرام کے ذریعے پہلے خواتین وکلاء کی ذہن سازی کی جا سکے کہ قانون کی عملداری ہی میں دراصل حقوق کی پاسداری ہے ۔ تمام قوانین میں عموماََ اور فیملی اور خواتین سے متعلق قوانین میں خصوصاََ اسلامی قوانین سے متصادم قوانین کی نشاہدہی کی جائے اور پھر ان قوانین میں ترامیم کرائی جا سکیں دوسری طرف مسلسل وہ قوانین جو پارلیمنٹ میں زیر بحث ہوتے ہیں یا جو پاس ہو چکے ہیں ان پر تبصرہ، تجزیہ اور ترامیم تجویز کر کے پارلیمنٹ کو بھیجتے ہیں تاکہ صحیح قانون سازی ہوسکے۔ لیکن صرف قانون بننے سے سب صحیح نہیں ہو سکتا۔
تعمیر پاکستان میں آج کی عورت جہاں عورت کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اور اس کے لئے وہ Aggressive اور Out Spoken، Career Minded، ہوتی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ بھی مرد کی طرح اپنا Career بنائے عورت کی عزت اور حفاظت اسی میں سمجھتی ہے کہ وہ Financialy پاورفل ہو جائے، و ہ مرد کے ساتھ معاشرے کی ذمہ داری ادا کرنے کا مطلب صرف اور صرف یہی سمجھتی ہے کہ وہ معاشی میدان میں مرد کے شا نہ بشانہ کام کر ے وہ سمجھتی ہے عورت کی عزت اور حفاظت کا مفہوم یہی ہے کہ وہ career oriented ہو وہ معاشرے میں اپنا مقام بنانے کے لئیے ضروری سمجھتی ہے کہ وہ aggressive ہوout spoken ہو اور needs no one and nothing کی انتہا چاہتی ہے اس رویے کی وجہ سے معاشرے میں انتشار اور dis-balance کی فضا خطرناک حد تک بڑھتی جارہی ہے ۔ کیونکہ بد قسمتی سے پاکستان اس وقت سیاسی انار کی شکار ہے اور ایک مستحکم حکومت سے محروم ہے ایسے وقت میں ہماری ذمے داری بڑھ جاتی ہے ۔ ول اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اگر مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر چاہئیے
تو آج کی عورت کو صحیح رہنمائی دینی ہوگی اس کے لئیے ایک طرف تو ملکی قوانین اور ان کے مکمل نفاذ کو یقینی بنایا جائے دوسری طرف اخلاص کے ساتھ ان کی آگاہی دینے کی ضرورت ہے ، ان قوانین کو حقوق نسواں کی طرف لانا تعمیر پاکستان ہے ۔
اس سارے Scenario یا پس منظر میں ویمن اسلامک لائرز فورم خواتین میں یہ آگاہی پھیلانے
کی کوشش کرتی ہے کہ خواتین کو معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لئیے جو غلط پروپیگنڈے کیے جا رہے ہیں ان کی وجہ سے وہ اپنا فطری فرض ادا کرنے میں ہچکچاتی ہے۔ اور سمجھتی ہے کہ اس پر عائد فرائض دراصل اس کی آزادی پر قد غن ہیں ۔
دوسری طرف معاشرے میں عورت کا کردار ایک سوالیہ نشان ہے
* عورت اپنا معاشی کردار کیسے ادا کرے ؟
*معاشی طور پرمستحکم پاکستان کی تعمیر میں اس کا کردار کیا ہو ؟ اور کہاں تک ہو؟
* اس کی عزت اور حفاظت اور اسکی وہ آزادی جو بحیثیت انسان اور بحیثیت خاتون اسے ملی ہے
اسکی پاسداری بذریعہ قانون کیسے ہو۔؟
WIL یہ یقین رکھتا ہے کہ اگر آج کی عورت تحریک نسواں کے مطالبے کا رخ قرآن و سنت سے جوڑ لے تو نہ صرف اس کو اسکے حقوق ملیں گے بلکہ پورا معاشرہ اپنے حقوق و فرائض کی ادائیگی کی بہترین شکل پیش کرے گا۔