April 10th, 2020 (1441شعبان16)

چراغ طور جلائیں۔۔۔بڑا اندھیرا ہے

 

زر افشاں فرحین
آئیے دنیا میں ہی اپنے گھر جنت جیسے بنائیں جہاں امن و سلامتی ہو ۔ روا داری ہو حقوق کی ادائیگی ہو ۔ عزت و احترام ہو ۔رشتوں کا تقدس ہو ، ذہنی و روحانی تسکین ہو اور پاکستان کی بیٹی ، ماں، بہن ، بیوی اپنے گھر کی ملکہ ہو ۔ یہ خوبصورت خواب کی تعبیر صرف اور صرف اسلامی معاشرے کی ہی تشکیل کے ذریعے ممکن ہے ، مغربی دنیا آج مساوات کے نام پر آزادیٔ نسواں کی تحریک کے ذریعے دنیا بھر کی عورتوں کو خصوصاً مشرقی اسلامی سو سائٹی کی نوجوان خواتین اور طالبات کو اپنا شکار بنا کر خاتون کے حقوق کا نہ صرف استحصال کر رہی ہے بلکہ آج کی خواتین کے حقیقی مسائل کی بھی پردہ پوشی کی جا رہی ہے ۔ اصل حقائق کو چھپا کر(تحریک آزادیٔ نسواں) نہیں بلکہ ممتا کے قتل ’’ بیوی کی گمشدگی‘‘ معصوم نوخیزکلیوں کی عصمت دری اور ہماری اسلامی مشرقی تہذیب کی ہلاکت کا سبب بن گئی ہے ۔ ذرائع ابلاغ کا میدان ہو یا تعلیمی ادارے کھیل اور تفریح کے مواقع ہوں یا ملازمت پیشہ خواتین کے دفاتر یا خاندان معاشرے کی اساس ۔ ہر جگہ اس صنفِ نازک کو جن حالات اور استحصال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور جس کے نتائج بہت تیزی سے آشکار ہو رہے ہیں ۔
آج کی عورت انسانی بنیادی حقوق سے بھی محروم کی جا رہی ہے ۔ سائبان چھن رہے ہیں پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلاق کا شرح تناسب گزشتہ 20 سال میں10فیصد سے40فیصد بڑھ گیا ۔ نئے شادی شدہ نوجوان جوڑے اب علیحدگی چاہتے ہیں اور خلع لینے والی خواتین جو20سال قبل30فیصد تھیں اب ایک سروے رپورٹ کے مطابق60فیصد ہیں ۔
فحاشی و عریانیت کے اس طوفان میں جو میڈیا کے ذریعے سو سائٹی میں تباہی پھیلا رہا ہے خواتین ونوجوان طالبات میں تیزی سے بڑھتا ہوا ڈپریشن( ذہنی دبائو) انہیں خود کشی ، خو ف و گھبراہٹ ، یا منشیات کا عادی بنا رہا ہے ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق تعلیمی اداروں میں طالبات منشیات کی لڑکوں سے زیادہ عادی پائی گئیں ۔
اسلام آباد جیسے شہر کے اعلیٰ تعلیمی ادارے میں خواتین طالبات کا منشیات میں مبتلا ہونا اور اس بات کا والدین و اساتذہ سے اخفا ہونا لمحۂ فکریہ ہے ۔ یہی نہیں جب معاشرے میں مرد جو کہ قوام یعنی نگہبان ہے ، ذمہ دار ہے ، کفالت کا عورت کے تحفظ کا ضامن یہ صنفِ آہن بے روز گاری ، معاشی بد حالی ، احساس کمتری اور ہیجان انگیزی کا شکار ہو گیا ہے ، تو لا محالہ خاندان اور عورت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں ۔ مرد کا متشددانہ رویہ ، عصمت دری کے واقعات کا تناسب گزشتہ دہائی میں دگنا ہو چکا ہے اور کبھی قصور کی زینب تو کبھی مانسہرہ کی عیوض نور ،’’ معصوم نوخیز کلیاں درندگی کا شکار نظر آتی ہیں ۔ خواتین کی شادیوں میں تاخیر نکاح‘‘‘ کی سنت کو مشکل ترین بنا دینے اور غیر شرعی ، غیر ضروری رسوم و رواج ، جہیز ، بری،برادری سسٹم، آئیڈئیلزم اور نوجوان لڑکیوں کا کیئرٹیرازم کا خواب اور تاخیر سے ہونے والی شادیوں کے نتیجے میں بے اولادی کا مرض گزشتہ50 سال کے مقابلے میں70 گنا بڑھ گیا ہے ۔ جس کے نتیجے میں خواتین فرسٹریشن ، عدم تحفظ اور احساس کمتری کا شکار ہیں ۔
ملازمت پیشہ خاتون معاشی جدو جہد میں لگ کر خاندان‘‘ جیسی پناہ گاہ کی بنیادیں کمزور ہوتا دیکھ رہی ہے تو دوسری طرف ہراساں کرنے والے عوامل کو بھی برداشت کر رہی ہے ۔ الغرض آج کی معصوم عورت ، تکریم نسواں چاہتی ہے ، امن و سکون کی متلاشی ہے اس کا سکون اس کی نسائیت اور نسوانیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مرد کے شانہ بشانہ آکر معاشی و سیاسی میدان میں کھڑے ہو جانے ، مرد کی قوامیت کو چیلنج کرنے اور اپنی اصل پناہ گاہ سے فرار ہونے یا آزادی کے نام پر بے باکی و اخلاق یافتگی کی دوڑ لگانے میں نہیں بلکہ ہم آج کی خواہش چاہتی ہیں کہ الحمد للہ جس طرح الخدمت فائونڈیشن ویمن ونگ ٹرسٹ پاکستان ۔ خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے سر گر م عمل ہے اور ہمہ تن خدمت ۔ سراپا رحمت کے مصداق الخدمت کی خواتین پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کی متاثرہ خاتون ،نادار خاندان اور مستحق طالبات کو صحت عامہ ، تعلیم اور روز گار کی فراہمی اور معاشرے میں دکھی ، کمزور خواتین کو فعال اور متحرک مثبت کردار ادا کرنے کے لیے کوشاں ہیں ۔ حکومت پاکستان ہی نہیں ہر عالمی و مسلکی سطح پر قائم تنظیمیں ،افراد ، ارباب اقتدار، ذرائع ابلاغ و دیگر بھی اپنا موثر کردار ادا کریں ، آیے الخدمت ، فائونڈیشن ویمن ونگ ٹرسٹ کے شانہ بشانہ خواتین کے حقوق کا وہ چارٹر منظور کروائیں جو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے آج سے صدیوں قبل دیا تھا ۔ کیونکہ
معاشرے میں ہر سطح پر عورت کی تقدیس و عزت کو تحفظ دیا جائے۔
تعلیمی و معاشی و معاشرتی اداروںمیں ہر جگہ خاتون کو اس کی نسوانیت کا خیال رکھتے ہوئے مقام و مرتبہ دیا جائے ۔
عورت کا معاشی تحفظ وراثت ، کفالت ، مہر کی ادائیگی کے لیے قانون سازی کی جائے ۔
خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو ہر سطح پر روکنے کے لیے ، بلا تاخیر انصاف کی فراہمی کے لیے خاتون محتسب ادارہ قائم کیا جائے ۔
خاندانی نظام کے استحکام کے لیے نکاح آسان کیا جائے ۔
میڈیا کو ضابطہ اخلاق کا پابند اور تکریم نسواں کا محافظ بنایا جائے ۔
کیونکہ قوموں کی عزت ہم سے ہے ‘‘