October 15th, 2019 (1441صفر15)

روداد’’انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین‘‘

 

شگفتہ عمر

’’انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین‘‘ 1996 ء میں قائم ہوئی، جس کے سوڈان میں منعقدہ تاسیسی اجلاس میں 70ممالک کے وفود شریک ہوئے۔پاکستان سے ڈاکٹر کوثر فردوس اور ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی اِس کے بانی ارکان میں سے ہیں۔ سمیحہ راحیل یونین کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل ہیں۔ سابق سینیٹر، ڈاکٹر کوثر فردوس اور سمیحہ راحیل قاضی پاکستان برانچ ، ایشین ریجن اور پھر صدارت کے منصب پر فائز ہوئیں۔ڈاکٹر کوثر فردوس نے 6سال چیئر پرسن کاؤنسل آف ٹرسٹیز کی ذمّے داری بہ حُسن و خُوبی نبھائی۔ان کی دو دفعہ کی مدّتِ صدارت کے اختتام کے بعد 2017 ء میں ہونے والی جنرل کانگریس میں ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی یونین چیئرپرسن منتخب ہوئیں، جب کہ ایشین ریجن کی انچارج کے طور پر ہمارا انتخاب ہوا۔ یونین کا ہیڈ کوارٹر سوڈان میں ہے اور جنرل سیکرٹری کا تقرّر بھی سوڈان ہی سے ہوتا ہے۔ موجودہ جنرل سیکرٹری، ڈاکٹر احمد عفاف محمّد احمد حسین ہیں۔رواں برس کی کانفرنس کے لیے ملائیشیا سے یونین کی رکن، حاجہ ممتاز محمّد نووی حسین نے میزبانی کی پیش کش کی اور اس کا انعقاد نہایت حُسن و خُوبی سے کیا بھی۔ حاجہ ممتاز محمّد نووی حسین، ریاست کلنتان کی حکومت میں خواتین، خاندان اور سماجی ترقّی کی وزارت کا قلم دان سنبھالے ہوئے ہیں۔ ریاست کلنتان نے’’ انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کانفرنس‘‘ کے انعقاد کے لیے حضرت خدیجہؓ کی یاد میں تقریبات کا اعلان کیا اور کاؤنسل آف ٹرسٹیز کے ساتھ ہمہ جہتی تقریبات کا اہتمام کیا۔ کانفرنس میں سوڈان، پاکستان، تُرکی، انڈونیشیا، ملائشیا، تھائی لینڈ، عراق، ملاوی، نائیجیریا، صومالیہ، کیمرون، ٹوگو، آئیوری کوسٹ، یوگنڈا، عمان، ہانگ کانگ اور کوریا سے 55ممبرز شریک ہوئے۔چوں کہ کانفرنس کا مقام’’ کوٹابھا رو‘‘ تھا اور بین الاقوامی پروازیں کوالالمپور تک جاتی ہیں۔ چناں چہ مندوبین وہاں سے مقامی پروازوں کے ذریعے’’ کوٹا بھارو‘‘ پہنچے، جو یقیناً ایک دِقّت طلب کام تھا۔ مندوبین کو اپنے سفری اخراجات کا ذاتی طور پر انتظام کرنا ہوتا ہے، کیوں کہ تنظیم کی طرف سے مرکزی یا مقامی طور پر فنڈز مہیا کرنا ممکن نہیں۔ پاکستانی وفد چھے خواتین پر مشتمل تھا، جس میں انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کی چیئرپرسن، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، انچارج ایشین ریجن کی حیثیت سے ہم، یونین کی مرکزی مجلس عالمات کی رکن ڈاکٹر زیتون بیگم، دردانہ صدیقی، ڈاکٹررخسانہ جبیں اور پاکستان میں یونین کے یوتھ فورم کی انچارج، عائشہ عُمر مرغوب شامل تھیں۔ کوٹابھارو کے ائیر پورٹ پر اُترے، تو حاجہ ممتاز محمّد نووی حسین اپنی ٹیم کے ساتھ استقبال کے لیے موجود تھیں۔ پورے پروٹوکول کے ساتھ’’ گرینڈ ریور ویو‘‘ ہوٹل لے جایا گیا، جہاں انتہائی گرم جوشی سے استقبال ہوا۔

24 جون کو تقریبات کے اہم ترین اجتماع کا دن تھا، یعنی انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کی کاؤنسل آف ٹرسٹیز کا اجلاس۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مندوبین کو خوش آمدید کہا اور ڈاکٹر عفّاف احمد کی سربراہی میں تنظیم کے استحکام اور پھیلاؤ کو سراہا۔نیز آئندہ برسوں کی منصوبہ بندی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔ بعد ازاں، سیکرٹری جنرل نے تنظیمی سرگرمیوں کی تفصیلی رپورٹ سامنے رکھی۔ ہم نے پاکستان، کشمیر اور سری لنکا کی رپورٹ پیش کی۔ ڈاکٹر زیتون بیگم نے پاکستان کی مجلس عالمات کی رپورٹ، ڈاکٹر رخسانہ جبیں نے اقوامِ متحدہ کے تحت خواتین کانفرنس میں شرکت کی رپورٹ اور عائشہ مرغوب نے یوتھ فورم پاکستان کی رپورٹ پیش کی۔ افریقن ریجن کی رپورٹ ڈاکٹر اسماء جمیلہ نبلا مبا(یوگنڈا) نے پیش کی۔ جن ممالک میں کام مستحکم ہے، وہاں سے اُن کے ذمّے داران نے رپورٹس پیش کیں، جن میں ملائشیا، انڈونیشیا، تُرکی، تھائی لینڈ، عراق، صومالیہ، نائیجیریا اور یوگنڈا شامل ہیں، جب کہ جن ممالک میں کام ابتدائی مراحل میں ہے، جیسے کیمرون، ٹوگو اور آئیوری کوسٹ وغیرہ، اُن کے نمائندوں کو بھی حوصلہ افزائی کے لیے رپورٹ پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ شام، اُردن، فلسطین، لبنان، سری لنکا اور کشمیر میں تنظیم عرصۂ دراز سے مستحکم ہے، تاہم وہاں کے ذمّے داران بہ وجوہ کانفرنس میں شریک نہ ہو سکے۔ دوسرے سیشن میں تنظیمی برانچز کی مشکلات اور آئندہ کی منصوبہ بندی پر بات ہوئی۔نیز، اسی حوالے سے 26 اور 28جون کو بھی اجلاس ہوئے۔ ملحقہ ہال میں’’ الیوم انٹرنیشنل ینگ مسلمہ فورم، ملائشیا‘‘ کے تحت طالبات کے لیے کانفرنس کا اہتمام تھا، جس کا عنوان حضرت خدیجہ الکبریٰؓ تقریبات کے تحت’’ حتیٰ تکونی عظیمہ مثل خدیجۃ الکبریٰؓ ‘‘تھا۔کانفرنس میں 500 سے زائد طالبات شریک ہوئیں۔ ملائشیا سے نوجوان مقرّرات کے ساتھ، فلسطین اور ہانگ کانگ سے بھی نمائندگی ہوئی اور پاکستانی یوتھ وفد کی نمائندہ، عائشہ عُمر مرغوب کو بھی خطاب کا موقع دیا گیا۔ اُس روز ریاست کے وزیر اعلیٰ کی اہلیہ کی طرف سے عشائیے کا اہتمام تھا، جسے’’ محابہ ڈنر‘‘ کا نام دیا گیا تھا، اُس میں مندوبین کے علاوہ، شہر کے معزّزین بھی شریک تھے۔ اس ڈنر کی ایک خاص بات یہ تھی کہ منتظمین کی جانب سے تمام مہمانوں کو اپنے روایتی لباس کی تھیم دی گئی تھی، جس کی وجہ سے رنگا رنگ اور مختلف انداز کے لباس دِکھائی دے رہے تھے۔ علاوہ ازیں، عشائیے میں مقامی کلچرل شوز کا اہتمام بھی تھا۔

25 جون کو’’( Summit Kelantan (MISK) Muslim International‘‘ کے عنوان سے ریسرچ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقعے پر انگلش، عربی اور ملے(مقامی) زبان میں ایک ماہ قبل جمع کروائے گئے 78 مقالہ جات کو تین کُتب کی صُورت میں شایع کرکے مصنّفین کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ یہ کام انتہائی قابلِ ستائش اور غیر معمولی تھا۔ ان مقالات میں ہمارا ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی کا مقالہ بھی شامل تھا۔ کانفرنس کا انعقاد تین متوازی سیشنز میں ہوا۔25 جون کی شام کلنتان کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی دعوت پر اسمبلی کا دَورہ تھا، جہاں وفد کو گرم جوشی سے خوش آمدید کہا گیا۔ حاجہ ممتاز احمد نے ریاست کلنتان کی اسلامی پالیسیز وضاحت سے سامنے رکھیں، جس میں ربا سے پاک اکانومی، شراب پر پابندی، پردہ، مَردوں کے لیے بہ حیثیت قوام تعلیم و تربیت کا اہتمام، خواتین کی معاشی خود انحصاری کے لیے مؤثر دست کاری سینٹرز کا قیام وغیرہ شامل ہیں۔وہاں خاندانی نظام کی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں گھریلو تشدّد کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں اور خانگی زندگی عمومی طور پر پُرسکون ہے۔ نوجوان نسل کے لیے صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ کو رول ماڈل بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور یہ تقریبات بھی اسی کا حصّہ تھیں۔ حضرت خدیجہ ؓکے حوالے سے منعقدہ تقریبات کا اہم دن، 25 جون کی کانفرنس تھی، جس میں ریاست بھر سے معزّز طبقات شامل تھے۔ ریاست کے وزیرِ اعلیٰ مہمانِ خصوصی تھے، تو دیگر اعلیٰ عُہدے داران اور اُن کی بیگمات بھی شریکِ کانفرنس تھے۔ وزیرِ اعلیٰ سے لے کر تمام رضا کار مردوخواتین نے ایک ہی تھیم پر مبنی لباس زیبِ تن کر رکھے تھے، جو سُرخ اور سرمئی کا امتزاج تھا۔ ممتاز احمد نووی نے اپنے خطاب میں ریاست میں خواتین کے حوالے سے اعداد و شمار کے ساتھ معاملات، دائرۂ کار اور منصوبہ بندی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ تقریر قومی زبان میں تھی، تاہم شرکاء کو ترجمے کے ساتھ سُننے کی سہولت حاصل تھی۔ اس تقریب میں خواتین کو نمایاں کارکردگی پر ایوارڈز بھی دیے گئے۔12 ایوارڈز ریاست کلنتان اور ملائشیا کے دیگر صوبے کی خواتین کو دیے گئے۔ پاکستان سے ڈاکٹر سمیحہ کو’’ انٹرنیشنل مسلم ویمن لیڈر شپ ایوارڈ‘‘ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اُس روز کا دوسرا اہم سیشن غیر مُلکی وفود میں سے مخصوص خواتین کی تقاریر اور سوالات و جوابات پر مبنی’’ نسواں شیئرنگ سیشن‘‘ تھا۔ ڈاکٹر نور افلاح موسیٰ کی میزبانی میں ملائشیا کی زیلا محمّد یوسف، سوڈان سے ڈاکٹر عفّاف احمد محمد احمد حسین، تھائی لینڈ سے ناتبا کونتھو تھونگ(خدیجۃ الکبریٰ)، تُرکی سے ڈاکٹر رابعہ یلماز، عراق سے ڈاکٹر سحر مولود جابر، صومالیہ سے ڈاکٹر فاطمہ ابوبکر احمد، کیمرون سے ممبالہ انتا گانہ مابا حمادو، یوگنڈا سے ڈاکٹر حلیمہ وکابی اکبر اور ڈاکٹر عصمت جمیلہ نبلامبا، ٹوگو سے ڈارو عالیہ، جب کہ کلنتان سے یعقوب روحانی ابراہیم نے خطاب کیا۔ پاکستان سے ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے’’ Role of Women and Family Towards Building a peaceful Society: A progressive vision ‘‘کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ انتہائی مصروف دن کے بعد وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر عشائیے کا اہتمام تھا۔ گاڑیوں سے اُترتے ہی بارش نے استقبال کیا۔ تاہم، رضاکاروں نے فوراً قطار در قطار چھتریوں کی چھت بنا کر عمارت میں داخلہ آسان کر دیا۔ ہیڈ آف اسٹیٹ کے گھر کھانے کا مینیو اور سادگی بیان سے باہر ہے۔ میز پر چھوٹی چھوٹی کٹوریوں میں پھلوں کے ٹکڑے تھے، جو ہوٹل میں بھی اسی طرح پیش کیے جاتے تھے۔ سنگل ڈش مینیو، گوشت اور آلو کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ،جو انتہائی کم گھی میں پکے ہوئے تھے، اور نان موجود تھے۔ ان تقریبات کو کام یاب بنانے میں 300 کے لگ بھگ انتہائی قابل، مستعد اور مہذّب رضاکاروں کا بہت بڑا حصّہ تھا، جن میں اکثر خواتین اور طالبات تھیں، تاہم مَرد بھی اُن کی معاونت کر رہے تھے۔

’’کوٹا بھارو‘‘ میں آخری روز کچھ گھومنے پِھرنے کا پروگرام بنایا گیا۔ ہوٹل کے ساتھ بہتا کلنتان دریا، اِتنے دنوں سے خاموشی سے ساری سرگرمیاں دیکھ رہا تھا، اُس روز مہمانوں کو لے کر دھیمے دھیمے چلنا اور اُنہیں اس پار اُتارنا یقیناً اس کے لیے باعثِ مسرت ہوگا۔ دریا کے دوسرے کنارے کی دیہات، قصبات کے کلچر سے بھی مستفید ہوئے، جس میں چھوٹے سے گھر میں پپٹ شو، ڈھوڈھا بنانے کی دیسی فیکٹری کا آؤٹ لیٹ، گوشت خشک کرنے اور ناریل کے دودھ سے بسکٹ وغیرہ بنانے کا عمل دیکھا۔ باتک فیکٹری میں سیّاحوں کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈیزائن شدہ فریم موجود تھے، جن پر وہ پینٹ کر سکتے تھے اور قیمتاً بہ طور سوینئرز ساتھ لے جا سکتے تھے۔ ریاست کے تحت قائم خواتین کے انڈسٹریل ہوم کا دَورہ بھی اہم رہا۔ اس موقعے پر ایک یادگاری ایونٹ ڈاکٹر سمیحہ کے ہاتھوں چمپا کلی کا پودا لگایا جانا تھا۔

دوسرے روز وفود علیٰ الصباح کوٹا بھارو سے کوالالمپور روانہ ہوگئے۔ مقامی تنظیم کی جانب سے’’ پتراجایا‘‘ کی سیر کا پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔’’پتراجایا جھیل‘‘ میں شپ کروز کے ذریعے گھومتے پھرتے تمام اہم عمارتوں اور پُلوں کا نظارہ کیا۔جھیل کے کنارے بنے ایک خُوب صُورت ہوٹل میں ظہرانے کے ساتھ IMWU کی مقامی ٹیم نے تعارفی پروگرام رکھا تھا۔بعدازاں، ڈاکٹر سمیحہ راحیل اور ڈاکٹر عفّاف، IMWU کی ایک بانی ممبر، ڈاکٹر ستی ماریہ سے، جو اہم حکومتی عُہدے پر فائز ہیں، ملاقات کے لیے تشریف لے گئیں۔ اُنہوں نے تُرک وفد کے ذریعے ملائشیا میں تُرکی کی سفیر، مروہ کواچی سے بھی ملاقات کی۔ اگلے روز دوحہ ہوتے ہوئے واپس اسلام آباد پہنچ گئے۔

                                                                                                                                                                         بشکریہ جنگ