August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

استحکام خاندان اور اس میں عورت کا کردار

 

(سورۃ النساء آیت نمبر ۱)

ترجمہ: لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دئے اس خدا سے ڈرو جسکا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اورشتہ و قرابت کے تعلقات کے بگاڑ نے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔

انسان کا بنیادی وصف صلہ رحمی :

ہم سب کی تخلیق حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی حضرت آدم علیہ السلام سے ہی حضرت حوا ؑ کو پیدا کیا گیا دونوں مرد اور عورت ایک ہی جنس سے پیدا کئے گئے تاکہ دونوں ایک دوسرے سے سکون حاصل کر سکیں یہ ممکن تھا کہ اللہ تعالی ایک ہی وقت میں بہت سارے مرد اور بہت ساری عورتیں پیدا کر دیتا اور ان سے بیک وقت نسل انسانی کا سلسلہ چل نکلتا لیکن اللہ تعالی جو سب سے بڑھ کر حکیم ہے ۔اس نے ایک ہی مرد کو پیدا کیا اور اس میں اپنے رحم کا کچھ حصہ ودیعت فرمایا اگر کئی مرد اور کئی عورتیں پیدا کر دیتا تو ان میں رحم کا وہ جذبہ مشترک نہیں ہو پاتا ۔اس رحم کے جذ بے کو پوری نسل انسانی میں مشترک رکھنے کے لئے ایک ہی انسانی سے نسل انسانی کی ابتداء کی۔

اللہ تعالی کے نزدیک رشتہ داروں کی اہمیت:

پیارے نبی کریم فرماتے ہیں !

’’ رشتہ داری رحمن کی ایک شاخ ہے‘‘

پس اللہ تعالی فرماتا ہے کہ !

اے رشتہ داری جو تجھے جوڑے گا میں اس سے جڑوں گا اور جو تجھے کاٹے گا میں اس سے کٹ جاؤں گا ۔حدیث بھی رشتہ داری سنبھالنے کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیتی ہے ۔در اصل اللہ تعالی کا ڈر ہی وہ بنیاد ہے جسکی وجہ سے ہم رحم کے رشتے کو نبھا سکتے ہیں اور انسانیت کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں ۔ہر گناہ کی جڑ اللہ تعالی کے ڈر سے دوری ہے اور ہر نیکی کی جڑ اللہ تعالی کے ڈر کا دل میں غالب ہونا ہے ۔

یوں خاندان کی اہمیت ہمارے نزدیک اللہ تعالی سے جڑنا ہے اگر میں اپنے خاندان کو جوڑے رکھتی ہوں اور اسکی تر بیت پر توجہ دیتی ہوں اگر اپنے خاندان کو رول ماڈل بنانا چاہتی ہوں تو اس لئے کہ میرا اللہ تعالی سے تعلق مضبوط ہو جائے اور اگر ہم اسی سوچ کو بنیاد بناتے ہوئے خاندان کی خبر گیری کریں تو یقیناًوہ سوسائٹی وجود میں آئے گی ۔جسے اللہ تعالی چاہتا ہے کہ وجود میں آئے ۔

ایک اور حدیث میں فرمایا:

’’نسب کی اتنی تعلیم حاصل کر لو جس سے اپنے رشتہ داروں سے مل سکو چونکہ صلہ رحمی سے اپنے لوگوں میں محبت پیدا ہوتی ہے موت پیچھے ہٹتی ہے یعنی عمر لمبی ہوتی ہے‘‘

اسلامی معاشرہ میں خاندان کی اہمیت:

اسلامی معاشرہ میں خاندان کی ابتداء ایک مرد اور عورت کے نکاح میں جڑ جانے سے ہوتی ہے نکاح لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے کہ اصل میں وہ ہی خاندان کی بنیاد بنتا ہے ۔اسلئے پیارے نبی نے سہل اور سادہ انداز میں نکاح کی تاکید فرمائی اور ساتھ ہی نکاح کے لئے یہ معیار دیا کہ ’’عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر شادی کی جاتی ہے ۔اسکا مال، حسب ، نسب ، خوبصورتی اور دینداری ۔تمہیں چاہئے کہ تم دیندار عورت کو حاصل کرو‘‘۔

اور ایک جگہ فرماتے ہیں !’’تمہارے یہاں کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام دے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے اپنے جگر گو شے کی شادی کردو اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فساد برپا ہو جائے گا ۔‘‘

اللہ تعالی نے غص بصر کا حکم دراصل کیوں دیا؟؟ اسی لئے کہ دونوں اصناف کی توجہ اپنے گھر کی طرف مرکوز رہے مرد کی نظر اپنی عورتوں تک رہے اور عورت اپنے مردوں تک نظر محدود رکھے یعنی اس حکم سے بھی در حقیقت اللہ تعالی کو خاندان کا استحکام مطلوب ہے ۔ایک خاندان میں وہ سارے نظا م مو جود ہوتے ہیں جو سوسائٹی میں بڑی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں ایک خاندان کا سر براہ اسی طرح سے ہوتا ہے جیسا کہ سوسائٹی میں ہوتا ہے ایک خاندان کا معاشی نظام ہوتا ہے، تعلیمی نظام ہوتا ہے ، سماجی نظام ہوتا ہے، داخلی و خارجی نظام ہوتا ہے یہی سارے نظام جو خاندان میں محدود شکل میں نظر آتے ہیں سوسائٹی میں انکی شکل وسیع پیمانے پر ہو جاتی ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ اگر معاشرے کی اس اکائی کا نظام درست ہو اور اس کی بنیاد اتقوُ اللہ پر ہو تو پھر وہ سوسائٹی مستحکم اور مثالی ہو گی۔اسلامی معاشرہ کو سب سے بڑھ کر مثالی ہونا ہے تاکہ غیر مسلم معاشرہ دیکھ کر ہی اسکی برکتوں اور رحمتوں کا مشاہدہ کر سکیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب ہمارا گھر اور ہمارا خاندان مثالی نمونہ بنے اور یہی قدم در اصل تبدیلی کا ذریعہ بنے گا۔

خاندان میں عورت کی کلیدی حیثیت:

اسلام میں خاندان کا تصور بہت وسیع ہے یعنی اس میں صرف شوہر ۔بیوی بچے نہیں بلکہ رحم سے حاصل ہونے والے تمام رشتے انکو یکجا کرنا محبت کرنا دراصل مطلوب ہے اور اس میں بنیادی اور کلیدی کردار عورت کا ہے ۔اکثر عورتیں ہی خاندان کے لئے فیصلے اور طریقے متعین کر رہی ہوتی ہیں اور یہی دراصل وہ ذمہ داری ہے جس کے لئے اسکو قرآن میں اسکے گھروں میں ٹکنے کے لئے کہا گیا ہے ۔کہ وہ گھروں میں ٹک کر اس خاندان کی مضبوطی کے فرائض انجام دے۔خالق کائنات نے اپنی تخلیق کی صفت کا کچھ حصہ عورت کو ودیعت کیا حالانکہ یہ کام وہ مرد کے سپرد بھی کر سکتا تھا لیکن اس کا ذمہ دار عورت کو بنانا یعنی نسل انسانی کو چلانے کے لئے انسان کی پیدائش کا نام اسکوودیعت کیا ۔اور اللہ تعالی نے اپنی اس صفت میں شامل ہونے پر اسکو اتنے بڑے اعزاز سے نوازا کہ اسکے قدموں تلے جنت رکھ دی ۔مردوں کی تمام محنت اور کفالت کی ذمہ داری کی انجام دہی کے باوجود عورت کو اللہ تعالی نے یہ اعزاز دیا ۔

عورتوں کو اتنا بڑا اعزاز دیا کہ ماں کا رتبہ باپ سے تین گناہ زیادہ اسکے قدموں تلے جنت جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی اس کے لئے جنت کی بشارت اسکی وجہ یہی ہے ۔

ایک حدیث میں پیارے نبی نے فرمایا کہ !

وہی عورت معزز اور مکرم ہے جو بچوں کے حق میں رحیم شفیق ہوتی ہے اور اسکے یہاں کثرت اولاد ہوتی ہے اور ان بچوں کو اسلام کے مطابق تربیت کر کے مجاہد اور مجاہدہ بنانے کے لئے کوشاں ہوں ۔عورت کا یہ کردار دراصل ہمارے لئے رول ماڈل ہے ۔اور وہ صحابیات جنھوں نے گھروں میں بیٹھ کر بچوں کے کردار کی تعمیر کی اور ایسے مجاہدوں کو تیار کیا اور جنہوں نے پھر پوری دنیا میں اسلام کے جھنڈے گاڑے۔اللہ تعالی کے نزدیک معتبر اور مکرم ہونا ہے تو ہمیں بحیثیت ماں اور بیوی اپنے آپکو جانچنا ہوگا۔

پیارے نبی نے کہا کہ!

’’دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے۔‘‘

اور نیک بیوی کونسی ہے فرمایا!

’’جب تم اسکو دیکھو تو وہ تمھیں خوش کردے جب تم اسکو کوئی حکم دو تو اسکی اطاعت کرے اور جب تم گھر پر نہ ہو تو وہ تمہارے گھر اور بچوں کی حفاظت کرے۔‘‘

عورت کے ایمان کا تقاضہ ہے کہ وہ کس طرح اپنے گھر اور اپنے خاندان کی حفاظت کرتی ہے اسکو منظم کرتی ہے اسکو مربوط رکھتی ہے اور اسکو جوڑ کر رکھتی ہے ۔’’یہی آج کی عورت کا امتحان ہے‘‘

خاندانی نظام کے خلاف مغربی ایجنڈا:

یہ اللہ تعالی کی سنت رہی ہے کہ ہر دور میں حق کے مد مقابل باطل ہوتا ہے باطل کی یہ کو شش ہوتی ہے کہ وہ حق کو دبا لے اور حق کے ساتھ شامل ہونے والوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ حق کو پوری دنیا میں نافذ کر دیں یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئیگا کہ جب پوری دنیا میں اسلام نافذ ہو جائے گا جیسا کہ پیارے نبی کے دور میں دیکھ چکے ہیں لیکن اس وقت کے آنے سے پہلے جو جس دور میں ہوگا اس دور کے فتنے کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اس فتنے کو سمجھنا ضروری ہے ۔آج کے دور کا فتنہ عورت ہے۔اس حقیقت سے ہم اچھی طرح واقف ہیں کہ پوری دنیا دو بلاکس میں متقسم ہے ایک طرف اسلمان اور دوسری طرف غیر مسلم طاقتیں ۔غیر مسلم طاقتوں کی لیڈر شپ اس وقت امریکہ کے پاس ہے یا آپ کہہ لیں کے یہودیوں کے پاس ہے اور تمام میدانوں میں امت مسلمہ سے برتری حاصل کرنے کے باوجود جس میدان میں دیکھیں تعلیمی نظام انکا بہترین ہے پوری دنیا کی معیشت انکے قبضے میں ہے۔

ٹیکنا لوجی کے میدان میں مسلم امہ سے کہیں آگے ہے خلا تک میں انکی حکمرانی ہے یعنی کونسی چیز ہے دنیاوی لحاظ سے جو انکے پاس نہیں ہے۔ہر چیز انکے پاس ہے اور اگر کچھ نہیں ہے تو وہ خاندانی نظام نہیں ہے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انکے پاس جو چیز نہیں تھی وہ اسکو حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے لیکن شیطان ہمیشہ الٹی بات سمجھتا ہے کبھی سیدھی بات نہیں سمجھاتا یہی وجہ ہے کہ ان کے دل میں اس وقت انتہائی کینہ ہے کہ ہم جو ہر لحاظ سے سپر پاور ہیں ہم امت مسلمہ کے خاندانی نظام کو کیوں ختم نہ کر سکے لہذا آپکے دور کا سب سے بڑا فتنہ انکے نزدیک خاندانی نظام اور ماں کے گود کی موجودگی ہے۔ہر لحاظ سے انکی کو شش ہے کہ اس خاندان کو متنشر کر دیں فرد کو الگ الگ کر دیں جب فرد الگ الگ ہو جائینگے تو ان کی ضروریات بڑھیں گی جو جو چیز ایک ہی خاندان کے لئے کافی ہوتی تھی اب خاندان کے چار افردا میں چار کی ضروت ہو گی پہلے گھر میں ایک گاڑی ہوا کرتی تھی آج ایک گھر میں چار چار گاڑیاں ہیں اس طرح سرمایہ دارانہ نظام کو تقویت ملے گی ۔ہر فرد اپنی ذات کے لئے سوچے گا ۔اپنی ضروریات پر سوچے گا ۔اور اسکو حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا رہے گا۔ظاہر ہے کہ اس میں سرمایہ دارانہ نظام کی فلاح ہے لیکن اگر خاندان ایک ہی ہو گا ضروریات ایک ہونگی اور وہ ایک ہی یونٹ سے پوری ہو جائینگی جس سے انکی معیشت کو خطرہ ہے۔

اخلاقی لحاظ سے آج وہ ابتری کی حالت میں پہنچ چکے ہیں خاندانی نظام وہاں بکھر چکا ہے اور امت مسلمہ میں نظر آرہا ہے لہذا وہ اس امت سے بھی یہ نظام ختم کرنا چاہتے ہیں اس لئے کہ جو مجاہدین ان سے مقابلہ کر رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ جب تک امت مسلمہ میں ماں کا کردار موجود ہے یہ مجاہدین پیدا ہوتے رہیں گے لہذا اس ماں کے کردار کو ختم کردو ۔اس مسجد کو ختم کردو اور اس مدرسے کو ختم کردو یعنی یہ تین میم ماں ، مسجد، مدرسہ جسکے خلاف آج یہ مغرب اور اسکی تہذیب کھڑی ہے کہ یہ تینوں ادارے کسی صورت ختم کردئے جائیں ۔

قانون سازی میں تمام وہ قوانین جو شریعت کی کسی طرح بھی محافظت کرتے ہوں انکو ختم کردینے کی بات کرتے ہیں ۔اس کے لئے انہوں نے ہر ملک میں الگ حکمت عملی رکھی ہے ۔پاکستان میں حدود آرڈیننس کے خاتمے کی بات کرتے ہیں اتنا اسکا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ آج کی عورت کا شاید سب سے بڑا مسئلہ حدود آرڈیننس سے ہی ہے ۔مستند ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ اس وقت جو میڈیا گروپ حدود آرڈیننس کے خلاف اچانک سر گرم نظر آرہا ہے اسکو بیرون ملک کی ایک تنظیم نے ڈھائی کروڑ روپے اس کام کے لئے دئے ہیں تاکہ قوم کو متفرق کر دیا ، منقسم کر دیا جائے اس لئے نہیں کہ انکے دل میں عورت کا درد پیدا ہو گیا ہے۔بلکہ اس لئے کہ گوادر جسکو فری پورٹ بنایا جارہا ہے لہذا وہاں دنیا بھر کے لوگ اگر رکیں گے اور انہیں جس قسم کی تفریحات درکار ہونگی اس کی تکمیل میں حدود آرڈیننس بہت بڑی رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے ۔لہذا پہلے اس رکاوٹ کو ختم کیا جائے یا نرمی پیدا کی جائے تاکہ پھر انکے دیگر ایجنڈے رویہ عمل آسکے ان غیر ملکی تنظیموں کے ہی کچھ افراد جو ان سے الگ ہو چکے ہیں اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ چونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ پاکستانی عورت علماء کی زبان سے نکلی ہوئی بات پر توجہ دیتی ہے لہذا انہوں نے سوچا کہ ایسے علماء تیار کئے جائیں یا تلاش کئے جائیں جو عالم دین کے نام پر انکو منقسم کر سکیں اور اس کے لئے UNDP ایک باہر کا ادارہ ہے ۔اس نے ۷ کروڑ روپے مقامی این جی او کو دیئے ۔انہوں نے ڈاکٹر فاروق کے نام کے ایک صاحب تلاش کیئے جنہوں نے ایک کتاب لکھی ’’اسلام کی روشنی میں حدود آرڈیننس کا تجزیہ ‘‘ جسکا اختتام انہوں نے اس بات پر کیا کہ یہ ناقص آرڈیننس ہے اور اس میں کوئی چیز قرآن و سنت کی روشنی میں نہیں ہے ۔سات کروڑ روپے جس این جی او کو جس کام کے لئے دیئے جائیں گے اسکو تو وہی کام کرنا ہے اور ویسے ہی کرنا ہے جیسا اسکو کرنے کو کہا گیا ہے۔

خاندانی نظام کے خاتمے کے لئے انکے بہت سے ایجنڈے جو پہلے کام کر رہے تھے اور جو اب بھی کام کر رہے ہیں CEDAW کے نام سے بننے والا اعلامیہ 1945 سے چل رہا ہے کہ عورت کے خلاف تمام امتیازات کا خاتمہ کرکے مرد و زن کی مساوات قائم کی جائے ۔اور اسکے لئے پاکستان حکومت کو جو امداد مل رہی ہے وہ Melenium development Goal ہے یعنی ایک ہزار سال کے اہداف اور وہ اہداف وہی ہیں کہ عورت کے خلاف تمام امتیازات ختم ہوں اسکو ہر سطح کی آزادی ہو۔نت نئے عنوان ہیں لیکن ان کے پیچھے بات دراصل وہی ہے کہ ماں جو رول سوسائٹی میں ہے اسکو ختم کردے ۔عورت کو برابری کے نام پر اس طرح باہر لے آئیں کے اسکو گھروں میں ٹکنے کا وقت ہی نہ ملے اور جب وہ گھروں میں ٹکے ہی گی نہیں وہ بچوں کی تربیت بھی نہ کر سکے گی۔

ہمارا المیہ :

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہمارے نہیں ہیں انکو جہاں سے پیسے مل رہے ہیں انکی بات ماننی ہے اگر انکی بات ٹال دی تو ڈالر کہاں سے ملیں گے ؟ اور بیرونی سازشیں اس وقت تک کامیاب ہو ہی نہیں سکتیں جب یہ اس کو اندر سے تحفظ نہ مل سکے ۔یہ بہت بڑی حقیقت جس کو پاکستان کی عورت یہاں کے قوانین سے بھی مایوس ہے ۔اور پھر دوسری اہم بات کہ اتنی مہنگائی کر دی گئی کہ جس سے ان کے ایجنڈے کو پذیرائی ملی اور چارو نا چار عورت گھر سے باہر نکلنے پر مجبور ہو جائے جب وہ گھر سے زیادہ سے زیادہ باہر رہے اور اسی کی تکمیل کے لئے ہمارے ملک میں لیبر ایکٹ میں سے ترامیم لائی جارہی ہیں کہ ایک عورت صبح کی نکلی ہوئی رات۱۰ بجے گھر لوٹے ان طریقوں سے خود بخود گھروں کا ٹوٹنا خاندانی نظام میں کمزوری آنا اوراس طرف لے جانا جہاں وہ لے جانا چاہتے ہیں ۔اور اس ماحول میں اس عورت کو اس طرح خوبصورت بنا کر پیش کیا گیا ہے کہ وہ گھر سے نکل جائے گی تو معاشرے میں اس کو پروٹو کول ملے گا ظاہر ہے کہ یہ چیز دلفریب لگتی ہے اور اس کی طرف طبیعت لپکتی ہے ۔

اس فتنے سے مقابلے کے لئے ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ ہمارے خاندانی نظام میں وہ کونسی خرابیاں موجود ہیں جو اس نظام میں کمزوری کا باعث بن رہی ہیں ۔

ہمارے خاندانی نظام میں موجود خرابیاں اور اسکے سد باب :

سورۃ النساء کی درج ذیل آیات میں ہمیں اپنے وہ رویے نظر آتے ہیں ۔ جو ہمارے خاندانی نظا م میں کمزوری پیدا کر رہے ہیں۔

’’جو کچھ اللہ تعالی نے تمہیں دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اسکے مطابق ان کا حصہ اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اسکے مطابق ان کا حصہ ہے۔ہاں اللہ تعالی سے اسکے فضل کی دعا مانگتے رہو یقیناً اللہ تعالی ہر چیز کا علم رکھتا ہے ‘‘۔

سورۃ النساء میں ہی آگے اللہ تعالی فرماتا ہے۔

’’اور تم سب اللہ تعالی کی بندگی کرو اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ،ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤاور پڑوسی رشتہ دار ، اجنبی ، ہمسائے سے پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں احسان کا معاملہ رکھو یقین جانو اللہ تعالی کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندا ر میں مغرور ہو اوسر اپنی برائی پرفخر کرے اور ایسے لوگ بھی اللہ تعالی کو پسند نہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں جو کچھ اللہ تعالی نے اپنے فضل سے ان کو دیا ہے چھپاتے ہیں ایسے کافر نعمت لوگوں کے لئے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔‘‘

سورۃ النساء میں ان تمام کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو ہمارے خاندانی نظام میں خرابیوں کا باعث بنتیں ہیں اور ہمارے درمیان تفرقے کا باعث ہوتی ہے۔ان کمزوریوں کو اپنے اندر تلا ش کریں اور سب سے پہلے اپنی ذات سے انکے خاتمہ کا اہتما م کریں۔

ان خرابیوں کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ہم رشتہ داروں سے توقعات زیادہ رکھتے ہیں اور جب وہ ان توقعات پر پورا نہیں اترتے تو بد گمانی کرتے ہیں ۔’’ایک صحابی نے پیارے نبی سے دریافت کیا کہ مجھے وہ عمل بتا دیں کہ جس سے اللہ تعالی مجھ سے راضی ہو جائیں ۔تو آپ نے بندوں کو راضی کرنے کے لئے فرمایا کہ جو کچھ دوسرے بندے کے ہاتھ میں ہے اس سے اپنے آپ کو مایوس کر لو ‘‘ مجھے لوگوں سے کچھ چاہیئے ہی نہیں مجھے تو جو کچھ چاہیئے اللہ تعالی ہی سے چاہیئے نہ مجھے لوگوں سے محبت چاہیئے نہ عزت چاہیئے نہ مال چاہیئے نہ ہی شہرت چاہیئے اگر وہ دیتے ہیں تو اللہ تعالی کا فضل ہے ورنہ ان سے ہمیں چاہت نہیں۔

پیارے نبی نے فرمایا کہ ’’اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ‘‘عموما اسے مال کے مقابلے میں لیتے ہیں لیکن الفاظ اپنے معنوں کے اعتبار سے زیادہ وسیع ہیں انسان صرف مال نہیں دے رہا ہوتا عزت ، احترام ، محبت شفقت بھی دے رہا ہوتا ہے ان تمام چیزوں میں بھی دینے والا بہتر ہے اپنے آپ کو بہتر مقام پر رکھیں اور اللہ تعالی کی اس ہدایت کو یاد رکھیں کہ ’’آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو‘‘۔

اپنے فرائض پر توجہ دیں مجھے کیا کرنا تھا میں نے کیا کیا ۔اسے اپنے حقوق از خود مل جائینگے ۔نعیم صدیقی صاحب کا قول ہے کہ جب انسان کا دل زندہ ہوتا ہے تو وہ یہ سوچتا ہے کہ میتے کتنے فرائض تھے اور میں کتنے پورے کیئے جبکہ جس کا دل مردہ ہوتا ہے وہ یہ سوچتا ہے دوسروں کے کیا فرائض تھے اور اس نے کتنے پورے کیئے لہذا اپنے دل کو زندہ بنائیے ۔

دل زندہ دل نہیں اسے زندہ کردوبارہ

کہ یہی ہے امتون کے مرض کہن کا چارہ

عورت کی ایک آزمائش یہ ہوتی ہے کہ ایک وہ رشتے جو خون کے ہوتے ہیں اور وہ رشتے جو شوہر کے ذریعے سے اسکے رشتہ دار بنے ان دونوں میں تفریق نہ کرنا یعنی اگر ہم سوسائٹی سے بے انصافی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں اپنے اندر سے نا انصافی کو ختم کرنا ہو گا اور دونوں طرف کے رشتون میں توازن قائم رکھنا ہو گا ۔

رشتہ داروں سے شکایتوں کو کنٹرول کریں اور محبت کا اظہار کریں پیارے نبی نے فرمایا’’اگر تمہیں اپنے بھائی سے محبت ہے تو جا کر اس سے اظہار کردو ۔کیونکہ محبت کا اظہار محبت کو تازگی بخشتا ہے ‘‘۔اور اس اظہار کے لئے تحفوں کا دینا بھی اسکا اہم ذریعہ ہے۔

خاندان میں دین پھیلانے کی کوشش:

بچے جن سے ہماری آخرت کی فلاح منسوب ہے ان بچوں کو قرآن سے جوڑیں اور ایک صالح اجتماعیت سے جوڑیں جو اس پر فتن دور کی لازمی ضرورت ہے کہ اس سے ان کو اچھی صحبت بھی ملے گی اور مقصد سے آگاہی بھی حاصل ہو گی ۔اپنے بچوں کو خاندان سے مانوس کریں اور ان کو رشتہ داروں کے مسائل سے دور رکھیں آپس کے اختلافات کی ہوا بچوں کو نہ لگنے دیں۔بیٹیوں کو انکی صفات اور ذمہ داریوں سے آگاہ کریں اور بیٹیوں کو انکے فرائض سے ابتداء ہی سے آگاہ رکھیں اسی کمی کے باعث اسی شعور کے نہ ہونے کے باعث آج کی عورت گھر سے باہر نکلنے کو اپنا حق سمجھتی ہے اور آج کا مرد یہ جانتا ہی نہیں کہ کفالت کی ذمہ داری اس کی ہے ۔شرم و حیا ء کا تصور پیدا کریں انکے رویے انکے لباس انکا اٹھنا بیٹھنا حیادار ہو۔

بحیثیت داعی پیارے نبی کا اسوہ ہے کہ وہ ہر اس جگہ جایا کرتے تھے ۔جہاں لوگ موجود ہوں اور وہ اپنی بات پہنچا سکیں ۔بحیثیت داعی ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ معاشرے کی ہر عورت تک چاہے وہ گھر بیٹھی ہو یا جاب کے لیئے نکلی ہوئی ہو یا سیاست کے میدان میں ہو ان تک یہ بات پہنچائیں کہ آج کے دور کا فتنہ کیا ہے اور اس سے ہمیں کیسے نمٹنا ہے ۔خیر ہر جگہ ہے،خیر کو ہمیں ہی یکجا کرنا ہے اور وہ اتقو اللہ کی بنیاد پر کرنا ہے ۔یہ اس دور کا فتنہ ہے جو عورت کے نام پر ہی بپا ہے اور عورت ہی کے نام پر اسکو قابو کیا جا سکتا ہے۔اور اس کے لیئے ہمیں اس فتنے سے بھر پور آگاہی اور پھر وہ شعور کہہمیں اس کے ادراک کے لیئے کیا کرنا ہے ۔اور اس کے لیئے ہم اپنی زندگی میں توازن پیدا کریں اپنے مقصد کو پہنچاتے ہوئے اس کے حصول میں مصروف عمل رہتے ہوئے گھر اولاد ، خاندان سب کی طرف یکساں توازن رکھنا ۔عورت کے اندر اللہ تعالی نے بڑی لچک رکھی ہے اس کے پاس زندگی کے مختلف ادوار کی مختلف ذمہ داریاں رکھیں اور ہمیشہ ان ذمہ داریوں میں اضافہ ہی ہوتا ہے لیکن وقت تو وہی ۴۲ گھنٹے ہوتے ہیں جس میں وہ ان ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے جب ذمہ داریان کم تھیں تب بھی یہی ۴۲ گھنٹے تھے اور جب ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں تب بھی انہی اوقات میں پورا کرتی ہے بس اس کے لئے ترجیحات کا تعین ضروری ہے ۔

پروردگار ہم سب کو اس فتنے سے پناہ میں رکھے اور اسکا شعور عطا کرے اور اس سے مقابلے کے لیئے اہم کردار جو اسکے خاتمے کا باعث بنے دا کرنے والا بنائے ۔(آمین)