August 19th, 2019 (1440ذو الحجة17)

امریکا ایران کشیدگی، نقصان کس کا؟

 

حبیب الرحمٰن 

مجھے ایک دوست نے ایک واٹس اپ کیا جس میں اٹھائے گئے نکات، امریکا ایران کشیدگی کے حوالے سے، بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اس واٹس اپ میں جو جو نکات بھی اٹھائے گئے ہیں وہ بلاشبہ قابل غور ہیں اور اس جانب جتنی بھی توجہ دی جائے اور اس پر غور و خوض کیا جائے اتنا ہی پاکستان کے حق میں اچھا ہے۔ لکھتے ہیں (یا کسی سے منقول ہے) کہ ’’دنیا کی نظریں پھر پاکستان پر جم گئیں بہت جلد امریکا پاکستان کو یہ پیغام بھیجنے والا ہے کہ وہ ایران کے خلاف بلوچستان میں امریکی فوج کو پناہ دے وگرنہ پاکستان کو اس جنگ میں امریکا کے خلاف سمجھا جائے گا‘‘۔ مشرف دور میں بھی ممکن ہے کہ اسی قسم کا کوئی پیغام آیا ہو جس میں یہ وضاحت طلب کی گئی ہو کہ آیا وہ امریکا کا اتحادی ہے یا پھر امریکا پاکستان کو اپنے مخالفین میں شمار کرے؟۔
اگر غور کیا جائے تو سلیس اردو میں اسے ’’بدمعاشی‘‘ ہی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے یقینا فیصلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا اور فیصلہ جو بھی کیا جاتا اس میں خسارہ ہی خسارہ تھا لیکن اتنا ضرور تھا کہ امریکا کا ساتھ دینے میں فوری طور پر پاکستان امریکا کی جارحیت سے بچ نکلنے کی پوزیشن میں تھا جبکہ انکار کی صورت میں فوری تباہی و بربادی آنکھوں کے سامنے صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ہوا بھی ایسا ہی، پاکستان کو امریکا کی دست برد سے بچے رہنے کے لیے ایک مناسب وقت میسر آگیا لیکن بد قسمتی سے پاکستان اس مہلت سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا اور امریکا کے شکنجے سے نکلنے کی کوئی تدبیر نہ کر سکا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امریکا کا ہدف افغانستان سے زیادہ پاکستان پر اپنے خونخوار پنجے گاڑنے کا رہا ہے لیکن ہر کام کے لیے بہانے بہر حال درکار تو ضرور ہوتے ہیں۔ پاکستان وقتی طور پر تو امریکا کی جارحیت سے بچ رہا لیکن وہ سر پر سوار خطرے سے مکمل آزاد ہونے میں تا حال بری طرح ناکام ہے۔ اصل کھیل یہ تھا کہ پاکستان اس بات کو مانے گا نہیں کہ افغان عوام کو کچلا جائے اور امریکا کو بہانہ مل جائے اور وہ عراق کی طرح پاکستان پر چڑھ دوڑے۔ اب وہی صورت حال ایران کے خلاف متوقع کارروائی کی صورت میں بھی سامنے آتی نظر آ رہی ہے۔ امریکا ایران کے خلاف عراق کی طرز کا گھیراؤ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس کے خلاف کس ملک کی سرزمین استعمال کرے گا؟۔ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جس پر امریکا کی دسترس ہے۔ اس کی سرزمین استعمال میں لائی جاسکتی ہے۔ سب سے مناسب جگہ اور زمین پاکستان ہے اور پاکستان کا بہترین علاقہ بلوچستان ہے۔ گوادر پورٹ سے بہتر امریکا کے لیے کوئی اور بندرگاہ ہو ہی نہیں سکتی اس لیے کہ اس بندرگاہ پر امریکا اپنا ہر قسم کا جنگی ساز وسامان اتار بھی سکتا ہے اور زمینی راستے سے ایران میں داخل بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اس بات کو مسلسل کہا جارہا ہے کہ امریکا کا اصل ہدف پاکستان ہی ہے تو یہاں بھی وہی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے جو امریکا افغان وار کے موقع پر پیدا ہوئی تھی۔ یعنی امریکا کا یہی پیغام کہ کیا پاکستان امریکا کا اتحادی ہے یا امریکا پاکستان کو دشمن ممالک میں شامل سمجھے۔
پاکستان نے کئی لحاظ سے اپنے آپ کو غیر محفوظ بنایا ہوا ہے۔ ایک جانب بھارت ہے جو پاکستان کا بہر لحاظ دشمن ہے۔ ماضی میں افغانستان سے ہمارے تعلقات بہت اچھے تھے لیکن امریکا کا ساتھ پاکستان کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا اور ہم نے پاک افغان سرحدیں غیر محفوظ بنالیں۔ سعودی عرب سے بہت زیادہ قربتیں ہمیں ایران سے دور لے گئیں اور اب پاک ایران سرحدوں کو بھی محفوظ نہیں سمجھا جاسکتا۔ چین بے شک پاکستان میں دلچسپی ضرور رکھتا ہے لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ وہ پاکستان کے لیے امریکا سے لڑے بھی؟۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین اپنے ’’سی پیک‘‘ کا دفاع بہر صورت کرے گا لیکن وہ براہ راست جنگ میں شرکت سے اپنے آپ کو بچائے گا بالکل اس طرح جیسے پاکستان افغان وار میں روس کے خلاف نبرد آزما ہوا تھا لیکن افواج پاکستان پوری طرح جنگ سے باہر ہی تھیں اور مجاہدین کی صورت میں ایک مضبوط فوج تھی جو روس کے آگے ڈٹی ہوئی تھی۔ اس نکتہ نظر کو سامنے رکھا جائے تو بظاہر پاکستان امریکا کے آگے (شاید) ڈٹا ہوا نظر آئے لیکن اصل لڑائی چین ہی کر رہا ہو۔ گویا سرزمین پاکستان کی استعمال ہو رہی ہوگی اور لڑائی چین و امریکا کی۔
پاکستان کے لیے ڈٹ جانا یا ہٹ جانا، ان دو آپشنز کے سوا اور کوئی تیسرا راستہ ہوگا ہی نہیں۔ یہاں گمان غالب یہی ہے کہ پاکستان اس کا ساتھ دے گا جہاں سے ڈالرز برسنے کی امید ہو اور اگر یہی سوچ جو مشرف کے دور میں پاکستان کی حکمت عملی پر غالب آئی تھی، غالب آئی تو چین جو اب پاکستان کا واحد دوست نظر آرہا ہے وہ وقتی طور پر تو ممکن ہے خاموش ہوجائے لیکن آنے والے دور میں وہ بھی پاکستان کے لیے ایک درد سر بن جائے گا اور یوں پاکستان اپنے ہر پڑوس کی ہمدردیوں سے محروم ہوکر رہ جائے گا۔ اسی تناظر میں ذرا آپ ’’کیکڑا ون‘‘ کو سامنے رکھیں۔ غور کریں کہ ایگزون موبیل کا ڈرلنگ کرنا، پریشر کک کا ملنا، ڈرلنگ مکمل ہوجانا، ذخائر کی مقدار کو جانچنے کا عمل شروع ہونا، ڈرلنگ والے مقام کو پاک بحریہ کا حصار میں لے لینا، پھر اچانک ڈرلنگ بند ہوجانا، امریکا ایران ٹینشن کا بڑھ جانا جبکہ یہ مقام ایرانی سرحد سے بہ مشکل سو کلو میٹر دور ہو، کھلے سمندر کو علاقہ غیر قرار دینا اور پاک بحریہ کے چیف کا عمران خان سے ملنا جیسے واقعات کیا ایک دوسرے سے کڑی بہ کڑی جڑے نظر نہیں آتے؟۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان مسلم دنیا کا واحد ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے اور یہ بات ہمیشہ سے امریکا اور دیگر پاکستان اور اسلام دشمنوں کے لیے کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کبھی اس پوزیشن میں نہیں آ سکا کہ وہ اقتصادی لحاظ سے اتنا مضبوط ملک بن جائے کہ اسے دنیا کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں۔ ایسی صورت میں اگر اسے پٹرول اور گیس کے بہت بڑے بڑے ذخائر مل جائیں تو وہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوسکتا ہے اور یہی وہ بات ہے جس کو اسلام دشمن طاقتیں کسی صورت گوارہ نہیں کر سکتیں۔ اس زاویہ نگاہ کو سامنے رکھ کر کیا ’’کیکڑا ون‘‘ کی ناکامی ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی؟۔ اس بات کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ سعودی عرب اور امریکا کی جانب سے پاکستان پر یہ دباؤ آئے کہ پاکستان ایران کے خلاف جارحیت کرے۔ پاکستان کے معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی امکانی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جب ’’کسی‘‘ کا مقصود ہی پاکستان کی تباہی ہو تو وہ کوئی بھی راہ اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان جارحیت کرے تب بھی مستقبل میں خسارہ پاکستان ہی کا ہے اور انکار بھی خسارہ ہی ہے۔
خبروں کے مطابق آرمی چیف کا ایران کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ فوج بڑھانے کا حکم بھی اس بات کی جانب ایک اشارہ ہے کہ اس مرتبہ پاکستان کو بالواسطہ نہیں بلاواسطہ جنگ کا حصہ بنایا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اس مشکل صورت حال سے اپنے آپ کو کس طرح نکالنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ دعا یہی ہے کہ ماضی کی ساری غلطیوں کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل کی درست منصوبہ بندی کی جائے اور قومی یکجہتی کے لیے اپنوں سے قربت بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں بصورت دیگر بیرونی دشمنوں سے کہیں زیادہ اندرونی خلفشار زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔