May 25th, 2019 (1440رمضان20)

چینی مسلمان، عالم اسلام کہاں ہے؟

 

ایغور مسلمانوں کی اکثریت والے چینی صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کے خلاف سخت کارروائیوں کی نئی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔ ان اطلاعات کے مطابق چینی حکام نے ایغور مسلمانوں پر روزہ رکھنے پر پابندی عاید کردی ہے اور ان احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں ان چینی مسلمانوں کو اجتماعی سزائیں دینے کی بھی اطلاعات ہیں ۔ جلاوطنی اختیار کرنے والے ایغور مسلمانوں کی تنظیم ورلڈ ایغور کانگریس نے جرمنی میں موجود اپنے صدر دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاڑھی بڑھانے ، حجاب پہننے ، نمازیں پڑھنے ، روزہ رکھنے اور شراب نوشی کی مخالفت کو انتہاپسندی قرار دیا جارہا ہے ۔ ایغور طالب علموں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اسکولوں کی کینٹین میں کم از کم تین دن دوپہر کے کھانے کے لیے پیش ہوں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں مذکورہ طالب علموں، ان کے اساتذہ اور والدین کو سزائیں دی جائیں گی ۔ ان طلبہ اور ان کے والدین کو حراستی مراکز میں لے جا کر قید کیا جاسکتا ہے جہاں پر مذہب تبدیل نہ کرنے کی صورت میں انہیں سفاکانہ سزائیں دی جاتی ہیں۔ ِایغور مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ نیا نہیں ہے مگر المیہ یہ ہے کہ اس پر پوری دنیا سے کوئی آواز بلند نہیں ہورہی ہے ۔ اقوام متحدہ جو پاکستان میں اہانت رسول کے انفرادی کیس میں تو کود جاتی ہے ، ایغور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر یکسر خاموش ہے ۔ مسلم ممالک سے بھی اس ضمن میں کہیں کوئی آواز نہیں اُٹھ رہی ہے ۔ اصولی طور پر تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم کا اعلیٰ سطحی وفد خود سنکیانگ کا دورہ کرتا اور حالات کا جائزہ لیتا ۔ چینی حکومت سے اس مسئلے پر بات کی جاتی اور چینی حکومت کو اس امر پر قائل کیا جاتا کہ سنکیانگ کے مسلمانوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہ کیاجائے ۔ اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا جاتا تاکہ ایغور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم روکا جاسکے اور انہیں ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دی جائے ۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ ہم اس سے قبل بھی عالم اسلام اور خاص طور سے اسلامی تحاریک سے درخواست کرچکے ہیں کہ وہ اپنے چینی مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور اس ضمن میں بھرپور کردار ادا کریں ۔ ہم اسلامی ممالک اور اسلامی تحاریک سے پھر گزارش کریںگے کہ سنکیانگ میں ہونے والے مظالم پر خاموش نہ بیٹھیں اور اس سلسلے میں اپنا مطلوبہ کردار ادا کریں.

                                                                                                                               بشکریہ جسارت