December 12th, 2019 (1441ربيع الثاني15)

چین میں مسلمانوں پر مظالم کی انتہا

 

چین کے مسلم اکثریتی علاقے سنکیانگ میں چینی حکومت کی چیرہ دستیوں میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔ سنکیانگ سے آنے والی خبریں تشویشناک ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی ہولناک بھی ہیں ۔ حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ہیومین رائٹس واچ کے مطابق چینی حکومت نے سنکیانگ میں بسنے والے ترکی النسل ایغور مسلمانوں کی نگرانی کا نظام کڑا کردیا ہے ۔ ہر ایغور مسلمان پر لازم ہے کہ وہ چینی حکومت کی تیار کردہ ایک ایپلی کیشن اپنے موبائل فون پرڈاؤن لوڈ کرے ۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے چینی ادارے اس امر سے باخبر رہتے ہیں کہ مذکورہ شخص کا کس وقت کیا موڈ تھا، وہ کب جاگااور کب سویا، اس نے گھر سے نکلنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا اور کہاں کہاں پر گیا، کس سے ملاقات کی ۔ گھر میں رات کو کب لائٹیں بند کی گئیں اور صبح کب لائٹیں کھولی گئیں ۔ اس ایپلی کیشن سے اس شخص کی گفتگو بھی ریکارڈ کی جاسکتی ہے ۔ یہ سب اس لیے کیا گیا ہے کہ چینی ادارے کسی بھی شخص کے بارے میں جان سکیں کہ وہ صبح جلدی اٹھ کر نماز تو نہیں پڑھتا ، کسی مسجد میں تو نہیں جاتا ، اپنے دوستوں سے ملاقات کے دوران اس کا موضوع گفتگو کیا ہوتا ہے ، کہیں قرآن مجید کی تلاوت تو نہیں کرتا، دن میں بڑے وقفے تک بھوکا پیاسا رہ کر روزہ تو نہیں رکھ رہا ۔ جس ایغور مسلمان پر ذرا سا بھی شک ہو تو اس کے گھر ایک مبصر بھیج دیا جاتا ہے جو شب و روز اس کے گھر میں رہتا ہے اور اس کی مانیٹرنگ کرتا ہے اور پھر اس شخص کو حراستی مرکز میں بھیج دیا جاتا ہے ۔ 12 سے لے کر 65 برس تک کے ہر ایغور مسلم کا پورا ریکارڈ مرتب کیا گیا ہے یعنی ان کا ڈی این اے ، فنگر پرنٹ اور قرنیہ کی اسکیننگ ، اس سب کا ریکارڈ چینی حکومت کے پاس ہے۔ اس سے قبل اطلاعات آئی تھیں کہ چینی حکومت نے محض شک کی بنیاد پر لاکھوں ایغور مسلمانوں کو حراستی مراکز میں متنقل کردیا ہے جہاں پر انہیں مسلسل ذہنی اور جسمانی تشدد کا سامنا ہے ۔ ایغور مسلمانوں کے ایک جلاوطن رہنما کے مطابق اس کے علاقے میں ایسی تمام مسلم خواتین کو جو ماں بننے کے قابل تھیں ، انہیں زبردستی طبی مراکز لے جا کر بانجھ کردیا گیا ہے ۔ چین میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا ہے ، اس کی مثال نہ تو کہیں تاریخ سے ملتی ہے اور نہ ہی موجودہ صورتحال میں کسی اور ملک سے ۔میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سرکاری سرپرستی میں مظالم شروع کیے گئے ۔ ان کے گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹادیے گئے ۔ جب یہ مظلوم روہنگیا مسلمان پناہ کی تلاش میں نکلے تو تھائی بحریہ نے ان کا شکار کرکے انہیں بین الاقوامی بردہ فروشوں کے ہاتھوں فروخت کرنا شروع کردیا ۔ جو مسلمان کسی نہ کسی طرح بنگلا دیش پہنچنے میں کامیاب ہوگئے وہاںوہ اپنوں ہی کے ستم کا شکار ہیں ۔بھارت میں بھی مسلمان ہندو حکومت کے ظلم کا شکار ہیں ۔ خاص طور سے کشمیر کے مسلمان مسلسل ایک ابتلا میں ہیں ۔ پیلٹ گن سے انہیں اندھا کیا جارہا ہے ۔ سیکوریٹی کے نام پر پورے علاقے کا کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے کشمیری خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی کی جاتی ہے اور نوجوانوں کو گرفتار کرکے ہمیشہ بندی خانے کی نذر کردیا جاتا ہے ۔ اسرائیل بھی فلسطینیوں پر مظالم روا رکھے ہوئے ہے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہا ہے ۔ روز غزہ پر بمباری کی جاتی ہے ۔ بچوں کو پکڑ کر جیلوں میں بند کردیا جاتا ہے جہاں ان پر بہیمانہ جنسی و جسمانی تشدد کیا جاتا ہے ۔ لڑکیوں کی گرفتاری اسرائیلی فوجیوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔ نوجوانو ں اور مردوں کو محض اس لیے قتل کردیا جاتا ہے کہ فلسطین کی آبادی کو روکا جاسکے ۔ غزہ کے مقاطعہ سے فلسطین میں قحط کی سی صورتحال ہے مگر اسرائیل بھی اب تک تشددکے اس درجے پر نہیں پہنچ سکا ہے جہاں پر چین پہنچ گیا ہے ۔ لاکھوں مسلمانوں کو پوری دنیا کے سامنے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، باقاعدہ نسل کشی کی جارہی ہے اور جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کی جارہی ہے۔ اس کے خلاف مزاحمت تو کیا ، اس کے بارے میں کہیں سے آواز بھی بلند نہیں ہورہی ہے ۔ کون سی اقوام متحدہ اور کون سی سلامتی کونسل ، سب کہیں سو رہے ہیں ۔ انسانی حقوق کے ادارے بھی بس کبھی کبھار رپورٹ جاری کرکے اپنا فرض ادا کردیتے ہیں ۔ مسلمان ممالک تو لگتا ہے کہ افیون کے نشے میں اونگھ رہے ہیں ، انہیں اندازہ ہی نہیں کہ جسد مسلم کے ساتھ کیا کچھ ہورہا ہے ۔ انہیں آپس میں لڑنے سے فرصت نہیں ہے ۔ امید کی کچھ کرن نظر آتی ہے تو عوام کی ترجمانی کرنے والی اسلامی تحریکوں سے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ترکی ہو یا پاکستان یا کوئی اور ملک ، کسی بھی اسلامی ملک کی کسی بھی تنظیم کے پاس اس امر کا کوئی انتظام نہیں ہے کہ وہ ہیومین رائٹس واچ کی طرز پر ڈیٹا ہی اکٹھا کرسکے اور پھر منظم طریقے سے اسے دنیا کے سامنے پیش کرے تاکہ چین ، بھارت ، اسرائیل اور میانمار جیسے ممالک پر دنیا کا دباؤ ہی پڑ سکے اور یہ ممالک اس طرح کھلے عام تشدد سے باز آجائیں ۔اپنی اپنی حکومتوں کو مجبور کریں کہ وہ اس پر ہر ممکن اقدام کریں ۔ سمجھ لینا چاہیے کہ جبر اور مشکل حالات کے شکار مسلمانوں کی مدد فرض ہے ۔ قیامت کے دن ہر ایک سے سوال ہوگا کہ جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو تم کیا کررہے تھے ۔ جب قیام کا وقت ہو تو سجدے میں گرنا حماقت ہی کہلاتا ہے ۔ سوچنا چاہیے کہ ہم خاموش رہ کر کہیں ظالموں کے مددگار تو نہیں بن رہے ۔

                                                                                                               بشکریہ جسارت