April 19th, 2019 (1440شعبان14)

صرف پانچ منٹ

 

شامی اخوان المسلمون کی خونیں سرگزشت بیان کرنے والی ہبہ الدباغ کی کتاب کا مطالعہ

افشاں نوید
سرزمینِ شام، جس سے اسلامی تاریخ کی عظمتِ رفتہ وابستہ ہے، گزشتہ دو سال سے خونِ مسلم سے لالہ زار ہے۔ یہاں انسان نما وحشی درندے ظلم و جبر، قتل و غارت گری اور انسانیت سوزی کی بدترین داستانیں رقم کررہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں، بستیوں کی بستیاں ویران ہوگئی ہیں اور لاکھوں افراد ہجرت کرکے پڑوسی ممالک میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں کس مپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہبہ الدباغ کی خودنوشت ’خمس دقائق و حسب‘، جس کا اردو ترجمہ ’صرف پانچ منٹ‘ کے نام سے منظرعام پر آیا ہے، دستاویزی ثبوت فراہم کرتی ہے کہ شام کے اسلام پسند عوام پر انسانیت سوز مظالم کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے، بلکہ گزشتہ چالیس سال سے برابر جاری ہے۔ اس کا آغاز شام کے موجودہ حکمراں کے باپ حافظ الاسد نے کیا تھا۔ اس کا تعلق اشتراکی نظریات کی حامل بعث پارٹی سے تھا۔ اسی طرح وہ گم راہ علوی نصیری فرقے سے تعلق رکھتاتھا۔ اس نے اپنے عہدِ حکومت میں مغربی کلچر اور اشتراکیت کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی، اور اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے فوج اور انتظامیہ میں علویوں کو بھردیا، جب کہ شام کی غالب اکثریت سنّی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ ان میں اسلامی عقائد اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی بنیادیں بہت گہری تھیں، اور وہ غیراسلامی کلچر اور اقلیتی غلبے سے سخت متنفر تھے۔
شامی اخوان المسلمون، جن کی سرگرمیاں مصر میں اس تحریک کی تاسیس (1928ء) کے کچھ عرصے بعد ہی شروع ہوگئی تھیں، حافظ الاسد کے منصوبوں اور عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہر جگہ اس کی مخالفت میں پیش پیش رہتے تھے۔ اس لیے حافظ الاسد ان کی سرکوبی کے بہانے ڈھونڈتا رہتا تھا۔ 1980ء میں سنّی مسلمانوں اور نصیریوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشمکش برپا ہوئی تو بعثی حکومت نے اس کا ذمہ دار اخوان المسلمون کو قرار دے کر ان پر پابندی عائد کردی اور یہ قانون منظور ہوا کہ اخوان سے وابستگی کی سزا پھانسی ہے۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر ان کے ارکان و وابستگان کی پکڑدھکڑ شروع ہوئی۔ جس پر بھی اخوانی ہونے کا شبہ ہوا، اُسے داخلِ زنداں کردیا گیا، جیلوں میں ان پر بدترین تشدد کیا گیا، ہزاروں افراد کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے گولیوں سے بھون دیا گیا، جیلوں میں وقتاً فوقتاً قیدیوں کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ قتل و غارت گری کا نقطۂ عروج وہ واقعہ ہے جو 2؍ فروری 1982ء کو شہر حمات میں پیش آیاتھا۔ اس شہر کو اخوان المسلمون کا گڑھ قرار دے کر اس کا محاصرہ کرلیا گیا اور ٹینکوں، توپوں، بکتربند گاڑیوں اور بھاری اسلحہ کے ساتھ ہلّہ بول دیا گیا۔ شہر میں زبردست تباہی مچائی گئی، پورے پورے محلّے ان کے مکینوں کے ساتھ زمین بوس کردیے گئے۔ اٹھاسی (88) مسجدیں اور تین (3) چرچ بالکل منہدم ہوگئے۔ شہر کا محاصرہ ستائیس (27) روز تک جاری رہا، تقریباً چالیس ہزار افراد کو گولیوں سے بھون کر اجتماعی قبروں میں دفن کردیا گیا، پندرہ ہزار افراد کا کچھ پتا نہ چلا۔ گرفتاریوں، ایذا رسانیوں اور تشدد و سفاکی کا یہ سلسلہ برسوں تک جاری رہا۔ ہبہ الدباغ کی یہ خودنوشت اُسی دور میں شام کے عقوبت خانوں میں اخوان المسلمون کے مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر توڑے جانے والے دل دوز و المناک مظالم کی مختصر روداد ہے۔ ہبہ کا تعلق حمات کے ایک دین دار گھرانے سے تھا۔ وہ ماں باپ، سات بھائیوں اور چار بہنوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہی تھیں۔ ان کے ماں باپ کوئی سیاسی وابستگی رکھتے تھے، نہ خود ہبہ کسی پارٹی کی رکن تھیں۔ صرف اُن کا ایک بھائی (صفوان) اخوان المسلمون کا سرگرم کارکن تھا۔ اخوان پر پابندی عائد کردیے جانے کے بعد ان کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو جو لوگ پڑوسی ملک اردن نکل جانے میں کامیاب ہوگئے ان میں وہ بھی تھا۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں ہبہ حمات چھوڑ کر دمشق چلی گئیں اور وہاں یونی ورسٹی کے شریعہ کالج میں داخلہ لے لیا۔ رہائش کے لیے انھوں نے چند ہم جماعت لڑکیوں کے ساتھ مل کر ایک مکان کرائے پر حاصل کیا۔ ابھی ایک سال بھی پورا نہ ہوا تھا اور امتحان شروع ہونے والا تھا کہ 1980ء کی آخری تاریخ میں نصف شب خفیہ محکمے کے اہل کاروں نے ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بولا اور انھیں اور ساتھ رہنے والی دو لڑکیوں (ماجدہ اور ملک) کو اپنے ساتھ تفتیشی دفتر لے گئے۔ لے جاتے وقت تو انھوں نے کہا تھا کہ صرف پانچ منٹ میں تفتیش کرکے واپس بھیج دیں گے، لیکن ان لڑکیوں کو عقوبت خانوں میں نو سال تک تعذیب و تشدد کے جاں گسل مراحل سے گزرنے کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔
ہبہ پر الزام لگایا گیا کہ وہ اخوان کی آرگنائزر ہے، اس کا ترجمان مجلہ ’النذیر‘ بانٹا کرتی ہے، سید قطب کے افکار پر مشتمل درسِ قرآن دیتی ہے، اپنے پاس اسلحہ رکھتی ہے وغیرہ۔ حالانکہ وہ ان تمام الزامات سے بری تھیں۔ ان کا اگر کوئی جرم تھا تو بس یہ کہ وہ ایک اخوانی کی بہن تھیں۔ ان برسوں میں ہبہ پر کیا کچھ بیتی، اس کا تذکرہ انھوں نے تفصیل سے اپنی اس خودنوشت میں کیا ہے۔ اس کا خلاصہ انھوں نے کتاب کے مقدمے میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
”میں اتنا عرصہ جیل کی کال کوٹھری میں اپنے بھائی کی ’رہین‘ کے طور پر رہی، جو پُرجوش سیاسی کارکن تھا۔ میری زندگی کے بہترین سال قاتل وحشیوں کی نذر ہوگئے۔ میرے اعضا شل ہوگئے اور میری روح نے بڑھاپے کی چادر اوڑھ لی۔ صرف ایک افترا کے سبب جو مجھ پر باندھا گیا۔۔۔ میں نو برس تک جیل کے ایک سیل سے دوسرے سیل، ایک بلاک سے دوسرے بلاک اور ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقل ہوتی رہی۔ نو بنجر برس۔۔۔ ان برسوں میں انسانی رحم کا ہر دروازہ مجھ پر بند کردیا گیا۔ ان کی سزاؤں نے میرے اندر اٹھنے والی ہر امید کا دم توڑ دیا اور بنی نوع انسان سے متعلق ادنیٰ سی آس بھی معدوم ہوگئی، صرف اللہ سے امید زندہ رہی۔۔۔ میں شام کی حکومتی جیلوں کے جہنم میں نوبرس تک بلاقصور کسی اور کی رہین کے طور پر جلتی رہی۔ میں بتا نہیں سکتی کہ عمرِ عزیز کے نو برس اس ملعون نظام میں کس طرح بیتے، جو کچھ پیش آیا اس کی حقیقی تصویر گری سے یہ قلم عاجز ہے۔‘‘ (ص22۔25)یہ صرف ایک خاتون کے ایامِ اسیری کی آپ بیتی نہیں ہے، بلکہ اس میں بے شمار معصوم خواتین کی داستانِ الم آگئی ہے۔ ان خواتین کا جرم اگر کچھ تھا تو بس یہ کہ ان میں سے کوئی کسی اخوانی کی ماں تھی، کسی کی بہن، کسی کی بیوی اور کسی کی بیٹی، یا انھوں نے کسی اخوانی کو اپنے گھر میں پناہ دے رکھی تھی۔ اس خودنوشت میں مصنفہ نے ان میں سے بہت سی خواتین کا تذکرہ نام بہ نام کیا ہے، مثلاً:
الحاجۃ مدیحہ، چالیس کے پیٹے میں تھیں، بالکل ان پڑھ، مگر وہ حلب کی مشہور شخصیت تھیں، ان کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے اپنے گھر کا ایک حصہ ہاسٹل کی طرح بنا رکھا تھا، جس میں رہنے والوں میں سے کچھ لوگ حکومت کو مطلوب تھے۔
الحاجۃ ریاض، چالیس برس کی، غیر شادی شدہ، سیدھی سادی خاتون۔ الزام یہ کہ انھوں نے اخوان کے مصیبت زدہ بعض خاندانوں تک کچھ بہی خواہوں کی دی ہوئی رقم پہنچائی تھی۔ عائشہ کا تعلق حلب سے تھا اور پیشے سے ڈاکٹر تھی۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے حکومت کے خلاف سرگرم کچھ زخمی نوجوانوں کا علاج کردیا تھا۔ مُنیٰ، پینتیس چھتیس سال کی خاتون، تین بچوں کی ماں۔ اس نے ایک اخوانی کو پناہ دے دی تھی، اس جرم میں اسے اور اس کی بہن، بھائی اور باپ کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
حلیمہ، پینتیس برس کی دیہاتی خاتون، پانچ بچوں کی ماں، جن کی عمریں چار سے نو برس کے درمیان تھیں، اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے حکومت کو مطلوب کچھ افراد کو اپنے گھر میں چھپا رکھا تھا۔ منتہیٰ، سولہ برس کی دوشیزہ، شوہر کو حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کے الزام میں قتل کردیا گیا۔ خفیہ پولیس نے اس کی شیرخوار بچی کو پرے پھینکا اور اسے گرفتار کرکے داخلِ زنداں کردیا۔ غزوہ، حمات کی رہنے والی ماہرِ دنداں خاتون۔ جرم یہ کہ اس نے ایک گھر خریدنے میں اخوانی نوجوانوں کی مدد کی تھی۔
مطیعہ، عمر تقریباً چالیس سال، چار بچوں کی ماں، شوہر اخوان کے حامیوں میں سے تھے، گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ فرار ہوگئے تو اسے پکڑلیا گیا۔ وہ اس وقت حمل سے تھی، دورانِ اسیری جیل میں اس کے یہاں ولادت ہوئی۔
ام ہیثم، شوہر اور چار بچوں کے ساتھ اخوان کے حامیوں میں سے ایک کے گھر کرائے پر رہتی تھیں۔ خفیہ پولیس نے چھاپہ مارا تو سب کے ساتھ انھیں بھی گرفتار کرلیا، پھر شوہر کو اسی قیدخانے میں قتل کردیا گیا۔ نجویٰ، حلب کے میڈیکل کالج میں سال دوم کی طالبہ۔ اس کا جرم یہ تھا کہ وہ ایک اخوانی کی منگیتر تھی۔ تفتیشی مراکز اور جیلوں میں ان خواتین کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا اور وحشت و سفاکی کا جو ننگا ناچ دکھایا گیا، وہ خون کے آنسو رُلانے والا ہے۔ کیا کوئی انسان اس حد تک نیچے گرسکتا ہے! ہبہ الدباغ نے اپنی خودنوشت میں اپنے ساتھ پیش آنے والے ظلم و تشدد کی روداد تفصیل سے بیان کی ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:’’ایک اہل کار نے مجھے لکڑی کے تختے پر لٹکاکر میری گردن، کلائیاں، پیٹ، گھٹنے اور پاؤں اس سے باندھ دیے اور مجھے الٹا لٹکادیا۔ میرے پاؤں فضا میں تھے اور ان سے کپڑا ہٹ چکا تھا، صرف جرّابیں ان کو ڈھانپ رہی تھیں۔ اہل کار پوری قوت اور غضب سے چلّایا: سر، دیکھیے، آپ نے نوٹ کیا؟ یہ کہتی ہے، یہ اخوانی نہیں، لیکن اس نے اپنے آپ کو مکمل ڈھانپ رکھا ہے ان ہی کی طرح، اس ٹکٹکی پر بھی اس کا ستر قائم ہے۔‘‘ (ص 53) تفتیش کا ایک اور انداز ملاحظہ کیجیے:
’’تفتیشی افسر کے ہاتھ میں مربع شکل کا بجلی کا بورڈ اور پلگ تھا اور ایک ہاتھ نما چیز تھی، جس پر کلپ لگے ہوئے تھے۔ اس نے کلپ میری انگلی کے ساتھ لگاکر اس میں کرنٹ چھوڑدیا اور ڈنڈے سے میرے پاؤں کے درمیان میں ضرب لگائی، ایسا لگاکہ میرے پورے بدن میں آگ لگ گئی ہو۔ وہ میری چیخوں کو خاطر میں لائے بنا بولا:’’ہوں۔۔۔ تمھیں بکواس کرنی پڑے گی“۔ میں چلائی: ”میں کہہ چکی ہوں، میرے پاس اعتراف کرنے کو کچھ نہیں“۔ وہ سرد مہری سے بولا: ”تم نے دیکھا نہیں کہ بجلی کی طاقت کیا ہوتی ہے؟ یہ ہمارے پاس سب سے ہلکا ٹارچر ہوتا ہے“۔ میں نے کہا: ”اگر ایسا ہی ہو تو بھی کیا میں اُن چیزوں کا اعتراف کرلوں جو میں نے نہیں کیں؟“ اس پر وہ بولا: ”تم جھوٹ کہہ رہی ہو اور ہم سے چھپا رہی ہو۔ تمھیں ابھی ہمارے ساتھ جانا ہوگا اور اُس گھر کی نشان دہی کرنی ہوگی جہاں تمھارا بھائی اور اس کے ساتھی رہتے ہیں، ورنہ ہم تمھیں ہلاکت تک پہنچادیں گے“۔ میرے انکار پر تعذیب کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ آپریشنل ہیڈ پوری قوت سے میرے پاؤں پر کوڑے برسانے لگا۔ پاؤں پر ضرب پڑنے سے پہلے اس کی سنسناہٹ سنائی دیتی۔ ایک اور اہل کار اپنے بید کے ساتھ تعذیب دینے میں شریک ہوگیا۔ دوسرا اہل کار میرے سر کی جانب کھڑا ہوکر میری انگلیوں پر نئے سرے سے کرنٹ لگانے لگا۔ اتنی شدید تکلیف ہوئی جسے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی۔ شروع میں چیختی رہی اور میری زبان پر ’یااللہ‘ کا کلمہ جاری رہا، لیکن کچھ دیر بعد آواز نکالنا بھی میرے بس میں نہ رہا۔ میں سر پٹختی رہی اور مجھے کسی بھی چیز کا احساس نہ رہا۔‘‘ (ص 53۔55) تفتیشی سیل میں ٹارچر کے ایسے ہی وحشیانہ طریقے دیگر خواتین کے ساتھ بھی اختیار کیے جاتے تھے۔ ہبہ نے ان کا تذکرہ اپنی کتاب میں جا بہ جا کیا ہے۔ ان کے مطابق کپڑے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیے جاتے۔ تھپڑوں، گھونسوں، کوڑوں اور ڈنڈوں کی بارش کی جاتی، انگلیوں پر شدید ضربیں لگائی جاتیں اور ناخن کھینچ کر اکھاڑ دیے جاتے، سگریٹ سلگا کر پوشیدہ اور نازک اعضا کو جلایا جاتا، بالوں کو پکڑکر کھینچا جاتا اور سر کو دیوار اور زمین پر پٹخا جاتا، ٹکٹکی پر باندھ کر الٹا لٹکادیا جاتا، بے ہوش ہونے پر پوری قوت سے پانی انڈیلا جاتا، جس سے بسا اوقات قیدیوں کے کان کے پردے پھٹ جاتے، بجلی کا کرنٹ لگایا جاتا۔ اس طرح کے اور بھی بے شمار وحشیانہ طریقے تھے جن کے ذریعے ملزم کو ناکردہ جرم قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ جرم قبول نہ کرنے کا مطلب یہ تھا کہ وہ مسلسل ان اذیتوں سے دوچار رہے، اور جرم قبول کرنے کا نتیجہ لازماً سزائے موت تھی۔
یہ تو خواتین پر مظالم کا حال تھا۔ اخوان کے مردوں کا حال اور بھی بُرا تھا۔ وہ ان جلاّدوں کی نظر میں کسی ہمدردی کے مستحق نہ تھے۔ ان کو سخت سے سخت اذیتیں دینے کی کھلی چھوٹ انھیں حاصل تھی۔ انھیں ہر طرح سے مشقِ ستم بنایا جاتا، ان کے ساتھ جانوروں جیسا، بلکہ اس سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا۔ کتاب سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
’’بلاک میں قیدیوں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی تھی کہ اگر ایک خاتون کروٹ لینا چاہتی تو پورے بلاک کی خواتین کو حرکت دینی پڑتی‘‘ (ص83)۔ ’’اگر ہم اپنی حالت کا مقابلہ نوجوان مرد قیدیوں سے کرتے تو وہ بالفعل جہنم میں رہ رہے تھے۔ جب بلاک میں خواتین قیدیوں کی تعداد دس سے زیادہ ہوجاتی اور ہم دم گھٹنے کی شکایت کرتے، اُس وقت ان کے ایک ایک بلاک میں پچاس سے زیادہ گرفتارانِ بلا ہوتے اور انھیں دن میں بھی سانس لینا دشوار محسوس ہوتا، اور رات کو سونے کے لیے پاؤں دیوار کے ساتھ اونچے کرکے صرف کمر زمین پر رکھ کر سوتے، اور اس میں بھی انھیں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا۔‘‘ (ص 115)
’’ایک روز اہل کاروں نے ایک مسکین کو کمرۂ تعذیب سے نکال کر ہمارے بلاک کے سامنے ڈالا، تاکہ اسے دوسری جگہ منتقل کرکے باقی کسر پوری کرسکیں۔ اس کا چہرہ اور بدن زخموں سے چور تھا۔ پیاس کی شدت سے اس کی زبان باہر نکلی ہوئی تھی اور جسم سے خون رِس رہا تھا۔ وہ گڑگڑاکر پانی کا ایک گھونٹ مانگ رہا تھا، لیکن اسے جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔ کچھ دیر بعد ہم نے کچھ پانی بلاک سے باہر زمین پر بہادیا اور اس نے زمین سے چاٹ لیا۔‘‘ (ص 120)
’’ایک دفعہ ہم نے دیکھا کہ وہ ایک دیہاتی کو پکڑ لائے اور اسے برہنہ کردیا۔ اہل کار دونوں جانب کھڑے ہوگئے اور ڈنڈوں اور لاتوں سے اس کی درگت بنانے لگے۔ وہ اسے ہینڈزاپ کرواکر کبھی ایک طرف بھگاتے اور کبھی دوسری طرف۔ وہ کبھی تیزی سے بھاگتا اور کبھی سست پڑجاتا، حتیٰ کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔ پھر وہ اسے اٹھاکر غسل خانوں میں لے گئے۔ وہ کبھی اس کے سر پر ٹھنڈا پانی ڈالتے اور کبھی تیز گرم۔ وہ مسکین بڑی بے بسی سے چیختا چلاّتا رہا، کسی کو اس پر رحم نہ آیا، گویا وہ بھیڑ بکری ہو قصّابوں کے بیچ میں۔‘‘ (ص 119)
’’جب نوجوانوں کو ہوا خوری کے لیے باہر نکالا جاتا تو وہ بھی بڑا الم ناک وقت ہوتا۔ تعذیب کے باعث وہ سیدھے کھڑے نہ ہوسکتے۔ ٹارچر سے ان کے پاؤں اس قدر سوج چکے ہوتے کہ اس سردی میں بھی وہ جوتا نہ پہن سکتے اور ننگے پاؤں چل رہے ہوتے۔ ان کو ہانکنے کے لیے مسلسل کوڑا برستا رہتا، جیسے وہ جانور ہوں۔ ان کے رنگ اتنے زرد ہوچکے تھے کہ ان کے جسموں سے روشنی نکلتی محسوس ہوتی تھی۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ ایک نوجوان نے بیت الخلاء میں ذرا دیر لگادی۔ اہل کار نے اسے وہیں مارنا شروع کردیا اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ گندگی اپنے منہ میں ڈالے۔ وہ اسے مسلسل زنجیروں سے مار بھی رہا تھا اور انتہائی گندے مطالبات بھی کررہا تھا۔ وہ اس کا منہ زمین پر رگڑ رہا تھا۔ بے چارہ قیدی مدد کے لیے فریاد کررہاتھا، مگر اسے بچانے والا کوئی نہ تھا۔‘‘ (ص256۔257)
دورانِ اسیری ہی ہبہ کو حمات کے قتلِ عام (فروری 1982ء) کے موقع پر اپنے پورے خاندان کی شہادت کی خبر ملی۔ اس واقعہ کو پیش آئے اگرچہ آٹھ ماہ گزر چکے تھے، لیکن اس کا علم اُس وقت ہوا جب قطنا جیل میں قید خواتین کے رشتہ داروں کو ان سے ملاقات کی اجازت ملی۔ اس کی تفصیل خود ہبہ کی زبانی سنیے:’’حمات کا رابطہ بیرونی دنیا سے مکمل طور پر منقطع کردیا گیا تھا۔ اس کی شاہراہیں ذبح خانوں میں تبدیل ہوگئیں اور اس کے باشندے سینکڑوں کی تعداد میں قتل ہونے لگے۔ بجلی، پانی اور خوراک پہنچنے کے راستے بند کردیے گئے۔ یہ محاصرہ سات دن تک جاری رہا۔ ہمارے گھر میں کھانا اور پانی بالکل ختم ہوگیا تو میرے ابا جان باہر نکلے اور حکومتی اہل کاروں سے درخواست کی کہ بچوں کے لیے کھانا دے دیں، خواہ روٹی کا ایک ٹکڑا ہی ہو۔ اس کے جواب میں ایک گولی سنسناتی ہوئی آئی اور ابا جان خون میں لت پت زمین پر گرپڑے۔ میری امّی ان پر روتی ہوئی باہر نکلیں۔ وہ ابھی دروازے تک بھی نہ پہنچی تھیں کہ ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی۔ پھر وہ گھر کے اندر داخل ہوگئے اور وہاں جو بھی نظر آیا اُس کا کام تمام کردیا۔ یاسرچار برس کا تھا، قمر پانچ سال کی تھی، رنا چھٹے برس میں تھی اور سات برس کی صفا نے نیانیا اسکول جانا شروع کیا تھا۔ ان سب کو مارنے کے بعد میری بیس سالہ بہن ظلال کو بھی شہید کردیا۔ میرا چودہ برس کا بھائی عامر اور بارہ برس کا بھائی ماہر بھی ان ہی حادثات کے دوران شہید ہوئے۔ سب نے اکٹھے ہی اپنی نذر پوری کردی اور ان کے لاشے یوں ہی بے گورو کفن پڑے رہے۔ اس واقعہ سے کچھ دن پہلے حلب میں میرے بھائی وارف، جس کی عمر اٹھارہ برس تھی، کی شہادت کا سانحہ پیش آچکا تھا۔ اس طرح مجھے والدین اور آٹھ بہن بھائیوں کی شہادت کی خبر ایک ساتھ ملی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس خبر کا مجھ پر ایسا اثر نہ ہوا جیسا میری ساتھی قیدی خواتین سمجھ رہی تھیں۔ اللہ نے مجھے اس ناگہانی خبر پر صبر اور حوصلہ دیا، کیوں کہ یہ سب ان شاء اللہ شہادت کے درجے پر فائز ہوں گے اور شہادت کی آرزو تو ہر مسلمان کرتا ہے‘‘ (ص171۔167، بہ تلخیص)۔ مصر میں اخوان المسلمون پر توڑے جانے والے مظالم کے تذکرے پر مشتمل متعدد کتابیں منظرعام پر آئی ہیں اور ان کا دیگر زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا ہے، لیکن دیگر مسلم ممالک اور خاص طور پر شام میں اخوان کے ناگفتہ بہ حالات کا دنیا کو بالکل علم نہ تھا۔ ہبہ الدباغ انتہائی شکریے کی مستحق ہیں کہ انھوں نے بڑے موثر اسلوب اور ادبی پیرائے میں اپنی خودنوشت لکھ کر ان کی ایک ہلکی سی جھلک دکھادی ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ، جو بیان الخطیب نامی خاتون نے کیا ہے، کینیڈا سے Just Five Minute کے نام سے 2007ء میں شائع ہوا ہے۔ اردو ترجمہ ’صرف پانچ منٹ‘ کے نام سے میمونہ حمزہ نے کیا ہے اور اسے 2012ء میں لاہور کے مشہور اشاعتی ادارے ’منشورات‘ نے شائع کیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے اور اس کا ترجمہ دیگر زبانوں میں بھی ہو، تاکہ اجتماعی شعور بیدار ہو اور دنیا کو شام کی بعثی حکومت کے انسانیت سوز مظالم سے واقفیت ہوسکے۔