June 27th, 2019 (1440شوال23)

جولان کی پہاڑیاں‘ غرب اردن اور غزہ

 

غزالہ عزیز

کسی ملک کے حصے پر قبضے کے لیے کیا ایک تقریب منعقد کرکے اس کا اعلان کردینا کافی ہے؟ پھر تو یہ بڑا آسان سا معاملہ ہے، یہ کام امریکا نے شام کے مقبوضہ علاقے جولان پر اسرائیلی قبضے کا باضابطہ اعلان کرکے کر ڈالا۔ وائٹ ہاؤس میں تقریب منعقد کی گئی، اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدر نے ایک دوسرے کی تعریفیں کیں، ٹرمپ کے یہودی داماد اور فلسطین میں یہودی آبادکاری کے پُرزور حامی ڈیوڈ فرائیڈ مین سمیت کچھ شخصیات نے شرکت کی اور اعلان کردیا کہ جولان کی پہاڑیاں اسرائیل کا حصہ ہیں، یہ تو ایسے ہی ہے کہ امریکا کی کسی ریاست پر روس، چین یا ہسپانیہ قبضہ کرلے اور پھر اُسے اپنے ملک میں شامل کرنے کا اعلان کردے۔ ویسے اس اعلان سے جولان کی پہاڑیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیوں کہ وہ پہلے ہی پچھلے پچاس برسوں سے اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے اس پر قبضہ کیا تھا۔ لیکن اقوام متحدہ اور امریکا سمیت عالمی برادری نے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ جولان کو ایک مقبوضہ علاقہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اب امریکا نے اسرائیلی قبضے کو قبول کرلیا ہے اور باقاعدہ دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔
اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس کی دلیل بھی انتہائی مضحکہ خیز ہے، یعنی یہ فیصلہ اسرائیل کی سیکورٹی کی وجوہ کے باعث کیا گیا۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ایران اسرائیل کو ہدف بنانے کے لیے شام کا استعمال کرسکتا ہے اور کیوں کہ جولان کی پہاڑیاں فرنٹ لائن پر ہیں لہٰذا انہیں اسرائیل کے قبضے میں دے دیا جائے۔ یہ دلیل ایسی ہے کہ اسے اگر تسلیم کرلیا جائے تو گویا کسی بھی ملک کو کسی بھی ملک کی فرنٹ لائن پر قبضے کی اجازت دے دی جائے۔۔۔ کہ یہ دلیل کافی ہو کہ ایسا سیکورٹی کی وجوہ سے کیا گیا۔ ویسے یہ مثال امریکا، افغانستان، شام اور عراق کے معاملے میں پہلے ہی دے چکا ہے۔ کیمیائی ہتھیاروں کی جھوٹی موجودگی کا دعویٰ اور اپنی سیکورٹی کے خدشات کے پیش نظر عراق اور افغانستان پر حملہ آور ہوا۔ یہ اور بات ہے کہ اب اٹھارہ سال بعد واپسی کے لیے پریشان ہے اور ناک رگڑ رہا ہے۔ اسرائیل امریکا کی حمایت کے ساتھ بڑی تیزی سے مزید علاقوں پر قبضہ جمانے کی تیاریاں کررہا ہے۔ جولان کی پہاڑیوں کے بعد غرب اردن کے مقبوضہ علاقے اُس کی زد میں ہیں۔ ان پر بھی اسرائیل نے 1967ء ہی میں قبضہ کیا تھا۔ یہاں فلسطینیوں کی بڑی آبادی ہے۔ غرب اردن میں اسرائیلی فوج آئے روز آپریشن کرتی رہتی ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی شہید اور زخمی ہوتے رہتے ہیں۔ دو دن قبل انیس سالہ فلسطینی امدادی کارکن ’’ساجد مظہر‘‘ شہید اور تین امدادی کارکن زخمی ہوگئے۔
صہیونی افواج فلسطینی مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلاتی ہیں، اور پھر زخمیوں کو جیل میں بھر دیتی ہیں جہاں ان کو مشکل ہی سے کوئی طبی امداد دی جاتی ہے۔ اس وقت اسرائیل نے فلسطین کے محصور علاقے غزہ پر بمباری کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ ان حملوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے وائٹ فاسفورس بم اور میزائلوں کو استعمال کیا جارہا ہے۔ مسلسل بارہ گھنٹے تک جاری رہنے والی بمباری کا نشانہ غزہ کی ہر عمارت تھی، شہریوں کے گھر، اسپتال، اسکول، کھیت کھلیاں ہر چیز اور ہر جگہ پچھلے کئی برسوں سے اسرائیلی فوج نے طاقت کا استعمال شروع کررکھا ہے۔ ایسی اندھا دھند طاقت کے ظالمانہ استعمال کے ذریعے وہ فلسطینیوں کے جذبہ حریت کو دبانا چاہتا ہے۔ مگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پایا ہے۔ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران میں غزہ پر تین بار بڑی جنگ مسلط کی گئی جو کئی کئی ہفتے جاری رہی، اس دوران غزہ کے عوام ہر وقت حالت جنگ میں رہے، وسیع پیمانے پر بنیادی شہری ڈھانچہ متاثر ہوا لیکن فلسطینی آزادی کی تحریک مزید قوت کے ساتھ چلاتے رہے۔ جس میں بچے، بوڑھے، جوان، خواتین سب نے بے خوف حصہ لیا۔ کیوں کہ طاقت کا استعمال فلسطینی قوم کے جذبہ حریت کو اور تیز کردیتا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ غزہ کی پٹی سے داغے گئے میزائل وسطی فلسطین میں تل ابیب (نام نہاد اسرائیلی ریاست کے دارالحکومت) میں جا گرے۔ میزائل کے ان حملوں سے حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ اسلامی جہاد اور دیگر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے لیے یہ بات حیران کن ہی نہیں پریشان کن بھی ہے۔ انہیں ہرگز اس بات کی توقع نہ تھی کہ فلسطینیوں کے میزائل پارکٹ تل ابیب کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ ان دو راکٹ حملوں کے بعد تل ابیب کے شمالی علاقوں میں رہنے والے یہودیوں کو محفوظ علاقے میں منتقل ہونے کی ہدایت کردی گئی اور اسرائیلی وزیراعظم نے وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر میں اہم اجلاس بلالیا اور راکٹ حملوں سے نمٹنے پر غور کیا گیا۔ یہ راکٹ ایسے وقت میں داغے گئے جب حماس اور مصر کی قیادت غزہ کے امن کے لیے ایک اہم اجلاس میں شریک تھی۔ کیوں کہ حماس اس وقت مصر کے ذریعے غزہ میں طویل جنگ بندی کے لیے کوشش کررہا تھا۔ ان حملوں کے فوری بعد مصری وفد غزہ سے نکل گیا تھا۔ اسرائیل میں میزائل کے ان حملوں کے بعد چند سوالات بڑی شدت سے اُبھرے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اگر فلسطینی مزاحمتی تنظیمیں اس حملے میں ملوث نہیں تو یہ حملے کرنے والے پھر کون لوگ ہیں؟ اور اسرائیل کا آئرن ڈوم سسٹم کیوں ناکام رہا؟ اس ایک ماہ میں دو مرتبہ فلسطینی میزائل تل ابیب تک کیسے پہنچ پائے؟۔ بہرحال امریکا کی مدد سے اسرائیل فلسطینی علاقوں غرب اردن اور جولان کی پہاڑیوں پر قبضے کا اعلان کرتا رہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ سارے فوجی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کے باوجود صہیونی عسکری ادارے مایوسی اور خوف میں مبتلا ہیں۔