September 22nd, 2019 (1441محرم22)

حسینہ واجد کی خون آشامی رکی نہیں

 

بنگلادیش میں جماعت اسلامی کے مزید 4اور ایک اپوزیشن رہنما کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔یہ سزا بنگلا دیش کے ایک ٹریبونل نے جماعت اسلامی کے 4 رہنماؤں اور ایک اپوزیشن رہنما کو قتل، اغوا، جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار اور زیادتی کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جانب سے 1971 کی جنگ کے حوالے سے بنائے گئے متنازع ٹریبونل کی جانب سے جماعت اسلامی کے 6سرکردہ رہنماؤں کو پہلے ہی پھانسی دی جاچکی ہے جبکہ جماعت اسلامی پر پاکستان کی حمایت کا الزام لگا کر پابندی بھی عاید کی جاچکی ہے۔جب سے شیخ حسینہ واجد برسرا قتدار آئی ہیں، بنگلا دیش بھارت کی ایک طفیلی ریاست کا درجہ اختیار کرچکا ہے اور بنگلا دیش میں وہی پالیسی اختیار کی جارہی ہے جو مودی کی منشاء کے مطابق ہو ۔ چاہے اسلام پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہو یا روہنگیا مہاجرین کا مسئلہ ہو، بنگلا دیش کی پالیسیاں انسانی حقوق سے یکسر متصادم ہیں ۔ دنیا بھر کے وہ لبرلز جو عادی مجرموں اور سیریل کلرز کو بھی پھانسی دینے کے خلاف ہیں اور اس کے لیے قیامت برپا کردیتے ہیں ، وہ بھی بنگلا دیش میں ان پھانسیوں پر دم سادھے ہوئے ہیں ۔ اصولی طور پرحسینہ واجد کو لگام دینے کے لیے پاکستان کو ہی یہ مسئلہ اقوام عالم کے سامنے پیش کرنا چاہیے کیوں کہ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پاکستان کی حمایت کے جرم میں ہی پھانسی دی جارہی ہے مگر پاکستان بھی ہر اس معاملے پرپراسرار مجرمانہ خاموشی اختیار کرلیتا ہے جس میں بھارت کی خفگی کا اندیشہ ہو۔ جماعت اسلامی کے جن رہنماؤں کو پاکستان کی محبت کے جرم میں سزا دی جارہی ہے ، ان کی عمریں 1971 میں اتنی نہیں تھیں کہ وہ کسی جرم کا ارتکاب کرسکتے۔ خود بھارتی انٹیلیکچوئل اور تحقیقکار اس امر کا اعتراف کرچکے ہیں کہ بھارت اور بنگلا دیشی حکومت کی جانب سے اجتماعی آبروریزی اور قتل کے لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں تاہم حسینہ واجدبنگلا دیش سے ایک ایک اسلام پسند کو کچلنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں چاہے اس کے لیے انہیں کسی بھی جھوٹ کا سہارا لینا پڑے ۔ بنگلادیش کی حکومت نے عدالتی قتل کے لیے جو خصوصی ٹریبونل تشکیل دیا ہے وہ کہیں سے بھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا ۔ پھر بھی محض سرسری سماعت کے بعد سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس ٹریبونل کے ذریعے قتل کے احکامات جاری کردیے جاتے ہیں اور عالمی برادری اس پر خاموش رہتی ہے ۔ گزشتہ 20 برسوں میں جس طرح سے پوری دنیا میں مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام ہوا ہے ، اس کی نظیر شاید ہی تاریخ سے مل سکے ۔ کئی ملکوں کی پوری کی پوری آبادی ہی جنگ کی نذر کردی گئی اور سب خاموشی سے دیکھتے رہے ۔ بعد میں ٹونی بلیئر جیسے جنگی مجرموں نے اس امر کا ضرور اعتراف کیا کہ انہوں نے جنگ کا آغاز کرنے کے لیے جھوٹ بولا تھا مگر ان کا کہیں پر بھی اور کسی بھی سطح پر کوئی عدالتی احتساب نہیں ہوا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال بنگلا دیش کی بھی ہے۔ یہ معاملہ صرف جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے عدالتی قتل عام کا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہے ۔ روہنگیا مہاجرین کو ایک ایسے غیر آباد جزیرے پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنالیا گیا ہے جہاں پر پینے کا پانی بھی موجود نہیں ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حسینہ واجد مسلمانوں کے ساتھ وہ کام کررہی ہیں جو برمی حکومت بھی خواہش کے باوجود نہیں کرسکی ۔ حسینہ واجد کو روکنے کی ذمہ داری پورے عالم اسلام پر اور خصوصی طور پر پاکستان پر ہے ۔ اس معاملے کو اگر محض احتجاج تک محدود رکھا گیا توسمجھ لینا چاہیے کہ یہ مظالم نہ صرف ایسے ہی جاری رہیں گے بلکہ ان میں اضافہ بھی ہوگا۔ پاکستان کی اسلامی تحریکوں کو اس معاملے پر خصوصی طور پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کی اسلامی تحریکیں برادر اسلامی ممالک کی اسلامی تحاریک کو بھی اس معاملے سے آگاہ کریں اور انہیں بھی متحرک کرکے عالمی احتجاجی تحریک کو منظم کریں ۔ یہ تمام تنظیمیں اپنے اپنے ممالک کی حکومتوں پر بھی اثر انداز ہوں کہ وہ بنگلا دیش کی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ میں بھی لے جایا جائے ۔ یورپ ،ا مریکا، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں بنگلا دیش کے سفارتخانوں کے باہر مظاہروں کا اہتمام کیا جائے اور ان ممالک کے ارکان پارلیمنٹ کو بھی حقائق سے آگاہ کرکے ان سے درخواست کی جائے کہ وہ اس بارے میں بنگلا دیشی حکومت کو خط تحریر کریں ۔ اقوام متحدہ کے باہر خصوصی طور پر احتجاج کا بندوبست کیا جائے ۔ اگر ملا عبدالقادر کی شہادت کے وقت ہی پاکستان کی اسلامی تحاریک متحرک ہوجاتیں اور گلی کوچوں میں چند سو افراد کے احتجاج کے بجائے عالمی سطح پر احتجاجی تحریک کو منظم کرتیں تو آج بنگلا دیش میں عدالتی قتل کا یہ سلسلہ رک چکا ہوتا ۔ پاکستان میں مجرمانہ خاموشی کا مطلب عملی طور پر حسینہ واجد کے مظالم پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے ۔یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حسینہ واجد کے جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور روہنگیا مہاجرین پر مظالم ہوں یا مودی کے مقبوضہ جموں و کشمیر اور گجرات میں مسلم کش خونریز منصوبے ہوں ، انہیں روکنے کے لیے بددعا اور کوسنوں سے کام نہیں چلے گا ۔ اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے ۔ اگر اب بھی ایسا نہ کیا گیا تو سمجھ لینا چاہیے کہ عالمی سطح پر ایک مسلم برادری کا تصور عملی طور پر مر چکا ہے ۔ 

                                                                                                                        بشکریہ جسارت