August 19th, 2019 (1440ذو الحجة17)

کیا یہ عیسائی دہشت گردی نہیں؟

 

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں نماز جمعہ کے بعد دو مساجد میں دہشت گردی کے حملے نے پورے عالم اسلام کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔50 مسلمانوں کی شہادت نے عالم اسلام کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرگیا ہے ۔اب تک کی تفصیلات کے مطابق یہ حملہ کوئی حادثہ یا کسی واقعے کا اچانک ردعمل نہیں تھا بلکہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا تھا اور اس میں کم سے کم چار افراد کے شریک ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ اس میں مزید افراد بھی شامل ہوں ۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس حملے کی منصوبہ بندی چار ماہ سے کی جا رہی تھی ۔ اس سانحے کی پوری دنیا نے مذمت کی ہے تاہم اس واقعے کی جو شدت ہے ، اس کے مقابلے میں مذمت کی آواز پست ہے ۔ یہ سوال اپنی جگہ درست اور اہم ہے کہ اگر یہ سانحہ اس کے الٹ پیش آتا یعنی حملہ آور کوئی مسلمان ہوتا اور یہ حملہ کسی چرچ پر عبادت کے دوران پیش آتا تو کیا پوری دنیا کا ایسا ہی ردعمل آتا ۔ ماضی کے واقعات بتاتے ہیں کہ ایسی صورت میں پوری دنیا میں مسلمانوں پر زمین تنگ کردی جاتی ۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے مسلمانوں کو نکالنے کی مہم شروع کردی جاتی ۔ جس ملک سے اس حملہ آور کا تعلق ہوتا ، اس ملک کی کمبختی آجاتی ۔ چونکہ حملہ آور مسلمان نہیں ہے اور شہید ہونے والے مسلمان ہیں ، اس لیے اس قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ جنوری 2015 کی بات ہے کہ ہفت روزہ شارلی ہیبڈو پر ہونے والے حملے جس میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے ، کی مذمت کے لیے دنیا کے اکثرممالک کے سربراہان مملکت پیرس میں جمع ہوگئے تھے ۔ انہوں نے ہاتھ میں ہاتھ میں ڈال کر اس حملے کے خلاف احتجاج میں شرکت کی تھی ۔ دہشت گردی کی کوئی بھی حمایت نہیں کرتا مگر دنیا کے اس دہرے رویے کی ہر کوئی مذمت کرتا ہے کہ حملے میں کوئی مسلمان ملوث ہو تو پوری مسلم دنیا کو اس کا ذمے دار ٹھیرایا جاتا ہے اور اگر یہی کا م کوئی غیر مسلم کرے تو یہی کام انفرادی فعل کہلاتا ہے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ قاتل کا دماغی توازن خراب تھا۔ بہتر ہوگا کہ کرائسٹ چرچ کے واقعے سے فائدہ اٹھا کر اب پوری دنیا خاص طور سے مغربی ممالک اپنے رویہ پر نظر ثانی کریں ۔ فرانس سمیت کئی ممالک نے مسلم خواتین کے اسکارف پہننے پر پابندی عاید کردی ہے ۔ اسکارف پہننے والی خواتین پر بھاری جرمانے عاید کیے جاتے ہیں ۔ اس سے بھی بڑھ کر فرانس اور دیگر ممالک میں اسکارف پہننے والی خواتین پر تشدد عام سی بات ہوگئی ہے ۔ اسی طرح کام کرنے کے مقامات پر مسلمانوں کو مذہبی منافرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ یہ بیماری اسکولوں اور یونیورسٹیوں تک بھی پہنچ گئی ہے اور مسلمان بچوں کو اسکول کے دیگر بچے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ۔ کرائسٹ چرچ میں مساجد پر ہونے والے حملے یہ بتاتے ہیں کہ اسلاموفوبیا کا جو پودا مغرب میں میڈیا کی مدد سے بھرپور منصوبہ بندی کے ذریعے لگایا گیا ہے اب اس نے پھل دینا شروع کردیا ہے ۔ مغربی دانشوروں کو سمجھ لینا چاہیے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ دہشت گرد کو دہشت گرد ہی سمجھا جائے تو بہتر ہے ۔ اگر مغرب میں اس فارمولے پر عمل ہو رہا ہوتا کہ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہے اور اس کا کوئی مذہب نہیں ہے تو آج خود مغربی معاشرہ بھی پرامن ہوتا اور دنیا بھی جنگ و جدل سے پاک ہوتی ۔ عراق، افغانستان، لیبیا سمیت کئی ممالک پر مغربی ممالک دہشت گردی کا لیبل لگا کر ٹوٹ پڑے جس کا نتیجہ پوری دنیا میں جنگ، دہشت گردی اور خوف کی صورت میں نکلا ۔ اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد مارے گئے ، کروڑوں افراد براہ راست متاثر ہوئے، کئی ممالک کا جغرافیہ ہی بدل گیا اور پوری دنیا ایک نفسیاتی خوف میں مبتلا کردی گئی ۔ دہشت گردی کو مذہب کا لیبل لگانے کے نتیجے میں اسلام کو دہشت گردی کا متبادل قرار دے دیاگیا اور ایک ارب سے زاید مسلمان براہ راست دہشت گرد ٹھیرے ۔ اس کے نتیجے میں خود مغربی ممالک شدید معاشی اور معاشرتی دباؤ میں آگئے اور اب ان کا کھلا معاشرہ بتدریج ایک بند معاشرے میں تبدیل ہوتا جارہا ہے ۔ بہتر ہے کہ اب دہشت گردی کی نہ صرف دوبارہ سے تعریف متعین کی جائے بلکہ اس پر عمل بھی کیا جائے ۔ کرائسٹ چرچ میں جو کچھ بھی ہوا وہ افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ بہت کچھ سکھا گیا ہے ۔ اب یہ دنیا کے رہنماؤں پر ہے کہ وہ اس سے کتنا مثبت پیغام لیتے ہیں اور دوبارہ سے دنیا کو ایک پرامن اور خوشگوار ماحول دیتے ہیں ۔ یہ مسلم رہنماؤں کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ دنیا کا عالم اسلام کے بارے میں تاثر بدلنے کی کوشش کریں اور مغربی ممالک پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کا پروپیگنڈہ بند کریں ۔ انسانیت کی بات کی جائے اور ہر فرد کو یکساں حقوق دینے کا ذکر کیا جائے ۔ اگر ایسا ہوجائے تو اسرائیل، بھارت ، کشمیر ، چین اور میانمار میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ریاستی مظالم کو بھی روکا جاسکے گا ۔ مذکورہ ممالک میں مسلمانوں کے خلاف منظم ریاستی مظالم کی وجہ ہی یہ ہے کہ یہاں پر مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والے باشندوں میں ریاست تفریق کر تی ہے اور مسلمانوں کی پوری کی پوری آبادی کو تحلیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اگر مغربی دنیا یہ امر تسلیم کرلے کہ جس طرح عیسائی دہشت گرد صرف ایک دہشت گرد ہے اور پوری عیسائی دنیا کو مطعون نہیں کیا جائے گا ، بالکل اسی طرح مسلم دہشت گرد بھی صرف ایک دہشت گرد ہے اور اس کے نتیجے میں پوری مسلم دنیا کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھیرایا جائے گا تو دنیا میں دہشت گردی کا سدباب ممکن ہے ۔ اس سلسلے میں عالمی رہنماؤں خاص طور سے مسلم رہنماؤں اور دانشوروں کو ا پنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیوزی لینڈ کے واقعہ کو سفید فاموں کی دہشت گردی قرار دینے پر تیار نہیں۔ یہ بھی امریکا ہی تھا جس کے صدر جارج بش جونیئر نے نائن الیون کے واقعہ پر نئی صلیبی جنگ کا نعرہ لگایا تھا۔ گو کہ انہوں نے بعد میں اسے زبان کی لغزش قرار دیا لیکن یہ ان کی سوچ تھی جو زبان پر آگئی۔ عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان صلیبی جنگیں کئی عشروں تک چلتی رہیں جن میں پوری عیسائی دنیا کی مشترکہ قوت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ عیسائی دنیا اس ہزیمت کو بھلا نہیں پائی۔ نیوزی لینڈ کے آسٹریلوی دہشت گرد کی رائفل اور جیکٹ پر جو نعرے درج تھے ان کا تعلق بھی صلیبیوں اور مسلمانوں کی جنگوں سے تھا مثلاً 1683ء میں جنگ ویانا جو خلافت عثمانیہ اور صلیبی اتحاد کے درمیان ہوئی۔ یہ جنونی عیسائی دہشت گرد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مداح ہے جس نے عالم اسلام پر جنگ مسلط کر رکھی ہے اور امریکی پروردہ اسرائیل نے فلسطینیوں پر ہر طرح کا عذاب مسلط کر رکھا ہے۔ یہ صہیونی دہشت گردی ہے۔ سانحہ نیوزی لینڈ پر ہندو دہشت گرد بھی بغلیں بجا رہے ہیں اور مسلمانوں کی ہلاکت پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ وجہ ظاہر ہے کہ ہندو دہشت گرد بھی مقبوضہ کشمیر میں وہی کررہے ہیں جو صہیونی فلسطین میں کررہے ہیں۔ جمعہ ہی کو نیوزی لینڈ میں قتل عام کے بعد لندن میں سفید فام دہشت گردوں نے بھی مسجد سے باہر نکلنے والے نمازیوں پر ہتھوڑوں سے حملہ کردیا۔ کیا یہ عیسائی دہشت گردی اور اسلامو فوبیا نہیں ہے؟ نیوزی لینڈ میں بنگلا دیشی ٹیم تو بال بال بچ گئی لیکن کیا اس واقعہ کے بعد کرکٹ کی ٹیمیں نیوزی لینڈ کا بائیکاٹ کریں گی جس طرح پاکستان کا کر رکھا ہے؟لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر دہشت گردو ں کے حملے میں ٹیم کے تمام کھلاڑی محفوظ رہے اور ایک پاکستانی ڈرائیور ہی ان کو بحفاظت نکال کر لے گیا لیکن غیر ملکی ٹیموں نے پاکستان کا بائیکاٹ کردیا۔ اب دیکھنا ہے کہ کیا کرکٹ کی ٹیمیں نیوزی لینڈ جانے سے بھی انکار کریں گی، یا کوئی اور بہانہ بنا لیا جائے گا۔                                                                                                                                                                                                                             بشکریہ جسارت