August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

افغانستان پر مہلک بم کا امریکی تجربہ

 

اداریہ
انسانیت کے سب سے بڑے قاتل اور وحشی ملک امریکہ نے ایک بار پھر قتل عام کی نئی مثال قائم کردی۔ گزشتہ جمعرات کو افغانستان کے شہر ننگرہار پر اپنا سب سے بڑا بم گرادیا۔اس بم نے کتنی تباہی پھیلائی ہے،اس کا اندازاہ کرنے میں کئی دن لگیں گےتاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق نہ صرف بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے بلکہ تباہی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ جی بی یو۴۳ نامی یہ بم ۲۱ ہزار ۶۰۰ پونڈ بارودی مواد سے لیس تھا اور اسے امریکا نے پہلی بار استعمال کیا ہے جسے’’بموں کی ماں‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکا نے اس کی ہولناکی کا تجربہ کرنے کے لئے افغانستان کا انتخاب کیا ہے۔ اگست ۱۹۴۵ء میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں امریکانے اپنے ایٹم بموں کا تجربہ کیا تھا اور جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر استعمال کر کے آناً فاناً لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا یہ وہ جاپانی شہری تھے جو جنگ میں مقابل نہیں تھے بلکہ اپنے گھروں میں پڑے سو رہے تھے۔ امریکا نے خطرناک ایٹم بم تو بنا لیا تھا لیکن انسانوں پر اس کا تجربہ کر کے اس کی ہلاکت خیزی کا اندازہ کرنا ضروری تھا۔ یہ اتنی بڑی دہشت گردی تھی جس کی کوئی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ لمحوں میں لاکھوں افراد موت کی نیند سو گئے ہوں اور اتنے ہی معذور و مفلوج ہو گئے اور پرسوں تک معذور بچے پیدا ہوتے رہے۔ اب امریکی سلاح خانے میں رکھے ہوئے اس سب سے بڑے بم کی ٹیسٹنگ بھی ضروری تھی اور اس کے لئے افغانستان سے اچھا میدان کون سا ہوتا۔ امریکا، شام و عراق میں بھی موت برسا رہا ہے لیکن وہاں روس بھی اس کام میں اس کا مقابل ہے۔ افغانستان پر امریکا ۲۰۰۱ء سے اپنی فوج لے کر بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے باوجود وہ افغانستان پر قبضہ جمانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ امریکا کی طرف سے اس درندگی کا جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ ننگر ہار کے غاروں میں داعش کے اڈے تھے چناچہ یہ بم ان پر گرایا گیا ہے لیکن کیا کوئی بم لوگوں کو پہچان کر نشانہ بناتا ہے؟ اگر وہاں داعش کے ٹھکانے تھے تو کیا دوسرے شہری ہلاک نہیں ہوئے ہوں گے۔ امریکا کی فوج افغانستان میں موجود ہے۔ کابل حکومت بھی اس کے ساتھ ہے۔ اس کے باوجود یہ کیسے ممکن ہوا کہ داعش نے وہاں پر ایسے مضبوط ٹھکانے بنا لئیے جن کو تباہ کرنے کے لئے امریکا کو اپنا سب سے بڑا بم استعمال کرنا پڑا۔ جب امریکی اور افغان فوج موجود ہے تو زمینی کاروائی کیوں نہیں کی گئی۔ کیا اس کی وجہ رد عمل کا خوف نہیں ہے؟ ۲۰۰۱ء کے بعد بھی برسوں تک امریکی اور اس کے ۴۰ حواریوں کی فوج نے زمین پر اترنے کی ہمت نہیں کی اور فضائی حملے ہوتے رہے۔ ان حملوں میں بے گناہ افغان شہری بھی نشانہ بنے۔ کارپٹ بمباری یعنی اس کثرت سے بم پھینکنا کہ ان کا قالین بچھ جائے۔ تو رابورا کی اصطلاح بھی اسی وقت وجود میں آئی۔ بموں کا فرش بچھانے کے بعد بزدل امریکی فوجیوں نے زمین پر اترنے کی ہمت کی مگر اس وقت بھی عموماً بکتر بند گاڑیوں میں ہوتے تھے اور افغانوں کے خوف سے رفع حاجت کے لئے بھی زمین پر نہیں اترتے تھے۔ چناچہ پاکستان کے راستے سے کنٹینروں میں افغان بھائیوں کے قاتلوں کے لئے جو امداد بھیجی جاتی تھی ان میں پیمپرز بھی ہوتے تھے۔ لہٰذا یہ توقع عبث ہے کہ ننگر ہار میں داعش کے خلاف کوئی زمینی کاروائی کی جاتی۔ امریکی فوج دنیا کی بزدل ترین فوج ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی جذبے اور نصب العین سے عاری ہے۔ ننگر ہار عین پاکستانی سرحد پر ہے چناچہ امریکی بم کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس امریکی کاروائی کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ روس اور طالبان کے مجوزہ مذاکرات کو ناکام بنایا جائے۔ ایسی اطلاعات آرہی تھیں کہ روس افغان طالبان کو تسلیم کرنے پر تیار ہے اور ماسکو میں مذاکرات ہونے جا رہے ہیں جن میں شرکت سے امریکا نے انکار کردیا ہے۔ امریکی  صدر کی سفاکی کا یہ عالم ہے کہ خود کہتے ہیں شام پر فضائی حملے کا حکم چینی صدر کے ساتھ مزیدار چاکلیٹ کیک کھاتے ہوئے دیا۔ مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ یہ بھی بھول گئے کہ حملہ شام پر کیا گیا یا عراق پر۔ بشار حکومت کے مطابق شام میں بھی مبینہ طور پر داعش کے زہریلے گیس کے ذخیرے پر امریکہ نے فضائی حملہ کیا تھا جس سے سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ روس و امریکا حملے کریں یا بشار کی فوج اور داعش مارے جانے والے صرف مسلمان ہیں۔ یمن میں بھی مسلمان ہی قتل ہو رہے ہیںیا ایک خبر کے مطابق وہاں ۹۰ لاکھ افراد فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ بڑی طاقتیں دنیا میں تباہی پھیلانے کے لئے اسلحہ تیار کر رہی ہیں ۔ بموں کی ماں امریکی بم کے استعمال سے کئی اضلاع میں شدید زلزلہ آیا اور مکانات زمین بوس ہو گئے۔ یہ بم ااکسیجن جذب کر کے جانداروں کو ہلاک کر دیتا ہے۔ امریکا یہی جاننا چاہتا تھا کہ وہ کس درجے کی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ اس کے خلاف کوئی کاروائی ہو تو واویلا شروع کر دیتا ہے لیکن وہ کئی بار ثابت کر چکا ہے کہ دنیا کا سب سے برا دہشت گرد وہ خود ہے۔