February 19th, 2019 (1440جمادى الثانية13)

اور اب چین بھی

 

بابا الف

سابق امیر جماعت اسلامی، قاضی حسین احمد، اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان کی قبر کو سدا پُر نور رکھے، ایک ٹی وی پروگرام میں مدعو تھے۔ میزبان نے ترش لہجے میں سوال کیا ’’عالم اسلام میں کہیں کوئی بھی مصیبت آتی ہے جماعت اسلامی احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پرنکل آتی ہے۔کیا سارے جہاں کا درد آپ ہی کے جگر میں ہے؟‘‘ قاضی صاحب نے سوال میں پوشیدہ طنز کی کاٹ کو گھاس کی پتی کے برابر وقعت نہ دیتے ہوئے اپنے مخصوص پشتو لہجے میں اونچی آواز میں جواب دیا ’’ہاں، ہاں سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔‘‘ قاضی صاحب کا جواب برائے جواب نہیں ایک حقیقت تھا۔ ایک وقت تھا دنیا کے کسی بھی گوشے میں مسلمان ظلم کا شکار ہوتے، ان پر کوئی مصیبت آتی، آفت ٹوٹتی، پورا عالم اسلام تڑپ اٹھتا تھا۔ نظرآنے لگتا تھا یہ امت واحدہ ہے، محمد بن قاسم کی روایت کی علمبردار۔ ترکی میں خلافت کے خاتمے پر مسلم ہندوستان میں تحریک خلافت میں لوگوں کا جوش وخروش، 1969ء مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم وغصہ، اس واقعے کے رد عمل میں تمام مسلم ممالک کے سربراہان کا مراکش کے شہر رباط میں جمع ہونا، اسلامی ممالک کی تنظیم قائم کرنا۔ لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد، امت کے مسائل پر مشترکہ موقف اور جدوجہد کی کوششیں۔ فلسطین کی آزادی سے تمام مسلمانوں کا بلند آہنگ تعلق، قلبی ربط، یاسر عرفات کو ایک ہیرو کا مقام دینا، اس کے لیے دیدہ ودل فرش راہ کرنا۔ اہل کشمیر سے اسلامی ممالک کی تنظیم کا بار بار اظہار یکجہتی، بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی پر عالم اسلام کا اضطراب، فکر مندی اور تڑپ۔ افغانستان کے مسلمان سوویت یونین کے ظلم کا نشانہ بنے تو پاکستان، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کا ان کی مدد کو آنا۔
نائن الیون کے بعد دنیا تبدیل ہوئی تو جیسے اسلامی ممالک کی یکجہتی، درد والم کے مشترکہ رشتے، سب کچھ ہم کہیں رکھ کر بھول گئے۔ امریکا اور مغربی دنیا نے مل کر دنیا کے غریب اور کمزور ترین اسلامی ملک افغانستان پر حملہ کیا تو کسی جانب سے ادنیٰ سی مزاحمت تو درکنار ایک آواز بھی احتجاج کے لیے بلند نہیں ہوئی۔ ستم در ستم پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک اپنے ہی بھائیوں کے قتل عام میں امریکا اور اتحادیوں کے مددگاربن گئے۔ افغانستان پر حملے کرنے کے لیے اپنی سرزمین امریکا کے سپرد کردی۔ امریکا نے عراق پر حملہ کیا تو عالم اسلام تماشائی بنا ایک اسلامی ملک کی تباہی کے مناظر دیکھتا رہا۔ امریکا نے ایک خوشحال اسلامی ملک کو برباد کرکے رکھ دیا۔ صدام حسین کی پھانسی کا منظر ایک دلچسپ فلم کے انداز میں دیکھا گیا۔ ایک عرصے سے شام بشار الاسد، امریکا، روس، اسرائیل اور نہ جانے کون کون سی طاقتوں کے نشانے پر ہے۔ ممنوع کیمیائی ہتھیار، کلسٹر بم، پٹرول بم، میزائل، بے حدو حساب ہوائی حملے اور دنیا کے مہلک ترین اسلحے کا اہل شام پر استعمال کیا جارہا ہے۔ اسکولوں اور اسپتالوں، بچوں اور عورتوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ لاکھوں مسلمان شہید ہوچکے، لاکھوں مسلمان دنیا میں در در پناہ کی تلاش میں بھٹکتے پھر رہے ہیں لیکن ہماری بے حسی اس طرف اک نگاہ اٹھا کر دیکھنے کی روادار نہیں۔ روہنگیا کے مسلمانوں کی بستیاں جلا کر راکھ کردی گئیں۔ اقوام متحدہ جیسا بے حس ادارہ بھی چیخ اٹھا کہ روہنگیا کے مسلمان دنیا کی مظلوم ترین اقلیت ہیں لیکن کسی مسلمان ملک کو میانمر کی حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ اسرائیل جب چاہتا ہے اہل غزہ کا دانہ پانی بند کرکے، ان پر گولیوں، میزائلوں اور ہوائی حملوں کا منہ کھول دیتا ہے، اہل غزہ بلی، کتے کھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں لیکن مسلم ممالک کی ہمدردیاں فلو ٹیلا کی ڈارامے بازی سے آگے نہیں بڑھتی۔ رہا کشمیر تو غزہ کی طرح اب وہ کسی مسلم ملک کا مسئلہ نہیں رہا۔ بھارتی افواج نے اہل کشمیر پر آتش اور آہن کی بارش کررکھی ہے، ہزاروں عورتوں نے بیوگی کی سیاہ چادر کو لباس بنالیا ہے، پیلٹ گنوں کے چھروں سے ہمارے بیٹے، ہمارے بھائی بینائی سے محروم ہورہے ہیں۔ لاکھوں آوازیں درد وکرب سے بلند ہیں، ہر روز تابوت اٹھ رہے ہیں، بڑے بڑے جنازے نکل رہے ہیں ہماری ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزت جنگی اسٹرٹیجی کے طور پر پامال کی جارہی ہے لیکن چند سو گز کے فاصلے پر موجود ان کے بہادر مسلمان سپاہی، دنیا کی واحد ایٹمی قوت کی طاقتور سپاہ یہ سب کچھ یوں لا تعلقی سے دیکھ رہی ہے جیسے یہ ان کے مسلمان بہن بھائی نہیں، جیسے یہ ان کے پیکر کا حصہ نہیں، یہ ان کا درد والم نہیں۔ اس بے حسی اور لا تعلقی کو ہمارے حکمران ’’جنگ مسئلہ کشمیر کا حل نہیں‘‘۔ ’’کشمیر کا مسئلہ صرف مذاکرات سے حل ہوسکتا ہے‘‘ جیسے بے غیرتی پر مبنی بیانات سے پر کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور بس۔
تمام اسلامی ممالک اپنا اپنا دامن بچانے میں مصروف ہیں۔ اس کوشش میں وہ سب امریکا، روس، اسرائیل، بھارت اور اسلام کے دشمنوں کے کاندھے سے کاندھا ملائے کھڑے ہیں۔ تمام اسلامی ممالک کے حکمران امریکا کی خوشنودی میں اپنی بقا دیکھ رہے ہیں، درپردہ سب کے اسرائیل سے مضبوط تعلقات ہیں۔ بھارت ہر اسلامی ملک کی آنکھ کا تارا ہے۔ معمولی اختلافات کی وجہ سے اکثر اسلامی ممالک نے اپنے وسائل، اپنی طاقت اسلام دشمن قوتوں کے منصوبوں اور عزائم کی تکمیل کے لیے وقف کردیے ہیں۔ یوں اپنے آپ کو بچانے کی کوششوں میں سب یکے بعد دیگرے اسلام دشمن قوتوں کا نوالہ بن رہے ہیں۔ امت مسلمہ کے بجائے فلسطین کو پہلے اہل عرب کا مسئلہ قرار دیا گیا۔ پھر اسے فلسطینیوں کا معاملہ قرار دیا گیا۔ اب اسے محض انسانی حقوق کا مسئلہ قرار دے کر بیان کیا جاتا ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی کوبھی جو امت مسلمہ کا مسئلہ تھا پہلے پاکستان اور ہندوستان کا معاملہ باور کرایا گیا پھر اہل کشمیر کا اور اب یہ صرف انسانی حقو ق کا معاملہ ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں بھی اسے
زیادہ تر انسانی حقوق کا معاملہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مسلم دشمنی کے حوالے سے اب تک یہود ونصاری، امریکا، روس، مغرب، اسرائیل اور ہندوستان کا نام لیا جاتا تھا اب اس فہرست میں چین کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
چین سے ایسی اطلاعات آرہی ہیں جن میں چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں اور دیگرمسلم فرقوں کے دس لاکھ افراد کو حراست میں رکھا جارہا ہے۔ ری ایجوکیشن یعنی از سر نو تعلیم کے نام پر انہیں اسلام سے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 7جنوری 2019 کو چین کے مرکزی انگریزی اخبارگلوبل ٹائمز میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں چین میں موجود مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ ’’وہ چینی طور طریقے اختیار کریں، سیاسی بیانیہ بہتر کریں‘‘۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ اسلام کو چینی طور طریقوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے چین بہت جلد ایک خاکہ جاری کرے گا۔ اس خاکے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’بنیادی سوشلسٹ اقدار، قوانین اور روایات کی تربیت فراہم کرنے کے ساتھ مثبت جذبات کی حامل کہانیوں سے مسلمانوں کی رہنمائی کرنا۔‘‘ یوں چین ایک سوشلسٹ اسلام تخلیق کرنے اور اسے بزور چینی مسلمانوں کی زندگیوں میں داخل کرنے کی راہ پر ہے اور اس کے لیے وہ ہر ہتھکنڈا آزمارہا ہے۔
چین میں طویل عرصے سے چینی حکام مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ چین کی حکومت نے لاکھوں مسلمانوں کو قید کر رکھا ہے۔ بیڑیوں سے باندھ کر ان کے منہ میں سیمنٹ بھرا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں۔ مسلمان خواتین کو بچے پیدا کرنے سے روکا جارہا ہے۔ مردوں کو آپریشن کے ذریعے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کیا جارہا ہے۔ مسلما نوں کے گھروں میں چینی جاسوس تعینات کیے جارہے ہیں جو دن رات مسلم گھرانوں کے ساتھ رہ کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وہ مسلمان اسلامی احکامات پر عمل نہ کریں اور عمل کرنے کی صورت میں حکومت کو مطلع کیا جاسکے اور حکومت ان مسلمانوں کے خلاف حرکت میں آسکے۔

۔1400برس قبل29ہجری، تیسرے خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفانؓ کے عہد میں اسلام کی اشاعت اور فروغ کے لیے مسلمانوں کا ایک وفد روانہ کیا گیا۔ اس وفد کی منزل چین تھی۔ یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔ مسلمان تجارت کی غرض سے بھی چین کا سفر کرتے رہے۔ یوں چین کے بعض علاقوں میں ابتدائے اسلام ہی سے اسلام کی قبولیت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مشرقی ترکستان یعنی سنکیانگ کو اموی خلیفہ ولید بن مالک کے دور میں قتیبہ بن مسلم الباہلی نے 93-94ھ میں فتح کیا تھا۔ ترکستان کے معنی ترکوں کی سرزمین کے ہیں۔
مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے چین کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک سنکیانگ یا شنجیانگ جس کی سرحدیں منگولیا، روس، قازقستان، کرغستان، تاجکستان، افغانستان، ہندوستان اور پاکستان سے ملتی ہیں۔ عرصہ دراز تک مسلمانوں نے اس علاقے پر حکومت کی ہے۔ اس صوبے کا دارالحکومت ارومچی ہے۔ کاشغر سب سے بڑا شہر ہے۔ دوسرے وہ مسلمان ہیں جو چین کے مختلف علاقوں میں رہتے ہیں۔ چین میں تقریباً دس کروڑ مسلمان ہیں لیکن چین کی حکومت یہ تعداد تین کروڑ بتاتی ہے۔ اگر غیر سرکاری اعداد وشمار کو درست تسلیم کرلیا جائے تو چین میں مسلمانوں کی آبادی مصر سے بھی زیادہ ہے جو تمام عرب ممالک میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے۔
چین میں کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد چین نے سنکیانگ میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر پا بندی عائد کردی، دینی اداروں کو بند کردیا، مساجد فوج کی رہائش گاہوں میں تبدیل کردی گئیں۔ ان کی علاقائی زبان ختم کرکے چینی زبان مسلط کردی گئی۔ تمام مذہبی رسوم پر پابندی عائد کردی گئی۔ قرآن کی تعلیمات ممنوع قرار دے دی گئیں۔ 1966 میں جب مسلمانوں نے کاشغر میں عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھنے کی کوشش کی تو چین کی فوج نے گولیاں برسا کر ہزاروں مسلمانوں کو شہید کردیا۔ جس کے بعد پورے صوبے میں انقلاب کی صورت پیدا ہوئی تو چین کی فوج نے مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہوئے تقریباً 75ہزار مسلمانوں کو شہید کردیا۔
اس علاقے میں پٹرول، کوئلے اور یورینیم کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ چین کے عالمی منصوبوں اور چین کی اقتصادی اور عسکری برتری میں یہ علا قہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے چین اس علاقے میں کسی ادنیٰ سی حکم عدولی اور احتجاج کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایک طرف چین وہاں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے چین کی اکثریتی نسل ’’ہان‘‘ کو بڑی تعداد میں منتقل کررہا ہے تو دوسری طرف ایغور نسل کے لوگوں کو شدید نگرانی میں رکھ رہا ہے اور انہیں اپنے ڈی این اے اور بائیو میٹرکس کے نمونے دینے پڑ رہے ہیں۔
چین سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سنکیانگ میں آباد دس لاکھ افراد کو عقوبت خانوں میں رکھا جا رہا ہے چینی حکومت جنہیں ’’سرکاری ری ایجوکیشن کیمپ‘‘ کہتی ہے۔ وہاں آباد کوئی شخص اگر ملک سے باہر آباد کسی شخص سے واٹس اپ کے ذریعے رابطہ کرتا ہے تو اسے بھی گرفتا ر کرلیا جاتا ہے۔ بعض سابق قیدیوں کا کہنا ہے کہ انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ حراستی کیمپوں میں انہیں مذہب ترک کرنے یا مذہب کی مذمت کرنے اور صدر شی چن پنگ کے ساتھ وفاداری کی قسمیں کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک شخص عمر کا کہنا ہے کہ ’’وہ ہمیں رات کو سونے نہیں دیتے تھے، گھنٹوں لٹکائے رکھ کر پیٹتے تھے۔ ان کے پاس لکڑی کے موٹے موٹے ڈنڈے اور چمڑے کے سوٹے تھے جب کہ تاروں کو موڑ کر انہوں نے کوڑے بنا رکھے تھے۔ جسم میں چبھونے کے لیے سوئیاں اور ناخن کھینچنے کے لیے پلاس تھے۔ یہ سب چیزیں میز پر ہمارے سامنے رکھی ہوتیں اور ان کا ہم پر استعمال کیا جاتا۔ ہم دوسرے لوگوں کی چیخیں بھی سنتے۔‘‘ ان عقو بت خانوں کا حال بتاتے ہوئے ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ ’’رات کے کھانے کا وقت تھا۔ تقریباً 1200 افراد ہاتھوں میں پلاسٹک کے کٹورے لیے کھڑے تھے۔ انہیں کھانا اس شرط پر مل سکتا تھا کہ وہ چین کے حق میں گیت گائیں۔ ان لوگوں کی حالت روبوٹ کی طرح تھی جن کی روحیں نکالی جا چکی ہوں۔ وہ اس طرح کا برتاؤ کرتے تھے جیسے کسی کار حادثے کی وجہ سے ان کی یاداشت جاتی رہی ہو۔‘‘
چین کی حکومت سنکیانگ میں کسی ’’انٹرنمنٹ کیمپ‘‘ کے وجود سے انکار کرتی ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ دراصل حکومت نسلی علیحدگی پسندوں اور پر تشدد دہشت گردانہ اور مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کررہی ہے۔ تاہم بی بی سی کے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ چین ایک ایسا ملک ہے جہاں سنکیانگ میں ہر وقت آپ پر نظر رکھی جاتی ہے۔ آپ ذرا سی غلطی پر سلاخوں کے پیچھے جاسکتے ہیں۔ جہاں سوچ پر بھی پہرہ ہے۔ مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ لوگوں کو بڑے پیمانے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ لاکھوں لوگ لا پتا ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگوں کے پاس کوئی حق نہیں ہے۔ آپ کو کوئی عدالت کوئی وکیل نہیں ملے گا۔ مریضوں کے لیے کوئی دوا نہیں ہے۔ زندہ افراد کیمپوں سے مردوں کی حالت میں نکل رہے ہیں۔
چین کی جانب سے ایغور مسلمانوں پر ظلم وستم کی اس انتہا پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کی جارہی ہے۔ برطانیہ، امریکا اور یہاں تک کے اقوام متحدہ نے بھی ایغور مسلمانوں کی حالت پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم چین گزشتہ تین دہائیوں میں جس طرح ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے ابھرا ہے، اس کے ساتھ ہی چین کی سرمایہ کاری کی قوت کو دیکھتے ہوئے کوئی ملک چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امت مسلمہ کے حوالے سے ایغور مسلمانوں پر ظلم وستم مسلمانوں کے لیے حساس صورتحال ہے۔
مسلم ممالک کے حکمرانوں سے کوئی امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس معاملے پر ادنیٰ سا ردعمل کا مظاہرہ بھی کریں لیکن مسلم عوام کا رویہ بھی اس صورتحال پر عجیب ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان امریکا، روس، اسرائیل اور بھارت کے مظالم پر احتجاج کے مظاہرے کرتے رہتے ہیں لیکن حیرت ہے کہ چین کے اس درجے کے مظالم پر امت مسلمہ میں کہیں کوئی احتجاج اور مظاہر ہ دیکھنے میں نہیں آرہا۔ پاکستان کی وہ دینی اور سیاسی جماعتیں جو سڑکوں پر آنے کے بہانے ڈھونڈتی ہیں اس معاملے پر لب بستہ ہیں۔
پچھلے دنوں پاکستان کے صدر عارف علوی نے 30دسمبر کو الجزیرہ پر ایغور مسلمانوں کے خلاف چینی حکومت کی جنگ پر اس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس معاملے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔ صدر اور وزیراعظم کے اس ردعمل کی وجہ چین کی سی پیک کی صورت پا کستان پر نوازشات ہیں۔ سی پیک پاکستان کے لیے جتنا اہم ہے اس سے کہیں زیادہ چین کا فوجی، سیاسی اور معاشی مفاد اس سے وابستہ ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان جن گونا گوں مسائل کا شکار ہے، ہم چین کی ناراضی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ امریکا کے بارے میں بھی ہر حکومت کا یہی کہنا رہا کہ ہم امریکا کو ناراض کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ بھارت کے معاملے میں بھی ہمارا یہی موقف ہے کہ ہم بھارت سے جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ گزشتہ 70 برس سے ہر معاملے میں ہم کمزور موقف دینے کے عادی ہوگئے ہیں۔ اس کمزور موقف سے ہمیں طاقت ملی یا ہم کمزور ہوئے؟۔ ستر برس سے اللہ سبحانہ تعالیٰ اور اسلام کو چھوڑ کر ہم دنیا کی ہر قوت کو سجدے کرتے پھر رہے ہیں، ہر طاقت سے نظریں چرارہے ہیں اور مضبوط اور طاقتور ہونے کے بجائے کمزور سے کمزور تر ہوتے جارہے ہیں۔ سورہ آل عمران کی آیت 160میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے ’’اللہ تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسا رکھیں۔‘‘