May 25th, 2019 (1440رمضان20)

افغانستان سے امریکی انخلا خوش آئند ہے؟

 

حبیب الرحمٰن

خبر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں 14 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن میں سے ابتدائی طور پر 7 ہزار کو واپس بلایا جا رہا ہے۔ وزارت دفاع کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ 7 ہزار فوجی اہلکاروں کی واپسی میں 100 روز لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی میڈیا نے وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر نے افغانستان سے نصف امریکی فوجیوں کے انخلا کے زبانی احکامات دیے ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کو اہم امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے یہ فیصلہ اسی وقت کیا جب انہوں نے پینٹاگون کو بتایا کہ وہ شام سے تمام امریکی فوجی دستوں کا انخلا چاہتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے شام اور افغانستان سے فوج واپس بلانے کے فیصلے سے مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان میں غیر متوقع صورتحال سامنے آسکتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا اپنی تمام تر طاقت استعمال کرنے کے باوجود اس خواب کو حقیقت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا جس کے متعلق اس نے یہ خیال کرلیا تھا کہ افغان ایک کمزور ملک ہے اور وہ مکمل دسترس حاصل کرنے میں کامیاب ہوکر ان قدرتی وسائل پر قابض ہو جائے گا جو اس کی زمین میں مدفون ہیں۔
نائن الیون کو جواز بناکر وہ دنیا کے مسائل میں گھرے، آپس میں اختلافات کا شکار اور ایک غریب و پسماندہ ملک پر پوری طاقت و قوت سے حملہ آور ہونے کے بعد امریکا یہ سمجھے بیٹھا تھا کہ وہ افغانستان کی سرزمین کے چپے چپے پر قابض ہوجائے گا اور وہاں کے وسائل کو اپنے قبضے میں کرکے اور بھی دہشت ناک ملک بن کر پوری دنیا کو اپنے پنجوں میں جکڑ لے گا لیکن شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ افغان بے شک غریب بھی ہیں، وسائل کے اعتبار سے پسماندگی کا شکار بھی ہیں، آپس کی چپقلشوں کی وجہ سے زخموں سے چور چور بھی اور جنگی سازوسامان کی کمی کا شکار بھی ہیں لیکن عزم و ایثار میں بلندوبالا پہاڑوں سے زیادہ بلند اور سنگلاخ چٹانوں سے زیادہ مضبوط ہیں۔ یہ وہ افغان تھے جو سوویت یونین جیسی طاقت سے ٹکرا کر اسے نہ صرف اپنے ملک سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوچکے تھے بلکہ اس جنگ میں وہ روس کو اقتصادی طور پر اتنا بد حال کرچکے تھے کہ اسے اپنی یونین میں شامل کئی ریاستوں کو محض اس لیے آزاد کرنا پڑگیا تھا کہ وہ ان کی ضرورتیں پوری کرنے کے قابل ہی نہیں رہ گیا تھا۔ ممکن ہے کہ امریکا بہادر یہ خیال کر بیٹھا ہو کہ وہ افغان کو ترقی و خوشحالی کے حسین اور خوش رنگ خواب دکھائے گا تو ساری افغان قوم اس کی جھولی میں آ گرے گی لیکن وہ یہ بات بھول گیا تھا کہ اگر افغانوں کو ترقی و خوش حالی کے خواب ہی بہلا سکتے تھے تو اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ روس کے خلاف ہتھیار اٹھاتے۔ وہ سب اگر روس کے افغان میں گھس آنے کے بعد اپنے آپ کو اس کی غلامی میں دیدیتے تو روس شاید امریکا سے زیادہ افغان کے بچے بچے کو سونے میں تول دیتا لیکن افغان وہ سرزمین ہے جس کی پوری تاریخ میں غلامی لکھی ہی نہیں ہے اور جس جس طاقت نے بھی ان کو غلام بنانے کے خواب دیکھے، ان کے خواب چکنا چور ہی ہوکر رہ گئے۔ وہ ہمیشہ سے ایک آزاد قوم کی حیثیت سے زندہ ہیں اور جو بھی ان کو غلام بنانے کی خواہش لیکر آتا ہے وہ سخت نقصان کا شکار ہوکر ذلیل و خوار اپنے ملک لوٹ جانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
امریکا نے بھی تمام تر لالچ اور طاقت کے استعمال کے بعد 17 برس اس آس میں گنوا دیے کہ وہ دولت اور طاقت کے زور پر افغان کو اپنے جال میں پھانسنے میں کامیاب ہو جائے گا لیکن اس کو بھی اب وہاں سے ذلت و رسوائی کا منہ دیکھ کر واپسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اہم ترین معاملہ یہ ہے کہ امریکا کے افغانستان سے چلے جانے کی صورت میں موجودہ افغان حکومت کا مستقبل کیا ہو گا؟۔ افغانستان میں جو طاقت سر ابھارتی جارہی ہے اور افغان اور امریکی افواج کی موجودگی کے باوجود وہ افغانستان کے آدھے سے کہیں زیادہ علاقے کا کنٹرول سنبھالتی جارہی ہے، کیا وہ ایسی حکومت کو برداشت اور گوارہ کرنے کے لیے تیار ہوجائے گی جو دو دھائیوں سے اسے بھسم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے؟۔ کیا روس کے انخلا کے بعد وہ حکومت اور اس کے حواری ان جہادیوں کا ہدف نہیں بنے تھے جو روس کے حامی تھے اور جن کی دعوت پر روس افغانستان میں داخل ہوا تھا؟۔ اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ امریکی انخلا کے بعد موجودہ سیٹ اپ بہت بری طرح لپیٹ میں آئے گا اور خطرہ ہے کہ جس طرح روس کے جانے کے بعد افغانستان کے حالات بڑے مخدوش اور خونیں ہوگئے تھے، ایک مرتبہ پھر افغانستان ویسے ہی حالات کا شکار ہو جائے گا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے طالبان کی جانب سے افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ملنے سے انکار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ طالبان بھی درحقیقت امن چاہتے ہیں یا نہیں۔ جن مذاکرات کا بڑا شور اور کامیابی کے دعوے کیے جارہے تھے ان سب دعوؤں کے کھوکھلا ثابت کرنے کے لیے زملے خلیل زاد کے یہ چند الفاظ ہی معاملے کی خطرناکیت بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس صورت حال کو سامنے رکھ کر یہ سوچنا کہ امریکا کے افغان سے چلے جانے کے بعد وہاں امن و سکون بہتر ہوجائے گا، ایک فریب خوردگی کے علاوہ اور کچھ نہیں لہٰذا افغانستان کے عوام کو ہر قسم کی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایک جانب افغانستان کی صورت حال امریکی افواج کے انخلا کے بعد کیا ہوگی، افغانستان کے عوام اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکر ہے تو دوسری جانب پاکستان کو بھی بہت کچھ سوچنا ہوگا۔ امریکی کی جنگ میں شریک ہونے کے بعد پاکستان خود بڑی مشکل میں پھنسا ہوا ہے۔ امریکا کی پالیسی کی اتباع کرنے کی وجہ سے یقیناًاب اس کو موجودہ حکمرانوں سے بھی نمٹنا ہوگا اور وہ قوت جو امریکی انخلا کے بعد اور بھی زیادہ برق رفتاری کے ساتھ افغانستان پر غالب آتی جائے گی، اس کی ریشہ دوانیوں سے بھی اپنے آپ کو محفوظ بنانے کی حکمت عملی تیار کرنی پڑے گی۔
پاکستان کو یہ بات بھی سامنے رکھنا ہوگی کہ افغانستان میں ہمارا ازلی دشمن بھارت اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ اس نے وہاں کے عام و خاص میں اپنی پوزیشن اتنی مستحکم کرلی ہے کہ اسے وہاں آنے جانے والی حکومتوں کا بھی کوئی خوف نہیں۔ ایسی صورت میں حکومت کسی کو بھی ملے، بھارت پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجاتا رہے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان بھارت سے دوستانہ مراسم استوار کرنا چاہتا ہے تاکہ ٹکراؤ کا خوف دور ہو اور دونوں ملکوں کے عوام سکون کا سانس لے کر اچھے مستقبل کے متعلق سوچ سکیں لیکن کیا بھارت نے پاکستان کے کسی خیر سگالی کے جذبے کو اسی طرح لیا ہے اور پاکستان کو یہ احساس دلایا ہے کہ وہ بھی پاکستان سے مخاصمانہ رویے کو دوستی میں بدلنا چاہتا ہے؟۔ جب وہ پاکستان کے کسی بھی دوستانہ رویے پر دوستی کے لیے قدم بڑھانے کو تیار نہیں تو پھر وہ افغانستان کی بدلتی صورت حال کو پاکستان کے لیے امن و امان میں کیسے بدلتے دیکھ سکتا ہے؟۔ پاکستان کو ہر بدلتی ہوئی صورت حال پر بھرپور نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور امریکی انخلا کی صورت میں ہر قسم کے متوقع حالات سے نمٹنے کے لیے تیار وآمادہ رہنا ہے۔ یہی وقت اور دانش مندی کا تقاضا ہے۔