August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

مغرب اسلام دشمن کیوں ہے؟(حصّہ دوم)

 

شاہنواز فاروقی

اس کے ساتھ ساتھ ہم دیکھ رہے ہیں کہ فلسطینی 70 سال سے اسرائیل کی مزاحمت کررہے ہیں اور کشمیر کے حوالے سے خود بھارتی یہ کہہ رہے ہیں کہ وہاں ایسی نسلیں ہمارے سامنے آکر کھڑی ہوگئی ہیں جنہوں نے موت کے خوف کو فتح کرلیا ہے۔ یہ بھی اسلام کی قوت کا ایک ’’شاہکار‘‘ ہے۔ مغرب اسلام کی اس غیر معمولی اور تاریخ ساز قوت مزاحمت کو دیکھ رہا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس کا خون کھولتا چلا جارہا ہے۔ لیکن اسلام کے حوالے سے مغرب کے کچھ اور ’’مسائل‘‘ بھی ہیں۔

مادی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس وقت اسلام اور مغرب کا کوئی موازنہ ہی نہیں۔ اسلام کے پاس نہ عسکری طاقت ہے، نہ معاشی قوت، اس کے پاس نہ سائنس ہے نہ ٹیکنالوجی، اسلام کے پیروکاروں میں علم اور اخلاق کی حالت بھی اچھی نہیں، اس کے باوجود اسلام مغرب میں لاکھوں اہل مغرب کو مشرف بہ ایمان یا مشرف بہ اسلام کرچکا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان لوگوں میں صرف عام لوگ شامل نہیں، ان میں دانش ور، سفارت کار، صحافی، گلوکار، اداکار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شامل ہیں۔ یہ صورت حال ایک ’’معجزے‘‘ کی طرح ہے۔ اس لیے کہ مادی اعتبار سے مغربی تہذیب ’’برتر تہذیب‘‘ ہے اور اسلامی تہذیب ایک ’’کمتر تہذیب‘‘ ہے اور تجربہ بتاتا ہے کہ برتر تہذیب کے لوگ کمتر تہذیب کا مذہب قبول نہیں کیا کرتے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلام اور اس کی تہذیب میں کوئی ایسی کشش ہے جو مغرب کے لوگوں کے لیے اسلام اور اہل اسلام کی مادی عسرت کو اہم نہیں ہونے دے رہی۔ مسلم معاشروں کے حکمران اور سیکولر و لبرل دانش ور نیز ذرائع ابلاغ تو گھامڑ ہیں ورنہ اس معجزے میں انہیں اسلام کی کئی فوقیتیں صاف نظر آسکتی تھیں۔

اسلام کی ایک اور خوبی مغرب کا درد سر ہے۔ یہ درد سر ہے اسلام اور اسلامی تہذیب کی جامعیت۔ مغرب کا کمال یہ ہے کہ اس نے ایک بے خدا اور لامذہب تہذیب پیدا کی لیکن اس تہذیب میں اتنی جامعیت ہے کہ مادی دائرے میں زندگی کا کوئی گوشہ جدید مغربی تہذیب کی دسترس سے باہر نہیں رہتا۔ مغرب اپنی تہذیب کی جامعیت پر بجا طور پر اتراتا ہے۔ لیکن جب وہ اسلام اور اسلامی تہذیب کو دیکھتا ہے تو یہ سوچ کر حیران اور پریشان ہو جاتا ہے کہ اسلامی تہذیب جتنی جامع ہے جدید مغربی تہذیب اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ اسلامی تہذیب اتنی جامع نہ ہوتی تو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی طرح مسلمان کبھی کے سیکولر ہوچکے ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب مسلم معاشروں میں ریاست اور مذہب کے تعلق کو توڑ کر مذہب اور اسلامی تہذیب کی رسائی کو محدود کرنا چاہتا ہے۔

دیکھا جائے تو اسلام کے حوالے سے مغرب کا ایک خوف یہ ہے کہ اسلام صرف زندہ اور مزاحمت کرنے والا ہی نہیں بلکہ وہ اپنی جامعیت کی وجہ سے مغرب کا ’’متبادل‘‘ بننے اور اس عمل میں کامیاب ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ مغرب کے لیے متبادل کا خوف اتنا بڑا خوف ہے کہ مغرب نے 70 سال تک اس خوف سے سوشلزم کی مزاحمت کی اور اس کے خلاف سازشیں کیں کہ کہیں سوشلزم اس کے نظام کا متبادل نہ بن جائے۔ اسلام مغرب کے نظام کا متبادل مہیا کرنے میں کامیاب ہوگیا تو ایک ارب 50 کروڑ مسلمان اور مسلمانوں کی پچاس سے زیادہ ریاستیں مغرب کی گرفت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل جائیں گی۔