December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

امریکہ بمقابلہ چین، نئی سَرد جَنگ کا آغاز

 

شاہنواز فاروقی

گزشتہ دو سو سال سے پوری دنیا میں مغرب کی غیر معمولی ذہانت اور علم کے چرچے ہیں۔ مشرق کے کروڑوں لوگ اہلِ مغرب کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ آسمان سے اتری ہوئی مخلوق ہوں۔ مغربی انسان چاند پر پہنچ گیا اور مریخ پر جانے ہی والا ہے۔ مغربی انسان نے کائنات کے سربستہ رازوں کو جان لیا۔ اس نے ایٹم کو توڑ کر توانائی کا خزانہ دریافت کرلیا۔ مغرب کی ہزاروں ایجادات ہماری زندگی کے معمولات کا حصہ ہیں۔ ان تمام چیزوں کا اربوں انسانوں پر ’’جادوئی‘‘ نہیں ’’معجزاتی اثر‘‘ ہے۔ اس اثر کی وجہ سے اربوں لوگ مغرب کے علم اور ذہانت پر ’’ایمان‘‘ لائے ہوئے ہیں۔ لیکن مغرب کی ذہانت اور علم کے اندازے کا ایک اور زاویہ ہے۔
سرمایہ دار مغرب سوشلسٹ روس اور اُس کے فلسفے کا دشمن تھا اور وہ چاہتا تھا کہ سوشلزم اور سوویت یونین زیر ہوجائیں۔ اس نے کمیونزم اور سوویت یونین کو کمزور کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے۔ مگر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے لاکھوں دانش وروں، پالیسی سازوں اور انٹیلی جنس اداروں کے ہزاروں اہلکاروں میں سے کسی کو معلوم ہی نہ ہوسکا کہ سوویت یونین ٹوٹنے والا ہے اور سوشلزم تحلیل ہوا چاہتا ہے۔ چنانچہ سوویت یونین ٹوٹا اور سوشلزم تحلیل ہوا تو پورا مغرب بھی اسی طرح حیران ہوا جس طرح خود سوویت یونین اور پوری سوشلسٹ دنیا کے لوگ حیران ہوئے۔
سوویت یونین کے خاتمے اور سوشلزم کے آنجہانی ہونے کے بعد مغرب کے مفکرین اور دانش ور گاما پہلوان بن کر سامنے آئے۔ فوکویاما امریکی اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ ترین دانش ور تھے۔ انہوں نے اعلان فرمایا کہ تاریخ کے سفر کا حالیہ مرحلہ سرمایہ دارانہ نظام اور سوشلزم کی کشمکش کا حامل تھا۔ مگر چونکہ سوشلزم کو شکست ہوگئی ہے اس لیے تاریخ کا سفر انجام کو پہنچ گیا ہے اور اب لبرل ڈیموکریسی اور سرمایہ دارانہ نظام دنیا کی واحد حقیقت ہے، اور باقی دنیا کے پاس اب کرنے کے لیے صرف ایک کام رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ وہ مغرب کی اقدار اور نظام کی پوجا کرے۔ بعض مغربی دانش وروں نے اعلان کیا تھا کہ 19 ویں اور 20 ویں صدی مغرب کی صدیاں تھیں اور اب 21 ویں صدی بھی مغرب کی صدی ہوگی۔ ان آوازوں اور لہجوں پر خدائی لہجے کا غلبہ تھا، اور اس لہجے کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ تھا۔ دنیا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یک قطبی یا unipolar ہوچکی تھی۔ اب امریکہ دنیا کا واحد خدا تھا اور پوری دنیا اس خدا کی مخلوق۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے چین اور روس دنیا کی بڑی طاقتیں بن کر اُبھر آئے اور وقت نے مغرب کے دانش وروں، مفکروں، پالیسی سازوں اور انٹیلی جنس اداروں کی معلومات، علم اور تجزیے پر تھوک کر ثابت کردیا کہ مغرب جس دنیا پر غلبے کا دعویدار ہے اور جس دنیا میں اس کی مرضی کے بنا کچھ نہیں ہوتا وہ اس دنیا کو بالکل نہیں جانتا۔ جانتا ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ چین اور روس عالمی طاقتیں بن کر اُبھرنے والے ہیں۔ بلاشبہ مُردہ مادے اور زندہ انسانوں کو پہچاننے اور جاننے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
پوری مغربی دنیا اور اس کا امام امریکہ چین کے معاشی اُبھار پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے، مگر امریکہ اور یورپ چین کے اُبھار کو سمجھنے میں بھی پوری طرح ناکام ہوئے۔ امریکہ اور یورپ کا خیال تھا کہ چین سرمایہ دارانہ معیشت کے راستے پر چلے گا تو سرمایہ داری اسے اندر سے بدل دے گی اور چین کے حصے بخرے کرنا آسان ہوجائے گا۔ چنانچہ امریکہ اور یورپ نے چین کی معیشت کو پھلنے پھولنے کی آزادی دی، اس کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات استوار کیے، امریکہ نے خود چین کو WTO یعنی World Trade Organization کا رکن بنوایا۔ امریکہ اور یورپ 30 سال تک یہ دیکھ کر خوش ہوتے رہے کہ چین لبرل ازم کے بنیادی اصولوں یعنی آزاد تجارت، آزاد منڈی اور ان چیزوں کی عالمگیریت کا بڑا وکیل بن چکا ہے۔ امریکہ اور چین کی تجارت ابتدا ہی سے عدم توازن کا شکار تھی اور دو طرفہ تجارت کا عدم توازن چین کے حق میں تھا۔ یہاں تک کہ چند ماہ پہلے تک امریکہ چین کے ساتھ ساڑھے تین سو ارب ڈالر سالانہ کے خسارے کی تجارت کررہا تھا۔ چین کے حیرت انگیز معاشی اُبھار کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ چین کی معاشی قوت ہر سات سال کے بعد دوگنا ہوجاتی ہے۔ 2006ء میں امریکہ کی معیشت چین کی معیشت سے پانچ گنا بڑی تھی، مگر صرف گیارہ سال بعد یعنی 2017ء میں امریکہ کی معیشت چین کی معیشت سے صرف 60 فیصد بڑی رہ گئی تھی۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ چین کے زرمبادلہ کے ذخائر 3 ہزار 200 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس امریکہ کی ’’غربت‘‘ کا یہ عالم ہے کہ وہ دنیا کے دس سب سے زیادہ زرمبادلہ رکھنے والے ممالک کی فہرست میں بھی موجود نہیں۔ اہلِ مغرب کا خیال تھا کہ وہ چین کو اندر سے لبرل بنا لیں گے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اہلِ مغرب کا خیال تھا کہ وہ چین کو توڑ دیں گے، یہ بھی ممکن نہ ہوسکا۔ اہلِ مغرب کا خیال تھا کہ وہ چین کے اُبھار کو روک لیں گے، یہ خیال بھی حقیقت نہ بن سکا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مغرب کے دانش ور اور پالیسی ساز دنیا اورقوموں کی تقدیر کے بارے میں الف ب بھی نہیں جانتے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، آج سے ستّر، اسّی سال قبل اہلِ مغرب کہا کرتے تھے کہ اسلام بڑا مذہب ضرور ہے مگر اسے دنیا میں جو کچھ کرنا تھا کرچکا، اب اس کے احیاء کا کوئی امکان ہے نہ عالمی اسٹیج پر اس کی کوئی حیثیت ہوگی۔ مگر 20 ویں صدی میں اسلام کا احیاء بھی ہوا اور اسلام عالمی اسٹیج پر بھی موجود ہے، حالانکہ کسی بھی مسلم ملک میں اسلام کے حقیقی ترجمان برسراقتدار نہیں۔ امریکہ نے ویت نام میں مداخلت کی اور فتح کے لیے مداخلت کی، مگر امریکہ دس سال میں ویت نام سے ذلیل ہو کر نکلا۔ امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا اور فتح کے لیے حملہ آور ہوا، مگر اسے افغانستان میں شکست ہوگئی ہے۔ یہ ہے مغرب کی مشہورِ زمانہ اجتماعی ذہانت، اجتماعی علم اور اجتماعی حکمتِ عملی کی ’’اوقات‘‘۔
یہ زیادہ پرانی بات نہیں، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا دورہ کیا تھا، اور ان کے دورے سے ایسا لگ رہا تھا کہ امریکہ اور چین ’’دنیا کے کیک‘‘ کو مل بانٹ کر کھانے کا فیصلہ کرنے ہی والے ہیں۔ مگر مغرب کا ذہن ’’مساوات‘‘ کا قائل ہی نہیں۔ اسے انسانوں کے ساتھ ’’انسان‘‘ بن کر رہنے کی عادت ہی نہیں۔ وہ ’’غلبے کی نفسیات‘‘ سے نکل کر ایک لمحہ بھی نہیں سوچ سکتا۔ چنانچہ ٹرمپ نے چین سے امریکہ آتے ہی پلٹا کھایا اور چین اور روس کو امریکہ کا ’’حریف‘‘ قرار دیا۔ چند ماہ میں چین اور روس کے حوالے سے امریکہ کے رویّے اور پالیسی کا تغیر بتا رہا ہے کہ امریکہ کے دانش وروں اور پالیسی سازوں کے علم اور ذہانت کی سطح اور چھابڑی والے کے علم اور ذہانت کی سطح میں زیادہ فرق نہیں۔ بڑی قوتیں چار دن میں دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست قرار نہیں دیتیں۔ لیکن آئیے ہم امریکہ اور چین کی کشمکش کی جانب لوٹتے ہیں۔
اب تک مغربی ممالک کے پالیسی ساز اور ذرائع ابلاغ امریکہ اور چین کی کشمکش کے حوالے سے سوال اُٹھا رہے تھے کہ کیا دنیا میں ایک نئی سرد جنگ شروع ہوگئی ہے؟ مگر امریکہ کے نائب صدر مائک پینس (Mike Pence) نے 4 اکتوبر 2018ء کو خطاب کرتے ہوئے چین کے خلاف نئی سرد جنگ کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر منیر اکرم نے ڈان کراچی کی 14 اکتوبر 2018ء کی اشاعت میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں کہا ہے کہ مائک پینس کے اعلان کے بعد امریکہ قدیم یونانی مؤرخ Thucydides کے جال میں پھنس گیا ہے۔ تھیوسی ڈیڈیز کا نظریہ یا مفروضہ یہ ہے کہ پہلے سے موجود طاقت کا ابھرتی طاقت سے تصادم ہمیشہ ہی ناگزیر ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ امریکہ کے نائب صدر نے نئی سرد جنگ کا اعلان کرتے ہوئے چین کے بارے میں کیا کہا ہے؟ انہوں نے چین پر کئی الزامات لگائے، انہوں نے کہا کہ چین غیر منصفانہ تجارت کا مرتکب ہورہا ہے، وہ امریکی ٹیکنالوجی چرا رہا ہے، وہ امریکہ پر محصولات عائد کررہا ہے، وہ امریکہ کے انتخابی عمل میں مداخلت کررہا ہے، وہ سائوتھ چائنا سی میں فوجی قوت بڑھا رہا ہے، وہ امریکہ کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے، وہ اپنے لوگوں کو جبر کے تحت زندگی بسر کرنے پر مجبور کررہا ہے۔ یہاں بھی امریکہ کے علم اور ذہانت کا عالم یہ ہے کہ امریکی نائب صدر نے چین پر سات الزامات لگائے، مگر الزامات کے درست ہونے کی ایک شہادت بھی پیش نہ کی۔ چین پر غیر منصفانہ تجارت کا الزام غلط ہے، اس لیے کہ چین امریکہ کے ساتھ آزادانہ تجارت کررہا ہے، اور آزادانہ تجارت اس نے مغرب ہی سے سیکھی ہے۔ چین نے امریکہ کی کون کون سی ٹیکنالوجی چرائی اس کی وضاحت بھی ضروری تھی اور اس سلسلے میں ٹھوس ثبوت کے ساتھ دوچار مثالیں بھی درکار تھیں، مگر امریکہ کے نائب صدر یہاں بھی چین پر صرف الزام لگا کر رہ گئے۔ چین امریکہ پر جوابی محصولات عائد کررہا ہے، محصولات عائد کرنے کا آغاز امریکہ نے کیا۔ اس کے جواب میں چین بھی محصولات عائد کرنے کی طرف چلا گیا۔ امریکہ کے انتخابی عمل میں چین کی مداخلت کے حوالے سے بھی ثبوت پیش کیا جانا چاہیے تھا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ بالفرض چین نے امریکہ کے انتخابی عمل میں مداخلت کی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ تو یہ کام پچاس سال سے کررہا ہے۔ وہ پچاس سال سے حکومتیں گروا رہا ہے، حکومتیں اقتدار میں لارہا ہے، مارشل لا لگوا رہا ہے، انتخابی عمل پر اثرانداز ہورہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ جو کام پچاس سال سے کررہا ہے اگر وہی کام اب چین نے بھی کرنا شروع کیا ہے تو امریکہ کو اس پر اعتراض کرنے کا ’’اخلاقی حق‘‘ یا ’’سیاسی حق‘‘ کہاں سے حاصل ہوا؟ جہاں تک South China Sea کا معاملہ ہے تو وہ چین کا علاقہ یا چین کی سمندری حدود ہیں۔ اگر چین وہاں اپنی عسکری طاقت میں اضانے کا حق نہیں رکھتا تو پھر کہاں رکھتا ہے! خاص طور پر اس صورت میں جب امریکہ جاپان، آسٹریلیا اور تائیوان کے ساتھ مل کر سازشیں کررہا ہے۔ چین امریکہ کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے تو اس میں نئی بات کیا ہے! امریکہ 70 سال تک روس کے خلاف پروپیگنڈا کرتا رہا۔ امریکہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرتا رہا اور کررہا ہے۔ امریکہ اسلامی تحریکوں کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے، یہاں تک کہ امریکہ اپنے اتحادی سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف بھی پروپیگنڈا کررہا ہے۔ جہاں تک چین میں لوگوں پر جبر کا معاملہ ہے تو یہ بلاشبہ سنگین مسئلہ ہے، مگر یہ بہرحال چین کا داخلی معاملہ ہے۔ ویسے اِس وقت تو پوری مغربی دنیا اپنی مسلم اقلیت کو کچل رہی ہے، مغربی حکومتیں مغرب میں آباد مسلمانوں کی وفاداری پر شبہ کررہی ہیں، مسلمانوں کی ڈاک اور فونز پر نظر رکھی جارہی ہے، خواتین کو اسکارف اوڑھنے سے روکا جارہا ہے، مساجد کی تعمیر کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے، مسجدوں کے مینار بلند کرنے پر اعتراض کیا جارہا ہے، سوال اٹھایا جارہا ہے کہ مسلمان حلال گوشت کیوں کھاتے ہیں؟ مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے، ان کے خلاف Hate Speech کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے۔ چنانچہ امریکہ کے نائب صدر پہلے اپنے گھر کی خبر لیں پھر چین پر اعتراض کریں۔ لیکن یہاں کہنے کی اصل بات کچھ اور ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ صرف امریکہ کے نائب صدر مائک پینس نے نئی سرد جنگ کی بات نہیں کہی ہے، بلکہ مغرب کے ذرائع ابلاغ نے بھی اچانک سرد جنگ کا راگ الاپنا شروع کردیا ہے۔ مغرب کے سب سے مؤثر علمی و صحافتی رسالے ’دی اکنامسٹ‘ نے اپنے حالیہ شمارے میں صاف کہا ہے کہ مائک پینس کی تقریر حقیقی یا عملی سرد جنگ یا اس کی اصطلاح میں Defecto Cold War کی نشاندہی کررہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ دی اکنامسٹ نے امریکہ چین محاذ آرائی کے حوالے سے اداریہ تحریر کیا ہے، اداریے کے مرکزی خیال سے اپنے سرِورق کو آراستہ کیا ہے، اور ایک تین صفحات پر مشتمل مضمون بھی شائع کیا ہے۔ دی اکنامسٹ کے اس مواد کا تجزیہ ہمیں مغرب، اس کے چین سے تعلق، اور دنیا کے مستقبل کے بارے میں بہت کچھ بتا رہا ہے۔
پروپیگنڈا ایک پرانا ہتھیار ہے، مگر مغرب نے اپنے عالمگیر غلبے سے حاصل ہونے والے علم اور تجربے کے ذریعے پروپیگنڈے کو ترقی دے کر آرٹ بلکہ سائنس بنادیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ دی اکنامسٹ نے اپنے 20 اکتوبر سے 26 اکتوبر کے حالیہ شمارے کے سرورق پر جو سرخی شائع کی ہے وہ یہ ہے۔
China V America dangerous rivalry
China V America کا ترجمہ ’’چین بمقابلہ امریکہ‘‘ ہے۔ یہ سرخی اس طرح بھی ہوسکتی تھی، یعنی ’’امریکہ بمقابلہ چین‘‘۔ آپ کہیں گے دونوں سرخیوں میں الفاظ کے الٹ پھیر کے سوا کوئی فرق نہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ چین بمقابلہ امریکہ کی سرخی سے تاثر ملتا ہے کہ جارح چین ہے اور امریکہ صرف اپنا دفاع کررہا ہے۔ یا مقابلہ چین نے شروع کیا اور بیچارہ امریکہ صرف چین کا جواب دے رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی اسے جارحیت کہے یا جنگ، کوئی اسے مقابلہ کہے یا حریفانہ تعلق، کوئی اُسے دشمنی کا نام دے یا مسابقت کا… اس کا آغاز بہرحال امریکہ نے کیا ہے۔ ممکن ہے کہ چین آنے والے کل میں دنیا کے ساتھ وہی سلوک کرے جو امریکہ 70 سال سے کررہا ہے، مگر فی الحال چین امریکہ سمیت کسی کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتا۔ تجارتی جنگ بھی اس نے شروع نہیں کی، اور وہ ابھی تک امریکہ کو مذاکرات کی دعوت دے رہا ہے۔ مگر امریکہ محاذ آرائی کے راستے پر چل پڑا ہے۔
دی اکنامسٹ کے حالیہ شمارے کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ اب تک مغربی دنیا چین کو اُبھرتی ہوئی طاقت یا Rising China کہہ رہی تھی، مگر اکنامسٹ نے پہلی بار چین کو ’’سپر پاور‘‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ مغربی ذہن جب بھی اپنے حریف کی طاقت کو بڑھاکر بیان کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے حریف پر ممکنہ حملوں کے لیے جواز تراش رہا ہے اور رائے عامہ ہموار کررہا ہے۔
دی اکنامسٹ اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر مائک پینس نے چین کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ صرف اُن کی ذاتی رائے نہیں بلکہ اس سلسلے میں امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی میں چین کی مذمت کا مقابلہ ہورہا ہے۔ یہاں تک کہ پینٹاگون اور سی آئی اے بھی وہی کہہ رہے ہیں جو سیاست دان کہہ رہے ہیں، اور امریکہ اس مسئلے پر ہم آواز ہوچکا ہے کہ چین امریکہ کا ’’نظریاتی‘‘ اور ’’تزویراتی حریف‘‘ ہے۔ دی اکنامسٹ کے اداریہ نویس نے چین کو امریکہ یا مغرب کا ’’نظریاتی حریف‘‘ قرار دیا ہے تو ایسا بلاسبب نہیں ہے۔ مغرب نے سوویت یونین یا سوشلزم کے خلاف جنگ جیتی تو ’’نظریاتی علم‘‘ اور ’’نظریاتی جوش اور ولولے‘‘ کی بنیاد پر۔ مغرب مجبور ہوا تو وہ چین کے خلاف بھی ’’نظریاتی فرق‘‘ کو آواز دے گا اور اپنے لوگوں میں ’’نظریاتی جوش اور ولولہ‘‘ پیدا کرنے کی کوشش کرے گا، تاکہ اس کے لیے چین کے خلاف ایک مؤثر جنگ لڑنا ممکن ہوسکے۔ کمال ہے کہ نظریاتی جنگ لڑنے کی بات مغرب کا غیر نظریاتی ذہن تو خوب سمجھتا ہے مگر مسلم دنیا کا نظریاتی ذہن نظریاتی کشمکش برپا کرنے اور نظریاتی جنگ لڑنے کی اہمیت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔
سوال یہ ہے کہ امریکہ اور اُس کے مغربی اتحادیوں کو چین سے کس بات کا خوف لاحق ہے؟ اس سوال کا جواب دی اکنامسٹ کے اداریے اور اکنامسٹ میں شائع ہونے والے مضمون میں موجود ہے۔ اکنامسٹ اپنے اداریے میں لکھتا ہے:
’’امریکہ کا خوف یہ ہے کہ وقت چین کے ساتھ ہے۔ چین کی معیشت امریکہ کی معیشت سے دگنی رفتار سے وسعت اختیار کررہی ہے۔ چین کی حکومت مصنوعی ذہانت، Quantum computing اور بایوٹیک جیسی ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہی ہے، امریکہ سمجھتا ہے کہ آج چین کا راستہ South China Sea میں روکا جاسکتا ہے مگر کل یہ کام ناممکن ہوگا‘‘۔
(دی اکنامسٹ۔ 20 اکتوبر تا 26 اکتوبر 2018ء۔ صفحہ 13)
یہ امریکہ کے خوف کی پوری تفصیل نہیں۔ دی اکنامسٹ نے اپنے زیر بحث شمارے میں چین کے حوالے سے جو مضمون شائع کیا ہے اُس میں امریکہ یا مغرب کے خوف کے دو مزید پہلو سامنے آتے ہیں۔ اکنامسٹ لکھتا ہے:
’’چین کی بحریہ کے پاس زمین سے فضا اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے ایسے میزائل ہیں جو امریکہ کے پاس موجود میزائلوں سے زیادہ جدید بھی ہیں اور ان کی تعداد بھی چین کے پاس زیادہ ہے۔‘‘ (صفحہ25)
دی اکنامسٹ مزید لکھتا ہے:
’’چین کے فوجی اخراجات زیادہ نہیں مگر ان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) اتنی بڑھ گئی ہے کہ چین زیادہ سے زیادہ ہتھیار خریدنے کی صلاحیت کا حامل ہوچکا ہے۔ تزویراتی مطالعے کے بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق چین نے 2014ء سے اب تک جتنے ٹن کے بحری جنگی جہاز سمندر میں اُتارے ہیں وہ ٹنوں یعنی وزن کے اعتبار سے فرانس، جرمنی، بھارت، اٹلی، جنوبی کوریا، اسپین اور تائیوان کی بحریہ کی جانب سے اتارے گئے جنگی جہازوں کے مجموعی وزن سے زیادہ ہیں۔‘‘ (صفحہ25)
امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کو اب تک اس بات کا اطمینان تھا کہ چین کی معاشی طاقت تو بڑھ گئی ہے مگر اس کی عسکری طاقت بہرحال امریکہ سے بہت کم ہے۔ اور یہ ایک درست تجزیہ تھا، مگر اکنامسٹ کے مضمون کے مذکورہ بالا دونوں اقتباسات سے ظاہر ہورہا ہے کہ جس طرح مغرب چین کے بارے میں کئی غلط اندازے قائم کرتا رہا ہے اور اپنی ذہانت اور علم کو مذاق بنا چکا ہے، اسی طرح فوجی طاقت کے دائرے میں بھی مغرب کی خام خیالی دور ہونے لگی ہے اور مغرب کو معلوم ہورہا ہے کہ چین بہت تیزی کے ساتھ فوجی دائرے میں بھی طاقت ور ہوتا چلا جارہا ہے۔ مغرب کے اس خوف نے امریکہ کو مجبور کردیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کی ترقی کے حوالے سے کیے گئے معاہدے کو مسترد کردے اور اعلان کرے کہ امریکہ اب جدید ترین ایٹمی ہتھیار بنائے گا۔ مغرب کی تاریخ یہ ہے کہ اس نے گزشتہ دو سو سال میں صرف اپنی عسکری طاقت اور سازش کی صلاحیت سے استفادہ کرتے ہوئے درجنوں اقوام کو اپنا غلام بنایا۔ عسکری قوت کے ذریعے ہی امریکہ اور اس کے نام نہاد مغربی اتحادی عالمی نظام چلا رہے ہیں، اور اب امریکہ سوچ رہا ہے کہ چین کو ڈرانا اور اپنا ماتحت بنانا ہے تو ایسے نئے ہولناک ایٹمی ہتھیار تیار کرو کہ چین امریکہ کا مقابلہ ہی نہ کرسکے اور اس کے آگے ڈھیر ہوجائے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک جانب مغرب مقابلے اور مسابقے کو صنعتی نظام اور جدید معیشت کی بنیاد قرار دیتا ہے مگر دوسری جانب وہ چاہتا ہے کہ چین اس کا مقابلہ نہ کرے۔ اس سلسلے میں امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی منافقت اور شیطنت کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ چین نے 2015ء میں Made in China کے عنوان سے ایک پروگرام شروع کیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ 2025ء تک چین میں ہر شے مقامی طور پر ساخت کی ہوئی ہو، یعنی Made in China ہو۔ چین کے اس پروگرام کے بارے میں اکنامسٹ لکھتا ہے کہ یہ بات امریکہ کو خوش کرنے والی نہیں ہے اور دنیا کو چین کے اس پروگرام پر تشویش ہے۔ (صفحہ 26) لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں؟ کیا چین خودانحصاری حاصل نہ کرے؟ کیا وہ ہمیشہ مغرب کا محتاج رہے؟ کیا امریکہ اور یورپ کو کسی نے ہر چیز خود تیار کرنے سے روکا ہے؟ کیا یہی ہے مغرب کا آزادانہ مقابلہ؟ اور آزادانہ مسابقت؟ مغرب کی خباثت کا اندازہ کرنا ہو تو دی اکنامسٹ کے مضمون کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔ اکنامسٹ لکھتا ہے:
“Well connected scholars and retired officials have shared their concerns with western contacts about a behir a febrile mood with in china’s national security establishment. They detect genuine excitement over the prospect of a great power contest in which china is one of the protagonists. This coincide worryingly with the squeezing of public space for discussion. Scholars are not now supposed to debate foreign policy in the open, and strident nationalists dominate what debit there is Even the idea of an expensive arms race with America Strikes some Chins experts as a fine plan, given their confidence in the long-run potential of their economy. In this dangerous moment, blending grievance and cockiness, it seems astonishing to remember that less than a generation ago Chinese leaders assured the world that they sought only a ‘peaceful rise” (The Economist October 20th-26th 2018- page26)آپ ذرا غور تو فرمائیے اہلِ مغرب چین کے بارے میں کیا فرمارہے ہیں۔ ایک بات وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ چین کی قومی سلامتی سے متعلق اسٹیبلشمنٹ دو بڑی طاقتوں یعنی امریکہ اور چین کے مقابلے کے حوالے سے بڑی پُرجوش ہے کیونکہ چین اس مقابلے کا ایک مرکزی کردار ہے۔ دوسری بات اہلِ مغرب یہ کہہ رہے ہیں کہ چین کی قیادت یا سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ امریکہ کے ساتھ ہتھیاروں کے مہنگے مقابلے کے لیے تیار ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ چین کی معیشت مضبوط ہے اور وہ ہتھیاروں کی مہنگی دوڑ کا بوجھ اٹھانے کی سکت رکھتی ہے۔ اہلِ مغرب کو اس بات پر ’’حیرت‘‘ ہے کہ محض ایک نسل پہلے چینی کہا کرتے تھے چین کا ابھار پُرامن ہوگا۔ اب آئیے ان باتوں کا نکتہ بہ نکتہ تجزیہ کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر چین کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ امریکہ کے ساتھ مقابلے سے خوف زدہ نہیں ہے بلکہ وہ اس مقابلے کے حوالے سے پُرجوش ہے تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ کیا اس سے چین کی شخصیت کا کوئی ’’شیطانی پہلو‘‘ سامنے آرہا ہے؟ اس بات میں اگر کوئی شیطانی پہلو ہے تو یہ کہ اہلِ مغرب چین کو مقابلے کے لیے تیار اور پُرجوش دیکھ کر بدمزہ ہورہے ہیں۔ اصل اہلِ مغرب اس بات کے عادی ہیں کہ وہ کسی کو ڈرائیں گے تو وہ ڈر کر دبک جائے گا۔ مگر چین چونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مقابلے سے ڈر نہیں رہا تو اہلِ مغرب اس بات کا ذکر اس طرح کررہے ہیں جیسے یہ چین کا کوئی بہت بڑا عیب یا بہت بڑا جرم ہو۔ یہ ایسی بات ہے کہ اس پر پوری مغربی دنیا کو شرم سے کہیں ڈوب مرنا چاہیے۔
اہلِ مغرب نے چین کا دوسرا بڑا عیب یا دوسرا بڑا جرم یہ بتایا ہے کہ چین کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ امریکہ کے ساتھ ہتھیاروں کی مہنگی دوڑ، دوڑنے کے لیے تیار ہے کیونکہ چین کو اپنی مضبوط معیشت پر بھروسا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور یورپ 70سال سے اپنی مضبوط معیشت پر بھروسا کرکے پوری دنیا کو ہتھیاروں کی دوڑ میں مبتلا نہیں کیے ہوئے؟ اور کیا امریکہ نے سوویت یونین کو ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل کرکے اور اسے افغانستان میں پھنسا کر معاشی طور پر کمزور نہیں کیا؟ اور کیا مغربی دنیا بھارت کو مضبوط معیشت بناکر اور مسلح کرکے پاکستان کی معیشت اور سلامتی کے نظام پر دبائو نہیں بڑھا رہی؟ چنانچہ چین اگر اپنی معیشت کی مضبوطی پر نازاں ہے اور اس کا خیال ہے کہ وہ مغرب کے ساتھ مہنگے ہتھیاروں کا کھیل کھیل سکتا ہے تو مغرب کو اس پر کیا اعتراض ہے؟ یہاں بھی پوری مغربی دنیا کہیں جاکر شرم سے ڈوب مرے تو اچھا ہو۔
اہلِ مغرب نے چین پر تیسرا بڑا حملہ یہ کہہ کر کیا ہے کہ ایک نسل پہلے چینی کہا کرتے تھے کہ ہمارا معاشی عروج پُرامن ہوگا، تو کیا چین نے نیویارک، لندن اور پیرس میں ایٹم بم دے مارے ہیں؟ کیا اس نے امریکہ اور یورپ کو کسی سازش کے ذریعے معاشی طور پر مفلوج کردیا ہے؟ کیا چین نے امریکہ اور یورپ کے سارے کارخانوں پر تالے ڈلوا دیئے ہیں؟ کیا چین نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس پر قبضے کی دھمکی دے دی ہے؟ چین نے ان میں سے کوئی کام بھی نہیں کیا ہے تو پھر اہلِ مغرب کو چین کا ابھار پُرامن کیوں نظر نہیں آرہا؟ تاریخ کا ٹھوس تجربہ بتاتا ہے کہ تمام یورپی طاقتوں کا عروج بہیمانہ، سفاکانہ، جنگ زدہ اور انسانیت سوز تھا، اس لیے کہ یورپ کی تمام اقوام 19ویں صدی میں اپنے اپنے جغرافیے سے نکلیں اور پوری دنیا بالخصوص مسلم دنیا پر قابض ہوگئیں۔ اسی طرح دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ عالمی طاقت بن کر ابھرا تو اس کا عروج یا ابھار بھی خون آشام تھا۔ جاپانی افواج امریکہ کے آگے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کرچکی تھیں۔ امریکہ کو یہ بات معلوم ہوگئی تھی، اس لیے کہ اُس نے جاپانی فوج کے خفیہ پیغامات پکڑ کر ڈی کوڈ کرلیے تھے۔ مگر اس کے باوجود بھی امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گراکر لاکھوں بے گناہ انسانوں کو مار ڈالا۔ بعد ازاں امریکہ نے مارشل پلان کے ذریعے کمزور اقوام کی آزادی اور ضمیر خریدا۔ سیٹو اور سینٹو کے معاہدوں کے ذریعے اس نے آزاد دنیا کو اپنا غلام بنایا۔ بعد ازاں اس نے مختلف ممالک میں حکومتوں کے تختے الٹنے اور جنگ ایجاد کرنے کی سیاست کو فروغ دیا۔ برطانیہ نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران لاکھوں مسلمانوں اور ہندوئوں کو ہلاک کیا۔ الجزائر کی جنگِ آزادی میں فرانس نے 10لاکھ الجزائری باشندوں کو قتل کر ڈالا۔ اپنی بالادستی کے اظہار کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر پابندیاں لگائیں اور دس برسوں میں پانچ لاکھ بچوں سمیت دس لاکھ عراقیوں کو غذا اور دوائوں کی قلت کا شکار کرکے ہلاک کردیا۔ عراق پر نائن الیون کے بعد جارحیت کرکے امریکہ نے عراق میں پانچ ابتدائی برسوں میں چھے لاکھ عراقی مار ڈالے۔ جان ہوپکنز یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے ایک لاکھ لوگ جنگ، اور مزید پانچ لاکھ لوگ جنگ کے اثرات اور مضمرات کی نذر ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ چین نے ان میں سے کون سا جرم کر ڈالا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ چین عالمی طاقت بن کر وہی کرے جو امریکہ اور یورپ نے کیا ہے، مگر ابھی تک چین کے دامن پر اُن داغوں میں سے ایک داغ بھی نہیں ہے جو مغرب کے اجتماعی دامن پر لگے ہوئے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ دی اکنامسٹ ایک جانب یہ بھی نہیں چاہتا کہ چین امریکہ کی ٹکر کی طاقت بنے۔ دوسری طرف اسے یہ بھی معلوم ہے کہ چین امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے مقابلے کے لیے تیار ہے۔ چنانچہ تیسری جانب اکنامسٹ نے اپنے زیر بحث شمارے کے اداریے میں یہ لکھنا ضروری سمجھا ہے کہ اگر چین ابھر رہا ہے تو ہمیں اسے ابھرنے کا موقع دینا چاہیے، اور اگر وہ دنیا میں اپنے اثرات کا دائرہ وسیع کرتا ہے تو ہمیں ایسا کرنے دینا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ مغرب چین سے حقیقی معنوں میں خوف زدہ ہیں۔ ان کا خوف اتنا بڑھا ہوا ہے کہ وہ چین سے لڑنا بھی چاہتے ہیں مگر اس کی معاشی اور عسکری طاقت دیکھ کر انہیں خیال آرہا ہے کہ چین پر قابو پانا آسان نہیں۔ چنانچہ چین ابھررہا ہے تو ابھرنے دو۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو چین نے سرد جنگ کے آغاز ہی میں مغرب کو نفسیاتی شکست سے دوچار کردیا ہے۔ کوئی طاقت اگر اپنے دشمن کو کبھی ’’تُو‘‘ کہے اور کبھی ’’آپ جناب‘‘ کرنے لگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حریف کے گہرے خوف میں مبتلا ہے… اور خوف زدہ فرد ہو یا قوم، ملت ہو یا امت، کلچر ہو یا تہذیب… وہ جنگ لڑنے اور فتح یاب ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ اور چین کی کشمکش میں چین اور روس تزویراتی اتحادی بن کر سامنے آتے ہیں یا نہیں؟ دیکھنے کی دوسری بات یہ ہے کہ چین اور روس کے اتحاد کے بعد بھارت کیا کرتا ہے؟ وہ امریکہ کی گود میں بیٹھتا رہتا ہے، یا چین اور روس کے اتحاد کی طرف آتا ہے؟ بھارتی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ہم جنس پرستی اور زنا بالرضا کو سینے سے لگایا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں پیغام یہ ہے کہ بھارت خود کو امریکہ اور یورپ کا فطری اتحادی باور کرا رہا ہے، مگر دوسری جانب بھارت نے روس کے صدر پیوٹن کے دورۂ بھارت کے موقع پر روس کے ساتھ 15ارب ڈالر کے دفاعی و غیر دفاعی معاہدے کیے ہیں۔ ان معاہدوں کے ذریعے بھارت یہ اعلان کررہا ہے کہ اسے امریکہ کا آلۂ کار نہ سمجھا جائے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح اہلِ مغرب چین کے ساتھ محاذ آرائی کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں اسی طرح بھارت بھی امریکہ سرپرستی کے حوالے سے تذبذب میں مبتلا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بھارت نے چین اور روس کے ممکنہ کیمپ میں جانے کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا۔
امریکہ اور چین کی کشمکش کا لبرل ازم اور مسلمانوں کے مستقبل کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اگر یہ بات فرض کرلی جائے کہ امریکہ اور چین کی کشمکش آگے بڑھے گی اور سرد جنگ طول پکڑے گی، تو مسلم دنیا کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس کشمکش میں کہاں کھڑی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر امریکہ اور چین کی محاذ آرائی میں امریکہ کو شکست ہوگئی تو مغرب کا لبرل ازم جو پہلے ہی بحران سے دوچار ہے، اپنی موت آپ مرجائے گا، اور جس طرح کمیونزم کا کوئی رونے والا نہیں تھا اسی طرح لبرل ازم کا بھی کوئی رونے والا نہیں ہوگا۔ البتہ امریکہ پر چین کی فتح بھی سرمائے کی فتح ہوگی اور دولت پرستی اسی طرح دنیا کا مذہب بنی رہے گی جس طرح مغرب کے زیرِ اثر آج دنیا کا مذہب بنی ہوئی ہے۔ ایسی دنیا جس کا مرکز خدانخواستہ دولت ہو، مسلمانوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے، اور آئندہ بھی ناقابلِ قبول ہوگی۔