December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

ماسکو میں افغان امن مذاکرات 

 

برادر ملک افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے روس کے دارالحکومت ماسکو میں مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس کی میزبانی روس کر رہا ہے ورنہ اب تک افغانستان پر 17 سال سے قابض امریکا ہی خفیہ مذاکرات کرتا رہا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہے کہ کھیل امریکا کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود سوویت یونین بھی افغانستان پر قبضہ کر چکا ہے اور 1979ء میں اس نے اپنی فوجیں افغانستان میں داخل کر دی تھیں۔ اس فوج کشی کی وجہ افغانستان کی سیاسی صورتحال اور رہنماؤں میں آپس کی چپقلش تھی جس کی وجہ سے آئے دن حکومتیں بدل رہی تھیں۔ سوویت یونین کمیونزم کا علم بردار تھا اور افغانستان میں موجود کمیونسٹوں ہی نے اسے حملہ کرنے پر اکسایا تھا۔ لیکن اس وقت بھی افغان مجاہدین نے بے سروسامان ہونے کے باوجود ماسکو کی فوجوں اور ملک میں موجود غداروں کا جم کر مقابلہ کیا۔ امریکا سمیت دیگر ممالک تو مجاہدین کی جرأت اور کامیابی کو دیکھ کر میدان میں آئے۔ 1977ء میں پاکستان میں جنرل ضیاء الحق مارشل لا لگا کر برسراقتدار آگئے تھے۔ انہوں نے کھل کر افغان مجاہدین کا ساتھ دیا اور پاکستان کی آئی ایس آئی نے جنرل اختر عبدالرحمن کی قیادت میں سوویت یونین کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ جس وقت سوویت یونین کے ٹینک کابل کی سڑکوں پر گشت کررہے تھے تو پاکستان میں عبدالولی خان اور ان کے حواریوں کے دل کمیونسٹ روس کے ساتھ دھڑک رہے تھے اور ولی خان نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں تو افغانستان میں کوئی روسی ٹینک نظر نہیں آیا۔ بہرحال مجاہدین کی جرأت و ہمت کے سامنے سوویت یونین نہ صرف پسپا ہوا بلکہ جن چھ مسلم ریاستوں پر قبضہ کر رکھا تھا انہیں بھی آزادی ملی اور سوویت یونین ایک بار پھر روس بن گیا۔ ورنہ روس کے بارے میں کمیونسٹ عناصر کہا کرتے تھے کہ اس نے جہاں بھی قبضہ کیا وہاں سے پیچھے نہیں گیا اور بہت جلد وہ گرم پانیوں کی تلاش میں پاکستان میں داخل ہو جائے گا۔ روس کے سمندر سردی میں جم جاتے ہیں جب کہ پاکستان کے سمندر رواں رہتے ہیں۔ روس گوادر کے ساحلوں تک پہنچنا چاہتا تھا جہاں اب چین پہنچ رہا ہے۔ اور پھر 2001ء میں نیو یارک کے تجارتی میناروں پر طیاروں کے پراسرار حملے کو جواز بنا کر امریکا نے افغانستان پر حملہ کردیا حالانکہ اس حملے میں کوئی افغان ملوث نہیں تھا۔ ایسی کئی رپورٹیں ہیں کہ نیویارک حملے کا منصوبہ سی آئی اے کا تیار کردہ تھا۔ ایسے شواہد ہیں کہ اس واقعے سے پہلے ہی امریکا نے افغانستان پر حملے کی تیاری کر رکھی تھی اور میزائل حملے بھی شروع ہوگئے تھے جن میں سے ایک پاکستان کی حدود میں بھی آ گرا تھا۔ بہرحال یہ معاملات اس تاریخ کا حصہ ہیں جس کا مکمل سچ سامنے نہیں آیا۔ لیکن یہ سچ سب کے سامنے ہے کہ امریکا اور اس کے صلیبی حواری تمام تر عسکری طاقت کے باوجود افغانستان پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوا ہے کہ امریکا کابل میں اپنی مرضی کے حکمرانوں کو بٹھا رہا ہے۔ موجودہ افغان صدر اشرف غنی یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ اگر امریکی فوج افغانستان سے نکل گئی تو ان کی حکومت تین دن بھی نہیں چل سکے گی۔ نجانے کیوں پاکستان کی عسکری قیادت بھی اپنے پڑوس میں امریکا کی موجودگی کو اپنے لیے عافیت کی علامت سمجھتی ہے۔ بہرحال اب ماسکو افغانستان میں امن کی تلاش میں آگے بڑھا ہے۔ مذکورہ امن مذاکرات میں طالبان کے 5 رکنی وفد کے علاوہ خود امریکا اور بھارت بھی شریک ہیں۔ چین، پاکستان اور قطر سمیت 12 ممالک کے نمائندے ماسکو میں موجود ہیں اور افغان طالبان کا کہنا ہے کہ وہ صرف مذاکرات نہیں بلکہ مسئلہ کا پر امن حل چاہتے ہیں۔ طالبان کا واضح اور دو ٹوک موقف ہے کہ جب تک امریکا افغانستان میں بیٹھا ہے امن نہیں ہوسکتا۔ تاہم میزبان ملک روس کا کہنا ہے کہ کانفرنس کا مقصد براہ راست مذاکرات کے لیے حالات سازگار بنانا ہے، افغانستان کی تاریخ کا نیا باب شروع ہوگا۔ امن مذاکرات میں شامل پاکستان، روس، چین اور کسی حد تک بھارت پڑوسی ہیں اور امریکا قابض ملک ہے۔ ایک پڑوسی ایران بھی ہے لیکن اس کو شاید دعوت ہی نہیں دی گئی۔ بھارت کی شمولیت پر کشمیری رہنما عمر عبداللہ نے بجا اعتراض کیا ہے کہ بھارت طالبان سے مذاکرات کرسکتا ہے تو کشمیریوں سے کیوں نہیں کر سکتا۔ بات تو درست ہے لیکن عمر عبداللہ کو اس کا جواب بھی معلوم ہے کہ کشمیر بھارت کا مقبوضہ ہے، وہ فوج کی مدد سے اس پر قابض ہے اور اسے اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ کشمیری بھی افغان مجاہدین اور فلسطینیوں کی طرح اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جب کہ افغانستان کے معاملے میں بھارت کی دخل اندازی کا مقصد امریکی سرپرستی میں مفادات حاصل کرنا ہے۔ ماسکو میں مذاکرات پر امریکا ضرور تلملا رہا ہوگا کہ اس کے دو بڑے حریف روس اور چین افغان مسئلے میں شامل ہو گئے ہیں۔ پاکستان کو تو وہ ڈراتا دھمکاتا رہتا ہے کہ پاکستان ہاتھ پھیلائے رہتا ہے۔ دوسری طرف ماسکو افغانستان سے پسپائی کا زخم بھولا نہیں ہے جس کا ذمے دار وہ امریکا کو قرار دیتا ہے۔ ادھر پاکستان پر امریکی دباؤ بڑھتا ہی جاتا ہے اور جان و مال لٹانے کے باوجود ڈو مور کی گردان جاری ہے۔ ترجمان وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان سے متعلق امریکی توقعات پوری نہیں کر سکتے۔ہم نے امریکا کو بتا دیا ہے کہ جو ہم کرسکے کریں گے لیکن اس قدر نتائج نہیں دے سکتے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے یہ وضاحت کی بھی کہ امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رہیں گے اور کسی کے کہنے پر تعلقات خراب نہیں کریں گے۔ امریکا کو دیے گئے اس جواب میں کچھ بھی حقیقت ہے تو اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستان اب امریکی مطالبات سے تنگ آگیا ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ کاش پاکستان بہت پہلے امریکی مطالبات کے آگے سر جھکانے سے انکار کردیتا اور اب تو ماسکو سے بھی پینگیں بڑھ رہی ہیں، شاید امریکا بھی بدلتی ہوئی صورت حال کا ادراک کرسکے۔

              بشکریہ جسارت