November 17th, 2018 (1440ربيع الأول8)

اسرائیل کے بڑھتے ہوئے قدم اور بیت المقدس کے بند دروازے؟

 

ملک الطاف حسین

گزشتہ دنوں اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے مسلم خلیجی ملک اومان کا دورہ کیا جہاں سلطان قابوس بن سعید اور ان کی اہلیہ نے اسرائیلی وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔ سلطان قابوس اور وزیراعظم نیتن یاہو کی ملاقات کے بعد جاری کیے جانے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’’ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوسرے دن یعنی ہفتے کے روز (27 اکتوبر 2018ء) کو ’’مناما‘‘ میں ہونے والی تین روزہ ’’عرب کانفرنس‘‘ جس میں امریکا کے وزیر دفاع جمس میٹس سمیت اطالوی اور جرمنی کے وزیر دفاع بھی شریک تھے۔ اس کانفرنس میں اومان کے وزیر خارجہ بن علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’انہیں اسرائیل بطور ایک مشرق وسطیٰ ریاست کے قبول ہے‘‘ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ’’امن عمل ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کنجی ہے‘‘۔
دوسری جانب ’’قابوس یاہو ملاقات‘‘ پر ایران نے اپنا سرکاری ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اسلامی ملکوں میں اختلافات کے درپے ہے اور فلسطینی عوام پر گزشتہ 70 برسوں کے اپنے مظالم اور جارحیتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے، ایرانی وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کو وائٹ ہاؤس کے دباؤ میں آکر صہیونی حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ علاقے میں نئے مسائل، مصائب اور مشکلات پیدا کرے‘‘۔ اس طرح سے اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ساتھ سلطنت اومان کے دورے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ریاست کے ساتھ تعلقات کے قیام کی صہیونی کوشش ناقابل قبول ہے، کسی عرب ملک کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنا فلسطینی قوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہوگا۔ جب کہ 29 اکتوبر 2018ء کے اخبارات میں ’’عالمی مسلم علما یونین‘‘ کا ایک بیان شائع ہوا جس میں کہا گیا کہ بعض اسلامی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات باعث شرمندگی ہیں، مسلم علما یونین نے دنیا بھر کے علما کرام اور مسلم حکمرانوں سے اپیل کی ہے کہ ان کی پہلی ترجیح مسئلہ فلسطین کا حل اور مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی ہونی چاہیے۔ بیت المقدس پر قبضہ کرنے اور فلسطینی عوام کو شہید کرنے والے وفود کے استقبال اور مہمان نوازی کرنے سے مسلمانوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔ لہٰذا ایسے اقدامات سے اجتناب کرنا چاہیے۔
علاوہ ازیں اس سے پہلے 28 اکتوبر 2018ء کے اخبارات میں یہ خبر بھی شائع ہوچکی ہے کہ اسرائیل کا ایک طیارہ اردن کے دارالحکومت سے ہوتا ہوا اسلام آباد ائر پورٹ پر اُترا اور پھر یہاں پر 10 گھنٹے تک ٹھیرنے کے بعد واپس چلا گیا۔ وزیر خارجہ، وزیر اطلاعات اور سول ایوی ایشن اتھارٹی تردید کرتے ہیں کہ کوئی اسرائیلی طیارہ اُترا تاہم ایم ایم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ خبر سچ ہے حکومتی وضاحت پر اعتبار نہیں۔ کوئی تصدیق یا تردید کرے تاہم ایسی خبریں پاکستان میں پہلے بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ فلاں حکومت نے کس طرح سے اسرائیل کے ساتھ خفیہ رابطے قائم کرنے کی کوشش کی۔ بیگم عابدہ حسین جو وزیراعظم نواز شریف کے دور میں 26 نومبر 1991ء سے 24 اپریل 1993ء تک امریکا میں سفیر تھیں اُن سے بھی ایک بیان منسوب ہے کہ انہوں نے پاکستانی سفیر کی حیثیت سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کی تھی۔ اسی طرح سے جنرل مشرف کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری (23 نومبر2002ء سے 15 نومبر 2007ء) کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ خفیہ رابطے رکھنے کی کوشش کی تھی تاہم حکومتی سطح پر ہمیشہ تردید کی جاتی رہی کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جارہا جیسا کہ اسلام آباد ائر پورٹ پر اسرائیلی طیارے کے اترنے کی خبر کے بعد صدر عارف علوی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اطلاعات فواد چودھری کہہ رہے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جارہا۔
وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں قادیانیوں سمیت بھارت اور اسرائیل کے ساتھ کس قدر ہمدردی پائی جاتی ہے فی الحال اس کا کوئی ٹھوس ثبوت تو نہیں تاہم بعض واقعات اور آثار ایسے ہیں کہ مذکورہ تاثر کی مکمل طور پر تردید بھی نہیں کی جاسکتی۔ مثلاً ملعونہ آسیہ کی رہائی کا معاملہ وغیرہ۔ پاکستان کے عوام مقبوضہ کشمیر سے مسئلہ فلسطین تک اور شہید بابری مسجد سے مقبوضہ بیت المقدس تک، ساری صورتِ حال پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں کسی بھی حکمران کو یہ مینڈیٹ کبھی نہیں دیا گیا کہ وہ ختم نبوت کے دشمنوں سمیت فلسطینی اور کشمیری عوام کے قاتلوں کے ساتھ کسی بھی طرح کی کوئی سودے بازی یا دوستی کرے اگر غلطی سے کسی نے ایسا کچھ کیا تو اُسے شدید عوامی ردعمل اور غیظ و غضب کا شکار ہونا پڑے گا۔ علاوہ ازیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اومان کے سلطان قابوس کے درمیان حالیہ ملاقات کے بعد ایران، حماس اور مسلم علما یونین کا جو ردعمل سامنے آیا ہے اُس سے بھی صورت حال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ عرب حکمرانوں کو یہ خوش فہمی ہے کہ ’’اسرائیل‘‘ بھی مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ اور ذمے دارانہ قدم اٹھا سکتا ہے۔ عربوں کے علاقے اور فلسطینیوں کی زمینوں پر اسرائیلی قبضوں کے علاوہ مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کا وجود جب کہ مسلم ممالک کی تنظیم ’’او آئی سی‘‘ مقبوضہ بیت المقدس کو آزاد فلسطین کا دارالحکومت قرار دے چکی ہے، انتہائی تشویشناک صورت حال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے امن کی کنجی مسجد اقصیٰ کے امام صاحب کے پاس ہے، جب تک ’’بیت المقدس‘‘ اسرائیلی قبضے سے آزاد ہو کر آزاد فلسطین کا دارالحکومت نہیں بن جاتا تب تک اسرائیل کے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے قدموں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی مشرق وسطیٰ میں امن کی کوئی ضمانت دی جاسکے گی۔
’’عرب حکمران‘‘ ہوش کے ناخن لیں، فوجی اتحاد کسی بھی ملک کی سرحدوں کی حفاظت تو کرسکتے ہیں مگر اسرائیل کے دوست بادشاہوں اور امریکا کے وفادار ڈکٹیٹروں کے خلاف کسی بھی ممکنہ عوامی ردعمل کا کچل نہیں سکتے، عرب حکمرانوں کا ’’حق حکمرانی‘‘ پہلے ہی غیر مقبول اور متنازع ہو چکا ہے، داخلی حالات، علاقائی تنازعات اور امریکی غلامی نے عرب حکمرانوں کو محلات کے اندر غیر محفوظ اور عوام کے اندر ناپسندیدہ بنادیا ہے، آئے دن فلسطینیوں کی شہادت سے بہنے والا خون ’’جذبہ جہاد‘‘ کو سمندر کی بپھری ہوئی لہروں کی طرح اُٹھاتا چلا آرہا ہے، خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے لشکروں کی طرح عالم اسلام اور باالخصوص عالم عرب کے نوجوان مقبوضہ بیت المقدس کے بند دروازوں کو کھولنے کے لیے بے قرار ہیں۔ مسلم فوجی اتحاد، عرب ناٹو اتحاد اور امریکی فوجیں اگر مل کر بھی عرب بادشاہوں اور اسرائیلی حکمرانوں کی حفاظت کے لیے دیوار بن کر کھڑی ہوجائیں تو تب بھی یہ اسلامی جہاد سے سرشار مجاہدوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوں گی جس کا واضح ثبوت افغانستان پر حملہ آور سوویت یونین، امریکا اور ناٹو افواج کی شکست سے دوچار تاریخ کو سامنے رکھ کر دیکھا جاسکتا ہے، یہ ’’جہاد‘‘ جس میں عرب اور غیر عرب کا کوئی فرق نہیں بس ایک ہی تعارف ہے۔
جو ’’لاالہ الاللہ محمدرسول اللہ‘‘ سے شروع ہو کر ’’اللہ اکبر‘‘ پر ختم ہوتا ہے اور پھر جب دنیا بھر کے ’’جہادی‘‘ اس نعرے کے ساتھ فلسطین کی سرزمین پر اُترنا شروع ہوگئے تو اُس کے بعد عرب حکمرانوں سمیت ان کے تمام یہود، ہنود اور عیسائی دوستوں کو یہ خبر ہونی چاہیے کہ اسلامی تاریخ خود کو دہرائے گی۔ بدر اور خیبر، موتہ، یُرموک اور کربلا کا سبق پڑھا جائے گا، سر اور بازو قلم کردینے کے بعد بھی ’’جہاد‘‘ کو روکا نہ جاسکے گا کیوں کہ جہاں ’’شہادت‘‘ زندگی بن جائے تو وہاں موت بھی پسپا ہوجاتی ہے۔ بیت المقدس، مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کی طرح حرم ہے جس کی حفاظت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ انبیا علیہم السلام کی یہ سرزمین جہاں ابوالانبیا سیدنا ابراہیم خلیل اللہ آرام فرما رہے ہیں اور جس مسجد اقصیٰ میں سردار الانبیا سیدنا محمدؐ نے سفر معراج سے پہلے تمام انبیاؑ کی امامت کی تھی ان مقدس مساجد اور بابرکت زمین کو دجال کے پیروکاروں سے آزاد کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے، بہتر ہوگا کہ عرب حکمران اور او آئی سی اسرائیل اور امریکا کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور مقبوضہ بیت المقدس سمیت فلسطینیوں کی تمام زمین کو آزاد کرائیں۔ بصورت دیگر اگر عرب حکمران ’’اسرائیل‘‘ کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کرنے سمیت امریکا کی خوشامد میں مصروف رہے تو اُس کے نتائج انتہائی بھیانک ہوں گے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے بند دروازوں اور فلسطینیوں کی آہ و بکا کو زیادہ عرصہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ’’جہاد‘‘ برپا ہوگا اور بالآخر فتح جہادیوں ہی کو ہوگی اور پھر وہ منظر کیا خوب ہوگا جب ان کے خون آلود ہاتھوں کو مسجد اقصیٰ کا امام بوسہ دیتے ہوئے یہ کہہ کر لپٹ جائے گا کہ بے شک آج تم نے اللہ اور اس کے رسولؐ سے اپنی محبت اور وفاداری کا حق ادا کردیا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ’’بیت المقدس‘‘ کے دروازے پر شہادت کی موت دے ۔ آمین ثم آمین۔