December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

خلیجی ممالک کی بے حسی

 

مستقیم احمد راھی

ایک طرف تو اسرائیلی جارحیت میں اضافہ ہورہا ہے اور دوسری طرف خلیجی ممالک نے اپنے مسلمان بھائیوں کے قاتل اسرائیل کے لیے اپنی باہیں وا کردی ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ عرب ممالک اندرونی طور پر اسرائیل کے ساتھ ہیں جس نے قبلہ اول پر قبضہ بھی کررکھا ہے اور مسلسل اس کی بے حرمتی کررہا ہے۔ مسلمانوں کو جمعہ کی نماز تک ادا نہیں کرنے دی جاتی۔ یہی طریقہ واردات بھارت نے کشمیر میں اپنا رکھا ہے اور وہاں بھی کشمیریوں کا قتل عام جاری ہے، سری نگر میں جمعہ کی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں۔ گزشتہ جمعہ کو اسرائیلی فوج نے فائرنگ کرکے مزید 5 فلسطینی شہید کردیے اور یہی کچھ مقبوضہ کشمیر میں ہورہا ہے اور بھارت اسرائیل کی پیروی کررہا ہے۔ تاہم مظلوم کشمیریوں کے لیے تو 27 اکتوبر کو کشمیر اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں یوم سیاہ منایا گیا مگر متعدد عرب ممالک صہیونی دشمن پر اپنی محبتیں نچھاور کررہے ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو نے مسلم ملک عمان کا دورہ کیا اور سلطان قابوس بن سعید نے اس کا اور اس کی اہلیہ کا اپنے محل میں استقبال کیا۔ دونوں کی گرمجوش ملاقات کی تصویریں بھی عام کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق عمان کے سلطان نے نیتن یاہو کو باضابطہ دعوت دی تھی۔ علاوہ ازیں اسرائیلی وزیر کھیل اپنی کراٹے ٹیم کو لے کر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے۔ قطر کی جمناسٹک فیڈریشن نے یہودی کھلاڑیوں کی دوحہ میں میزبانی کی۔ اسرائیلی کھلاڑیوں کو اس سے پہلے بھی قطر میں بلایا جاتا رہا ہے جبکہ قطر کا سرکاری موقف فلسطینی قوم کے حقوق کی حمایت ہے۔ عملاً بیشتر عرب ممالک اسرائیل کے تحفظ میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کی بنیادی وجہ تو امریکا ہے جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ ہے اور کسی بھی مسلم ملک میں امریکا کو ناراض کرنے کی جرأت نہیں ہے۔ ایک بڑا ملک مصر تو فوجی حکمران جنرل حسنی مبارک کے دور میں امریکی دباؤ پر اسرائیل سے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کیے بیٹھاہے جس کا کوئی بھی فائدہ مصریوں کو نہیں ہوا۔ عرب اسرائیل جنگ میں مصر سمیت کئی عرب ممالک مل کر بھی اسرائیل کو شکست نہیں دے سکے جس کی اصل وجہ عربوں میں جذبہ جہاد کی کمی اور ان کی فوجوں کی آرام طلبی تھی۔ اس جنگ کے موقع پر مصر کے حکمران جمال عبدالناصر نے نعرہ لگایا تھا کہ ہم فرعون کی اولاد ہیں چنانچہ وہی حشر ہوا جو فرعون اور اس کی اولاد کا ہوا۔ اسرائیل نے فلسطین اور اردن کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا۔ شام کا پہاڑی علاقہ جولان اب تک اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ برطانیہ نے عالم عرب کے سینے میں اسرائیل کا خنجر اسی لیے گاڑا تھا کہ عربوں کا خون بہتا رہے۔ اب خلیجی ممالک نے جس طرح کھل کر اسرائیل، اس کی قیادت اور شہریوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں یہ شرم ناک ہے اور خلیجی ممالک کی قیادت کی بے حسی۔ یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے جب تک فرمان الٰہی کے مطابق مسلمان انہی کے رنگ میں نہ رنگ جائیں۔ اسرائیلی بھیس بدل بدل کر مسلم ممالک میں داخل ہورہا ہے اور جن مسلم ممالک میں اس کی مصنوعات پر پابندی ہے وہاں وہ امریکا یا کسی اور یورپی ملک کا لیبل لگا کر اپنا سامان بھیجتا ہے۔ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اسرائیل کی پشت پناہی کرنے، اس کو مدد فراہم کرنے اور اس کے لیے اپنی باہیں پھیلا دینے والے امت مسلمہ کے دشمن اور غدار ہیں۔ ان دشمنوں میں سب سے بڑا تو خود امریکا ہے لیکن جس طرح خلیجی ممالک نے اسرائیل کو سر پر بٹھا لیا ہے اسی طرح بیشتر مسلم ممالک اب تک اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکے کہ امریکا ہر مسلمان ملک کا دشمن ہے اور ایک ایک کرکے سب کو نشانہ بنارہا ہے، امریکا کا ایک سابق صدر اسے صلیبی جنگ کا احیاء کہہ چکا ہے لیکن غلطی کا احساس دلانے پر اسے زبان کی لغزش قرار دیا۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ جو دل میں تھا وہی زبان پر آیا۔ اور تردید کرنے سے کیا ہوتا ہے، اس کا عمل تو سب کے سامنے ہے۔ اس نے مسلمانوں سے نفرت کی وجہ سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا ہے۔ سلطان قابوس اور نیتن یاہو میں ملاقات کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں مشرق وسطی میں امن و امان، استحکام اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ کیا اسے سلطان قابوس کی سادگی کہا جائے، بزدلی کہا جائے یا حماقت کہ جس نے مشرق وسطیٰ کا امن برباد کر رکھا ہے اس سے خیر کی توقع؟ لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ امریکا کا یہ جملہ بھی معنی خیز ہے کہ روس مشرق وسطیٰ میں ہماری جگہ نہیں لے سکے گا۔