December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

چین میں ایغور مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن

 

چینی صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں پر حکومت کی جانب سے مظالم میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حالانکہ حکومت کے اس رویے پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے ،لیکن وہاں کی حکومت ان تمام تنقیدوںکو نظر انداز کرکے مسلم اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد کو جنگی قیدیوں کے کیمپ (نام نہاد تربیتی مراکز) میں قید کرکے رکھ رہی ہے۔ انسانی حقوق کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی علاقے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں اور دیگر مسلم فرقوں کے 10 لاکھ افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی ’ری ایجوکیشن‘ یعنی ازِسر نو تعلیمی پروگرام کے تحت ان کی تربیت کی جا رہی ہے۔
حالانکہ چین سنکیانگ میں کسی ’حراستی کیمپ‘ کے وجود سے انکار کرتا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ تربیتی مراکز میں پیشہ ورانہ تربیت ضرور دی جا رہی ہے۔ علاحدگی پسندوں اور پرتشدد دہشت گردانہ مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔ انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے جو الزامات لگائے گئے ہیں، ان سے چینی حکومت کے بیان کی تردید ہوتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سنکیانگ میں رہنے والے افراد کے خلاف جابرانہ نگرانی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر چین کی حکومت سنکیانگ کے رہنے والوں کے ساتھ ایسا برتائو کیوںکرتی ہے اور یہ کون لوگ ہیں؟ یہاں ہم ان کے بارے میں آپ کو چند بنیادی باتیں بتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایغور میں رہنے والے لوگ نسلی طور پر ترکی النسل مسلمان ہیں اور یہ چین کے مغربی علاقے میں آباد ہیں، جہاں ان کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ ہے۔ وہ خود کو ثقافتی اور نسلی طور پر وسط ایشیائی علاقوں سے قریب تر دیکھتے ہیں اور ان کی زبان ترک زبان سے بہت حد تک مماثلت رکھتی ہےلیکن حالیہ دہائیوں میں سنکیانگ میں ہان (چین کی اکثریتی نسل) چینیوں کی بڑی آبادی وہاں منتقل ہوئی ہے اور اویغوروں کو ان سے خطرہ لاحق ہے۔
سنگیانگ چین کے مغرب میں واقع بڑا صوبہ ہے اور یہ ملک کا سب سے بڑا علاقہ ہے۔ تبت کی طرح یہ ایک خودمختار (کم سے کم اصولی طور پر) علاقہ ہے اور بیجنگ سے علاحدہ اس کی اپنی حکومت ہے لیکن عملی طور پر مرکزی حکومت کی جانب سے اس پر بہت زیادہ پابندیاں عائد ہیں۔ ایغور کی آبادی اس علاقے کی مجموعی 2 کروڑ 60 لاکھ آبادی کی تقریباً نصف ہے۔اس کی سرحدیں بہت سے ممالک سے ملتی ہیں جن میں بھارت، افغانستان،پاکستان اور منگولیا شامل ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ایغور نسل کے لوگوں کو شدید نگرانی کا سامنا ہے اور انہیں اپنے ڈی این اے اور بائیومیٹرکس کے نمونے دینے پڑ رہے ہیں۔ وہاں آباد جن لوگوں کے رشتے دار انڈونیشیا، قزاقستان اور ترکی جیسے 26 ’حساس ‘ ممالک میں ہیں، انہیں مبینہ طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے اور تقریباً 10 لاکھ افراد کو ابھی تک حراست میں لیا جا چکا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ وہاں آباد جس کسی شخص نے ملک سے باہر واٹس ایپ پر اگر کسی سے رابطہ کیا تو اسے بھی حراست میں لیا جا رہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں وہاں مینڈارن یا چینی زبان سکھائی جا رہی ہے اور انہیں اپنے مذہب کو ترک کرنے یا اس کے خلاف تنقید کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی اُن سے صدر شی جن پنگ کے ساتھ وفاداری کی قسمیں بھی کھلائی جا رہی ہیں۔
چین کے بعض سابق قیدیوں کے کہنے کے مطابق انہیں کیمپوں میں جسمانی اور نفسیاتی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیاہے ۔ کئی خاندان لاپتا ہیں۔ ان میں سے کسی کا سراغ جیلوں میں بھی ملا ہے جہاں جاکر صحافیوں نے اندازہ لگایا کہ انہیں جسمانی اور ذہنی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سنکیانگ میں ایسے شواہد بھی دیکھے گئے جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ صوبہ مکمل نگرانی میں ہے۔ جو چینی قیدی وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ، انہوں نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے حکومت کی طرف سے تشدد کے واقعات کی نشاند ہی کی۔
ایک شخص عمر جو کہ قید میں رہ چکا تھا،نے ایک اخبار کو اپنی داستان سناتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیں سونے نہیں دیا جاتا۔ وہ ہمیں گھنٹوں لٹکائے رکھتے اور پیٹتے رہتے تھے۔ ان کے پاس لکڑی کے موٹے ڈنڈے اور چمڑے کے سوٹے ہوتے تھے جبکہ تاروں کو موڑ کر انہوں نے کوڑے بنا رکھے تھے، جسم میں چبھونے کے لیے سوئیاں اور ناخن کھینچنے کے لیے پلاس تھے۔ یہ سب چیزیں میز پر ہمارے سامنے رکھی ہوتی تھیں اور ان کا ہم پر کبھی بھی استعمال کیا جاتاتھا۔ ہم دوسرے لوگوں کی چیخیں بھی سنتے تھے۔
حکومت کی ایغور مسلمانوں سے دشمنی اور نفرت کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے سنکیانگ اور اس کے باہر کئی حملوں کا الزام علاحدگی پسند ایغوروں پر ڈالا گیا ہے۔چنانچہ 2009ئ میں دارالحکومت ارمچی میں ہونے والے فسادات میں تقریباً 200 افراد مارے گئے تھے جن میں سے زیادہ تر ہان نسل کے چینی تھے۔اسی طرح فروری 2017ئ میں جب 5 لوگوں کو چاقو مار کر قتل کر دیا گیا تو ایغور مسلمانوں پر کریک ڈاؤن میں اضافہ کر دیا گیا۔ دراصل چین اپنے صوبے سنکیانگ میں امن میں خلل کے لیے علاحدگی پسندوں اور عسکریت پسندوں کو ذمے دار ٹھہراتا ہے اور اس کے لیے وہ ایغور مسلمانوں کو موردالزام ٹھہرا کر گرفتار کرتا ہے اور پھر انہیں تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔

                                                                                                                                                                                   بشکریہ جسارت