December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

قرارداد۔۔۔۔ ناموس رسالتﷺ 

 

بحیثیت امت مسلمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارے ایمان کا لازمی جزو ہے۔ یہ ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے کہ ہم اس ہستی سے پڑی ہی مخلصانہ، بے غرض اور دل کی گہرائیوں سے محبت رکھیں، اس نام کی تقدیس اور عظمت کے لئے اپنی جان تک فدا کرنے کو ہمہ وقت تیار رہیں۔ دشمن کی جانب سے کوئی غلط بیانی ہو یا خود اپنی ہی صفوں سے گستاخانہ رویہ، دنیا بھر کے مسلمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مسلمان بھوک برداشت کرسکتا ہے، اسے گھروں سے نکالا جانا گوارا ہو سکتا ہے لیکن مسلمان کے لئے ناقابل برداشت ہے تو وہ ٹیڑھی نگاہ،وہ گستاخ قلم اور زبان جو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دراز ہو، لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ اہل مغرب کی جسارتیں اور ناپاک سازشیں توہین رسالت کے ذریعہ عروج پر ہیں جو کہ انکی اسلام اور مسلم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ کبھی کوئی کارٹون تو کبھی کوئی خاکہ۔۔۔۔
مسلسل مغرب دنیا کی جانب سے ایسے عوامل سامنے آرہے ہیں جو اعصاب شکن ہیں لیکن ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد اور ممالک کے خلاف بطور احتجاج کسی بھی مسلمان حکمران کی طرف سے کبھی بھی کوئی صدا بلند نہیں ہوئی اور ہمارے حکمران مسلسل نبی کریم صل وسلم کے دشمنوں کی طرف سے غافل رہے ہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر ان حکمرانوں نے درپردہ قانون ناموس رسالت پر قدغن لگانے کی کوشش کی۔موجودہ حکومت نے بھی آتے ہی اقتصادی کونسل میں ایک قادیانی کو شامل کر نے کا اعلان کیا اور عوامی رد عمل کے نتیجہ میں اس فیصلہ کو واپس لیا گیا۔ ہم حکمرانوں پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ان قوانین کو ختم کرنے یا غیر مؤثر کرنے کی کوء بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے کیوں کہ یہ مسلمانان پاکستان کی دینی و ایمانی غیرت کا معاملہ ہے اور قانون ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حصہ ڈالنے والے اپنی کسی بھی منفی اقدام کے وبال سے نہیں بچ سکیں گے۔
جماعت اسلامی حلقہ خواتین کا یہ نمائندہ اجتماع یہ مطالبہ کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔
1۔۔قانون ناموس رسالت ﷺ کو ختم کرنے کے بجائے اقوام متحدہ(UNO) سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ BLASPHEMY کا قانون منظور کرے تاکہ آئندہ کوئی ایسی نازیبا حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے۔
2۔۔ حکومتی سطح پر توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتکب ممالک کے خلاف احتجاج کیا جائے اور ان کا سفارتی بائکاٹ بھی کیا جائے۔

3۔۔ناموس رسالت ﷺ کے قانون میں کسی بھی قسم کی ترمیم کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ 
4۔۔۔شان رسالت میں گستاخی کھلی دہشت گردی ہے اس مسئلے کو اٹھانے کے لئے OIC کا اجلاس بلایا جائے اور اس کے مستقل سدباب کے لئے اقدامات کئے جائیں۔
5۔۔۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس گھناونی سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو جائیں ۔ 
۔۔حکومت پاکستان پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیؐ اور دیگر مذاہب کے مقدسات کی توہین روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر معاہدے کی تحریک کا آغاز کرے اور اسے اقوام متحدہ میں بطور قرارداد جمع کرانے کا اہتمام کیا جائے ۔
7۔۔ او آئی سی کے سیکرٹریٹ میں اس حوالے سے لابنگ اور ریسرچ ڈیسک قائم کیا جائے۔
8۔۔ راجا ظفر الحق کی رپورٹ کو کسی لیت ولعل کے بغیر نافذ کیا جائے اور جو بھی ذمہ دار ہو اس کے خلاف کاروائی کی جائے۔