December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

سعودی عرب کے محافظ

 

مظفر ربانی

سترہ برس افغانستان میں سر پھوڑ کر باعزت واپسی کے راستے تلاش کرنے والے امریکا کے مخولیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے سعودی عرب کی حفاظت کی ہے‘ امریکا نے مدد ختم کر دی تو حکومت بھی ختم ہو جائے گی اور سعودی عرب کے تحفظ کے بھی لالے پڑ جائیں گے‘ ہمارے بغیر شاہ سلمان کی حکومت دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی‘ ہم سعودی عرب کی حفاظت کر رہے ہیں۔ اس پر شاہ سلمان کی جگہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی اخبار بلو برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے وضاحت کی کہ امریکا کو سعودی عرب کے تحفظ کی مکمل قیمت ادا کی گئی ہے۔ امریکا سے بھیک مانگتے ہیں نہ اسلحہ مفت لیا‘ امریکا کے ساتھ تعلقات سے قبل بھی ہمارا وجود تھا۔ انہوں نے دو ٹوک جواب دیا ہے کہ سلامتی کی خاطر امریکا کو پیسے نہیں دیں گے۔ سعودی عرب اپنی حفاظت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے بارے میں محمد بن سلمان نے کہا کہ ٹرمپ کے بیان کو دوست کے شکوے کے درجے میں رکھیں گے۔ البتہ انہوں نے اوباما پر الزام لگایا کہ انہوں نے خطے میں سعودی مفادات کے خلاف کام کیا۔
ولی عہد کے انٹرویو میں بہت سی باتیں کہی گئی ہیں لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ انہوں نے بھی ٹرمپ کے دعوے کی تصدیق کی ہے کہ امریکا کو سعودی عرب کے تحفظ کی مکمل قیمت دی گئی ہے۔ اگر سعودی عرب کی حفاظت امریکا کر رہا ہے تو پھر سعودی عرب کی قیادت میں 34 ملکی فوج کیا کر رہی ہے؟ کیا وہ امریکی فوج کو تحفظ فراہم کر رہی ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ یا تو امریکا نے سعودی عرب میں بھی حکومت تبدیل کرنے کے لیے کوئی منصوبہ بنا لیا ہے یا پھر وہ سعودی عرب سے اپنی خدمت کا معاوضہ بڑھوانا چاہتا ہے۔
جہاں تک امریکی صدر ٹرمپ کا معاملہ ہے‘ ان کے بیان کو بہت سنجیدہ لینے کے بجائے تھوڑا صبر کرنا چاہیے اور سرکاری انداز میں جواب دینا چاہیے کیوں کہ اب تک ٹرمپ نے بیشتر بیانات پر یو ٹرن لیا ہے۔ اب تو پاکستانی قوم بھی کنفیوژن کا شکار ہے کہ ان کا وزیراعظم زیادہ یو ٹرن لیتا ہے یا امریکی صدر۔ بہرحال پی ٹی آئی والے اس پر بھی خوش ہیں کہ اُن کے وزیراعظم کا امریکی صدر سے موازنہ ہوتا ہے۔ ہم ٹرمپ کی ذہنی کیفیت کے حوالے سے بات نہیں کر رہے۔
سعودی ولی عہد نے جب یہ کہا کہ امریکا سے بھیک نہیں مانگتے‘ اسلحہ مفت نہیں لیا‘ تو بالکل ایسا لگتا جیسے پاکستانی وزیر خارجہ کوئی بیان دے رہے ہوں۔ ہاں ایسا ہی لگ رہا تھا کیوں کہ شاہ محمود نے بھی یہی کہا تھا کہ بھیک مانگنے یا ڈالر لینے امریکا نہیں گیا تھا۔ کہتے تو وہ بھی یہی ہیں کہ ہم اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں لیکن امریکی دھمکیوں پر کون کون خوف سے تھر تھر کانپتا ہے اس کا پتا ان کو بھی ہوگا۔ ٹرمپ کی دھمکیوں کو سعودی عرب کے خلاف اس مستقل امریکی و یہودی پالیسی کا حصہ سمجھا جانا چاہیے جس کے تحت وہ رفتہ رفتہ سعودی عرب کو بدنام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت کو بھی اس حوالے سے غور کرنا چاہیے کہ 1980ء کے عشرے میں امریکا سے جو مفادات سمیٹنا شروع کیے تھے ان کی قیمت صرف سعودی عرب نے نہیں ادا کی بلکہ سارے عالم اسلام نے ادا کی ہے اور اب پوری امت مسلمہ انتشار کا شکار ہے۔ اسی انتشار کے سبب امریکا کو اپنی سیکورٹی کے لیے بلانا تھا۔ اس کا آغاز سعودی عرب نے 80 کی دہائی میں کیا اُس وقت یہ صورت حال تھی کہ پاکستانی فوج افغانستان سے روس کو نکالنے کا ناممکن کام کر رہی تھی‘ کم از کم امریکا کے لیے یہ ناممکن تھا۔ امریکیوں نے اس پر بہت تحقیق کی کہ طاقت کے اعتبار سے تو روسی فوج زیادہ مضبوط تھی تو پھر کیا چیز اس کی شکست کا باعث بنی؟ اس نے معلوم کرلیا کہ جذبۂ جہاد نے یہ کامیابی دی ہے اس لیے اس نے پاک فوج‘ حکمرانوں‘ نوجوانوں‘ طلبہ‘ میڈیا‘ تعلیم کے نصاب ہر جگہ سے جہاد اور جذبۂ جہاد کو نکالنے کی مہم چلائی اور آج جہاد کو متنازع بنا چکا ہے۔
امریکا سعودی عرب کی حفاظت کا ٹھیکا نہ لے بلکہ دو ہفتے کے بجائے ایک دن میں وہاں سے نکل جائے اس کے نتیجے میں سعودی عرب بڑے مالی دباؤ سے بھی آزاد ہو جائے گا لیکن اب امریکی دوستی سے جان چھڑانا سعودی عرب کے لیے اتنا ہی مشکل ہے جتنا پاکستان کے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اس طویل عرصے میں سعودی عرب میں امریکی ایجنٹوں کا جال بچھا دیا گیا ہوگا جو کسی بھی وقت تخریبی کارروائیاں کرکے حکومت کو ہلا سکتے ہیں۔ البتہ سعودی انٹیلی جنس نظام بھی نہایت مضبوط ہے جو ایسے کسی بھی موقع پر بھرپور کام کر سکتا ہے بس ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی حکام کس کو اپنا محافظ سمجھتے ہیں۔ اگر انہوں نے غیر مسلم ممالک کو اپنا محافظ تصور کر لیا ہے اور اسرائیل کے پشتیبانوں کو اپنی سیکورٹی حوالے کرنا چاہتے ہیں تو پھر دو ہفتے کیا امریکا دو گھنٹے میں سعودی حکومت کا تختہ الٹ دے گا۔ جو کچھ سعودی عرب میں ہو رہا ہے اور جس تیزی کے ساتھ تبدیلیاں آرہی ہیں‘ اُن سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جو کچھ کہا ہے وہ محض بڑھک نہیں ہے بلکہ کسی امریکی منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ فیصلہ تو سعودی حکومت کو کرنا ہے کہ امریکا کو کس حد تک اپنے ملک میں عمل دخل کا موقع دیتے ہیں لیکن تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بات سعودی بھی جانتے ہیں اور امریکی بھی کہ حرمین کی حفاظت ہو یا اسرائیل یا کسی دوسرے پڑوسی سے خوف۔۔۔ پاک فوج نے ہمیشہ کردار ادا کیا ہے۔ جس ملک نے سعودی سیکورٹی پر اُسے کبھی طعنہ نہیں دیا بلکہ فخر کا اظہار کیا وہ پاکستان ہے۔ آج بھی اگر شاہ سلمان اور ولی عہد امریکی سیکورٹی سے کہہ دیں کہ بڑی خوشی سے چلے جائیں تو وہاں موجود پاکستانی افواج خوش اسلوبی سے سعودی عرب کے دفاع کا فریضہ انجام دے سکتی ہیں۔