December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

آزاد یِ اظہار، مغربی تضادات اور مسلمان

 

افتخار گیلانی

مقدس شہر یروشلم کے مغربی حصے میں ہولوکاسٹ میوزیم کا دورہ کرنے کے بعد کوئی شقی القلب شخص ہی ہوگا کہ جو اپنے آنسو روک پائے۔ چند برس قبل جب میں نے اس میوزیم کا دورہ کیا، تو استقبالیہ کاؤنٹر سے کانوں میں لگانے والی کمنٹری [یعنی آنکھوں دیکھا حال بتانے والی]مشین فراہم ہوگئی تو بھارتی نژاد اسرائیلی گائیڈنے مزید رہنمائی کرنے سے معذوری ظاہر کی اور مشورہ دیا کہ اس میوزیم کو انفرادی طور پر ، آزاد ذہن کے ساتھ بغیر نگرانی یا رہنمائی کے دیکھنا مناسب ہے۔ مدہم روشنیوں کے درمیان ایک پُراسرار اور سوگوار فضا دوسری عالمی جنگ اور یورپ کی شہری زندگی کی نہ صرف عکاسی کرتی ہے، بلکہ لگتا ہے کہ زمان و مکان اسی دور میں پہنچ گئے ہیں۔ آپ ہال میں جس تصویر یا کسی شے کے سامنے کھڑے ہیں اس کا اور ہال کا نمبر کمنٹری مشین میںدبائیں، تومطلوبہ زبان میں آنکھوں دیکھا حال رواں ہوجاتا ہے اور محسوس ہوتا ہے، جیسے یہ تصویر زندہ ہوگئی ہو۔کریک ڈائون، سرچ آپریشنز، ہاتھ سروں پر رکھے قطار دَر قطار مارچ کرتے ہوئے خواتین و مرد، ریل کی پٹڑیوں کی گڑگڑاہٹ، آہ و بکا کا ایک شور، پلیٹ فار م پر گوشت سے عاری ناکافی پھٹے لباس میں انسانوں پر جرمن اہلکاروں کے برستے کوڑے ، عورتوں اور بچوں کی کس مپرسی اور پھر ان کو ہانک کر گیس چیمبر کی طرف لے جانا وغیرہ وغیرہ، غرض انسان کے وحشی پن اور انسانیت کی تذلیل کے ان واقعات کا مشاہدہ کرتے ہوئے دم بخود ہونا لازمی امر ہے۔ ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے۔
اس طرح کے حالات کا سامنا کرنے والے مغربی ممالک خصوصاً یہودیوں کو انسانی حقوق اور انسانیت کے تئیں زیادہ حساس ہونا چاہیے تھا، مگر افسوس عذابِ الٰہی کے بعد اپنی روایتی بد عہدی اورریشہ دوانیوں کا اعادہ کرتے ہوئے یہودی یا بنی اسرائیل نے جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد    نہ صرف فلسطینیوں کے حقوق پر شب خون مار کر ان پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے، بلکہ دیگر ممالک میں اپنے ذرائع و و سائل کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو اشتعال دلا کر گھیرنے اور مارنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے ہیں۔
وہ ظلم تو یورپ کے عیسائیوں نے کیا ، مگر بدلہ آج تک مسلمانوں سے لیا جا رہا ہے۔ اسی کی ایک کڑی کے طور پر حال ہی میں ہالینڈکے رکن پارلیمنٹ گیرٹ وائلڈر نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کا اعلان کیا تھا۔وائلڈر نے اپنے تحریری پیغام میں کہا کہ اس نے قتل کی دھمکیوں اور مسلمانوں کے ممکنہ ردعمل کے پیش نظر مقابلہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ دنیا بھر میں اس معاملے پر افرا تفری پھیلے۔ اس سے قبل ہالینڈکی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کی نمایش روکنے کے لیے تحریری حکم نامہ جاری کردیا تھا۔ واضح رہے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی تھی اور سخت احتجاج کیا جا رہا تھا۔ یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے، کہ جس کو روکنے کی جیت کا سہرا مختلف تنظیمیں اپنے سر باندھنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ اور یہ نہیں لگتا کہ مسلمانوں کے سڑکوں پر اترنے یا دھمکیوں کی وجہ سے یہ مقابلے منسوخ ہوئے ہیں۔
اس سے قبل بھی ۲۰۰۵ء میں ڈنمارک کے ایک اخبار کی طرف سے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں اور پھر ۲۰۱۵ء میں فرانسیسی رسالے چارلی ہیبڈو نے ان خاکوں کو دوبارہ شائع کیا اور مسلمانوںکی تنظیمیں سڑکوں پر آئیں، تو اس کا اُلٹا اثر سامنے آیا۔ مغرب میں اس کو اظہار راے پر حملے کی صورت دے کر مسلمانوں کے خلاف راے عامہ کو بھڑکایا گیا۔ پاکستانی حکومت کے موجودہ موقف ہی میں اس کا جواب پوشیدہ ہے ۔ تمام مسلم حکومتوں کو اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر مغربی اور دیگر ممالک کے لیے ایک سرخ لکیر کھینچنا ہوگی۔ جس طرح کی لکیر مغرب نے ہولوکاسٹ کی نفی کرنے والوں کے خلاف کھینچی ہے۔
۱۹۸۸ء میں جب سلمان رشدی کی کتاب دی ستانک ورسز  (شیطانی آیات) منظر عام پر آئی تھی ، تو ایران نے اس پر سخت موقف اختیار کیا، مگر دیگر مسلم ممالک نے اس کی تائید نہ کرکے عالمی برادری میں اس کو الگ تھلگ کردیا۔ یاد رہے آیت اللہ خمینی نے مصنف کی موت کا فتویٰ بھی جاری کیا تھا۔ کئی برسوں تک اس پر زور دار بحث چھڑی رہی۔ ابلاغیات کی پڑھائی کے دوران ، ہمارے ڈیپارٹمنٹ اور جواہر لال یونی ورسٹی میں ایران کے اس موقف اور آیت اللہ خمینی کے فتوے پر نکتہ چینی میں چند عرب طالب علم پیش پیش ہوتے تھے، جو اپنے آپ کو ’روشن خیال‘ ثابت کرنے کے زعم میں ایران اور شیعوں کو رجعت پسند تسلیم کرانے پر تلے ہوئے تھے۔ دو عشرے بعد جب افغانستان میں طالبان، عرب میں القاعدہ و داعش مغرب کے نشانے پر آئے، تو شیعوں اور ایران نے اپنے آپ کو ’روشن خیال‘ جتلا کر دہشت گردی کا سارا ملبہ سنیوںپر ڈالنے کا کام کیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب اور نہ کوئی فرقہ یا مسلک ہوتا ہے۔
ابھی حا ل ہی میں سعودی عرب نے کینیڈا کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات اس وجہ سے ختم کرلیے کہ کینیڈانے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال پر احتجاج درج کروایا تھا۔ کاش! خادم الحرمین ایسا ہی موقف ان ممالک کے خلاف بھی اپناتے جو اظہارِ آزادی کی آڑ میں ان خاکوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ اگر مسلم ممالک کے حکمران آئے دن بے حسی اور بزدلی کا ثبوت فراہم نہ کرتے اور جسد ملت اپنی روح کے ساتھ موجود ہوتا، تو مغربی دنیا میں کسی کی ہمت نہ ہوتی کہ پیغمبرؐ اسلام و انسانیت کو نشانہ بناتا۔ پھر اسی طرح حالیہ عرصے میں بھارت میں بھی کئی افراد ’آزادی اظہار راے‘ کی آڑ میں پیغمبر حضرت محمدـــﷺ اور ان کے اہل خانہ کے خلاف گستاخانہ الفاظ کا استعمال کرکے مسلمانوں کو زبردستی اشتعال دلانے کا کام کرتے ہیں۔
اسی عرصے میں بھارتی حکمران بی جے پی کی انفارمیشن ٹکنالوجی سیل سے مستعفی چند رضاکاروں نے آن ریکارڈبتایا کہ : ’’ہم کو مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کی تربیت دی جاتی تھی‘‘۔ بدقسمتی سے ہندو انتہاپسندوں کی ایما پر قائم ایک اور سیل کے انچارج، پاکستان کے ایک مؤقر چینل کے بھارت میں نمایندے اور پریس کلب آف انڈیا کے سابق سیکرٹری جنرل اور ’سیفما‘ (ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن: SAFMA)کے فعال رکن پشپندر کلوستے ہیں ، جو محمد رضوان کے نام سے آئے دن ویڈیو بنا کر پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔ چوںکہ موصوف علی گڑھ یونی ورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں، نیزپاکستانی چینل کے نمایندے ا ور سافما کے رکن کی حیثیت سے پاکستان آنا جانا رہتا ہے، اس لیے اسلام کے بارے میں واجبی سی، مگر مسلمانوں کے بارے میں سیر حاصل معلومات رکھتے ہیں۔
 جب ان کی اس شرپسندانہ روش کے خلاف کوئی آواز اٹھاتا ہے تو ہمدردی حاصل کے لیے اظہارِ آزادیِ راے کو آڑ بناکر مسلمانوں کے رویے کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ ناموس رسالت ؐکے حق میں مسلمانوں کے ردعمل کو ’جمہوریت کے لیے خطرناک‘ بتاتے ہیں، مگر یہی نام نہا د دانش وَر، ادیب، مصنفین اور ٹی وی اینکر اپنے ملک کے اندر آزادیِ اظہارِ راے کا گلاگھونٹے جانے کے متعدد واقعات پر چپ سادھ لیتے ہیں۔ گویا انھیں سانپ سونگھ گیا ہے۔مثال کے طور پر گذشتہ چند ماہ کے دوران پورے بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر ان کو حراست میں لیا گیا تو اس ظلم کو یہ حق بجانب ٹھیراتے ہوئے کہتے ہیں: ’’یہ ملکی سلامتی کا معاملہ ہے،کیوںکہ یہ افراد دلتوں، قبائلیوں اور مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کر رہے تھے‘‘۔
چار سال نتیشا جین، پرینکا بورپوجاری اور ستین باردولائی کو جب چھتیس گڑھ (دانتے واڑہ) میں گرفتار کیا گیا تو حریت فکر کے ان گرووں میں سے کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ یاد رہے کہ یہ صحافی قبائلیوں پر ہونے والے مظالم اور نکسلایٹ{ FR 644 } اور نکسل مخالف کارروائیوں کا جائزہ لینے گئے تھے۔ اظہارِ راے کی آزادی کے یہ علَم بردار اس وقت بھی خاموش رہے، جب ۲۰۱۰ء میں امریکی دانش ور پروفیسر رچرڈ شاپیرو کو بھارتی حکومت نے کوئی وجہ بتائے بغیر ویزا دینے سے انکار کردیا۔۲۰۱۰ء میں ہی جب مشہور براڈکاسٹر ڈیوڈ براسمیان اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سلسلے میں بھارت پہنچے تو حکومت نے انھیں نئی دہلی کے ہوائی اڈے سے ہی واپس لوٹا دیا۔بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر جانے کے لیے تو اب بھارتی وزارت خارجہ نے غیر ملکی نامہ نگاروں کے داخلے پر ہی پابندی عائد کر دی ہے۔
حقوقِ انسانی کے مشہور بھارتی کارکن گوتم نولکھا، جن کے گھر پر یلغار کرکے ان کو حراست میں لیا گیا ، اس سے قبل وہ ۲۰۱۱ء میں بھی عتاب کا نشانہ بنے تھے۔ جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ چھٹیاں منانے گلمرگ جانا چاہ رہے تھے تو سری نگر ہوائی اڈے پر انھیں رات بھر حراست میں رکھنے کے بعد دہلی لوٹنے کے لیے مجبور کردیا گیا۔ ۲۰۱۵ء میں بھارت میں تامل زبان کے ناول نگار رپرومل موروگن کے ناول پر پابندی لگادی گئی۔ ان کے ناول کے انگریزی ترجمے پر اس وجہ سے پابندی لگادی گئی ہے کہ اس میں موروگن نے ہندو مذہب کی قدیم رسم ’نیوگ‘ پر نکتہ چینی کی ہے۔’نیوگ رسم‘ کے مطابق کوئی بے اولاد عورت، بچے کی طلب کو پورا کرنے کے لیے کسی غیر مرد یا پنڈت سے جنسی تعلقات قائم کرتی تھی اوراس قبیح رسم کو قدیم بھارتی معاشرے میں قبولیت حاصل تھی۔موروگن نے اس ناول میں ذات پات پر مبنی طبقاتی کش مکش اور ظلم اور معاشرے کی برائیوں پر نکتہ چینی کی ہے، جس سے ایک خاندان بکھر جاتا ہے اور ان کی اَزدواجی زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔ ناول نگار موروگن پر اتنی نکتہ چینی ہوئی کہ ان سے نہ صرف آیندہ قلم نہ اْٹھانے کی قسم لی، بلکہ ناول کے ناشرین کو اس کی تما م کتابیں جلانے کے لیے کہا گیا۔
یہ تو صرف چند واقعات ہیںجن کا ذکر برسبیل تذکرہ آگیا ہے ورنہ بھارت میں ایسے واقعات کی گنتی مشکل ہے۔
اظہار راے کی آزادی کا سب سے بڑا علَم بردار یورپ بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہے، اور اس کی سب سے واضح مثال ہولوکاسٹ ہے۔ یہودیوں کے خلاف کوئی بات لکھنا یا ان کی مخالفت کرنا یا ہولوکاسٹ کو مفروضہ قرار دیناانتہائی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ یورپی یونین نے تو اپنے رکن ملکوں کے لیے باضابطہ ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ: ’ہولوکاسٹ کو غلط قرار دینے والے ادیبوں یا مصنّفین کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔ جس میں ایک سے تین سال قید بامشقت کی سزا بھی شامل ہے‘۔ ۲۰۰۳ء میں اس حکم نامے میں ایک اضافی پروٹوکول شامل کیا گیا، جس میں ہولوکاسٹ کے خلاف انٹرنیٹ پربھی کچھ لکھنا قابل گردن زدنی جرم قرار پایا ہے۔ جن ملکوں میں ہولوکاسٹ کے خلاف کچھ بھی لکھنا انتہائی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے ان میں آسٹریا، ہنگری، رومانیہ اور جرمنی شامل ہیں۔
حالاںکہ المیہ یہ ہے کہ یہی ممالک یہودیوں کے خلاف کارروائیوں میں آگے آگے رہے تھے۔۱۹۹۸ء سے لے کر ۲۰۱۵ء یعنی ۱۷ برسوں میں تقریباً ۱۸؍ادیبوں اور مصنّفین کو اظہارِ راے کی آزادی کے علَم برداروں ہی کے عتاب کا شکار ہونا پڑا ہے۔ اس کی ایک فہرست یہاں دی جارہی ہے: ٭جین میری لی پین، فرانس/ جرمنی، جرمانہ، فروری۱۹۹۸ء ٭راجر گراوڈی، فرانس، ۲لاکھ ۴۰ہزار فرانک جرمانہ، جولائی ۱۹۹۸ء ٭یورگن گراف، سوئٹزرلینڈ ،۱۵ ماہ قید، جولائی۱۹۹۸ء ٭گیرہارڈ فوسٹر، سوئٹزرلینڈ، بارہ ماہ قید ،مئی ۱۹۹۹ء ٭جین پلانٹین، فرانس، چھے ماہ قید، جرمانہ، اپریل ۲۰۰۰ء ٭گیسٹن ارمانڈ، سوئٹزر لینڈ، ایک سال قید، فروری ۲۰۰۶ء ٭ڈیوڈ ارونگ، آسٹریا، ایک سال قید، مارچ ۲۰۰۶ء ٭جرمار روڈولف، جرمنی، ڈھائی سال قید، اکتوبر ۲۰۰۶ء ٭رابرٹ فائریسن، فرانس، ۷۵۰۰ یورو جرمانہ، تین ماہ نظربند، فروری ۲۰۰۷ء ٭ارنسٹ زیونڈل، جرمنی، پانچ سال قید، جنوری ۲۰۰۸ء ٭وولف گینگ فرولچ، آسٹریا ،چھے سال قید، جنوری ۲۰۰۸ء ٭سلویا اسٹالس، جرمنی، ساڑھے تین سال قید، مارچ ۲۰۰۹ء ٭ہوسٹ مہلر، جرمنی، پانچ سال قید، اکتوبر ۲۰۰۹ء ٭ڈیرک زمرمین، جرمنی، نو ماہ قید، اکتوبر ۲۰۰۹ء ٭رچرڈ ولیمسن، جرمنی، ۱۲ ہزار یورو جرمانہ، جنوری ۲۰۱۳ء ٭جیورگے ناگے، ہنگری، ۱۸ماہ قید، فروری۲۰۱۵ء ٭وینسنٹ رینورڈ، فرانس، دو سال قید، نومبر ۲۰۱۵ء ٭ارسولا ہینر بیک جرمنی، دس ماہ قید۔
خیال رہے آزادیِ اظہار کے حق کے تعلق سے زیادہ دیر تک تعصب اور منافرت اور دہرے معیار کی عینک نہیں لگائی جاسکتی۔
سب سے اوّل میڈیا کی آزادی کے حدود کا تعین کرنالازمی ا مر ہے۔صحافت کومحض اسلام کی تضحیک سے یامسلم مخالف جنون کو مزید ہوا دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر بقاے باہم ، کشادہ ذہنی اور مذہبی رواداری اور ایک دوسرے کے تئیں احترام کے جذبے کو فروغ دیا جائے۔ تاہم، اس کے ساتھ بڑی ذمہ داری خود مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے، جنھوں نے اسلام کے سماجی، معاشی، نیز افکار و نظریات کے انقلاب کو عام کرنے کے بجاے اس کو مسلکوں کے کوزے میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔ مزید یہ کہ ابلاغ واشاعت کے ذرائع کا بہترین استعمال کرنے کے بجاے اپنے آپ کو ایک خول میں بندکیا ہوا ہے۔
ماؤپسند نکسل کمیونسٹ دانش ور کوبڈ گاندھی،دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی کی سزا پا چکے۔ کشمیری نوجوان افضل گورو کے ساتھ کئی ماہ سیل میں قید رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ: ’افضل کے ساتھ گفتگو کے دورا ن پتا چلا کہ کمیونزم کے سماجی انصاف و برابری کا سبق تو اسلام ۱۴۰۰سال قبل سنا چکا ہے‘‘۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کو تفرقوں اور علاقائی تنگ گلیوں سے باہر نکال کر اپنے کردار و اعمال سے ثابت کریں کہ اسلام کے افکار و نظریات ہی واقعی انسانیت کی معراج ہیں۔