September 19th, 2018 (1440محرم8)

مصر میں اخوان کو سزائیں

 

مصری فوجی آمر کے ماتحت عدالت نے سابق منتخب صدر محمد مرسی اور دیگر اخوان رہنماؤں کو اپنے فوجیوں کے غیر قانونی اقدام کی مخالفت میں احتجاج کے الزام میں موت اور قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت کے چیمپئن خاموش بیٹھے ہیں پاکستانی میڈیا میں بھی خاموشی ہے اور جو غیر اہم باتیں ہیں ان کا شور مچا ہوا ہے۔ فوجی رہنما جنرل عبدالفتاح السیسی نے ہزاروں لوگوں کو ٹینکوں تلے کچلا تھا اور اس اقدام پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمات بنائے گئے تھے۔ اس سانحے پر اب تو انسانی حقوق کے ادارے بھی محض رسمی تشویش ظاہر کرکے بیٹھ گئے ہیں۔ حالانکہ اگر کوئی روشن خیال یا اسلام دشمن دنیا کے کسی اسلامی ملک میں جاسوسی اور غداری کرتا ہوا پکڑا جائے تو اس کی رہائی کے لیے یہ ادارے شور مچا کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے جیل تو جیل گھر میں نظر بند کرنے پر بھی ان کو تکلیف ہوتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گھر پر نظر بند کرنے سے بھی ان کی سانسیں رک رہی ہیں لیکن ہزاروں لوگوں کے قاتل کو چھوٹ دینے کا نقصان یہ ہورہا ہے کہ وہ اب موت کی سزائیں بانٹتا پھررہا ہے۔ دنیا بھر میں جہاں سے بھی جمہوریت ملے لے لو کی جو تحریک چلی ہوئی ہے اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ فوجی چھتری تلے حکومت بنتی ہے۔ مصر میں فوج کا اقتدار ہے اس کے ماتحت عدالتیں ایسے ہی فیصلے دیں گی۔ پہلے تو دنیا غلط فیصلوں پر اظہار مذمت کرتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوتا بلکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک منتخب حکومت اب او آئی سی کا مسئلہ بھی نہیں رہی اس کے لیے بھی دوسرے معاملات زیادہ اہم ہیں۔ پاکستانی حکمران تو فی الحال نیا پاکستان بنارہے ہیں اور پرانے پاکستان کے پرانے حکمرانوں کے کرتوتوں سے قوم کو آگاہ کرنے کے لیے اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ افسوسناک رویہ قوموں کی زندگی میں تباہی کی طرف لے جانے والا ہے۔ اگر امت مسلمہ کے ممالک ایک دوسرے کے معاملات سے اس طرح لا تعلق رہیں گے تو کل جب ان کی باری آئے گی تو دوسرے خاموش رہیں گے۔ اس کا تجربہ بھی ہوچکا ہے، صدام کے خلاف امریکا نے چڑھائی کی تو دنیا خاموش رہی امت مسلمہ کے مشترکہ ردعمل سے یہ کارروائی رک سکتی تھی لیکن مفادات کی جنگ میں پڑوسی اپنے مسلمان بھائی کے خلاف تھے اس کے بعد امریکا نے لیبیا کا صفایا کیا اب یمن اور شام میں ایسی جنگ چھیڑی ہوئی ہے کہ پتا ہی نہیں چل رہا کہ کون کس سے لڑ رہا ہے اور ساری دنیا سے لوگ شام جا کر کیوں لڑ رہے ہیں۔ مصر میں جب مرسی کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو پڑوسیوں نے خوشیاں منائیں اور آج خود مشکل میں ہیں۔ اس رویے سے اپنا نقصان ہوتا ہے۔ امت مسلمہ اس مسئلے کو خود ہی حل کرے گی تو ہوگا اس کے حکمراں تو ایجنٹ ثابت ہوچکے۔