August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

سوشل میڈیا اور مغرب کے دہرے میعار

 

عارف بہار

پورا پاکستان فیس بک اور ٹویٹر سے نبی کریمؐ اور مسلمانوں کی دوسری محترم اور مقدس ہستیوں کی شان میں گساخی پر مبنی صفحات اور اکاونٹس کی بندش اور ان قبیح حرکات کی مسلسل نگرانی اور روک کا مطالبہ کررہا تھا۔ عوام احتجاج کررہے ہیں اور نبی کریم کی شان اور عزت و وقار پر اپنی جان ومال اور آل اولاد قربان کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ عدالت برہم ہے کہ حکومت مسلمانوں کی دینی حمیت اور غیرت کو للکارنے اور ان کی روحوں کو زخمی کرنے والوں کا سراغ لگا سکی ہے اور سزا دینا تو درکنار ہے۔ جج ان مقدمات کی سماعت کرتے ہیں تو ان کے آنکھوں سے اشک رواں ہوتے ہیں۔ لبنان کے لیڈر حسن نصراللہ کی ایک وڈیو کلپ موبائلوں میں گردش کر رہی ہے جس میں توہین آمیز خاکوں کے خلاف سراپا احتجاج عوام کے جم غفیر میں مانگی گئی ایک پرسوز دعا ہے۔ حسن نصراللہ رندھی ہوئی آواز میں نعروں کے انداز میں فریاد کناں ہیں کہ اے ہمارے رسولؐ ہم حاضر ہیں۔ ہمارے جان ومال اور ماں باپ آپ پر فدا۔ آج آپ کی توہین ہمارے سینوں کو چھلنی کررہی ہے اور ہم رورو کر فریاد کرنے کے سوا کچھ اور نہیں کرسکتے۔ ہجوم اس دعا کو بلند آواز میں دہرا کراپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے اور یوں اس لمحے پاکستان کے ایک جج اور دور لبنان کی وادیوں میں ایک شعلہ بیاں مقرر کا دکھ ایک ہوکر رہ جاتا ہے۔ درد اور دکھ کا ایک رشتہ دوریوں کو پاٹتا اور کم کرتا محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان کی حکومت فیس بک انتظامیہ تک رسائی مانگتی ہے اور جواب نفی میں پا کر بے بسی کی تصویر بن رہی ہے اور عالم بے بسی میں مسلمان ملکوں کے سفیروں کو بلا کر سارا مقدمہ سامنے رکھتی ہے۔ فیس بک پر مقدس ہستیوں کی توہین کا معاملہ آج بھی بدستور زیر کار ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں اورپاکستان ٹیلی کام اتھارٹی پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی مختلف زاویوں سے توہین آمیز مواد اپ لوڈ کرنے کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس حوالے سے بیانات قلم بند کیے جارہے ہیں۔
سوشل میڈیا گستاخانہ مواد کو ’’آزادئ اظہار‘‘ کی اپنی روایتی مغربی عینک سے دیکھ رہی ہے۔ یہ کس قدر دلخراش تضاد ہے کہ ایک طرف آزادی اظہار کا راگ الاپا جا رہا ہے تو دوسری طرف ٹویٹر اور فیس بک انتظامیہ کشمیر کے حوالے سے کام کرنے والے ہزاروں اکاونٹس کو بند کر رہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے فیس بک انتظامیہ نے کشمیریوں کے مقبول نوجوان ہیرو برھان وانی کی تصویر والے ہزاروں اکاونٹس بند کر دیے تھے اور اب ٹویٹر نے پاکستانی عوام کے جذبات اور احساسات کا لحاظ رکھنے کے بجائے کشمیر کے حوالے سے بنائے گئے سیکڑوں اکاونٹ بندکردیے۔ یہ سب کچھ بھارت کو خوش کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے کام کرنے والے اکاونٹ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال سے دنیا کو آگا ہ کرتے تھے۔ بھارتی مظالم کو نمایاں اور کشمیری نوجوانوں کی عزیمت اور استقامت کو اجا گر کرتے تھے۔ یہ اپنے جذبات اور احساسات کے اظہار کا ایک مہذب انداز تھا۔ جدید ذرائع ابلاغ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا اب دنیا کی عام روایت اور چلن ہے۔ عرب بہار اور دنیا کے کئی علاقوں میں ہونے والی اتھل پتھل میں سوشل میڈیا کا کردار اہمیت کا حامل رہا۔ ایسا بھی نہیں دنیا کی ہر تحریک کے پھیلاؤ اور جذبات کے بھڑکاؤ میں سوشل میڈیا کا ہی کردار اہم ہو۔
دنیا میں تبدیلیوں، انقلابات اور عوامی بیداریوں کا عمل ہمیشہ سے جاری ہے۔ کشمیر کی تحریک کے حالیہ فیز کو بھی گوکہ سوشل میڈیا کی تحریک کہا جاتا ہے مگر سوشل میڈیا کی آمد دوچار برس کی بات ہے اور اس طرح کی تحریکیں نصف صدی سے زیادہ کا قصہ ہے۔ برھان وانی نے بھی فیس بک اور ٹویٹر سے شہرت حاصل کی تھی اور اس نوجوان کی تصویریں کشمیر کے اندر ہی نہیں بھارت میں بھی نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں کے من موہ لیتی تھیں۔ بھارت میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ فیس بک اور ٹویٹر نے کشمیر میں مزاحمت کے موجودہ فیز کو منظم کرنے اور اسے مقبول لہر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کشمیر میں آج بھی سیکڑوں نوجوان فیس بک اور ٹویٹر کے استعمال کے الزام میں جیلوں میں بند ہیں۔ لوگوں سے جذبات کے اظہار کا پرامن حق چھیننے کا مطلب کیا ہے؟ یہی کہ وہ موبائل چھوڑ دیں، فیس بک اور ٹویٹر یوزر کے طور پرلیپ ٹاپ پھینک دیں۔ اس کے بعد وہ کیا کریں؟ دلوں میں جذبات تو بھڑک رہے ہیں، زمین پر آگ بھی جل رہی ہے، جذبے بھی جوان ہیں تو ان جذبات نے اپنے اظہار اور اپنی طاقت اور توانائی کا احساس دلانے کے لیے کوئی رخ تو اختیار کرنا ہی ہے۔ جب پرامن ذرائع بند ہوجائیں تو بھڑکتے جذبات اور بے تاب انگلیوں کو رقص کے لیے بندوق کی لبلبی کی تلاش ہو جائے گی۔ اب فیس بک اور ٹویٹر انتظامیہ اپنی روایتی متعصبانہ سوچ کے اظہار کے طور پر کشمیر کے لیے کام کرنے والے اکاونٹس کو بند کر کے عوام سے جذبات کے پرامن اظہار کا حق چھین رہی ہے۔ دل آزاری کرنے والے جن اکاونٹس کو بند ہوجانا چاہیے وہ تو چل رہے ہیں مگر سیاسی مسائل کے اظہار پر مبنی اکاونٹس کو بند کیا جا رہا ہے۔ اس میں بھی دہرا میعار اختیار کیا جاتا ہے۔ فیس بک انتظامیہ بلوچستان کے حالات کے ایک اہم کردار براہمداغ بگٹی کا وڈیو بیان اسپانسرڈ کے اسٹیکر کے ساتھ چلاتی ہے جس میں پاکستان کو گالیاں دی جاتی ہیں اور بھارت کی تعریفیں کی جاتی ہیں مگر دنیا کے ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلے کشمیر اور انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے اکاونٹس کو بند کیا جارہا ہے۔ مغرب کے یہی متضاد رویے اور دہرے میعار مسلمانوں میں ردعمل کو جنم دیتے ہیں۔