November 15th, 2018 (1440ربيع الأول6)

ترکی اور ملائیشیا کے شان دار نتائج

 

عبدالغفار عزیز

۲۰۱۸ءکئی مسلم ممالک میں انتخابات کا سال ہے۔ ۲۴ جون کو ترکی میں اور گذشتہ مئی میں ملائیشیا میں انتخابات ہوئے۔ اس سے پہلے تیونس کے بلدیاتی انتخابات، تحریک نہضت کی واضح کامیابی کی خوش خبری لائے۔ عراق کے عام انتخابات میں حکمران اتحاد کے بجاے ایک دوسرے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر بڑی قوت بن کر اُبھرے۔ یہی عالم لبنان کے عام انتخابات کا ہے۔  وہاں حسب توقع حزب اللہ اور اس کے حلیفوں نے بھاری اکثریت حاصل کی لیکن شیعہ سُنّی اور مسیحی آبادی میں تقسیم اقتدار کے فارمولے پر عمل اب بھی مشکل تر دکھائی دیتا ہے۔
اب ۲۵ جولائی کو پاکستانی عام انتخابات کے علاوہ اسی سال کے اختتام پر بنگلہ دیش میں بھی انتخابات ہونا ہیں۔ حسینہ واجد اپنی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کرچکی ہے، جب کہ خالدہ ضیا اور جماعت اسلامی کی پوری قیادت، ہزاروں بے گناہ کارکنوں کے ساتھ جیلوں میں بنیادی انسانی حقوق تک سے محروم ہیں۔ انڈونیشیا میں بھی انتخابی مہم کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ تمام انتخابات اہم ہیں۔ ترکی اور ملائیشیا کے انتخابات کی خصوصی اہمیت ہے، اس لیے یہاں ان دونوں کا جائزہ لیتے ہیں:

٭  ترکی: ترکی سے مصطفیٰ کمال اتاترک کے نظریات پر مبنی نظام عملاً لپٹ چکا ہے۔ مرحوم پروفیسر نجم الدین اربکان اور طیب اردوان سمیت ان کے ساتھیوں کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں اب خود مصطفیٰ کمال کے وارث باحجاب خواتین سے تقاریر کرواتے نظر آتے ہیں۔ سرپر اسکارف کے جرم میں مروہ قاوقچی کو پارلیمنٹ کی رکنیت سے محروم کرنے والے، حالیہ مہم میں اپنی خواتین خانہ کے باحجاب ہونے کا انکشاف کرتے رہے۔ حالیہ انتخابات میں اپوزیشن کے مرکزی اُمیدوار محرّم اینجہ تو مضحکہ خیز حد تک اپنی اسلام دوستی کا دعویٰ کرتے رہے۔ خود کو پابند صوم و صلوٰۃ ثابت کرنے کے لیے یہ دعویٰ تک کر ڈالا کہ ’مَیں بھی روزانہ نمازِ جمعہ ادا کرتا ہوں‘۔ یہی جملہ بالآخر ملک بھر میں لگنے والے بینروں کے ذریعے ان کی ’دین داری‘ کی حقیقت بے نقاب کرگیا۔
اب ترکی میں پارلیمانی نظام کے بجاے براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے صدر کے اختیارات پر مبنی صدارتی نظام نافذ ہوگا۔ ۶۰۰ ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ یقینا ایک مؤثر دستور ساز ادارے کے طور پر اپنا کردار ادا کرے گی، لیکن سربراہِ حکومت، حکومت سازی کے لیے ایوان میں کی جانے والی جو ڑ توڑ کی فکر سے آزاد ہوکر اُمور سلطنت انجام دے سکے گا۔ ضرورت ہوگی تو پارلیمنٹ سے باہر بیٹھے باصلاحیت افراد کو بھی کابینہ میں شامل کرسکے گا۔ عوام کے براہِ راست ووٹ سے منتخب ہونے والا سربراہِ حکومت کسی فوجی انقلاب کے خطرے سے بھی ان شاء اللہ محفوظ رہے گا اور ملک کے تمام اداروں کو اپنے اپنے دائرۂ عمل میں رہ کر تعمیر ملک و ملت میں شریک کرسکے گا۔ فوجی عدالتیں کالعدم قرار پائیں گی اور عدلیہ میں ججوں کا تعین مزید بہتر انداز سے ہوسکے گا۔
مخالفین کے لیے جب صدر طیب اردوان اور ان کی جماعت کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگیا تو طیب پر آمر بننے کا الزام لگایا جانے لگا۔ حالیہ انتخابات میں تقریباً ساری مغربی دنیا کے علاوہ ہزاروں بے گناہوں کے خون کا پیاسا مصری جنرل سیسی بھی صدر اردوان پر آمر کا الزام لگاتے دکھائی دیا۔ ۲۴جون سے قبل تقریباً ہر اہم عالمی جریدے کے سرورق پر آمر کی سرخی کے ساتھ صدر اردوان کی تصاویر شائع کروائی گئیں۔ جرمنی کے سب سے معروف رسالے دیر شپیگل  نے تو انتہا کردی۔    اس نے پورے صفحے پر اردوان کی تصویر کے پس منظر میں بڑی مسجد کی تصویر لگائی اور اس کے سربفلک میناروں میں سے دو میناروں کو میزائلوں میں ڈھالتے ہوئے، انھیںنامعلوم دشمن کے خلاف چلادیا۔ ترک وزیر خارجہ سمیت کئی ذمہ داران نے یہ واضح بیانات بھی دیے کہ بعض ممالک ترک انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ جھونک رہے ہیں۔ کئی ملکوں کے سوشل میڈیا سے بھی اندازہ ہورہا تھا کہ ان کی حکومتیں کسی بھی ’قیمت‘ پر اردوان کو ہرانا چاہتی ہیں۔
حالیہ ترک انتخابات، اتحادوں کے انتخابات تھے۔ حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود میدان میں تنہا نہیں اُتری۔ اس نے ترک قومیت پر مبنی جماعت (MHP) کے ساتھ ’اتحاد جمہور‘ تشکیل دیا۔ یہ جماعت پہلے تقریباً ۱۰ فی صد ووٹ حاصل کیا کرتی تھی، اب بھی اسے پارلیمانی سیٹوں کے لیے ۱۱فی صد ووٹ ملے۔ خود جسٹس پارٹی کے ووٹ بعض حلقوں میں کم ہوئے، لیکن دونوں جماعتوں کے اتحاد سے صدارتی انتخابات میں کامیابی ۶ء ۵۲ فی صد تک جاپہنچی۔ مقابل حزب مخالف نے بھی اتحاد ہی کی راہ اختیار کی۔ ’اتحاد ملت‘ کے نام سے قائم  اس اتحاد میں باہم شدید نظریاتی مخالف جماعتیں یک جا تھیں۔ سب سے بڑی سیکولر جماعت CHP  اور سعادت پارٹی کا اتحاد آگ اور پانی کے ملاپ کی صورت میں سامنے آیا۔ اردوان کے مقابلے میں صدارتی انتخاب کے لیے حکمت عملی یہ بنائی گئی کہ سب اتحادی پارٹیاں اپنے اپنے اُمیدوار میدان میں اُتاریں گی، تاکہ ووٹ زیادہ سے زیادہ تقسیم ہونے کے باعث طیب اردوان کو پہلے مرحلے میں جیت کے لیے مطلوب ۵۰ فی صد ووٹ حاصل نہ ہوسکیں۔البتہ پارلیمنٹ کے انتخاب میں اتحاد کے نام سے حصہ لیا جائے۔ تاہم، کھلی بیرونی مداخلت و ’سرمایہ کاری‘ اورمختلف الخیال جماعتوں کے اتحاد کے باوجود الحمدللہ، رجب طیب اردوان پہلے ہی مرحلے میں صدر منتخب ہوگئے۔ جیت کے بعد اردوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’ہماری جیت کسی ایک فرد یا جماعت کی جیت نہیں ہرترک شہری اور دنیا کے ہر مظلوم کی جیت ہے‘‘۔ یقینا اس جیت کے پیچھے ان لاکھوں مظلوموں اور اسلام کے چاہنے والوں کی دُعائیں بھی تھیں، اردوان حکومت نےجن کے زخموںپر مرہم رکھا۔ انتخابی مہم میں محرّم اینجے کہہ رہے تھے: ’’کامیاب ہوکر ۴۰ لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کو نکال باہر کروں گا‘‘، جب کہ اردوان کہہ رہے تھے: ’’یہ ہمارے بھائی ہیں، ہمارے مہمان ہیں۔ ہم شام میں جاری دہشت گردی کے خلاف مزید قوت سے لڑیں گے، تاکہ ہمارے یہ مہمان عزت سے اپنے گھر واپس جاسکیں‘‘۔بالآخر افلا ک سے ان تمام مظلوموں کے نالوں کا جواب آیا۔
طیب اردوان نے اپنے وطن عزیز کومعاشی طورپر مضبوط تر بنانے کے لیے وہ کارکردگی دکھائی ہے جو جدید ترکی کی تاریخ میں کبھی ممکن نہ ہوئی تھی۔ اردوان حکومت سے پہلے ترکی اقتصادی لحاظ سے دُنیا کا ایک سو گیارھواں ملک تھا، اب سولھواں ہے۔پہلے فی کس سالانہ آمدنی ۲ہزار ڈالر کے قریب تھی، اب ۱۱ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ بے روزگاری کا تناسب ۳۸ فی صد سے کم ہوکر ۲فی صد رہ گیا ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں ۳۰۰ فی صد بڑھاتے ہوئے کم سے کم تنخواہ ۳۴۰ لیرے سے بڑھا کر ۹۵۷ لیرے (تقریباً ۲۴ہزار روپے) کردی گئی ہے۔ اردوان کا ہدف یہ ہے کہ ۲۰۲۳ء تک ترکی کو دنیا کی پہلی دس بڑی اقتصادی طاقتوں میں شامل کرنا ہے۔
حالیہ انتخابات میں ترکی سے ملنے والا ایک اہم پیغام یہ بھی ہے کہ باہمی اختلافات کو کبھی اس انتہا پر نہیں لے جانا چاہیے کہ دوبارہ ملنا ممکن نہ رہے۔ حکمران جسٹس پارٹی کی غالب اکثریت (بالخصوص فیصلہ ساز افراد) مرحوم اربکان ہی کے ساتھی اور ایک عالمی اسلامی فکر (جسے انھوں نے ’ملی گوروش‘ کا نام دیا ہوا ہے) کا حصہ ہیں۔ آج ترک ایوان صدر میں جائیں تو کئی دفاتر میں سجی ذاتی تصاویر میں صدر طیب اردوان کے ساتھ ساتھ پروفیسر نجم الدین اربکان اور سیّد مودودی کی تصاویر دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف سعادت پارٹی اپنے کٹڑ نظریاتی مخالفین کے ساتھ اتحاد پر تو راضی ہوگئی، مگر حکمران پارٹی کے ہم خیال اپنے سابق ساتھیوں سے نہ مل سکی۔حالیہ انتخابات سے چند روز قبل سعادت پارٹی کے مزید کئی اہم ذمہ داران بھی جسٹس پارٹی میں شامل ہوگئے۔

٭  ملائیشیا : تقریباً یہی صورتِ حال ہمیں ملائیشیا کے حالیہ انتخابات میں دکھائی دیتی ہے۔ آئیے پہلے اس کے مختصر تاریخی پس منظر کا جائزہ لیتے ہیں:
ملائیشیا بظاہر ایک الگ تھلگ مسلم ریاست ہے، لیکن اپنی آبادی اور اپنے اقتصادی مقام کے باعث جنوبی ایشیا میں ملائیشیا انڈونیشیا، سنگاپور اور برونائی سمیت ان سب ممالک کو ایک خصوصی مقام حاصل ہے۔ ان ممالک میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کا وجود دنیا کے اس جھوٹے پروپیگنڈے کا عملی جواب ہے کہ دین اسلام بزور تلوار پھیلایا گیا۔ اس پورے علاقے میں اسلام کا تعارف مسلمان علماے کرام، مسلمان طلبہ اور تاجروں کے ذریعے پہنچا اور الحمدللہ مختلف اَدوار اور مختلف آزمایشوں سے گزرنے کے باوجود عوام کے دلوں میں اسلام کی محبت ان کا قیمتی اثاثہ ہے۔ ۲۷ جولائی ۱۹۵۵ء کو ایک ریفرنڈم کے ذریعے ملائیشیا کی آزادی کا فیصلہ ہوا اور ۳۱؍اگست ۱۹۵۷ء کو گیارہ صوبوں پر مشتمل ریاست کو آزادی ملی۔ تاہم، ۱۹۶۵ میں سنگاپور الگ ہوگیا۔ آج کا ملائیشیا انھی ۱۳ صوبوں پر مشتمل ہے۔ملائیشیا میں مسلمان آبادی کا تناسب ۸۰ فی صد سے زائد تھا۔ برطانوی تسلط کے دوران ایک منصوبے کے تحت چین اور ہندستان سے ایک بڑی آبادی وہاں منتقل کی گئی۔  نتیجہ یہ نکلا کہ مالے نسل آبادی کا تناسب ۵۵  فی صد رہ گیا جو اَب ۶۰  فی صد ہے۔ سب کے سب مسلمان اور امام شافعی کے پیروکار ہیں۔ ۳۰فی صد آبادی چینی النسل ہے اور ۱۰ فی صد ہندستانی نسل کے لوگ ہیں۔ اصل باشندوں کی اکثریت کا پیشہ زراعت اور کھیتی باڑی تھا۔ چین سے آنے والے اکثر لوگ تجارت و صنعت میں جت گئے۔ اکثر ہندستانی جنگلات، تجارت اور مختلف کانوں سے معدنیات کے کام میں مصروف ہوگئے۔ اس طرح مقامی آبادی کے مقابلے میں دیگر باشندوں کی معاشی حالت نسبتاً بہتر قرار پائی۔
۱۹۵۷ء ہی میں برطانوی سامراج کی اجازت سے ’مالے‘ نسل کی آبادی کے لیے  ’یونائیٹڈ مالے نیشنل آرگنائزیشن‘ (UMNO) تشکیل دی گئی۔ MCA  کے نام سے چینی اور MIC کے نام سے ہندستانی آبادی کے لیے بھی تنظیمیں تشکیل دی گئیں۔
دوسری جانب دوسری عالمی جنگ کے دوران ہی ایک ملائیشین عالم دین ڈاکٹر برہان الدین حلمی کی صدارت میں ایک تنظیم مالاوین قومی پارٹی تشکیل پاچکی تھی۔ ڈاکٹر حلمی نے ہندستان میں تعلیم حاصل کی تھی اور شاہ ولی اللہ دہلوی کی تحریک سے متاثر تھے۔ اس تحریک نے  آزادی کا پرچم بلند کیا اور اپنے پیش نظر ایک حقیقی اسلامی ریاست کا قیام رکھا۔ جنگ کے بعد برطانیہ نے اس تحریک سمیت دیگر تمام تنظیموں پر پابندی لگادی تو ان کے ذمہ داران و کارکنان بھی UMNO    میں شامل ہوکر اس پلیٹ فارم سے کام کرنے لگے۔اسی زمانے میں اسلامی تحریک کی شروعات علماے کرام کی ایک تنظیم سے ہوئی، جو بعد میں پاس (PAS) کے نام سے جماعت کی بنیاد بنی۔ ۱۹۵۵ء میں ملک کے پہلے انتخابات ہوئے تو ۵۲؍ارکان پر مشتمل اسمبلی میں ’پاس‘ کو ایک سیٹ ملی۔ آزادی کے بعد پہلے ہی انتخابات میں ’پاس‘ نے صوبہ کلنتان کی ۳۰ میں سے ۲۸ اور صوبہ ترنگانو کی ۲۴ میں سے ۱۳ نشستیں جیت کر دوصوبائی حکومتیں بنا لیں۔
۱۹۵۹ء کے بعد سے آج تک یہی چار بنیادی گروہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے کبھی حلیف اور کبھی حریف بنتے چلے آرہے ہیں۔ اس دوران کئی نئی جماعتیں اور اتحاد بھی وجود میں آتے رہے۔ نوجوانوں میں کام کرنے کے لیے ABIM نامی پلیٹ فارم بہت مؤثر ثابت ہوا۔ انورابراہیم جیسے فعال اور ذہین افراد اس کے کارکن اور پھر سربراہ بنے۔ اس میں بنیادی طور پہ ایک قومی اور اسلامی سوچ رکھنے والے باصلاحیت نوجوان جمع ہوتے آئے ہیں۔ انور ابراہیم نے ABIM کے ساتھ ساتھ ’امنو‘ میں بھی اہم مقام حاصل کیا۔ انھیں مہاتیر محمد کا اعتماد حاصل ہوا۔ وزیرخزانہ اور ڈپٹی وزیراعظم بنے۔ سب انھیں مہاتیر کا جانشین قرار دینے لگے۔ لیکن پھر ۱۹۹۸ء میں اچانک ایک ایسا لمحہ آیا کہ دونوں میں بداعتمادی جڑپکڑنے لگی۔ اسی وقت ساری دنیا حیرت زدہ رہ گئی جب وزیراعظم مہاتیر محمد نے ان پر شرم ناک الزام لگاتے ہوئے انھیں جیل بھجوا دیا اور کرپشن کے الزامات پر ۶ سال کی سزا سنادی گئی۔ انورابراہیم نے نہ صرف ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا بلکہ عدالتوں کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ ۲۰۰۸ میں اپنی نئی سیاسی جماعت (جسٹس پارٹی) بناکے عوامی عدالت میں جانے کا بھی فیصلہ کرلیا۔ ساتھ ساتھ انھوں نے ’پاس‘ (PAS) اور چینی نسل کے گروہوں سے بھی رابطہ کیا۔ اس اتحاد کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قابل ذکر مقام حاصل ہوتا رہا۔ ایک وقت میں اس اتحاد کی چار صوبائی حکومتیں بنیں۔ ’پاس‘ کے سربراہ عبدالہادی اوانگ مرکز میں اپوزیشن لیڈر اور تیل سے مالامال صوبہ ترنگانو کے وزیراعلی بھی بنے۔
۲۰۰۳ء میں مہاتیر محمد نے اپنی ۲۲ سالہ وزارت عظمیٰ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت عبداللہ بداوی کے سپرد کردی۔ پانچ سال بعد ۲۰۰۹ء میں نجیب عبدالرزاق وزیراعظم بنے۔ ان کے والد عبدالرزاق حسین ۱۹۷۰ء میں ملک کے دوسرے وزیراعظم بنے تھے۔ اب حالات نے ایک نیا پلٹا کھایا۔ ۹۳ سالہ مہاتیر محمد نے نجیب پر کرپشن کے سنگین الزامات لگانا شروع کردیے۔ ادھر ’پاس‘ اور انور ابراہیم کے مابین غلط فہمیاں جنم لینے لگیں۔ خود ’پاس‘ کے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پختہ نظریاتی ارکان اسمبلی کا جھکاؤ بھی انور ابراہیم کی جانب ہونے لگا اور بالآخر انھوں نے الگ ہوکر ایک نئی جماعت ’امانۃ پارٹی‘ بنالی۔ ۲۰۱۸ کے انتخابات سے پہلے ’پاس‘ اور’ امنو‘ دونوں تقسیم ہوچکی تھیں۔
وہی مہاتیر محمد جنھوں نے انور ابراہیم کے ساتھ انتقامی سلوک کیا تھا، ’امنو‘ کے بجاے جسٹس پارٹی کے قریب آنے لگے، جسے جیل میں قید انور ابراہیم کی اہلیہ و ان عزیزہ اور صاحبزادی نورالعزہ چلّا رہی تھیں۔ انھوںنے اعلان کیا کہ وہ انور ابراہیم کے ساتھ ہونے والی تمام زیادتیوں کا ازالہ کریں گے۔ اب جسٹس پارٹی، مہاتیر کی نئی پارٹی اور ’پاس‘ سے الگ ہونے والی امانۃ پارٹی کا اتحاد بن گیا۔ چینی جماعت بھی ساتھ آن ملی اور اس اتحاد نے ۹ مئی ۲۰۱۸ء کو ہونے والے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرلی۔اسے ۲۲۲ کے ایوان میں ۱۲۲ سیٹیں ملیں۔ ’امنو‘ کو ۱۹۵۹ء کے بعد پہلی بار شکست ہوئی لیکن اس نے پُرامن انتقال اقتدار کو یقینی بنایا۔ کامیاب ہونے والے اتحاد کے مابین معاہدہ طے پایا کہ چارسالہ اقتدار کے پہلے دو سال مہاتیر وزیراعظم رہیں گے۔ ان کے ساتھ    وان عزیزہ نائب وزیراعظم ہوں گی اور پھر باقی دو سال کے لیے انور ابراہیم وزیراعظم بنیں گے۔ ۹۳ سالہ مہاتیر نے وزارت عظمی سنبھالتے ہی وسیع پیمانے پر اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ نجیب عبدالرزاق پر ملک سے باہر جانے کی پابندی ہے اور ان کے خلاف مقدمات تیار کیے جارہے ہیں۔ ان کے گھر سے ۱۲۰ ملین رنگٹ کی نقد کرنسی اور قیمتی جواہرات ضبط کرلیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ’پاس‘ (PAS) نے تمام تر اندرونی تقسیم اور انتہائی کڑے مقابلے کے باوجود کلنتان اور ترنگانو میں واضح اکثریت حاصل کرلی ہے۔ قومی اسمبلی میں بھی اس کے ۱۸ ؍ارکان پہنچ گئے ہیں اور دو مزید صوبوں میں ان کے ارکان کا کردار اہم ترین ہے۔ مجموعی طور پر ۱۳ صوبائی اسمبلیوں میں اس کے ارکان کی تعداد ۹۰ سے متجاوز ہے، انھیں ۱۷ فی صد ووٹ ملے۔ نئی حکومتیں تشکیل پانے کے بعد ’پاس‘ کے سربراہ نے صوبہ ترنگانو میں اپنے وزیراعلیٰ کے ہمراہ وزیراعظم مہاتیر سے ملاقات کرتے ہوئے انھیں مبارک باد دی اور ہر مثبت اقدام میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔
ملائیشیا کے حالیہ انتخابات اور حکومت سازی کا سب سے اُمید افزا پہلو حکومت میں  انورابراہیم کو اہم مقام حاصل ہونا ہے،جو تحریک ِ اسلامی کے حلیف اور جانے پہچانے رہنما ہیں۔ اپوزیشن میں بھی ’پاس‘ جیسی فعال جماعت ہے جو دو صوبوں میں مکمل اور دو میں جزوی اختیار و نفوذ رکھتی ہے۔ انتخابات سے قبل پائے جانے والے اختلافات و تناؤ کی شدت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
ترک انتخابات سے دو دن قبل ۲۲ جون کو انور ابراہیم ترکی گئے۔ نمازِ جمعہ صدر طیب اردوان کے ساتھ ادا کی اور دنیا کو دونوں اہم برادر ملکوں کے شانہ بشانہ ہونے کا پیغام دیا۔ پاکستان کے بارے میں بھی دونوں ملکوں کی قیادت کے جذبات یکساں طور پر مثبت ہیں۔ آج کی دنیا میں ایک منصوبہ، فتنہ سازوں کا ہے جو مسلم اُمت کی تقسیم در تقسیم کا ہدف رکھتا ہے۔ مسلم ریاستوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنارہا ہے۔ لیکن ایک فیصلہ اللہ کی توفیق سے مسلم اُمت کا ہے، جو اہم مسلمان ملکوں کو ایک دوسرے کا پشتیبان بنارہا ہے: وَاللہُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِہٖ (یوسف ۱۲:۲۱)’’اور اللہ اپنا کام کرکے رہتا ہے‘‘۔