July 16th, 2018 (1439ذو القعدة4)

نیتن یاہو سے خفیہ ملاقاتیں

 

ی زمانہ کوئی چیز کوئی نقل و حرکت خفیہ رکھنا تقریباً ناممکن ہے پھر حکمرانوں کی مصروفیات اور وہ بھی عرب حکمرانوں کی مصروفیات کو خفیہ رکھنے کی کوشش اس دور میں ناممکن ہے۔وہ خود نہ بتائیں ان پر نظر رکھنے والے بتادیں گے۔ خبر آئی ہے کہ سعودی ولی عہد اور اماراتی حکام نے اردن میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا اس کے پیچھے کیا مقاصد کار فرماتھے وہ سب آنے والے دنوں میں سامنے آئے گا۔ یہ ملاقات گزشتہ پیر کو ہوئی لیکن اس کا انکشاف ہفتے کو کیا گیا۔یہ بھی اہمیت کی حامل بات ہے۔ اتوار کو ترکی میں الیکشن ہونا تھے۔ پہلے محمد بن سلمان سعودی ولی عہد شاہی محل پہنچے پھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو وہاں پہنچے ایک عبرانی اخبار کا خیال ہے یا اس نے یہ رائے دی ہے کہ اردن کے شاہ عبداﷲ اسرائیل کے ساتھ روابط مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے اگلے دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی مندوب جیسن گرین بیلٹ نے بھی اردنی فرمانروا سے ملاقات کی۔ بتایا یہی گیا ہے کہ فلسطینی تنازع پر بات چیت ہوئی ہے۔ ایک تاثر یہی ہے کہ یہ القدس کے حوالے سے اردن کے شاہی خاندان کے وقار کو بحال کرنے کی کوشش ہے یعنی اسرائیلی ذرائع نے جو خبر جاری کی ہے وہ یہ ہے کہ نیتن یاہو نے اردن کے شاہ عبداﷲ کو یقین دلایا ہے کہ بیت المقدس کی انتظامی صورتحال برقرار رکھنے کے حامی ہیں اور اماراتی حکام سے ملاقات اور روابط کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ ملاقات ایران کے جوہری معاہدے کے خاتمے اور اس کا اثر و رسوخ کم کرنے کے لیے تھی۔ ممکن ہے جو کچھ بتایاگیا ہے وہ سب ٹھیک ہو۔ اور ممکن ہے اس کے پیچھے اور بھی ایجنڈا ہے۔ مثال کے طور پر اگلے دن امریکی حکام کی آمد اسے وسیع بین الاقوامی تناظر میں دیکھنے پر مجبور کررہی ہے۔ کسی ملک کے حکمران کا دوسرے سے ملنا غلط نہیں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جنوبی و شمالی کوریا کے سربراہوں نے کوئی خفیہ ملاقات نہیں کی بلکہ کھلم کھلا ملاقات کی اور اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آنے لگی۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اسرائیل کو مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی اور انسانیت سوز مظالم سے روکنا اور القدس کی بے حرمتی ہے اس کو روکنا ضروری ہے۔ اگر کوئی ملاقات خفیہ ہوگی تو اس کے بارے میں کچھ بھی پھیلایا جاسکتا ہے۔ اس ملاقات کے حوالے سے بھی سعودی اور اماراتی ذرائع نے کوئی وضاحت نہیں کی ہے اگر یہی ملاقات کھلم کھلا ہوتی اور مسلم حکمرانوں کی جانب سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے اور وہاں امریکی سفارتخانہ کھولنے پر اعتراض کیا جاتا تو ان کی پوزیشن بھی بہتر ہوتی۔ جس قسم کا جواب اردن کے شاہ عبداﷲ کو دیا گیا ہے یہ بھی لالی پاپ قسم کی چیز ہے۔ یعنی اسرائیل القدس کی انتظامی صورتحال برقرار رکھنے کا حامی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اسرائیل اس کی تنازع حیثیت تبدیل کرکے اسے اسرائیل کا دارالحکومت بنارہاہے بلکہ بناچکا ہے اس کے بعد انتظامی حیثیت کی کوئی وقعت نہیں جب کہ لفظ حامی استعمال کیا گیا ہے حامی ضرور ہیں لیکن اس کے برخلاف کررہے ہیں جس طرح اسرائیل انسانی حقوق کا حامی ہے لیکن عمل اس کے برخلاف کرتا ہے چونکہ ملاقات خفیہ تھی اس لیے اس کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ ملاقات صرف اسرائیل اردن اور ایران کے معاملے پر نہیں تھی بلکہ ترکی کے عام انتخابات مرکزی موضوع تھے۔ ترکی کے صدر طیب اردوان کو تیزی سے ملنے والا قومی اور بین الاقوامی عروج اور عوامی حمایت چھوٹی بڑی طاقتوں اور اسلامی ممالک میں بھی تشویش کی نظر سے دیکھا جارہاہے۔ اردن اور سعودی عرب کی جگہ آج کل اردوان کی وجہ سے ترکی آگے جارہاہے۔ ممکن ہے اردوان کو شکست دینے یا انتخابات میں دھچکا لگانے پر بھی اس ملاقات میں بات کی گئی ہو۔ بہر حال یہ تو وقت بتائے گا کہ کیا باتیں ہوئیں ہمارے خیال میں خفیہ کے بجائے اعلانیہ ملاقاتیں ہونی چاہییں۔ میڈیا تو سارا کا سارا یہودیوں کے قبضے میں ہے وہ جو چاہیں چلادیں گے۔ پھر وضاحتیں ہوں گی جو کبھی تسلیم نہیں کی جاتیں۔