October 24th, 2017 (1439صفر3)

ترکی میں صدارتی ریفرنڈم سے یورپ کو پریشانی

 

عنایت شمسی

16 اپریل کو صدر رجب طیب اِردوان کی قیادت میں ترکی ایک نیا سنگِ مِیل عبور کرنے جا رہا ہے۔ رائے عامہ کے رجحان اور جوش و خروش کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اِِردوان اس سنگ میل کو بھی کامیابی سے عبور کرکے اپنی منزل کی طرف نہایت اہم قدم اٹھائیں گے۔
رجب طیب اِردوان جدید ترکی کی تاریخ میں اتاترک مصطفی کمال پاشا کے بعد طویل ترین عرصہ منتخب حکمران رہنے والے رہنما بن چکے ہیں۔ وہ 2003ء4 میں160وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 2014ء4 تک مسلسل اس منصب پر فائز رہے۔ 2014ء4 میں انہوں نے آئینی تقاضوں کے پیش نظر صدارت کا انتخاب لڑا اورتا حال اس عہدے کا وقار بڑھانے میں جتے ہوئے ہیں۔ اس عرصے میں انہوں نے متعدد آئینی و قانونی اصلاحات کیں۔ ان میں ایسی اصلاحات بھی شامل ہیں، جن کا تعلق ان کے مقصد اور نصب العین سے تھا اور متعدد ایسی آئینی و قانونی اصلاحات بھی انہوں نے متعارف کرائیں جو خالص عوامی فلاح و بہبود سے تعلق رکھتی تھیں۔ رجب طیب اِردوان کی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ وہ صرف خواب ہی نہیں بْنتے بلکہ ان خوابوں کو تعبیر میں160ڈھالنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ دنیا میں کئی سیاسی رہنما آئے ، جنہوں نے اِردوان کی طرح جہدِ مسلسل اور عملِ پیہم سے اپنا مقام بنایا۔ لوگوں کی اکثریت کو قائل کرکے ان کے دل میں گھر کر لیا اور ان کے کندھے پر سوار ہو کر اقتدار کی بلندی پر پہنچے ، مگر اقتدار سنبھالنے کے بعد ان خوابوں کو عمل سے ہم آہنگ نہیں کر سکے ، جو وہ لوگوں کی پلکوں پر سجا آئے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی مقبولیتِ عامہ بھی شدید متاثر ہوئی۔ لوگوں نے جو امیدیں وابستہ کرکے انہیں دل میں جگہ دی تھی، اب مایوس ہو کر دل کے آئینہ خانے سے ان کی تصویر اتار پھینک دی۔ اس کے برعکس رجب طیب اِردوان کو اقتدار کے ایوان میں داخل ہوئے ڈیڑھ عشرہ ہونے کو ہے ، اس عرصے میں ان کی مقبولیت میں کمی تو کیا آتی، روز بروز اور لمحہ بہ لمحہ اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یقیناً یہ ان کی اس شاندار کارکردگی کا صلہ ہے ، جو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہ دکھاتے چلے آرہے ہیں۔
رجب طیب اِردوان 2 سال سے ترکی کے منصب صدارت پر فائز ہیں۔ ترکی کا موجودہ نظام پارلیمانی ہے۔ اس نظام کے دائرے میں وزیر اعظم ہی بااختیار سربراہِ حکومت ہوتا ہے۔ صدر کو وزیر اعظم جتنے اختیارات نہیں ہوتے ، مگر اِردوان نے اختیارات کی کمی کو قوم کی خدمت کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔ دستورِ دنیا کے مطابق ان کے لیے نہایت معقول جواز موجود ہے کہ ان کے ہاتھ میں اختیارات نہیں ہیں، مگر ایک رہنما اور محض حکمران میں یہی فرق ہوتا ہے کہ رہنما قیادت کرتا ہے ، راستہ نکالتا ہے، چل کر دکھاتا ہے ، ایک در بند ہو تو دوسرا کھولتا ہے۔ وہ اس بحث میں نہیں پڑتا کہ اس مقصد کے لیے اس کا دائرہ عمل کس قدر وسیع اور کتنا تنگ ہے۔ اِردوان صحیح معنوں میں اپنی قوم کے رہنما ہیں۔ وہ با اختیار وزیر اعظم کے ہوتے ہوئے بھی اور کم اختیارات کے حامل صدر بننے کے بعد بھی ہر موقع اور موڑ پر آگے ہی رہے ، اپنی قوم کو آگے لے جانے کی تدبیریں سوچتے اور ان پر عمل کی راہیں تراشتے رہے اور مسلسل اپنی قوم کو ترقی کی شاہراہ پر آگے ہی بڑھائے چلے جا رہے ہیں۔
اقتدار کے اس طویل تجربے کے دوران رجب طیب اِردوان نے محسوس کیا کہ پارلیمانی نظام کے مقابلے میں صدارتی نظام ترک ملت کے مسائل حل کرنے، ان کا معیار زندگی بلند کرنے ، سماج کو مستحکم کرنے ، سیاست و معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے اور دفاع و سلامتی کو نا قابل تسخیر بنانے کے لیے زیادہ مو ثر ہے۔ مسلسل مشاورت اور اقوام عالم کے سیاسی نظاموں کے جائزے کے بعد وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ ترکی کو پارلیمانی کی بجائے صدارتی نظام میں ڈھالنا زیادہ مفید ہے۔ گزشتہ انتخابات کے دوران بھی ان کا یہ خیال تھا، تاہم انہیں اتنا وقت نہیں ملا کہ وہ اپنے اس خیال و نظریے کو عوام تک پہنچا کر رائے عامہ کو اس کے حق میں ہموار کر تے ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ باوجود انہیں 50 فیصد سے زائد ووٹ ملنے کے سیاسی نظام کو حسب منشا تبدیل کرنے کا اختیار نہیں مل سکا۔ اِردوان عمل مسلسل کے خوگر ہیں۔ وہ تھک کر نہیں بیٹھے۔ انہوں نے اپنی قوم کی بہتری کے لیے جو کچھ سوچا تھا، حسب منشا ووٹ نہ ملنے پر مایوس ہو کر اس سے دستبردار نہیں ہوئے، اس کے بجائے انہوں نے ترک ملت کو آگہی دینے کی راہ اپنائی۔ صدارتی انتخابات کے دوران اپوزیشن گروپوں اور عالمی میڈیا نے مسلسل اس بات کا پروپیگنڈا کیا کہ اِردوان در اصل نظام کی تبدیلی سے سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے کر مطلق العنان سلطان بننا چاہتے ہیں۔ اس پروپیگنڈے کا یقیناًاتنا اثر ضرور ہوا کہ انہیں آئین بدلنے کے لیے مطلوبہ ووٹ نہیں مل سکے۔
صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد اِردوان اور ان کی ٹیم نے یہ بات محسوس کی کہ عوام کو صدارتی نظام کے متعلق آگاہی دینا اور اس نظام کی خوبیوں سے بہرہ ور کرنا بہت ضروری ہے ، چنانچہ حکمران انصاف و ترقی پارٹی (آق) نے ترقیاتی کاموں کے ساتھ صدارتی نظام کے متعلق شکوک و شبہات دور کرنے پر بھی بھرپور توجہ دی۔ یہ شکوک و شبہات اِردوان کی سیاسی پیش قدمیوں سے خائف اور اپنے سیاسی مستقبل سے مایوس اپوزیشن کی جانب سے پھیلائے گئے تھے اور مسلسل پھیلائے جا رہے ہیں۔ پارلیمان کے اندر اور باہر اس سلسلے میں بھرپور مہم چلائی گئی، جس کے نتیجے میں بالآخر جنوری میں پارلیمان نے ملک کا سیاسی نظام بدلنے کے لیے عوامی ریفرنڈم کے انعقاد کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ہی پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام لانے کے لیے عوامی ریفرنڈم کروانے کے لیے 16اپریل کی تاریخ بھی مقرر کر دی گئی۔
ریفرنڈم کی تاریخ طے ہونے کے بعد مہم میں مزید تیزی آگئی۔ اس وقت ترکی میں سیاسی درجہ حرارت نقطہ عروج کو چھو رہا ہے۔ اپوزیشن گروپ ریفرنڈم کی راہ روکنے کا آخری حربہ تک آزمانے کے لیے عدالتچلا گیا ہے ، جہاں سے اسے کسی کامیابی کی توقع نہ ہونے کے برابر ہے۔ بر اعظم یورپ میں کنٹیم انٹرنیشنل پبلشنگ گروپ کے مطابق تقریباً ایک کروڑ ترک باشندے رہتے ہیں، جن کی بہت بڑی تعداد جرمنی، فرانس آسٹریا اور ہالینڈ میں مقیم ہے۔ ترک رہنماؤ ں نے اپنے شہریوں کو آگاہی دینے کے لیے ان ملکوں میں بھی مہم شروع کردی، جیسا کہ دنیا بھر میں یہ رواج موجود ہے ، مگر آسٹریا نے ترک رہنماؤ ں کے اس جائز سیاسی حق کی مخالفت کی، آسٹریا کے بعد جرمنی کی ایک ریاست نے ترک ریفرنڈم مہم پر پابندی لگادی اور اب ہالینڈ نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر ترک خاتون وزیر فاطمہ بتول قایا کو ایک سیاسی تقریب میں شرکت سے نہایت غیر معقول انداز میں روک کر انہیں مجرموں کی طرح سفارتخانے تک محدود رکھا، جبکہ اس سے قبل ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو کے طیارے کو بھی ایمسٹرڈیم ائر پورٹ پر اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جس پر ترک صدر رجب طیب اِردوان نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے ہالینڈ کے ساتھ تمام روابط منقطع کرکے اسے اس کی اوقات یاد دلادی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اگر ترک رہنماؤں کی مہم غلط ہے تو 2 دن قبل ہی ولندیزی رہنما اپنے ملک میں ہونے والے الیکشن کی مہم چلانے کے لیے برطانیہ اور یورپ کے دوسرے بڑے ملکوں میں کیوں گئے تھے؟ کیا ہالینڈ کا انتہا پسند نسل پرست رہنما گیرٹ ولڈرز لندن کی سڑکوں پر اپنی انتخابی مہم چلاتا ہوا نہیں پایا گیا؟ بہر حال ہالینڈ نے غیر ضروری اقدامات کے ذریعے اپنے باطن کا بغض اور حسد آشکار کردیا، جس سے ولندیزیوں کے خوشنما چہرے پر پڑا تعصب کا نقاب بھی اتر گیا ہے۔
ترکی کے ساتھ یورپ کی چپقلش اور کشمکش کا ایک تاریخی پس منظر ہے ، آج جو کچھ ہو رہا ہے ، اسے اس پس منظر سے الگ کرکے حالات کی پوری تصویر سامنے نہیں لائی جا سکتی۔ آئندہ انہی سطور میں کوشش کی جائے گی کہ موجودہ منظرنامے کو تاریخی پس منظر کے ساتھ واضح کیا جائے۔ہماری دعا ہے کہ ترکی اپنی سیاسی زندگی کے اس اہم مرحلے سے بھی بخیر و خوبی سرخرو ہو کر نکلے اور پہلے سے زیادہ ترقی اور استحکام اس کا مقدر ہو۔