سُنا ہے قندوز میں بچے مرے ہیں۔۔۔؟ | Jamaat-e-Islami Women Wing
August 19th, 2018 (1439ذو الحجة7)

سُنا ہے قندوز میں بچے مرے ہیں۔۔۔؟

 

غازی سہیل خاں


دنیا کے ہر ایک مذہب میں انسانی جان کو قدر حاصل ہے اسلام میں بھی اس حوالے سے واضح تعلیمات موجود ہیں۔ قرآن میں سورہ المائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس کسی نے ناحق کسی انسان کا قتل کیا تو گویا اُس نے پوری انسانیت کا قتل کیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے باوجود دنیا میں بے گناہوں کا قتل عام جاری ہے وہ چاہے دنیا میں جمہوریت اور انسانی اخوت و محبت کے دعویدار ممالک ہوں یا نام نہاد امن قائم کرنے والے ٹھیکے دار ممالک۔ غرض جمہوریت اور امن و آشتی کے ان دعوے داروں نے انسانیت کا قتل عام کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں امریکا نے عراق اور افغانستان کو کھنڈرات میں کیسے تبدیل کیا، ہم نے شام کو بھی اُجڑتے دیکھا، ہم نے غوطہ میں بچوں کے چیتھڑے ہواؤں میں اُڑتے بھی دیکھے، ہم نے شوپیان میں آسیہ اور نیلو فر کی لاشیں بھی دیکھیں، ہم نے معصوم بچوں کے جنازوں کو کاندھے بھی دیے، ہم نے پیلٹ گنوں سے کھلتے گلابوں کو اندھا ہوتے ہوئے بھی دیکھا۔ غرض چہار سو انسانیت کو لُٹتے اور اُجڑتے دیکھا، مگر اس کے باوجود بھی کہیں سے نام نہاد انسانیت کے علم برداروں اور امن کے ٹھیکے داروں کے لبوں کو ہلتے نہیں دیکھا۔ ہاں! جہاں پہ ان شیطانی قوتوں کو اپنے مفادات کی حاجت محسوس ہوتی ہے وہاں پہ یہ ڈرامے کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔
بہر حال مجھے اصل میں حال ہی میں قندوز افغانستان میں ایک مدرسہ میں بچوں کے قربان ہونے کا درد بیان کرنا ہے۔ سانحہ یوں ہے کہ 2اپریل کو افغانستان کے علاقے قندوز میں (ناٹو فوج کے) فضائی حملہ میں تقریباً 150سے زاید افراد شہید ہو گئے جن میں بڑی تعداد میں حافظ قرآن بچوں کی تھی اور یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب مدرسے میں دستار بندی کی تقریب جاری تھی۔ دستار بندی کی تقریب اس وقت منعقد ہوتی ہے جب کسی مدرسے میں بچے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اپنے سینے میں محفوظ کر نے کا عمل مکمل کر لیتے ہیں اور بعد ازاں ان بچوں کی اپنے والدین اور عزیز و اقرباء کی موجودگی میں ان کی حوصلہ افزائی کے طور پر دستاد بندی کی جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح سے قندوز میں بھی ان معصوم بچوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو اپنے سینے میں محفوظ کر لیا تھا اور اب اسی خوشی میں تھے کہ کب ہماری دستار بندی ہو جائے۔ ہر ایک حافظ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ حفظ قرآن کے بعد اُس کی دستار بندی کی جائے۔ ان بچوں نے بھی تین چار سال میں رات دن ایک کر کے قرآن کریم کو حفظ کیا۔ لیکن ان کو کیا خبر تھی کہ ظالم ہمارے چارسال کی محنت کی خوشیوں کو پل بھر میں ملیا میٹ کر کے درندگی اور ظلم کی ایسی تاریخ رقم کریں گے کہ جس کی مثال ملنی مشکل ہو جائے گی۔
مدرسے کے بچے ہنستے اور خوشی سے جھومتے اپنے والدین کے سامنے بس اسی انتظار میں تھے کہ اب ہم اس کامیابی کے بعد گھر جائیں گے، اسی بیچ افغانستان کی درندہ صفت فوج نے اچانک اس مدرسے پر بم اور بارود کی برسات کر دی جس کے نتیجے میں معصوم بچوں کے جسموں کے ٹکرے ہر طرف بکھر گئے۔ اس واقعے تک تو براہ راست ناٹو کی فوج نے افغانستان پر ہزاروں ٹن بارود برسا کر وہاں کے ہنستے بستے شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ مگر آج افغانستان ہی کی فوج نے ناٹو کے اشاروں پر ان معصوم بچوں کی زندگیوں کو یہ کہتے ہوئے چھین لیا کہ اس مدرسے میں طالبان کے کمانڈر موجود تھے۔ دوسری جانب افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ وحشی فوج نے بھارتی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مدرسے پر بمباری کی جب کہ اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ بمباری کے دوران مدرسے میں کوئی طالبان رہنما موجود تھا۔ طالبان نے اپنی ویب سایٹ پر تصدیق کرتے ہوے کہا ہے کہ جارح امریکی و کٹھ پتلی فوجیوں نے بھارتی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے صوبہ قندوز ضلع دشت ارچی پٹھان بازار کے علاقے میں واقع ’’ہاشمیہ عمریہ‘‘ نامی دینی مدرسہ پر ایسے وقت شدید بمباری کی، جب وہاں معمول کے مطابق حفاظ کرام اور دینی علمائے کرام کی دستار بندی کی تقریب جاری تھی، اس حملے میں 150علمائے کرام، طلبہ، حفاظِ کرام اور ان کے عزیز و اقارب شہید و زخمی ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب کسی حملہ میں بھارتی طیارو ں کو استعمال میں لایا گیا ہو۔ قندوز کے مرکزی اسپتال میں موجود عبدالخلیل نامی عینی شاید کا کہنا تھا کہ اس نے مدرسے میں خود کم از کم 35لاشیں دیکھیں ہیں، وہ فضائی حملے کے بعد جائے پر سب سے پہلے پہنچنے والے افراد میں شامل تھا۔ حملہ کے بعد مدرسہ کسی مذبح کا منظر پش کر رہا تھا، جہاں ہر جانب خون، انسانی اعضاء اور کٹی پھٹی لاشیں بکھری ہوئی تھی۔ یعنی ہر جانب قیامت صغریٰ کا کرب ناک منظر پیش ہو رہا تھا۔ ہر سو خون ہی خون معصوم بچوں کے جسموں کے انگ انگ کو جیسے الگ الگ کر کے کاٹا گیا ہو۔ سوشل میڈیا پر ان بچوں کی لاشوں کا نظارہ کرنا ہمارے لیے بہت مشکل بن گیا۔ لیکن افسوس صد افسوس! دنیا میں نام نہاد امن قائم کرنے کے اور خون ریزی کو بند کرنے والے کھوکھلے دعویداروں پر جن کو فرانس اور امریکا میں کسی ایک انسان کا مرنا نظر آتا ہے، جن کو دنیا میں کتوں اور بلیوں کا مرنا نظر آتا ہے، جن کو ملالہ کا زخمی ہونا بھی نظر آتا ہے (جو مغربی سازش کے تحت زخمی کی گئی) اور ملالہ کے درد کو اپنا درد جان کر دنیا کے سامنے انسانیت کا غمخوار کے طور پر پیش کرنا بھی آتا ہے۔ لیکن صد افسوس اِن کو قندوز میں معصوم بچوں کے جسموں کی چیتھڑے اُڑتے نظر نہیں آئے؟
آرمی پبلک اسکول پر حملے کے حوالے سے پورے پاکستان میں مہینوں احتجاج ہوا شمعیں روشن کی گئی، ہندوستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں پر زور انداز میں اس وحشیانہ حملہ کی مذمت ہوئی اور ہونی بھی چاہیے تھی۔ لیکن افسوس قندوز میں قیامت صغریٰ بپا ہونا امن کے داعیوں کو نظر نہیں آیا۔ کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں اور دنیا کے میڈیا کو فرانس میں ہوئے حملے کو بریکنگ نیوز کے طور پر دکھایا تو جاتا ہے اور ایک دن میں ہزاروں کالم بھی لکھے جاتے ہیں۔ لیکن قندوز میں ہوئے قتل عام ان کی نظروں سے نہیں گزرا؟ ہاں اسٹیفن ہاکنگ اور سری دیوی کی موت پہ خوب ماتم کیا گیا بلکہ ان کو جنت میں لے جانے کے لیے خوب بحثیں بھی ہوئیں، کالم بھی لکھے گئے لیکن قندوز کے بچوں کے لیے کسی نے ماتم نہیں کیا۔ کیوں کرتے وہ افسروں اور حکمرانوں کے بچے نہیں تھے، وہ تو غریب گھروں سے تعلق تھے، ان کے لیے آنسوں بہانا کیوں؟ ہاں چھوڑیے نا وہ بچے حافظ تھے کون سے امریکی یونی ورسٹی میں زیرِ تعلیم تھے؟ انہیں اب کون سا انجینئر بننا تھا اور یہ تھوڑے ہی ڈاکٹر بنتے، یہ خاک ڈاکٹر بنتے! ہماری سوچ ایسی ہی ہے ہم تو فرانس پر روتے ہیں، انگریزوں کے کسی بچے کو اگر کانٹا بھی چبھ جائے تو ہمیں معاً درد محسوس ہوتا ہے۔ ہمیں تو ان معصوموں کے قتل پر ماتم کرنا بھی گوارا نہیں، ہمارے کام متاثر ہوتے ہیں، مرنے دو بس ہم نے یہ سُنا ہے کہ افغانستان میں بچے مرے ہیں تو کیا ہوا؟ حالاں کہ قندوز میں معصوم بچوں کا بہیمانہ قتل عام عالمی ضمیر کے چہرے پر ایک طمانچہ ہے۔ اس حملے سے عالمی امن پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جس کے لیے دنیا کو جاگنا چاہیے۔ دنیا کو یہ دو غلہ پن چھوڑ دینا چاہیے اور غیر جانب داری سے دنیا میں ہو رہے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔
اپنے حقیر مفادات کی خاطر کسی کے لیے بات کرنا انتہائی گھٹیا عمل ہے۔ ہم جانتے ہیں دنیا کی شیطانی قوتیں اور اسلام دشمن عناصر اسی مسئلہ کو اچھالیں گی جن سے ان کے حقیر مفادات کو فائدہ پہنچے مگر بحیثیت اُمت ہمیں ہر طرح کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ بھلے ہی اس میں ہماری ذات بھی کیوں نہ متاثر ہو۔ ’’نبی مہربانؐ نے ایک حدیث میں فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ: مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔ اگر ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ یعنی آنکھ کو تکلیف ہو سارا جسم اسے محسوس کرتا ہے اور اگر پاؤں کو درد ہو تو جسم کے ہر ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے۔ ہمیں اپنے اندر جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ کیا اس واقعہ سے ہمیں تکلیف پہنچی ہے، کیا ہماری آنکھ سے کوئی آنسو بہہ نکلا کہ ہم نے دنیا کے ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کی؟ نہیں بلکہ ہمارا حال اس کے برعکس ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ایسے واقعات کے خلاف ہم آواز بلند کریں تاکہ دنیا کی کوئی شیطانی قوت معصوم انسانیت کو دن دھاڑے موت کے گھاٹ نہ اُتار سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ قندوز کے شہداء کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور لواحقین کو صبر عطا کرے۔ آمین!