October 21st, 2018 (1440صفر11)

101 حفاظ کی شہادت کا سانحہ

 

دنیا میں امن کے قیام کے دعویدار ازل سے اس دنیا میں فساد پیدا کررہے ہیں ۔ قرآن نے ان کی نشانی یہی بتائی ہے کہ وہ دنیا میں فساد پھیلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ امریکی ڈرون نے پیر کے روز افغان صوبے قندوز میں مدرسے پر بمباری کر دی ۔ اس وقت وہاں دستار بندی کی تقریب جاری تھی جس سے ایک اطلاع کے مطابق101 حفاظ شہید اور 200 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ۔ زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل۔ اسی قسم کا واقع جنرل پرویز کے دور میں باجوڑ میں بھی پیش آیا تھا جس میں مدرسے پر امریکی ڈرون حملے میں 80طلبہ شہید ہوئے تھے ۔ اس وقت بھی امریکیوں نے مدرسے کے طلبہ کو صبح سویرے کی سرگرمی میں مصروف پا کر ان پر بمباری کر دی تھی ۔ یہ طلبہ فجر کے لیے وضو کر رہے تھے ۔ یہی بہانہ اب بھی بنایا گیا کہ اس مدرسے میں سیکڑوں کی تعداد میں افراد کو جنگجو سمجھ کر نشانہ بنایا گیا ۔ اس کی تصدیق افغان پولیس چیف نے بھی کی ہے ۔ طالبان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ 150 افراد شہید ہوئے ہیں ہم اس کا بدلہ لیں گے جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان حکومت اپنے اتحادی کو مدرسے کے طلبہ اور جنگجو میں فرق سمجھائے ۔ ویسے امریکیوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ انہوں نے کہاں حملہ کیا ہے ۔ اصل بات تو یہ ہے کہ افغان حکمراں اپنے حریف اور حلیف کا فرق پہچانیں ۔ طویل عرصے سے امریکی افغانستان میں بیٹھے صرف افغانوں اور پاکستانیوں کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ امریکیوں نے اس سے قبل بھی صرف پاکستانیوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ وہ تو حقانی نیٹ ورک کے بارے میں دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں ہے ۔یہ کون سا نیٹ ورک تھا جس پر انہوں نے بمباری کی ہے ۔ امریکی در اصل ایسے حملے کر کے افغان اور پاکستانی حکمرانوں کو اوقات یاد دلاتے ہیں کہ ہم جب چاہیں گے تمہارے کسی بھی مرکز پر یا کسی بھی ادارے پر حملہ کر دیں گے ۔ اور یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کا ڈرون گرایا نہیں جائے گا ۔ اور یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ امریکا سمیت دنیا بھر میں کسی کا ڈرون گرانا اور اتارنا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ اصل مشکل ڈرون گرانے کا فیصلہ اور ہمت ہے ۔ مسلمان حکمرانوں میں یہ ہمت نہیں ہے وہ صرف یہ ہمت پیدا کریں اور امریکی فوجیوں کی بہادری کا مشاہدہ کریں ۔ جس طرح یہ ویتنام سے بھاگے تھے اس سے بھی زیادہ بری طرح یہاں سے فرار ہوں گے ۔در اصل امریکیوں نے افغانستان کے معاملے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات پیدا کر رکھے ہیں تاکہ خطے میں اپنی پالیسیاں جاری رکھ سکے ۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ میں عربوں کے درمیان اختلافات کو بری طرح پھیلا دیا ہے اب ان کے اتحاد کا امکان بھی ختم ہو چلا ہے جب مسلمان متحد نہ ہوں گے تو ان کے ساتھ یہی ہو گا۔ قندوز میں حفاظ کی شہادت کے معاملے کو مغربی میڈیا اور پاکستان کے میڈیا نے بھی کوئی اہمیت نہیں دی ۔ وہ یا تو کرکٹ دکھاتا رہا یا پھر امجد صابری کے قاتل ، پرویز مشرف اور نواز شریف کے الزام اورجوابی الزام کے چکر میں الجھا رہا ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ پاکستانی قوم کو کرکٹ اور اس قسم کے چکروں میں الجھا کر رکھا گیا ۔ امریکا تو جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کو دہشت گرد ثابت کرنے یا اس کے خلاف الزامات پر بات کر رہا تھا لیکن کہیں بھی امریکی دہشت گردی کی بات نہیں کی جا رہی تھی ۔ جن امور کو پاکستانی میڈیااہم ترین ظاہر یا ثابت کرر ہا تھا کیا ان کی کوئی اہمیت 101 حفاظ کی شہادت کے برابر ہو سکتی ہے ۔ در اصل اس کام کے لیے پاکستانی میڈیا کو امریکی اور یورپی امداد ملتی ہے کہ قوم کو حقائق سے دور رکھا جائے جب مصر میں جنرل سیسی کی فوج نے صدر مرسی کے حامیوں پر ٹینک چڑھائے تھے اور چار ہزار افراد کو کچل کر ہلاک کیا گیا تھا تو اس وقت پاکستانی میڈیا 6 گھنٹے تک سکندر بلوچ کے ہاتھوں پاکستانی پارلیمنٹ کے اغواء کا ڈراما دکھاتا رہا ۔ آج امریکی ڈرون حملے پر سب کی زبان گنگ ہے ۔ حفاظ کی شہادت اور اتنی بڑی تعداد میں شہادت ویسے بھی عظیم سانحہ ہے ۔ اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ حفاظ کی بڑی تعداد کی شہادت کے بعد قرآن کو جمع و تدوین کی گئی لیکن اللہ کے فضل سے امت مسلمہ اب اس مرحلے سے بہت آگے نکل چکی ہے101 حفاظ کی شہادت بڑا سانحہ ہے ۔ سارا میڈیا دنیا بھر کے دہشت گرد گروپوں پر بات کر رہا ہے مگراس دہشت گردی پر خاموش ہے ۔اب افغان فوج سے اس حملے کومنسوب کیا جا رہا ہے ۔ یہ بھی وہی کہانی ہے ۔ پہلے امریکی حملہ کر دیتے ہیں پھر جب معاملہ غلط نکلتا ہے تو پاکستانی حکومت سے اس حملے کا اعتراف کرایا جاتا ہے ۔ اب افغان حکومت سے کہلوایا گیا ہے کہ حملہ تو افغان حکومت نے کیا ہے ۔ اگر ایسا ہے بھی تو افغان حکومت اور امریکا ایک ہی نیٹ ورک تو ہیں ۔

بشکریہ جسارت