June 20th, 2018 (1439شوال6)

برما کے بعد سری لنکا، مسلمانوں کی نسل کُشی

 

مسعود ابدالی

برما میں مسلمانوں کی نسل کُشی کے بعد اب انتہا پسند بودھ بھکشوئوں نے سری لنکا کا رخ کرلیا ہے، جہاں اتوار 4 مارچ کو پھوٹ پڑنے والے مسلم کُش فسادات میں مسلمانوں کی اربوں روپے کی جائداد کو جلا کر راکھ کردیا گیا۔
سری لنکا بحرہند میں 65 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ایک سرسبز و شاداب جزیرہ ہے۔ سری لنکا اور برصغیر پاک وہند کے درمیان خلیج منار (Mannar Gulf) حائل ہے، جس کے ایک طرف ہندوستان کی تامل ناڈو ریاست ہے، تو دوسری جانب شمالی سری لنکا کا ضلع منار۔ شمال میں خلیج بنگال کو ایک تنگ سی بحری راہ داری آبنائے پالک بحرِہند سے ملاتی ہے۔ بنگلہ دیش اور برما سے پاکستان اور مشرق وسطیٰ جانے والے جہاز آبنائے پالک سے گزر کر ہی بحرِ عرب کا رخ کرتے ہیں۔ ہندو عقیدے کے مطابق سری لنکا ایک پل کے ذریعے تامل ناڈو سے ملا ہوا تھا لیکن آندھیوں اور طوفانوں سے پل بہہ گیا اور اب اس کے آثار خلیج منار میں جگہ جگہ چونے کی پتھریلی چٹانوں (Limestone) کی صورت میں ملتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 600 سال پہلے تک تامل ناڈو کے ہندو جوگی پیروں پر چلتے ہوئے خلیج منار عبور کرکے سری لنکا جاتے تھے۔ تاہم اس ضمن میں بحریات اور سیاحت کا کوئی مستند حوالہ موجود نہیں۔
سری لنکا کی کُل آبادی 2 کروڑ 10 لاکھ سے کچھ زائد ہے، جس کا 70 فیصد حصہ سنہالی نژاد بودھ، اور 24 فیصد سری لنکن تاملوں پر مشتمل ہے، جبکہ 6 فیصد ہندوستانی نژاد تامل بھی کئی صدیوں سے یہاں آباد ہیں۔ سری لنکن تاملوں میں مسلمانوں کا تناسب 41.6 فیصد ہے۔ گویا سری لنکا کی کُل آبادی کا دس فیصد حصہ مسلمان ہے جنھیں مور (Moors) کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے مور کا لفظ سب سے پہلے ہسپانیہ میں استعمال ہوا۔ اب یورپ کے اکثر ممالک خاص طور سے فرانس اور ہالینڈ میں شمالی افریقہ (الجزائر، موریطانیہ، لیبیا، مراکش، تیونس)کے مسلمانوں کے لیے مور کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ فلپائنی مسلمانوں کو مورو فلیپینو (Moro Pilipino) کہا جاتا ہے، اور شاید اسی بنا پر سری لنکا کے تامل مسلمان بھی مور کہلاتے ہیں (لفظ مور کے تاریخی پس منظر کے لیے ملاحظہ ہو ہمارا مضمون جو فرائیڈے اسپیشل میں 2 جون 2017ء کو شائع ہوا)۔ ہندوستانی تامل زیادہ تر عیسائی ہیں۔
سری لنکا کی مور آبادی تجارت پیشہ، تعلیم یافتہ اور خوشحال ہے۔ وسطی صوبے کے سب سے بڑے شہر کینڈی (Kandy) میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ اس شہر کا اصل نام مہانورا (Mahanuwara) ہے جس کا مطلب ہے عظیم الشان شہر… لیکن سارا شہری علاقہ خوبصورت کینڈی سطح مرتفع پر آباد ہے، اس لیے شہر کا نام کینڈی پڑگیا۔ پہاڑی محلِ وقوع اور وافر بارش کی وجہ سے یہ علاقہ چائے کے لیے بہت سازگار ہے، جہاں مشہورِ زمانہ سیلون چائے کاشت کی جاتی ہے جس کی تجارت کا بڑا حصہ مسلمانوں کے پاس ہے۔ کینڈی بودھوں کے چند مقدس ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے اور اُن کے عقیدے کے مطابق گوتم بودھ کے دندانِ مبارک یہاں کے ایک مندر میں تبرکاً رکھے گئے ہیں جو مقدس دانت کے مندر کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں کا مدینہ سینٹرل کالج سارے ملک کا قدیم ترین تعلیمی ادارہ ہے جو 1935ء میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ دراصل ایک اقامتی اسکول ہے جہاں پہلی سے میٹرک اور اس کے بعد پولی ٹیکنک کی تعلیم دی جاتی ہے اور ذریعہ تعلیم انگریزی اور تامل ہے۔ ابتدائی کلاسوں میں مسلمان بچوں کو ناظرہ قرآن بھی پڑھایا جاتا ہے۔ زراعت کے حوالے سے یہ چائے پر تحقیق کا علاقائی مرکز ہے۔ مدینہ کالج میں طالبات کا تناسب 55 فیصد ہے۔ یہ درسگاہ جدید ترین سہولیات سے مزین ہے، جس میں تیز ترین انٹرنیٹ اور کمپیوٹر شامل ہیں۔ مدینہ اسکول ایک چھوٹے سے گائوں مداوالا (Madawala)میں واقع ہے، اور اس اسکول کی وجہ سے مداوالا سارے سری لنکا کا سب سے ترقی یافتہ گائوں سمجھا جاتا ہے۔
اس تفصیلی تعارف کے بعد اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ 1983ء میں تاملوں اور سنہالیوں کے درمیان کشیدگی نے علیحدگی کی تحریک کا رخ اختیار کرلیا، اور یہ خون آشام خانہ جنگی 2009ء تک جاری رہی۔ مسلمان اس جنگ میں غیر جانب دار بلکہ وفاق کے ساتھ تھے لیکن زبان اور چہرے مہرے کی یکسانیت کی بنا پر تامل ہندوئوں کے شبہ میں کئی بار سری لنکن مور بھی فوج کے تشدد کا نشانہ بنے۔ خانہ جنگی کے دوران اور معاہدۂ امن کے بعد بھی سنہالی نسل پرستوں نے ہندوئوں کے ساتھ مسلمانوں اور عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
گزشتہ ایک سال سے سوشل میڈیا پر بودھ انتہاپسندوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی مہم شروع کر رکھی ہے۔ بودھوں کو مسلمانوں کی دعوتی مہم پر سخت اعتراض ہے۔ سنہالی خواتین میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی وجہ سے نسل پرست بودھ مشتعل ہیں اور الزام لگا رہے ہیں کہ چادروں میں لپٹے بھکشوئوں کے مقابلے میں جدید تراش خراش کی پتلون قمیص پہنے مسلم نوجوان زیادہ وجیہ نظر آتے ہیں، اور پھر زیادہ تر مسلمان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ان کی شستہ انگریزی سے سنہالی لڑکیاں متاثر ہوکر دل اور دھرم دونوں ہار بیٹھتی ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ بالکل یہی شکایت ہندوستانی جن سنگھ کو بھی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہندو لڑکیوں کو ادرک، لہسن، دھنیا اور پیاز میں پکی سبزی کھانے والے ہندوئوں کے لاغر سانولے جسم اور اس سے امنڈتی گرم مسالے کی لپٹیں سخت ناگوار محسوس ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں انھیں بیف کباب، مٹن کڑاہی اور چکن تکہ کھانے والے مضبوط، دراز قد اور قدرے سرخ و سفید ’مُسلّے‘ زیادہ وجیہ نظر آتے ہیں۔ بے چارے مور نوجوانوں پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ انھیں عطریات کے استعمال کا بہت شوق ہے جس کی وجہ سے ان کا بانکپن مزید نکھر گیا ہے۔ برما سے چند سو روہنگیا مہاجروں کی سری لنکا آمد پر بھی بودھوں کو سخت اعتراض ہے۔ سری لنکن سوشل میڈیا پر زہر اگلنے والے زیادہ تر برما کے انتہا پسند ہیں۔
تازہ ترین فسادات کا آغاز اتوار 4 مارچ کو ہوا جب مبینہ طور پر ملی گاما (Mullegama)گائوں میں ایک بودھسٹ اچانک پھوٹ پڑنے والے ہنگامے میں ہلاک ہوگیا۔ بودھوں نے الزام لگایا کہ اس کو مسلمانوں نے ہلاک کیا ہے۔ چنانچہ چند ہی گھنٹوں میں ہزاروں مسلح بودھوں کا دستہ بازار پر ٹوٹ پڑا اور چن چن کر مسلمانوں کی دکانوں کا آگ لگادی۔ آتش زنی اور لوٹ مار کا سلسلہ پیر کی صبح تک جاری رہا۔ بازار کو آگ لگانے کے بعد مسلمانوں کے گھروں کی باری آئی، لیکن متوقع خطرے کے پیش نظر یہ لوگ پہلے ہی اپنے گھروں کو چھوڑ کر مسجد میں پناہ لے چکے تھے۔ پولیس کو معلوم تھا کہ بلوائی بازار کے بعد رہائشی علاقے کا رخ کررہے ہیں، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی حفاظت کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا اور مسلمانوں کے درجنوں گھروں کو لوٹنے کے بعد آگ لگادی گئی۔ دکانوں اور مکانوں کو خاکستر کرنے پر کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا تو یہ ہجوم مسجد کی طرف بڑھا۔ پولیس سے تصادم میں ایک حملہ آور ہلاک ہوگیا اور اس ہلاکت کی ذمہ داری بھی مسلمانوں کے سر تھوپ دی گئی۔ ملی گاما گائوں میں بودھسٹ کی ہلاکت کی، جو بظاہر اس فساد کا سبب بنی تھی، ہنگامی تحقیقات کی گئیں تو سینئر وزیر مسٹر سارتھ امونوگاما (Sarath Amunugama) نے کمیشن کو بتایا کہ یہ قتل باہر سے آئے ہوئے لوگوں نے کیا ہے جس میں مسلمانوں کا کوئی ہاتھ نہ تھا، اور یہ ایک منظم سازش ہے (حوالہ رائٹر)۔ فاضل وزیر کینڈی کے رہائشی اور اسی حلقے سے منتخب رکن پارلیمنٹ ہیں۔
منگل کو صدر میتھری پالا سری سینا (Maithripala Sirisena) نے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کرکے کینڈی کو فوج کے حوالے کردیا اور ملی گاما میں کرفیو لگادیا گیا۔ اسی کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ لیکن موبائل فون پر ایس ایم ایس کے ذریعے زہریلی مہم جاری رہی اور منگل کو سورج غروب ہونے کے بعد بودھوں کا مسلح جتھہ متصل گائو ں مداوالا (Madawala)پر چڑھ دوڑا۔ جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا، مداوالا مسلمانوں کا تعلیمی و تجارتی مرکز ہے۔ یہاں کے بازار میں زرعی اجناس اور پارچہ جات کے علاوہ جدید ترین الیکٹرونکس اور آٹو پارٹس کی دکانیں بھی ہیں جو سب کی سب جلاکر خاک کردی گئیں۔ بازار کے بعد یہاں بھی ہجوم نے رہائشی علاقے کا رخ کیا جسے پولیس پہلے ہی خالی کرا چکی تھی۔ مداوالا میں کئی درجن گھر نذرِآتش کردیئے گئے۔ بودھ دہشت گرد جامع مسجد پر بھی حملہ آور ہوئے اور صحن میں آگ کے گولے پھنیکے گئے۔ تاہم فوجیوں نے فائرنگ کرکے بلوائیوں کو منتشر کردیا۔
ہنگامے کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا اور کئی دوسرے بازاروں اور بستیوں کو آگ لگادی گئی۔ چار چھوٹی مساجد اور نجی اسکول میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔ سری لنکن مورو کے خلاف اس وحشت و سفاکی پر پاکستانی میڈیا پر تو خاموشی رہی لیکن ہنگاموں کی شدت کا یہ عالم کہ جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے کمیشن کے سربراہ زید رعد الحسین نے سری لنکا کی حکومت پر زور دیا کہ لوٹ مار کرنے والے بلوائیوں کے ساتھ اُن لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جو سری لنکن موروں کے خلاف نفرت کی مہم چلا رہے ہیں۔ رعد الحسین نے سری لنکا کے وزیراعظم رانل وکرمے سنگھا (Ranil Wickremesinghe) سے فون پر بات کرتے ہوئے اُن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم صاحب نے یقین دلایا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
سری لنکا کے فسادات کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہاں بھی برما والی حکمت عملی استعمال کی گئی، یعنی مسلمانوں کو اُن کے گھروں سے نکال کر مساجد میں ٹھونس دیا گیا اور مسلح بودھ دہشت گرد راکھ بنے بازار اور مکانات کے ملبے پر پہرہ دیتے رہے تاکہ مسلمان واپس نہ آسکیں۔ برما میں بھی روہنگیا برادری کو گھر سے نکال کر کیمپوں تک محدود کردیا گیا تھا، جس کے بعد انھیں بنگلہ دیش کی طرف دھکیل دیا گیا۔ اسی فارمولے پر بھارتی ریاست آسام میں قومی شناختی کارڈ منسوخ کرکے شہریت کی تصدیق کی جارہی ہے، اور اب تک ایک کروڑ سے زیادہ آسامی مسلمانوں کی شہریت کو مشکوک بنایا جاچکا ہے۔ سری لنکا میں سوشل میڈیا پر پابندی کے باوجود ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے برما سے نفرت انگیز مواد سارے ملک میں پھیلایا جارہا ہے۔ برما کے نسل پرست بودھ رہنما سیتاگو سیاگو (Sitagu Sayadaw) کے نفرت انگیز اقتباسات سارے سری لنکا میں تقسیم کیے جارہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ ’’غیر بودھ کا قتل برا کرما (کام) نہیں‘‘۔ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے بلوائیوں کی پشت پناہی کے باوجود حکومتی سطح سے مورو آبادی کے خلاف کسی قسم کا منفی بیان سامنے نہیں آیا بلکہ حکومت نے مسلم کُش فسادات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ وزیراعظم وکرمے سنگھا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’سری لنکن قوم نے ربع صدی خانہ جنگی کا عذاب جھیلا ہے۔ امن، انصاف، باہمی احترام اور آزادی کی اہمیت دنیا میں ہم سے زیادہ اور کوئی نہیں جانتا‘‘۔ سری لنکا کے مسلمان سیاست اور حکومتی امور میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔ تعلیم یافتہ ہونے کی بنا پر امورِ مملکت میں ان کا اثررسوخ بھی ہے۔5 مسلمان وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔ بلدیات، شہری منصوبہ بندی، صنعت، اعلیٰ تعلیم، ڈاک اور اوقاف کے قلمدان مسلمانوں کے پاس ہیں۔ تجارت کے میدان میں بھی مورو آبادی کو ایک خاص مقام حاصل ہے، جس کی وجہ سے بودھ انتہا پسندوں کے خلاف ان کی مزاحمت خاصی مؤثر ہے۔ مسلمانوں کے دبائو پر معاملہ انسداد دہشت گردی کے سپرد کردیا گیا ہے جس کے تربیت یافتہ کمانڈوز نے فوری کارروائی کرکے دہشت گردی کے سرغنہ جیون ویرا سنگھے کو گرفتار کرلیا اور ساتھ ہی اُس کے نائب سمیدھا سواراویرا سمیت 10 دوسرے افراد بھی دھر لیے گئے۔ پولیس کے ایس پی گناسیکارا کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے بہت سارا شرپسندانہ مواد اور مستقبل کے منصوبے برآمد ہوئے ہیں جن کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔گرفتار ملزمان سے ہونے والی پوچھ گچھ کے نتیجے میں 71 افراد کے خلاف پرچے کاٹے گئے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے پولیس سارے ملک میں چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ان ہنگاموں میں مسلمانوں کے 45 مکانات اور ایک درجن سے زیادہ بازار تباہ ہوئے۔ 4 مساجد کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ وفاقی حکومت نقصان کا اندازہ لگا رہی ہے جس کے بعد اس کے ازالے کی کوشش کی جائے گی۔ وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر کبیر حلیم نے پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فرقہ وارانہ جلوس نکالنے والوں پر فوری گولی چلانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ فساد پھیلانے والا مور ہو، تامل ہو، یا سنہالی… قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ ہم نے 25 سال دہشت گردی کا عذاب سہا ہے اور دودھ کے جلے کو چھاج سے بھی خوف آتا ہے۔ ملک میں نفرت کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔
مسلمان معتدل بودھوں اور سنہالیوں سے رابطے میں ہیں، جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ بودھ بھکشوئوں کی وفاقی تنظیم نیشنل بھکو فرنٹ (National Bhikko Front)نے دارالحکومت کولمبو میں جمعہ کے دن مسلمانوں سے یک جہتی کے لیے مظاہرہ کیا۔ متاثرہ ضلع کینڈی میں بھی مظاہرے ہوئے جس کی قیادت کرکٹ کے کھلاڑیوں نے کی۔ کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردنے نے مسلمانوں سے یک جہتی کے لیے سوشل میڈیا پر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ انتظامیہ کو ڈر تھا کہ جمعہ کو شرپسند نیا فتنہ اٹھانے کی کوشش کریں گے، لیکن کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی خبر نہیں آئی۔ مساجد میں ضرورت سے زیادہ ہجوم دیکھا گیا، اور مساجد کے باہر سڑکوں پر بھی نمازیوں کی صفیں نظر آئیں۔ تباہ ہونے والی مساجد کے سامنے سڑکیں بند کرکے صفیں ترتیب دی گئیں۔ دنگا قصبے کی جامع مسجد بالکل تباہ ہوگئی ہے، لہٰذا یہاں جمعہ کی نماز مقامی اسکول کے میدان میں ادا کی گئی۔ اسکول کے طلبہ اور اساتذہ نے حفاظت و پہرے کی ذمہ داری ادا کی، اور بلدیہ کے ٹینکروں سے وضو کے لیے پانی فراہم کیا گیا۔ عزم و حوصلہ، صبر، ثابت قدمی، اور سب سے بڑھ کر دانش مندانہ سیاست و فراست نے سری لنکا کے مسلمانوں کو ایک بڑی آزمائش سے بچالیا۔ دلچسپ بات یہ کہ سوشل میڈیا پر مسلم مخالف مہم نے دعوت کے لیے مہمیز کا کام دیا ہے۔ مقامی اخبارات کے مطابق جمعہ کو مساجد کے باہر لگائے جانے والے اسٹالوں پر رکھے قرآن کے سنہالی ترجموں کے سارے نسخے ختم ہوگئے۔ مسلم مکتبوں اور کتاب گھروں سے بھی سنہالی، تامل اور انگریزی تراجم کی فروخت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسری طرف برما سے سوشل میڈیا پر زہریلی مہم جاری ہے جس میں مسلمانوں کو ہندوستانی تامل قرار دیا جارہا ہے، جن کے آبا و اجداد نے یہاں آکر سنہالیوں کی زمینوں اور جائداد پر قبضہ کرلیا ہے اور اب یہ ’گھس پیٹھیے‘ دعوت و تبلیغ اور ’جہاد‘ کے زور سے بودھوں کو اقلیت میں تبدیل کردینا چاہتے ہیں۔ سخت مالی نقصان کے باوجود موروں کے حوصلے بلند ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف معتدل سنہالیوں کی ہمدردیاں مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور حکومت کا رویہ بھی حوصلہ افزا ہے۔