September 19th, 2018 (1440محرم8)

اُمت مسلمہ کا آپریشن۔۔۔ کلین اپ

 

غازی سہیل خان

رسول اکرمؐ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ: ’’ایک وقت آئے گا جب اقوام عالم تم (مسلمانوں) پر یوں پل پڑیں گی جیسے کہ بھوکے کھانے کے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں‘‘۔ صحابہ نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول کیا یہ اس وجہ سے ہوگا کہ تب ہم تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ؐ نے فرمایا: ’’نہیں تعداد میں اس وقت تم بہت زیادہ ہوں گے، مگر تمہاری حیثیت خس و خاشاک جیسی ہوگی کہ جیسے خس و خاشاک سیلاب کی سطح پر (تیرتے ہیں)، اللہ تعالیٰ دشمنوں سے تمہارا رعب و دبدبہ ختم کرے گا اور تمہارے دلوں میں کھوکھلا پن (وہن) پیدا کر دے گا۔ ایک سائل نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول یہ ’وہن‘ کیا ہے؟ فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔
ہم دیکھتے ہیں آج دنیا میں اُمت مسلمہ کی یہی حالت ہے۔ امت مسلمہ اس وقت 57 ممالک پر مشتمل ہے جو دنیا میں ہر طرح کے وسائل و ذرائع سے مالامال ہے وہ چاہے تیل کے کنویں ہوں یا سونے اور دیگر معدنیات کی کانیں، سائنس و ٹیکنالوجی ہو یا ایٹمی و نیوکلیائی ہتھیار۔ لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود دنیا میں اس وقت اگر کوئی قوم مظلوم ومحکوم ہے تو وہ یہی اُمت مسلمہ ہے۔ عثمانی خلافت کے چھن جانے کے بعد غیر اقوام نے اُمت مسلمہ کو تہہ تیغ کرنا شروع کر دیا۔ اُمت مسلمہ جو اصل میں اُمت مظلوم ہے اس وقت دنی میں ہر طرح سے غیروں اور اپنوں کے ہاتھوں پٹ رہی ہے اور ساری دنیا اس طرح تماشائی بنی ہوئی ہے جیسے یہ کوئی سرکس کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اُمت مسلمہ کو ایک سازش کے تحت قوموں ملکوں، مسلکوں، جماعتوں اور گروہوں میں غیروں نے ایسے بانٹ دیا جیسے کہ یہ ایک اُمت ہے ہی نہیں۔ اُمت کو بانٹ کر ہم دیکھتے ہیں دنیا کی بڑی بڑی شیطانی طاقتوں نے اُمت مسلمہ کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا۔ کہیں پہ نام نہاد مسلمانوں میں ہی سے ایسے درندے تیار کیے گئے جنہوں نے اُمت کا قتل عام ثواب جان کر کیا اور کہیں پہ ان شیطانی طاقتوں نے براہ راست مسلمانوں کو چُن چُن کر مار ڈالا۔ ہم دیکھتے ہیں دنیا کی ایک شیطانی طاقت جسے ہم امریکا کے نام سے جانتے ہیں، نے عراق پر ہزاروں ٹن بارود برسایا وہاں کے منبر ومحراب، اسکول اور اسپتال اور عالی شان عمارتوں کو زمین بوس کر کے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ اُس وقت کے شیطان صفت صدر جارج بش نے عراق کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کی یہ دلیل دی کہ وہاں پر وپپنز آف ماس ڈسٹرکشنز weapons of mass distraction)) بنائے جا رہے ہیں اور پھر دنیا نے دیکھ لیا امریکا وہاں سے ایک سوئی بھی برامد نہیں کر سکا۔ اسی طرح ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اسی شیطان نے افغانستان پر بارود کی بارش کر کے افغانستان کے لاکھوں بچوں کو یتیم اور ہزاروں ماؤں بہنوں کو بیوہ کر دیا۔ امریکا نے اتنا بارود افغانستان پر برسایا بلوں میں چھپے کیڑے مکوڑے بھی نہیں بچ پائے۔ اسی امریکا کی ناجائز اولاد جسے دنیا اسرائیل کے نام سے جانتی ہے، نے فلسطین کے ایک ایک بچے کو جیسے اپاہچ کرنے کا ٹھیکا لے رکھا تھا، بموں اور میزائلوں کی برسات کر کے فلسطین سے مسلمانوں کے خاتمے کی کوشش کے ساتھ ساتھ قبلۂ اول کو گرانے کی ناکام اور نامراد کوششیں کیں۔ اسی طرح سے برصغیر کی ایک اور مسلم دشمن طاقت نے کشمیر میں ہزاروں اور لاکھوں یتیموں اور بیواوؤں کی ایک فوج تیار کر دی اور ایسے نہ جانے کتنے ہیں جن کو حبس بے جا میں قید کر کے دنیا کے سامنے سب سے بڑی جمہوریت کا راگ الاپنا بند نہیں کیا، اسی طرح سے برما میں مسلمانوں کو جانوروں کی طرح کاٹا باقی زندہ بچے مسلمانوں کو ملک بدر کر دیا جو آج جموں اور بنگلا دیش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ مگر اس سارے ظلم و ستم کے باوجود دنیائے اسلام خاموش تماشائیوں کی طرح اس سارے قتل عام کا نظارہ ہی نہیں بلکہ ان میں سے چند نام نہاد مسلم حکمران ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان قاتلوں اور ظالموں کا ساتھ بھی دیا۔
اسی ظلم و ستم کے بیچ چند دن سے ایک اور مظلوم ملک شام کی دل کو دہلانے والی تصویریں دیکھی گئیں۔ جن کو دیکھ کر روح کانپتی اور جسم تڑپ اُٹھتا ہے۔ شان دار اور خوب صورت عمارتوں پر اسد حکومت اور روسی طیاروں کے ذریعے سے مظلوم شامی بچوں، نوجوانوں، عورتوں اور بزرگوں پر بم اور گولیاں برسا کر ان گنت تعداد میں اپاہچ اور شہید کیا جا رہا ہے۔ اسدی فوج اور روسی طیارے بم برساتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ اِن طیاروں اور بموں کی زد میں شیعہ بچہ آ رہا ہے یا سُنی، بلکہ وہ وہاں انسانیت کو ختم کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ بشار الاسد نے تو درندوں کو بھی مات دے ڈالی ہے۔ حلب، حماٹ اور دیگر بڑے شہر راکھ کے ڈیر میں تبدیل ہو گئے ہیں اور اب غوطہ پر بموں اور بارود کی برسات کی جا رہی ہے۔ بشار الاسد اپنی کرسی بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ بی بی سی کی رپوروں کے مطابق غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں۔ بلکہ یہ کہیں چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں،حالاں کہ یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں جس کا فائدہ شامی حکومت کو بھی ہوا ہے۔ علاقے میں سب سے بڑا گروہ جیش السلام اور اس کا حریف گروہ فیلک الرحمان ہے۔ فیلک الرحمان ماضی میں جہادی گروہ حیات الشام کے ساتھ لڑتا رہا ہے جو النصرہ فرنٹ کا ایک دھڑا ہے۔ ان چھوٹے سے باغی گروہوں سے اسد حکومت کو اتنا خوف ہے کہ اس نے غوطہ میں خون کے دریا بہا دیے ہیں۔ بچوں کی لاشوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے کلیاں مسلی گئی ہوں۔ ان زخمی بچوں کی روتی بلکتی تصویریں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ان کو دنیا میں جینے کا حق ہی نہیں ہے۔ آپ یقین کریں انسان وہ درد انگیز تصویریں دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ وہ تصویریں اور ویڈیوز دیکھنے کے لیے پتھر جیسا دل ہونا چاہیے۔ ایک رپورٹ کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی غوطہ میں اسدی فوج کی فضائی بمباری کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد چار سو سے بڑھ گئی ہے۔ شام کے لڑاکا طیاروں نے گزشتہ چند دنوں کے دوران باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی غوطہ کے علاقوں پر تباہ کن اور وحشیانہ بمباری کی ہے۔ برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی رجیم اور اس کے اتحادی روس کے تباہ کن فضائی حملوں اور توپ خانوں سے شدید گولہ بار ی سے پانچ روز میں 464 شہری مارے جا چکے ہیں اور ان میں 100بچے بھی شامل ہیں۔ 2100شہری زخمی ہوئے ہیں۔ اس ساری صورتِ حال کا اُمت ایسے نظارہ کر رہی ہے جیسے کچھ ہو ہی نہیں رہا ہے۔ اسلامی دنیا کے 57 ممالک کے حکمرانوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ ابھی تک کہیں سے یہ رپورٹ بھی نہیں آئی کہ کسی ملک میں اس حوالے سے عوام کی طرف سے احتجاج بھی ہوا ہے۔ اس سارے ظلم و ستم کے بعد بھی دنیا کے مسلمان اور وہ ممالک جو خود کو تہذیب و تمدن، آزادئ نسواں، برابری، جمہوریت اور امن کے دعوے دار سمجھتے ہیں، ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں۔ جب اسلامی ممالک کا حال ایسا ہو تو ہم غیروں سے کیا گلہ کر سکتے ہیں۔ حالاں کہ نبئ مہربانؐ نے فرمایا ہے کہ: ’’مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔ اگر ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے‘‘۔ یعنی آنکھ کو تکلیف ہو سارا جسم اسے محسوس کرتا ہے اور اگر پاؤں کو درد ہو تو جسم کے سارے اعضا اسے محسوس کرتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا کہ: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اس لیے کوئی مسلمان نہ اپنے دوسرے بھائی پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے ظلم کرنے کے لیے کسی دوسرے کے
حوالے کرتا ہے‘‘۔ اگر آج ہمارا ایک عضو شام میں زخمی ہو رہا ہے ہماری آنکھ فلسطین میں پھوڑ دی گئی ہے ہمارے پاؤں برما میں کاٹ دیے گئے ہیں اور نہ جانے کون کون سا ہمارا انگ زخمی ہے۔ اس کے باوجود بھی ہم اس درد کو محسوس نہیں کر رہے ہیں؟ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی ممالک کے سربراہان کو جلد از جلد شام کے مظلوموں کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے اور ہمیں بھی ہر رنگ میں دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے۔ اس وقت شام کے بچے ہمیں پکار رہے ہیں، مائیں بہنیں اور بزرگ روتے اور تڑپتے ہیں کہ کب اور کون ہماری مدد کو آئے گا۔ اُمت مسلمہ اٹھے اور شام کے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرے، اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو وہ وقت دور نہیں کہ جب ہمیں بھی ان ہی کی طرح مدد کے لیے پکارنا پڑے گا۔ لیکن اس وقت ہماری مدد کو کوئی نہیں آئے گا۔