July 21st, 2018 (1439ذو القعدة8)

روہنگیا مسلمانوں کا مستقبل

 

پناہ گزینوں کا رشتہ زندگیوں سے قائم رکھنے کے لیے خوراک، ادویات، خیمے، بیت الخلا کی تعمیر، حفظان صحت، صفائی ستھرائی وغیرہ کی مستقل ضرورت ہے اور یہ کہا نہیں جاسکتا کہ یہ ضرورتیں انہیں کب تک مہیا کرنی ہوں گی۔ اس لیے کہ جب تک ان کے لیے اپنے وطن جانے اور وہاں دوبارہ آباد ہونے کی راہ ہموار نہیں ہوتی وہ مجبور ہوں گے کہ کیمپوں میں پڑے رہیں۔

قیصر جمیل احمد ملک

برمی حکومت، فوج اور بدھ دہشت گردوں کے ظلم، درندگی اور دہشت گردی کی وجہ سے تقریباً 6 لاکھ دہشت زدہ مظلوم اور مجبور مسلمان جنہیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے، جن کے ہزاروں بچوں، بوڑھوں، جوانوں اور عورتوں کو تہہ تیغ کردیا گیا ہے۔ جن کی املاک کو ان کی آنکھوں کے سامنے جلا کر خاکستر کردیا گیا ہے اور جن کی عفت مآب خواتین اور بچیوں کی بے حرمتی کی گئی ہے، آج بنگلا دیش کے ساحلی ضلع کاکسس بازار اور اس کے اطراف میں بے یارومددگار اور بے آسرا کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی دباؤ کے باوجود بنگلا دیش حکومت ان کی امداد کررہی ہے۔ وہاں کی فوج بھی ان کی ہر طرح کی امداد کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری کررہی ہے، وہاں کی فلاحی تنظیمیں بھی اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ بنگلا دیش کے عوام بھی ان کے دکھوں میں شریک ہورہے ہیں، بین الاقوامی فلاحی تنظیمیں بھی سرگرم عمل ہیں۔ پاکستان کی الخدمت فاؤنڈیشن وہاں اپنی ذمے داری ادا کرنے کے لیے موجود ہے۔ ترکی، ملائیشیا اور انڈونیشیا وغیرہ کی امداد بھی قابل ذکر ہے۔
ان پناہ گزینوں کا رشتہ زندگیوں سے قائم رکھنے کے لیے خوراک، ادویات، خیمے، بیت الخلا کی تعمیر، حفظان صحت، صفائی ستھرائی وغیرہ کی مستقل ضرورت ہے اور یہ کہا نہیں جاسکتا کہ یہ ضرورتیں انہیں کب تک مہیا کرنی ہوں گی۔ اس لیے کہ جب تک ان کے لیے اپنے وطن جانے اور وہاں دوبارہ آباد ہونے کی راہ ہموار نہیں ہوتی وہ مجبور ہوں گے کہ کیمپوں میں پڑے رہیں۔ مذکورہ ضرورتوں کے علاوہ ان کے بچوں کی بنیادی تعلیم کی فراہمی، نوجوانوں کے لیے عارضی روزگار کی فراہمی، میڈیکل سینٹرز کا قیام اور ان کی معاشرتی نفسیاتی اور اخلاقی حالت کی درستی کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ ان کاموں کے لیے ایک کثیر رقم کی ضرورت ہوگی، سالانہ امداد کی ضرورت ہوگی۔ اس ضمن میں سب سے پہلے خوشحال مسلم ممالک کے حکمرانوں اور وہاں کے عوام کی ذمے داریاں بڑھ جاتی ہیں، سعودی عرب، امارات، ترکی اور پاکستان کے حکمرانوں اور عوام کی ذمے داریاں سب سے بڑھ کر ہیں۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی کو بھی یہی ممالک متحرک کرسکتے ہیں، ملائیشیا اور انڈونیشیا بھی اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ مسئلے کا اصل اور پائیدار حل تو صرف یہ ہے کہ تمام اراکان کے مسلمان اپنے وطن لوٹ جائیں اور اپنے گھروں کو آباد کریں، اپنے کھیتوں اور کھلیانوں، باغات اور نہروں کو دوبارہ زندہ کریں، تعلیمی اداروں اور کھیل کے میدانوں کو آباد کریں، بازاروں، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہو، ایک روشن، بے خوف اور پائدار مستقبل کی ضمانت ہو۔ اس مقصد کے لیے تین صورتیں ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ اراکان کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا درجہ دیا جائے یا دوم یہ کہ ایک خود مختار صوبے کا درجہ دیا جائے یا کم از کم انہیں برما کی شہریت دی جائے۔ انہیں وہاں کا مستقل شہری قرار دیا جائے اور وہ تمام حقوق انہیں حاصل ہوں جو وہاں کے دستور اور قوانین کے مطابق دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔
انہیں Rehabilitate کرنے میں برمی حکومت پوری طرح مدد کرے اور دنیا کے تمام متعلقہ ادارے پوری طرح تعاون کریں۔ اراکان کی سطح پر اور مرکزی سطحوں پر تمام اداروں میں ان کی اصل آبادی کی بنیاد پر نمائندگی دی جائے۔ اس ضمن میں انہیں تمام سیاسی، معاشی اور انسانی حقوق حاصل ہوں۔ ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے، مقامی پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں، بشمول افواج برما میں انہیں شامل کیا جائے۔ جب تک کہ یہ سارے عمل مکمل نہیں ہوجاتے اس وقت تک کے لیے اقوام متحدہ وہاں بین الاقوامی امن فوج تعینات کرے۔ اقوام عالم کی یہ ذمے داری ہے اور وہ اپنی ذمے داریاں پورے کرے۔
روہنگیا مسلمانوں کے مسائل کے مستقل حل کے لیے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی سب سے اہم ذمے داری ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان میں لاکھوں روہنگیا مسلمان پہلے ہی سے پناہ گزین ہیں اور دونوں حکومتیں ہی اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ او آئی سی، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے تعاون سے اراکان کے مسلمانوں کا مسئلہ پائیدار بنیادوں پر حل کراسکیں۔ یہ مسئلہ امت مسلمہ کے لیے ایک اور رستہ ہوا زخم بن چکا ہے۔ شرعی لحاظ سے بھی فرض ہے کہ ان کے مسئلے کو ترجیح دی جائے، یہ تمام مالک نہ صرف اس مسئلے کے حل میں بنگلا دیش کی مدد کریں بلکہ ان سے تعاون بھی حاصل کریں، اس لیے کہ مرکزی کردار بنگلا دیش ہی کو ادا کرنا ہے جہاں لاکھوں پناہ گزین پہنچ چکے ہیں۔ یہ حکومتیں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے چین سے بھی تعاون حاصل کریں اور بھارت سے بھی، تا کہ برما کی فوج، جنتا اورانگ سان سوچی کسی باعزت اور پائیدار حل پر متفق ہوجائیں۔ یہ ٹاسک ایک خاص وژن، منصوبہ بندی اور جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ میری نگاہ میں روہنگیا مسلمانوں کے مسائل کا مستقل حل مذکورہ تجاویز پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔