November 24th, 2017 (1439ربيع الأول5)

سعودی بحران، اُمت کا نقصان

 

شاید دنیا بھر کے اخبارات کے لیے یہ سنسنی خیز خبر دلچسپی اور مزے کی بات ہوگی کہ سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جارہی ہیں، بڑے بڑے خاندانوں کے لوگ گرفتار ہوگئے ہیں۔ ان میں صرف شاہی خاندان کے سیاسی لوگ نہیں تھے بلکہ عالمی شہرت یافتہ شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل ہے۔ کارروائی کا انداز بھی خاصا امریکی اور پاکستانی انداز کا ہے۔ ادھر اختیارات ملے ادھر کارروائی ہوگئی۔ بلکہ جس طرح امریکا نے اجازت ملنے سے قبل کویت پر عراق کے قبضے کے موقع پر اپنی افواج سعودی عرب میں اتاری تھیں اسی طرح اختیارات ملنے سے قبل ہی کچھ کارروائیاں کر ڈالی گئیں۔ ابتدائی طور پر تو یہی بتایاگیا ہے کہ یہ شہزادے کرپشن میں ملوث تھے لیکن ساری دنیا جانتی ہے کہ مسئلہ کرپشن نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ عالمی سطح پر امت مسلمہ کے خلاف جو سازشیں ہورہی ہیں ان کے تحت امت کی مرکزیت کا خاتمہ اور مرکزی قیادت یعنی خلافت کا خاتمہ پہلا مرحلہ تھا جو عرصہ ہوا مکمل ہوچکا ہے۔ لے دے کر حرمین کی وجہ سے سعودی عرب کی مرکزی حیثیت تھی اور کبھی کبھار اسرائیل کے خلاف سعودی عرب کے بیانات اور پسے ہوئے مسلمانوں کے لیے سعودی عرب کی دولت سے امداد کی وجہ سے یہ مرکزی حیثیت کچھ نہ کچھ اہمیت رکھتی تھی لیکن مشرق وسطیٰ کے تازہ حالات، شام، یمن اور عراق کے تناظر میں اور اسرائیل کے خلاف رد عمل کے معاملے میں ترکی نے قدم زیادہ آگے بڑھائے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے پر بھی زیادہ فعال نظر آیا ہے۔ ممکن ہے یہ سب خیال آرائیاں ہوں لیکن جو کچھ ہورہاہے وہ اس خیال آرائی کے عین مطابق ہورہاہے کہ سعودی عرب کے ٹکڑے کرکے قیادت کا کچھ حصہ ترکی کو دے دیا جائے کچھ احترام حرمین کے کھاتے میں سعودی عرب کو ملتا رہے۔ جو کچھ کارروا ئی کی گئی ہے اس میں دو اہم خاندان تو براہ راست متاثر ہوئے ہیں اور یہ خاندان کوئی عام لوگوں کے خاندان نہیں ہیں۔ ایک عبداﷲ بن عبدالعزیز کا خاندان ہے جو جیزان کے لوگوں پر مشتمل ہے اور سعودی افواج میں بڑا حصہ جیزائیوں کا ہے۔ یہ لمبے چوڑے اور طاقتور قبائل ہیں، جنگجو بھی ہیں۔ انہوں نے کئی سعودی روایات کو بھی زندہ رکھا ہوا ہے جن میں تلوار کے ساتھ رقص،گھڑ سواری اور صحرا میں وقت گزارنے کی عادت۔ اگرچہ یہ روایتیں عادت بن گئی ہے جومکمل سہولتوں کے ساتھ ہوتی ہے لیکن یہ جنگجو لوگوں کے لیے اپنے ماضی سے وابستگی کا اظہار ہے۔ اسی طرح ولید بن طلال سے فائدہ اٹھانے والے صرف ان کے خاندان کے چند سو لوگ نہیں ہیں بلکہ ہزارہا لوگ ان سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔ ان خاندانوں کی جانب سے رد عمل فطری ہے، جب یہ رد عمل آئے گا تو سعودی نظام کو یقیناًمزید دھچکے لگیں گے۔ شاہ سلمان نے ولی عہد کو اتنے وسیع اختیارات کیوں دیے، کس کے اشارے پر یہ سب ہورہاہے، امریکا کا کیا عمل دخل ہے، بیرونی قوتیں اس کھیل میں کس حد تک شریک ہیں۔ اس قسم کے سوالوں کے جوابات عموماً وقت گزرنے کے بعد ملتے ہیں لیکن سعودی عرب کے تناظر میں تو سب کچھ عیاں ہے۔ پہلے اسے یمن اور شام کے معاملات میں الجھایا گیا پھر جب معیشت بری طرح تباہی کی طرف جانے لگی تو قرضوں کا جال پھیلاگیا، پھر تارکین وطن سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے وصولی کی جانے لگی ان پر اتنے ٹیکس لاد دیے گئے کہ وہ اپنے اہل خانہ کوگھر بھیجنے پر مجبور ہوگئے جب کہ چند ماہ یا ایک سال کے اندر ملازمتیں بھی چھوڑنے لگیں گے۔ جس کا اثر مکانات کرایے پر دینے والے سعودیوں کی معیشت پر پڑے گا۔ گویا سعودی عرب کو ایک معاشی بھونچال اور سیاسی طوفان میں پھنسانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ سعودی حکام نے اگرچہ بظاہر تمام کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے جس میں حرس الوطنی (نیشنل گارڈز) بھی شامل ہیں۔ جس کا کنٹرول حرس الوطنی پر ہوگا، طاقت اس کے پاس ہوگی۔ یوں تو اختیارات بادشاہ کے پاس ہی ہوتے ہیں لیکن نیشنل گارڈز مسلح طاقت ہے اور اب مسلح طاقت کے بل پر بھی فیصلے ہوں گے۔ اسے بھی اتفاق کہیں یا کچھ اور کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے انہیں شاہی پروٹوکول سے محروم نہیں کیا گیا ہے بلکہ انہیں فائیو اسٹار ہوٹل رٹنرکارلٹن خالی کراکر اس میں ٹھیرا یا گیا ہے ان کی نجی پروازوں پر پابندی ہے ارد گرد سخت سیکورٹی ہے۔ گویا کرپشن کے الزام میں گرفتار لوگ پاکستان کی طرح وی آئی پی پروٹوکول کے مزے لے رہے ہیں۔ امت مسلمہ کے تناظر میں سعودی بحران ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ سعودی بحران کو سعودی عرب کا داخلی معاملہ تو سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔ یہ امت مسلمہ کا نقصان ہے لیکن امت کے حوالے سے سوچنے والے ہیں کہاں؟؟

                                                                                                                                          بشکریہ جسارت