April 3rd, 2020 (1441شعبان10)

فلسطین کے خلاف ٹرمپ کا سازشی منصوبہ

 

امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی منظوری کا منصوبہ پیش کردیا ہے انہوںنے صدی کا منصوبہ قرار دیا ہے ۔ اس منصوبے کے تحت ٹرمپ نے وہی پرانی رٹ برقرار رکھی ہے کہ اسرائیل جتنے عرب علاقوں پر قبضہ کرچکا ہے ، اُسے تسلیم کرلیا جائے ۔ جس وقت مسٹر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اپنے خیال میں مشرق وسطیٰ میں امن کا منصوبہ پیش کررہے تھے ، ان کے اطراف میں اسرائیلی صدر نیتن یاہو کے علاوہ بحرین ، متحدہ عرب امارات اور عمان کے سفراء موجود تھے ۔ جب سے ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے ، وہ اسرائیلی زبان ہی بول رہے ہیں ۔ ٹرمپ کا یہودی داماد جیری کشنر امریکا میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ میں پیش پیش ہے ۔ ٹرمپ کا اعلان کردہ منصوبہ بھی جیری کشنر ہی کا پیش کردہ ہے ۔ گو کہ عرب لیگ نے ٹرمپ کے اعلان کردہ منصوبے پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے مگر ٹرمپ کی پریس کانفرنس میں تین عرب ممالک کی موجودگی بہت کچھ بتانے کے لیے کافی ہے ۔ عرب لیگ میں سب سے موثر سعودی عرب نے پہلے ہی اسرائیلی شہریوں کو سعودی عرب آمد اور وہاں پر کاروبار کی اجازت دے دی ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے ہی کئی عرب ممالک نے اسرائیلی حکام کا گرمجوشی سے اپنے ممالک میں استقبال کیا تھا اور انہیں وہی پروٹوکول دیا گیا تھا جو کسی حکمراں کو دیا جاتا ہے ۔ نیتن یاہو ٹرمپ منصوبے پر نہ صرف خوش ہیں بلکہ اس کی عالمی سطح پر منظوری کے لیے وہ فوری طور پر ماسکو بھی روانہ ہوگئے ہیں ۔ ٹرمپ عملی طور پر اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کو تسلیم کرچکے ہیں بلکہ یروشلم میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کا بھی اعلان کرچکے ہیں ۔ فلسطین میں امریکی تجویز پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے اور فلسطین میں اس کے خلاف زبردست مظاہرے جاری ہیں ۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے ٹرمپ منصوبے کو صدی کا تھپڑ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے ۔ محمود عباس نے کہا ہے کہ یروشلم فروخت کے لیے نہیں، ہمارے کوئی حقوق فروخت کے لیے نہیں، ہم سودے کا مال نہیں ہیں اوریہ سازش کامیاب نہیں ہوگی ۔ فلسطینیوںکی نمائندہ تنظیم حماس نے بھی ٹرمپ منصوبے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یروشلم سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان بکواس ہے ۔ حماس نے ٹرمپ منصوبے کا مقابلہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ ٹرمپ منصوبہ عملی طور پر فلسطینیوں کو اسرائیل کا غلام بنانے کا منصوبہ ہے ۔ امریکا کو معلوم ہے کہ حماس کے ہوتے ہوئے فلسطینیوں کی تحریک مزاحمت کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس لیے ٹرمپ منصوبے میں خاص طور سے حماس کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ٹرمپ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل، پی ایل او اور حماس کے درمیان سہ فریقی معاہدے کے نتیجے میں فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی جسے نیو فلسطین کا نام دیا جائے گا۔یہ ریاست مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل ہوگی تاہم اس میں یہودی بستیاں شامل نہیں ہوں گی۔ اس ریاست کا دارالحکومت بیت المقدس سے متصل علاقہ ابو دیس ہوگا۔اگر حماس یا فلسطین اتھارٹی اس معاہدے سے انکار کرے گی تو امریکا نہ صرف خود اس کی امداد روک دے گا بلکہ دیگر ملکوں کو بھی امداد روکنے پر مجبور کرے گا۔منصوبے میں کہا گیا ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس معاہدے پر دستخط کردیں اور حماس اور اسلامک جہاد اسے تسلیم نہ کریں تو امریکی سرپرستی میں غزہ پر مکمل جنگ مسلط کردی جائے گی۔ یہ عجیب و غریب بات ہے کہ یہودیوں کو باہر سے لاکر فلسطین میں بسایا گیا اور کہا گیا کہ یہ یورپ میں یہودیوں پر کیے جانے والے مظالم کا کفارہ ہے ۔ اگر یورپ نے یہودیوں پر مظالم کیے تھے تو یورپ ہی کو کفارہ ادا کرنا چاہیے تھا ، فلسطینی سرزمین پر قبضے کا کوئی جواز نہیں تھا ۔ اس کے بعد سے اسرائیل مسلسل توسیع کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ اپنے توسیعی منصوبوں کی تکمیل کے لیے اسرائیلی حکومت فلسطینی باشندوں پر بدترین تشددکرتی رہی ہے اور اس میں مرد و عورت اور بالغ و نابالغ کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔ امریکی اور یورپی ممالک تو پہلے بھی اسرائیل کے آلہ کار تھے اور اب بھی ہیں ، اس پر کوئی حیرت اور افسوس نہیں ہے مگر اس پر عرب ممالک کا جو ردعمل ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ گو کہ عرب ممالک کی اسرائیل کے ساتھ کچھ عرصے سے بڑھتی ہوئی گرمجوشی بہت کچھ اشارے دے رہی تھی مگر اس کی توقع نہیں تھی کہ عرب ممالک یوں اسرائیلی منصوبے کی حمایت میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے ۔ فلسطینی حکومت کے سربراہ محمود عباس اور حماس نے اس کی مخالفت کرکے عالم اسلام کی ترجمانی کی ہے ۔ ایران نے بھی یہ منصوبہ مسترد کردیا ہے۔ پاکستان میں بھی اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ حکومت پاکستان بھی درپردہ ٹرمپ منصوبے کی حمایت کرتی ہے مگر عوامی ردعمل کے خوف سے اس کا اظہار نہیں کررہی۔ پاکستان کی حکومت اس انتظار میں ہے کہ پہلے عالم عرب ٹرمپ منصوبے کو باقاعدہ منظور کرلے ،ا س کے بعد حکومت پاکستان بھی اس کی منظوری دے دے گی ۔ ہم اس ضمن میں حکومت پاکستان کو متنبہ کریں گے کہ وہ مسلمانوں کے اصولی موقف سے انحراف نہ کرے ۔ یہ درست ہے کہ بیت المقدس کے معاملے پر عرب ممالک کی پالیسی ترجیح رکھتی تھی مگر اس وقت تک جب تک وہ عالم اسلام کی ترجمانی کررہے تھے ۔ بیت المقدس عربوںکا قبلہ اول نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے ۔ اگر عرب ممالک عالم اسلام کی ترجمانی سے دستبردار ہوگئے ہیں تو اس کا مطلب کہیں سے یہ نہیں ہے کہ پاکستان کے مسلمان بھی قبلہ اول سے دستبردار ہوجائیں ۔ پاکستان کو چاہیے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کے حل کی کوشش جاری رکھے ۔ اس سلسلے میں ترکی ، ملائیشیا اور چین جیسے دوست ممالک سے اس سلسلے میں فوری طور پر رابطے کرکے ٹرمپ منصوبے کے تدارک کے لیے کوئی موثر حکمت عملی اختیار کی جائے ۔