December 6th, 2019 (1441ربيع الثاني8)

ایران سعودی عرب امن کی موہوم امید

 

عارف بہار

 سعودی عرب اور ایران مسلمان دنیا اور اس خطے کے تیل برآمد کرنے والے دو اہم ممالک ہیں۔ دونوں کو سیال دولت نے اہم اور ممتاز بنایا ہے۔ دونوں اپنے اپنے مقامات پر اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل بھی ہیں۔دونوں کے درمیان تزویراتی تضاد کی جڑیں صدیوں پرانی عرب اور فارس کشمکش میں پیوست ہیں۔ دونوں کے درمیان مخاصمت اب اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ باہمی پراکسی اور سرد جنگ کے ادوار پیچھے چھوڑ کر کھلی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہ جنگ ہوتی ہے تو اس کے پہلے قتیل اور مجروح یہی دو ملک اور ان کے عوام ہوں گے کیونکہ جنگ معیشت کی ہڈیوں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیتی ہے۔ تیل کے ذخائر اور کنویں اس انداز سے بانجھ اور بے کار ہوجاتے ہیں کہ جنگ زدہ ملکوں میں تیل نکالنے اور رسد بحال رکھنے کی سکت بھی باقی نہیں رہتی۔
ایک زمانہ تھا جب یہ خطہ صرف ایک جنگ کا بوجھ اُٹھائے پھرتا تھا اور وہ تھی اسرائیل عرب لڑائی۔ دونوں کے درمیان کھلی اور درپردہ جنگیں لڑی جا رہی تھیں۔ یہ لڑائی قطعی قابل فہم تھی کیونکہ عرب قیام اسرائیل کو اپنے سینے میں گھونپے جانے والے خنجر کے طور پر لے رہے تھے۔ وقت کچھ ایسا بدلا کہ لڑائی کی نوعیت بھی بدل گئی۔ عرب اسرائیل لڑائی فلسطین اسرائیل لڑائی میں بدل گئی اور عرب ممالک بیچ میں سے نکل گئے یا نکال دیے گئے۔ اس نئی تبدیلی نے جھگڑے کی نوعیت ہی کو بدل دیا کیونکہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان طاقت کا تناسب ہی نہیں تھا۔ بعد میں اس لڑائی کو بہت مہارت اور چالاکی سے عرب عرب لڑائی اور عرب فارس لڑائی میں بدل دیا گیا۔ فلسطین کے بعد لبنان آگ کے شعلوں میں جھلستا گیا یہاں تک کہ خانہ جنگی کا نام اس ملک سے کلی طور پر چپک کر رہ گیا۔ رنگ برنگی ملیشیاؤں نے بیروت کو پھٹتا ہوا بارود بنادیا۔ اسی کی دہائی میں لبنان خانہ جنگی اور تشدد کا استعارہ بنا رہا۔ اسی دوران ایران عراق جنگ چھڑ گئی اور عرب دنیا نے صدام حسین کی پیٹھ جم کر تھپتھپائی۔ دس گیارہ سال اس بے مقصد جنگ میں برباد ہوئے اور دونوں ملک تھک کر چور ہوئے تو جنگ بند ہو گئی۔ اس عراق کویت تنازعے کو اس مہارت سے جنگوں کی ماں بنا دیا گیا کہ اب تک یہ ماں بچے جنتی چلی جا رہی ہے اور خطے میں کہیں نہ کہیں خون رستا جا رہا ہے۔ عراق کی دوسری جنگ اور پھر عرب بہار کے نام پر باقی ماندہ ممالک کو ادھیڑ کر رکھ دیا گیا۔
اب سعودی عرب اور ایران جنگ کا اسٹیج تیار ہے۔ پہلے ایران کے تیل بردار جہاز پر راکٹ حملہ ہوا۔ حملہ آور کا وجود پراسرار تھا مگر تاثر یہی تھا کہ راکٹ سعودی عرب یا اس کے کسی حمایت یافتہ گروہ نے داغا ہے۔ ایران کو اشتعال دلانے کے لیے بس یہی کافی تھا۔ اس سے مقصد پورا نہیں ہو رہا تھا اور ابھی سعودی عرب کو عملی اشتعال دلانا باقی تھا۔ اس کا بندوبست یوں ہوا کہ سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو پر خوفناک ڈرون حملے ہوئے اور ایرانی تیل بردار جہاز پر حملے کی طرح یہ حملہ بھی خاصا پراسرار تھا اور مجرم کا نقش قدم تلاش کرنا باقی تھا۔ دونوں طرف سے جذبات کا پارہ چڑھا کر جنگ کو بھڑکانے کی سب سے مضبوط کوشش تھی۔ سعودی عرب اور ایران دونوں شاید اس چال کو سمجھ گئے تھے۔ سعودی عرب امریکا کی طرف دیکھ رہا تھا کہ وہ آگے بڑھ کر ایران کی کلائی مروڑے مگر امریکا افغانستان میں اپنے رستے ہوئے زخموں سے اس قدر تنگ اور پریشاں تھا کہ اس کے لیے نیا محاذ کھولنا ممکن نہ تھا۔ امریکا کی طرف سے اس تذبذب نے سعودی عرب کو امن کے راستوں کی تلاش کی طرف مائل کیا۔ ایران پہلے ہی امریکی پابندیوں کی زد میں تھا اور بندھے ہوئے ہاتھوں سے کسی نئی جنگ میں کودنے کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ روکنے کے لیے جذبات کی تہ میں ایک چنگاری موجود تھی۔
پاکستان نے امن کی خواہش کی دبی ہوئی چنگاری کو راکھ سے نکالنے اور اسے شعلہ بنانے کا مشکل کام اپنے سر لیا۔ پاکستان نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کو روکنے کے لیے خاموش روابط کا آغاز کیا۔ سعودی عرب نے ان کوششوں کو راہ دی تو ایران نے بھی سدِراہ نہ بننے کا فیصلہ کیا اور یوں پاکستان آج دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات کے سہولت کار کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس مشن پر ایران کا دورہ کیا جہاں ان کی رہبر انقلاب سید علی خامنہ ای اور صدر روحانی سے ملاقاتیں ہوئیں۔ مشترکہ پریس کانفرنس بھی ہوئی ایران نے پاکستان کے کردار کو تسلیم بھی کیا۔ جس کے بعد وزیر اعظم نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دونوں ملکوں کی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کا احوال ایک پریس کانفرنس میں بیان کرتے ہوئے کہا دونوں ملک جنگ نہیں چاہتے۔ سابق وزیر خارجہ آصف احمد علی ایک ٹی وی انٹرویو میں کہہ رہے تھے کہ امریکی صدر ٹرمپ اگلے انتخابات میں ایران، سعودی عرب جنگ کو روکنے کا کریڈٹ لینے کی کوشش بھی کریں گے کیونکہ یہ جنگ دنیا کی معیشتوں پر برے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ ان کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ ایران سعودی عرب مفاہمت اکیسویں صدی کا ایک بڑا واقعہ ہوسکتا ہے۔ بہرحال پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان جنگ روک کر تعلقات کو معمول پر لانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب اور ایران سے بڑھ کر پاکستان کی خدمت ہوگی کیونکہ اس جنگ کا دونوں ملکوں کے علاوہ جو ملک نشانہ اور شکار بننا تھا اس کا نام پاکستان ہے۔ سعودی عرب سے پاکستان کے معاشی مفادات وابستہ ہیں تو ایران کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں۔ یہ دونوں ملکوں کے ساتھ ساتھ اپنے مفاد اور مستقبل کا معاملہ بھی ہے۔ پاکستان دوستوں کے درمیان اس کردار پر سختی سے کاربند رہے تو اسے مسلمان دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل ہو سکتا ہے۔ ماضی میں پرائی جنگوں میں اُلجھ کر پاکستان نے بہت کچھ گنوایا ہی ہے حاصل کچھ نہیں کیا۔