December 5th, 2019 (1441ربيع الثاني8)

بھارت میں اسلام کے خاتمے کی دھمکی

 

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور مودی کے خاص ساتھی راجیشور سنگھ نے دوبارہ بھارت میں مسلم اور عیسائی آبادی کے خاتمہ کی دھمکی کا اعادہ کیاہے ۔ راجیشور سنگھ نے اپنے حالیہ بیان میںکہا ہے کہ 2021 تک یا تو بھارت سے مسلمانوں اور مسیحیوں کا کا خاتمہ کردیا جائے گا یا پھر ان سب کو ہندو بنادیں گے ۔ راجیشور سنگھ کے بیان کو اس لیے سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے کہ وہ آر ایس ایس کی ذیلی شاخ دھرم جاگرن سمنوے سمیتی کے رکن ہیں اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے 1996 سے لے کر اب تک تین لاکھ سے زاید مسلمانو ں کو جبری ہندو بنایا ہے ۔ انتہا پسند ہندو جماعت راشٹریہ سیوک سنگھ جو عمومی طور آر ایس ایس کے نام سے مشہور ہے ، بھارت میں کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار نہیں ہے ۔ آر ایس ایس کی پیدائش ہٹلر کے دور میں ہوئی تھی اور یہ نازی اصولوں کے مطابق ہی کام کرتی ہے ۔ آر ایس ایس پر اس کے دہشت گردانہ عزائم کی بناء پر برطانوی دور میں ایک مرتبہ اور تقسیم ہند کے بعد دو مرتبہ پابندی عائد کی جاچکی ہے ۔ یہ پارٹی اپنے قیام کے وقت سے لے کر اب تک مسلسل دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف رہی ہے ۔ 1927 کے ناگپور فسادات آر ایس ایس کی پہلی منظم دہشت گرد کارروائی تھے۔ 1948 میںگاندھی کا قتل بھی اسی تنظیم سے تعلق رکھنے والے ناتھورام ونائک گوڈسے نے کیا تھاجس پر یہ پارٹی آج بھی فخر کرتی ہے ۔ احمد آباد فساد، تلشیری فساد اور جمشید پور فرقہ وارانہ فسادات بھی اسی پارٹی کی دہشت گردانہ کارروائیاں تھیں ۔ 1992 میں بابری مسجدکی شہادت بھی اسی پارٹی کادہشت گردانہ کارنامہ ہے ۔ بھارت میں صرف آر ایس ایس ہی واحد دہشت گرد تنظیم نہیں ہے بلکہ اسی جیسی متعدد تنظیمیں موجود ہیں جن کا آپس میں گہرا ربط ہے ۔ ان تمام تنظیموں کو سنگھ پریوارکہا جاتا ہے۔ ان میں وشو ہندو پریشد، بھارتیہ جنتا پارٹی( پریوار کا سیاسی ونگ )، ون بندھو پریشد، راشٹریہ سیوکا سمیتی، سیوا بھارتی، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد( پریوار کا اسٹوڈنٹس ونگ)، ونواسی کلیان آشرم، بھارتیہ مزدور سنگھ اور ودیا بھارتی شامل ہیں۔اب آر ایس ایس نے ایک مرتبہ پھر علی الاعلان اپنے دہشت گردانہ عزائم کا اظہار کیا ہے کہ 2021 کے آخر تک بھارت سے عیسائی اور مسلم مذہب کا نام و نشان مٹادیا جائے گا۔ بھارت میں ہجوم کی جانب سے پر تشدد کارروائیاں عام سی بات ہیں جس میں آسٹریلوی پادریوں کو زندہ جلانے ، چرچوں پر حملے ، گائے کے تقدس کے نام پر مسلم آبادیوں پر حملے اور مسلم کشی کے واقعات شامل ہیں ۔ ان سب کی موجودگی میں راجیشور سنگھ کے بیان کو محض بچکانہ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ مودی کی پالیسیوں کو اور راجیشور سنگھ کے بھارتی حکومت میں اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب محض بیان بازی نہیں ہے بلکہ مودی اور اس کے دہشت گرد ساتھی ایسا کرنے کی مکمل منصوبہ بندی رکھتے ہیں ۔ اب اس بیان کے سامنے آنے کے بعد یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر سنگھ پریوارمیںشامل تمام ہی تنظیموں پر پابندی عائد کرے اور انہیں عالمی طور پر دہشت گرد قرار دیا جائے اوران کے ارکان کے خلاف پوری دنیا میں کریک ڈاؤن کیا جائے ۔ سنگھ پریوار میں شامل تمام ہی تنظیمیں لاکھوں بے گناہ افراد کے قتل میں ملوث ہیں اور اعلانیہ طور پر کروڑوں افراد کے مذہب کی جبری تبدیلی کے منصوبے کا اعلان بھی کررہی ہیں ۔ یہ پارٹیاں دنیا کے امن کے لیے حقیقی خطرہ ہیں جس کا فوری طور پر سدباب کیا جانا چاہیے ۔ یہ پاکستان کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے پر پوری دنیا کو آگاہ کرے اور اسے مناسب اور موثر طریقے سے اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا جائے ۔ بھارت میں اس وقت ایک دہشت گرد تنظیم ہی کی حکومت ہے جو سنگھ پریوارمیں شامل ہے ۔ جب تک بھارت میں دہشت گرد تنظیم بی جے پی کی حکومت ہے ، اس وقت تک بھارت کو ایک دہشت گرد ملک کا درجہ دیا جائے اور بھارت میں دلتوں، مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت تمام اقلیتوں کے جان ، مال اور مذہب کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں ۔یہ اور بات ہے کہ اسلام کو مٹانے کی کوشش نئی نہیں ہے بلکہ یہ جنگ تو ازل سے جاری ہے اور شر اور بدی کو ہمیشہ شکست کا سامنا کرنا پڑاہے ۔اصل بات تو یہ ہے کہ امت مسلمہ کے حکمراں کیا کر رہے ہیں ۔

                                                           بشکریہ جسارت