December 6th, 2019 (1441ربيع الثاني8)

مولانا مودودیؒ: ختم نبوت کے خلاف سازشوں کے سدباب کا لائحہ عمل

 

لیاقت بلوچ۔

7ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قررا دیا تو مولانا مودودیؒ نے فرمایا تھا: ’’اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عوام، علماء، مشائخ اور دینی و سیاسی جماعتوں اور قومی اسمبلی کی متفقہ کوششوں سے قادیانی مسئلہ بالآخر حل ہوگیا جو 90سال سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے ایک عظیم اندرونی خطرہ بنا ہو اتھا‘‘۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے قیام پاکستان کے بعد فتنہ قادیانیت کا صحیح صحیح اندازہ لگایا اور پاکستان کے اسلامی نظریاتی کردار اور ریاست مدینہ کے بعد وجود میں آنے والی نظریاتی مملکت کے لیے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے سامنے چار نکاتی مطالبہ پیش کیا کہ اسمبلی اعلان کرے کہ
1۔ حکومت پاکستان کا دین اسلام ہے۔
2۔ مملکت پاکستان کا بنیادی قانون اسلامی شریعت ہے۔
3۔ حکومت پاکستان تمام خلاف شریعت قوانین کو منسوخ کرے۔
4۔ پاکستان کے حکمران حدود الٰہی کے اندر رہ کر کام کریں۔
مولانا مودودیؒ نے ریڈیو پاکستان سے ’’اسلام کا نظام حیات‘‘ کے سلسلے میں پانچ تقاریر کیں جو نشر ہوئیں ان چار نکات کے سارے پہلو واضح ہو کر سامنے آئے۔ جنوری 1951ء میں مولانا سید سلمان ندویؒ کی زیر صدارت مختلف مکاتب فکر کے علماء کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا جس میں نظم مملکت کو قیام پاکستان کے بنیادی مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کے لیے علماء نے 22نکات منظور کیے۔ اس اجلاس کے معتمد مولانا ظفر احمد انصاری تھے انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ’’یہ نکات کم و بیش مولانا مودودیؒ کے پیش کردہ نکات پر مشتمل ہیں‘‘۔
1953ء میں تحریک ختم نبوت کا پھر سے آغاز ہوا۔ مارچ 1953ء میں مولانا مودودیؒ کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا اور ’’قادیانی مسئلہ‘‘ نامی کتاب لکھنے کی پاداش میں فوجی عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی، اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں شدید رد عمل ہوا۔ سزائے موت پر مولانا مودودیؒ سے رحم کی درخواست دائر کرنے کا کہا گیا مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ حکومت نے مولانا کی سزائے موت کے خلاف ہمہ گیر احتجاج سے مجبور ہو کر ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا بالآخر 29اپریل 1955ء کو آپ رہا ہوئے۔
7ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کے لیے آئین میں ترمیم کر کے مسئلہ قادیانیت پاکستان میں ہمیشہ کے لیے حل کر دیا۔ مسلم اور غیر مسلم کی تحریر بھی مولانا مرحوم کی تحریر سے ہی اخذ کی گئی اس طرح اللہ تعالیٰ نے مولانا مودودیؒ کو بڑا منفرد مقام عطا کیا، یہ ان کی بالغ نظری، ہنود ویہود کی سازشوں اور عالمی استعماری ہتھکنڈوں پر گہری نظر ہی کا نتیجہ تھا۔ مولانا مودویؒ قوم کو بار بار متنبہ کرتے رہے کہ اسلامیان پاکستان کو اس غفلت اور غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہو جانا چاہیے کہ اب ہماری ذمے داری ختم ہوگئی ہے اور قادیانی مسئلہ پورے کا پورا حل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا یہ پہلا قدم ہے جو صحیح سمت میں اٹھایا گیا ابھی قادیانیت اور اس کی پشت پر جاری سازشوں کے سدباب کے لیے بہت سے ضروری اقدامات کرنا ابھی باقی ہیں جن کے بغیر یہ قضیہ کسی نہ کسی شکل میں پھر سر اٹھائے گا، اور زیادہ پیچیدگیوں کا باعث بنے گا اور اسلامیان پاکستان کی عقیدت ومحبت اور طویل قربانیوں کو بے ثمر کرنے کا ذریعہ بنے گا۔
اس زمانے میں اکوڑہ خٹک دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ مولانا سمیع الحق شہید نے قادیانی مسئلے کے حوالہ سے مولانا مودودیؒ کو خط لکھ کر چند سوال دریافت کیے تو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے 6نومبر 1974ء کو جواب تحریر کیا۔ خیبر پختون خوا کے محقق، دانشور اور استاد پروفیسر نور ورجان نے اپنی کتاب ’’مکاتیب سید مودودیؒ‘‘ میں اس تاریخی خط کو شامل کیا ہے جس سے مولانا مودودیؒ کی عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت اور دستوری ترمیم کے بعد ضروری اقدامات کی وضاحت اور بالغ نظری نظر آتی ہے انہوں نے قانون سازوں اور تحریک ختم نبوت کی قیادت اور کارکنان کے لیے لائحہ عمل دے دیا۔ موجودہ حالات میں قادیانیت جس طرح عالمی استعمار کی مدد سے منہ زوری کا ارتکاب کر رہی ہے اور ہماری حکومتیں اپنی کمزوریوں اور بدتدبیریوں نیز مذہب بیزار سیکولر اور لبرل پالیسیوں کے سبب سے اس کی سرپرست بنی ہوئی ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ قادیانیت آج اپنی سازشوں کے ساتھ کھل کھیل رہی ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا دارالعلوم اکوڑہ خٹک کے سربراہ، جمعیت علمائے اسلام (س) کے سابق امیر مولانا سمیع الحق شہید کے خط کو من و عن اس تحریر کا حصہ بنا رہا ہوں یہ بذات خود مکمل، ہمہ گیر شافی تحریر ہے۔
]لاہور[
۶/نومبر ۱۹۷۴ء
محترمی و مکرمی، السلام علیکم!
آپ کا عنایت نامہ ملا، جس میں آپ نے قادیانی مسئلے سے متعلق چند سوالات دریافت کیے ہیں۔ آپ کا پہلا سوال یہ ہے کہ قادیانی مسئلے کے حل پر آپ کے احساسات کیا ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس مسئلے کے حل سے آپ کی مراد قومی اسمبلی کا فیصلہ ہے۔ بلا شبہ اسمبلی اور حکومت کا یہ فیصلہ نہایت مستحسن اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے مسرت انگیز ہے اور اس پر ہم جتنی بھی خوشی منائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں، بالکل بجا ہو گا۔ لیکن ہماری حکومت، نیشنل اسمبلی اور عامۃ المسلمین کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ اس سلسلے میں ان کی ذمے داری اب ختم ہو چکی ہے اور اس فیصلے سے قادیانی مسئلہ پورے کا پورا حل ہوگیا ہے۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف پہلا قدم ہے جو صحیح سمت میں اٹھایا گیا ہے اور ابھی تک بہت سے ضروری اقدامات ایسے باقی ہیں جن کے بغیر یہ قضیہ جوں کا توں باقی رہے گا بلکہ خدشہ یہ بھی ہو سکتا ہے خدا نخواستہ مزید پیچیدگیاں پیدا نہ ہوجائیں اور ہم اس اہم فیصلے کے فوائد سے محروم نہ ہوجائیں۔ آپ کا ایک عنایت نامہ پہلے آچکا تھا۔ اب یاددہانی اور تقاضے کا دوسرا خط آیا ہے۔ جس میں آپ نے جلد جواب مانگا ہے۔ چند ضروری کرنے کے کام جو اس وقت ذہن میں آرہے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
۱۔ ۷/ستمبر ]۱۹۷۴ء[ کو قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کے علاوہ ایک قرارداد یہ بھی منظور کی ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ الف کے بعد دفعہ ب کا اضافہ کیا جائے جس میں درج ہو کہ ’’ایک مسلمان جو محمدؐ کی ختم نبوت کے مفہوم مندرجہ آئین پاکستان دفعہ ۲۶۰ شق نمبر۳ کے خلاف عقیدے کا اعلان یا اس کے خلاف عمل یا تبلیغ کرے، وہ قابل سزاو تعزیر ہو گا‘‘۔ یہ قرار دادا غالباً عجلت میں مرتب اور پاس کر دی گئی ہے اور اس کی ابتدا میں مسلمان کا لفظ رکھنے کی وجہ سے اس میں ابہام و اشتباہ پیدا ہوگیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی مسلمان کے متعلق یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس جرم شنیع کا مرتکب ہو گا اور مرتکب ہونے کے بعد وہ مسلمان کہلانے کا مستحق رہ سکے گا۔ خود دستوری ترمیم ہی نے یہ طے کر دیا ہے کہ ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو گا، خواہ وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے۔ چنانچہ ان الفاظ کے ساتھ اس سزا کے اطلاق میں دشواری کا سامنا ہو گا۔ لہٰذا تعزیرات پاکستان میں اس مجوزہ ترمیم کو واضح اور غیر مبہم بنانے اور اس کے مقصد تنفیذ کو آسان بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک مسلمان (A Muslim) کے بجائے ایک مدعی اسلام کیا جائے۔ تاکہ کوئی فرد بشر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ختم نبوت کے مسلمہ عقیدہ و مفہوم کے خلاف کسی قوم و عمل کا اظہار نہ کر سکے۔
۲۔ نیشنل اسمبلی کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کچھ مزید قانون سازی بھی بالکل ناگزیر ہے۔ مثال کے طور پر انتخابی قوانین میں ایسی ترمیم ہونی چاہیے، جس کے مطابق ووٹروں کے فارم میں نام درج کراتے وقت ہر لاہوری اور ربوی مرزائی پر یہ قانوناً لازم قرار دیاجائے کہ وہ اپنے آپ کو غیر مسلموں کے خانے میں مرزائی یا احمدی لکھوائے اور ان دونوں گروہوں کا اپنے آپ کو مسلم لکھوانا جرم ہوگا جس کی کم سے کم سزا حق رائے دہی سے محرومی ہو گی۔ رجسٹریشن ایکٹ جس کے تحت شناختی کارڈ بن رہے ہیں، ان میں بھی ترمیم ہونی چاہیے جس کی رو سے کارڈ میں بھی ایسی تصریح لازم اور غلط بیانی موجب سزا ہو۔
۳۔ اسی طرح ہر ملازم حکومت پر بھی یہ لازم ہونا چاہیے کہ اگر وہ قادیانیوں کے ان دونوں گروہوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتا ہے تو وہ اس کی باقاعدہ اطلاع اپنے محکمے کے توسط سے حکومت کو دے اور جو ایسا نہ کرے یا غلط اطلاع دے، اسے ملازمت کے لیے نااہل قرار دیاجائے۔
پاسپورٹ میں بھی اسی قسم کا اندراج اور اس کی خلاف ورزی پر سزا ازروئے قانون لازم ہونی چاہیے۔ معلوم ہوا ہے کہ حکومت کے بعض محکموں میں قادیانیوں کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں، لیکن ان میں بعض قادیانیوں کا نام درج نہیں ہو رہا یا اندراج ہوجانے کے بعد اسے حذف کرا دیا گیا ہے، لیکن اس پر کسی قادیانی کے خلاف کوئی باز پرس یا تادیبی کاروائی نہیں ہو رہی، کیونکہ قانون اور قواعد و ضوابط میں ایسی گنجائش موجود نہیں ہے۔
۴۔ قادیانیوں نے سول اور بالخصوص فوجی ملازمتوں میں مسلمانوں کے حقوق پر جس طرح غاصبانہ اور ناروا قبضہ کر رکھا ہے، اس کا تدارک اور تلافی بھی ضروری ہے۔ جس طرح صدارت اور وزارت عظمیٰ کے لیے مسلمان ہونا شرط لازم ہے، اسی طرح بعض دوسرے کلیدی مناصب مثلاً چیف آف دی اسٹاف، عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹس، اسمبلیوں کے اسپیکر، سفرا، صوبوں کے گورنر، پبلک سروس کمیشن کے صدر ]چیئرمین[ کے لیے بھی مسلمان ہونا قانوناً لازم قرار دیا جائے۔ اسی طرح بعض حکومتی اور نیم حکومتی تعلیم وتربیت کے اداروں میں داخلے کے لیے مسلمانوں اور غیر مسلموں کا کوٹا الگ الگ مقرر کیا جاتا ہے، وہاں بھی قادیانی امیدواروں کے لیے اپنے مذہب کا اعلان داخلے کے وقت لازم اور خلاف ورزی موجب سزا ہونی چاہیے۔
۵۔ قادیانی یہ بات علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ قومی اسمبلی کے فیصلے کے باوجود وہ مسلمان ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر اپنے عقائد کو اسلامی عقائد کہہ کر ملک کے اندر اور باہر ان کی تبلیغ و تلقین کر رہے ہیں۔ مرزا غلام احمد کو وہ اب تک نبی، مسیح موعود، مہدی موعود، اس کے رفقاء کو صحابہ کرام اور اس کو خلیفۃ المسیح کہہ رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ بڑا سنگین اور حکومت اور عامۃ المسلمین کے لیے حد درجہ غور طلب ہے۔ یہ دستور کی بھی خلاف ورزی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانون کے لیے باعث دل آزاری اور اشتعال انگیزی بھی ہے۔ جس گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جا چکا ہے، اسے اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے اور اسلام کا مدعی و مبلغ ہونے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اگر یہ لوگ اسی طرح مسلمانوں کے سینے پر مونگ دلتے رہے تو ان کے اور مسلمانوں کے مابین کبھی صلح و آتشی کی فضا قائم نہیں رہ سکے گی، اور حکمران ان کی حرکتوں سے کتنا ہی اغماض کیوں نہ برتیں، جب تک عام مسلمانوں میں ایمان و اسلام کی رمق باقی ہے، وہ ایسی سرگرمیوں کو کبھی برداشت نہیں کر سکیں گے۔
۶۔ قادیانیوں کے بالمقابل مسلمانوں نے جس اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا ہے، اسے دائماً قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جزوی اختلافات اگر ہوں تو انہیں مناسب حدود کے اندر رہنا چاہیے، اختلاف کو مخالفت کا رنگ دینے سے اجتناب کرنا چاہیے اور ہر اختلاف کو حق وباطل اور کفر واسلام کا اختلاف نہیں بنا لینا چاہیے ورنہ اس کا فائدہ قادیانیوں ہی کو پہنچے گا، جیسا کہ پہلے پہنچتا رہا ہے۔
۷۔ قادیانیوں کی دستوری تکفیر کے بعد ایک ضروری کام کرنے کا کام یہ بھی ہے کہ قادیانیوں کو حکمت اور موعظہ حسنہ کے اسلوب و انداز میں قادیانیت سے تائب ہونے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے۔ جن لوگوں کے ہاتھ میں قادیانیوںکی قیادیت و سیادت ہے اور جن کے مفادات ان قائدین سے وابستہ ہیں، ممکن ہے کہ وہ اسلام لانے میں تامل و تذبذب سے کام لیں اور پاکستان چھوڑ جانے کو ترجیح دیں، لیکن عام قادیانی جو ’’قصر خلافت‘‘ کے نزدیک نہیں بلکہ مسلمانوں کی عام آبادیوں میں مقیم ہیں، ان کے سامنے اگر اسلام کی اصل تعلیمات کو صحیح طریق پر پیش کیا جائے اور قادیانیت کے حقیقی خدوخال بھی ان پر اچھی طرح واضح کیے جائیں تو وہ ان شاء اللہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے میں توقف اور پس و پیش نہیں کریں گے۔ ان میں بہت سے لوگ ہم نے ایسے دیکھے ہیں جو مرزا غلام احمد اور اس کے لڑکوں کی بہت سے تحریروں سے واقف ہی نہیں ہیں اور جب ان کے سامنے پہلی مرتبہ وہ تحریریں آئیں، تو وہ حیران اور دم بخود ہو کر رہ گئے اور قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گئے۔
۸۔ اس سلسلے میں ہمارا ایک مطالبہ یہ بھی مسلسل ہونا چاہیے کہ ’’صمدانی رپورٹ‘‘ کو من و عن شائع کیا جائے اور جو لوگ اس رپورٹ کی رو سے مجرم ہیں، ان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ نیز جو مزید سیاسی اور انتظامی اقدامات اس رپورٹ کی روشنی میں ناگزیر ہوں، ان کو فوراً عمل میں لایا جائے۔ اگر ہماری حکومت اور عوام الناس نے غفلت اور تساہل سے کام لیا تو خدشہ ہے کہ اس سازشی گروہ کے ہاتھوں ہمیں مزید زخم نہ کھانے پڑیں۔ 

پاسپورٹ میں بھی اسی قسم کا اندراج اور اس کی خلاف ورزی پر سزا ازروئے قانون لازم ہونی چاہیے۔ معلوم ہوا ہے کہ حکومت کے بعض محکموں میں قادیانیوں کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں، لیکن ان میں بعض قادیانیوں کا نام درج نہیں ہو رہا یا اندراج ہوجانے کے بعد اسے حذف کرا دیا گیا ہے، لیکن اس پر کسی قادیانی کے خلاف کوئی باز پرس یا تادیبی کاروائی نہیں ہو رہی، کیونکہ قانون اور قواعد و ضوابط میں ایسی گنجائش موجود نہیں ہے۔
۴۔ قادیانیوں نے سول اور بالخصوص فوجی ملازمتوں میں مسلمانوں کے حقوق پر جس طرح غاصبانہ اور ناروا قبضہ کر رکھا ہے، اس کا تدارک اور تلافی بھی ضروری ہے۔ جس طرح صدارت اور وزارت عظمیٰ کے لیے مسلمان ہونا شرط لازم ہے، اسی طرح بعض دوسرے کلیدی مناصب مثلاً چیف آف دی اسٹاف، عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹس، اسمبلیوں کے اسپیکر، سفرا، صوبوں کے گورنر، پبلک سروس کمیشن کے صدر ]چیئرمین[ کے لیے بھی مسلمان ہونا قانوناً لازم قرار دیا جائے۔ اسی طرح بعض حکومتی اور نیم حکومتی تعلیم وتربیت کے اداروں میں داخلے کے لیے مسلمانوں اور غیر مسلموں کا کوٹا الگ الگ مقرر کیا جاتا ہے، وہاں بھی قادیانی امیدواروں کے لیے اپنے مذہب کا اعلان داخلے کے وقت لازم اور خلاف ورزی موجب سزا ہونی چاہیے۔
۵۔ قادیانی یہ بات علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ قومی اسمبلی کے فیصلے کے باوجود وہ مسلمان ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر اپنے عقائد کو اسلامی عقائد کہہ کر ملک کے اندر اور باہر ان کی تبلیغ و تلقین کر رہے ہیں۔ مرزا غلام احمد کو وہ اب تک نبی، مسیح موعود، مہدی موعود، اس کے رفقاء کو صحابہ کرام اور اس کو خلیفۃ المسیح کہہ رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ بڑا سنگین اور حکومت اور عامۃ المسلمین کے لیے حد درجہ غور طلب ہے۔ یہ دستور کی بھی خلاف ورزی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانون کے لیے باعث دل آزاری اور اشتعال انگیزی بھی ہے۔ جس گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جا چکا ہے، اسے اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے اور اسلام کا مدعی و مبلغ ہونے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اگر یہ لوگ اسی طرح مسلمانوں کے سینے پر مونگ دلتے رہے تو ان کے اور مسلمانوں کے مابین کبھی صلح و آتشی کی فضا قائم نہیں رہ سکے گی، اور حکمران ان کی حرکتوں سے کتنا ہی اغماض کیوں نہ برتیں، جب تک عام مسلمانوں میں ایمان و اسلام کی رمق باقی ہے، وہ ایسی سرگرمیوں کو کبھی برداشت نہیں کر سکیں گے۔
۶۔ قادیانیوں کے بالمقابل مسلمانوں نے جس اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا ہے، اسے دائماً قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جزوی اختلافات اگر ہوں تو انہیں مناسب حدود کے اندر رہنا چاہیے، اختلاف کو مخالفت کا رنگ دینے سے اجتناب کرنا چاہیے اور ہر اختلاف کو حق وباطل اور کفر واسلام کا اختلاف نہیں بنا لینا چاہیے ورنہ اس کا فائدہ قادیانیوں ہی کو پہنچے گا، جیسا کہ پہلے پہنچتا رہا ہے۔
۷۔ قادیانیوں کی دستوری تکفیر کے بعد ایک ضروری کام کرنے کا کام یہ بھی ہے کہ قادیانیوں کو حکمت اور موعظہ حسنہ کے اسلوب و انداز میں قادیانیت سے تائب ہونے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے۔ جن لوگوں کے ہاتھ میں قادیانیوںکی قیادیت و سیادت ہے اور جن کے مفادات ان قائدین سے وابستہ ہیں، ممکن ہے کہ وہ اسلام لانے میں تامل و تذبذب سے کام لیں اور پاکستان چھوڑ جانے کو ترجیح دیں، لیکن عام قادیانی جو ’’قصر خلافت‘‘ کے نزدیک نہیں بلکہ مسلمانوں کی عام آبادیوں میں مقیم ہیں، ان کے سامنے اگر اسلام کی اصل تعلیمات کو صحیح طریق پر پیش کیا جائے اور قادیانیت کے حقیقی خدوخال بھی ان پر اچھی طرح واضح کیے جائیں تو وہ ان شاء اللہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے میں توقف اور پس و پیش نہیں کریں گے۔ ان میں بہت سے لوگ ہم نے ایسے دیکھے ہیں جو مرزا غلام احمد اور اس کے لڑکوں کی بہت سے تحریروں سے واقف ہی نہیں ہیں اور جب ان کے سامنے پہلی مرتبہ وہ تحریریں آئیں، تو وہ حیران اور دم بخود ہو کر رہ گئے اور قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گئے۔
۸۔ اس سلسلے میں ہمارا ایک مطالبہ یہ بھی مسلسل ہونا چاہیے کہ ’’صمدانی رپورٹ‘‘ کو من و عن شائع کیا جائے اور جو لوگ اس رپورٹ کی رو سے مجرم ہیں، ان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ نیز جو مزید سیاسی اور انتظامی اقدامات اس رپورٹ کی روشنی میں ناگزیر ہوں، ان کو فوراً عمل میں لایا جائے۔ اگر ہماری حکومت اور عوام الناس نے غفلت اور تساہل سے کام لیا تو خدشہ ہے کہ اس سازشی گروہ کے ہاتھوں ہمیں مزید زخم نہ کھانے پڑیں۔ لاتدر اللہ
خاکسار،ابولاعلیٰ