November 20th, 2019 (1441ربيع الأول22)

افغانستان میں امن کی نئی امید

 

پاکستان کے پرفضا پہاڑی علاقے بھوربن میں افغان امن کانفرنس کے بعد افغانستان میں امن کے قیام کی ایک مرتبہ پھر سے امید بندھی ہے ۔ پاکستان مسلسل اپنے پڑوسی ملک افغانستان میں امن کے لیے کوشاں ہے ۔ بھوربن کانفرنس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں افغانستان کے تمام ہی گروپوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ۔ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں بھی ان افغان نمائندوں نے افغانستان میں امن اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کرنے پر اتفاق ظاہر کیا ہے ۔ افغانستان میں قیام امن اور امریکی فوج کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر کئی سمتوں میںکام ہورہا ہے ۔ اس پر بیجنگ اور ماسکو میں بھی امن کانفرنسیں ہوتی رہی ہیں۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کا مستقل دفتر بھی قائم ہے جہاں پر امریکا کے ساتھ طالبان کے مذاکراتی دور چل رہے ہیں ۔ امریکا اور طالبان کے درمیان دوحہ میں آئندہ مذاکرات 29 جون کو ہوں گے جس میں مزید پیش رفت متوقع ہے ۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات اور پاکستان میں ہونے والی امن کانفرنس میں واضح فرق یہ ہے کہ دوحہ میں صرف امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات ہورہے ہیں جبکہ پاکستان میں ہونے والی افغان امن کانفرنس میں افغان حکومت سمیت افغانوں کے تمام ہی گروپوں کے نمائندے شریک ہوئے ہیں ۔ اگر صرف طالبان سے ہی معاملات طے پاتے ہیں اور اس پر دیگر افغان گروپوں کا اتفاق نہیں ہوا تو پھر افغانستان ایک نئی خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا ۔بالکل اسی طرح جیسے روس کے انخلا کے بعد افغانستان کی صورتحال ہوئی تھی ۔ افغانستان میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکا ہی ہے ۔ گزشتہ 18 برسوں میں افغانستان میں جو کچھ بھی خوں ریزی ہوئی ہے ، اس کی واحد وجہ افغانستان میں امریکی مداخلت ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر امریکا نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔ بلا کسی امتیاز کے ہر طرف بمباری کی جس میں کوئی دہشت گرد تو کیا ہلاک ہوتا بچوں ، خواتین سمیت بے گناہ افراد ضرور ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے ۔ کبھی دہشت گردوں کے اجتماع کے نام پر شادی کی تقریب پر بمباری کردی گئی تو کبھی طالبان کے اجلاس کے نام پر ختم قران اور جلسہ دستار بندی پر حملہ کردیا گیا ۔ اس کا کہیں پر کبھی بھی کسی بھی سطح پر کوئی مواخذہ نہیں ہوا۔ جن طالبان کے خاتمے کے نام پر امریکا افغانستان میں داخل ہوا تھا ، اب انہی طالبان سے امریکا افغانستان سے انخلا کے لیے باقاعدہ مذاکرات کررہا ہے ۔ امریکا کی افغانستان میں موجوگی کی بنا پر دوسرا نقصان یہ ہوا ہے کہ پاکستان کو قابو میں رکھنے کے نام پر امریکا نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے پاکستانی سرحد کے ساتھ ساتھ باقاعدہ دفاتر قائم کروا دیے ہیں جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کو منظم کیا جاتا ہے ۔ اس طرح اب افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی امریکی دہشت گردی کا شکار ہے ۔ بہتر ہوگا کہ امریکا اب افغانستان سے اپنا بوریا بستر لپیٹے اور اس امر کو تسلیم کرے کہ اس نے خود ہی افغانستان پر حملے کے لیے جواز گھڑے اور پھر افغانستان کی کئی نسلوں کو جنگ میں جھونک دیا۔ افغانستان اور پاکستان میں امریکی دہشت گردی کی وجہ سے جو لوگ مارے گئے یا زخمی ہوئے ہیں ،انہیں امریکا کی جانب سے زرتلافی ادا کیا جانا چاہیے ۔ امریکا کی تو یہ صورتحال ہے کہ ناٹو کے ٹرکوں کی وجہ سے پاکستانی علاقوں میں جو سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی ہیں ، وہ ان کی تعمیر کے لیے فنڈ فراہم کرنے پر تیار نہیں ہے ۔ حالانکہ معاہدے کے تحت نہ صرف ان سڑکوں کی تعمیر امریکا کے ذمے ہے بلکہ پاکستانی علاقے کو استعمال کرنے کا کرایہ ادا کرنے کا بھی امریکا ذمے دار ہے ۔ بالکل اسی طرح پاکستانی فضا سے اوور فلائنگ کرنے کے چارجز ناٹو ادا کرنے سے انکاری ہے ۔ یہ چارجز کئی ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں ۔ اسے المیہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے کہ امریکا کو جب پاکستان کی ضرورت پڑتی ہے ، پاکستان امریکا کا اتحادی قرار پاتا ہے اور جیسے ہی امریکا مشکل وقت سے باہر آتا ہے ، اسے پاکستان ہی میں خرابیاں نظر آنے لگتی ہیں ۔ امریکا ایسا احسان فراموش دوست ہے جو وقت نکل جانے کے بعد پاکستان کو سبق سکھانے پر آمادہ ہوجاتا ہے ۔بہتر ہوگا کہ پاکستانی حکومت بھی امریکا سے اسی لہجے میں دو ٹوک بات کرے اور امریکا اگر پاکستان کو یہ رقوم ادا کرنے پر تیار نہیں ہے تو فوری طور پر پاکستانی بندرگاہ سے امریکی سازوسامان کی آمدو رفت پر پابندی عاید کردینی چاہیے ۔ اب تو پاکستانی حکومت کو اس امر کا ادراک کرلینا چاہیے کہ پاکستان میں امن و امان کے مسائل کی بڑی وجہ امریکا کی افغانستان میں موجودگی ہے ۔ پاکستان کا یہ انتہائی درست فیصلہ ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے کاوش کررہا ہے اور اس ضمن میں تمام ہی افغان گروپوں کو ایک میزپر بٹھادیا ہے مگر پاکستان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے بھی اپنے مفادات ہیں ۔ پاکستان کا سب سے بڑا مفاد پاکستان کے اندر دہشت گردی کا خاتمہ ہے جس کے ڈانڈے افغانستان سے بھی ملتے ہیں ۔ یہ سنہری موقع ہے کہ سب سے پہلے افغانستان میں قائم ان کیمپوں کا قلع قمع کیا جائے جو پاکستانی سرحد کے ساتھ ساتھ بھارتیوں نے اپنے امریکی سرپرستوں اور ان کے افغان ایجنٹوں کی مدد سے قائم کررکھے ہیں ۔ ابھی نہیں یا پھر کبھی نہیں کے مصداق یہی وقت ہے کہ امریکا سے بھی پاکستانی مفادات کی بات کی جائے اور افغان گروپوں سے بھی ۔ امریکا سے پاکستان میں ہونے والے مالی نقصانات کے ازالے کی بھی بات کی جائے۔ یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ اب امریکا افغانستان سے نکل کر پاکستان کے دوسرے پڑوسی ایران کے خلاف آستینیں چڑھا رہا ہے اور نت نئی پابندیاں لگا رہا ہے ۔
بشکریہ جسارت