October 20th, 2017 (1439محرم29)

حسینہ واجد جنون کی راہ پر

 

اداریہ

بنگلا دیش میں پاکستان کے غدار شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد جنون کی حدود کو عبور کر گئی اور پیر کے روز جماعت اسلامی کے امیر اور سیکرٹری جنرل سمیت پوری قیادت کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔ شیخ مقبول نو منتخب امیر ہیں انہیں کسی الزام کے بغیر اچانک گرفتار کیا گیا ان کی گرفتاری کا حکم براہ راست بنگلا دیشی حکومت نے دیا ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے کوئی الزام سامنے نہیں آیا ہے لیکن یہ خدشات ہیں کہ ان رہنماؤں کے خلاف بھی نام نہاد ٹریبونل میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ یہ وہی بدنام ٹریبونل ہے جس کو ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت کئی بین الاقوامی ادارے مسترد کرچکے ہیں لیکن بنگلا دیشی حکومت کے سامنے سب ہی بے بس نظر آتے ہیں۔ ان رہنماؤں کا دس روزہ ریمانڈ پولیس کو دے دیا گیا ہے، جماعت اسلامی نے احتجاج کی کال دے دی ہے۔ ایک مرتبہ پھر بنگلا دیشی حکومت نے تمام قوانین اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ حرکت کی ہے۔ بنگلا دیش پاکستان اور بھارت کے درمیان اگرچہ یہ معاہدہ موجود ہے کہ کوئی ملک 1970ء اور 1971ء کے واقعات کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں کرے گا لیکن بنگلا دیش اور بھارت خصوصاً اول الذکر ملک کا ریکارڈ اس حوالے سے نہایت خراب ہے اور اب تک تو درجن بھر رہنماؤں کو پھانسیاں دی جاچکی ہیں۔ الزام بھی احمقانہ ہے لیکن پاکستانی حکمران اور نام نہاد دانشور و میڈیا کے خیال میں یہ بنگلادیش کا اندرونی معاملہ ہے۔ حالانکہ بنگلا حکومت صراحت کے ساتھ پاکستان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے۔
اہم ترین بات یہ ہے کہ جس بنیاد پر ٹریبونل بنایا گیا ہے اور جس طرح اس پر عمل کیاجاتا ہے دونوں ناقابل قبول ہیں اول تو جس وقت کے واقعات کو جنگی جرائم کہا جارہاہے یہ وہ وقت تھا جب بنگلا دیش نام کا کوئی ملک وجود نہیں رکھتا تھا نہ ہی دنیا میں کسی ملک نے اسے تسلیم کیا تھا لہٰذا بنگلا دیش کے خلاف جنگی جرائم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بنگلا دیش تو پاکستان کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بعد دنیا کے دوسرے ممالک کے لیے بنگلا دیش بنا تھا۔ لہٰذا اس دور کے تمام واقعات کو پاکستان کے خلاف جنگی جرائم قرار دیا جانا چاہیے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستانی حکمران تاریخ سے بھی ناواقف ہیں اور قومی غیرت سے بھی عاری۔ ہم بار بار توجہ دلارہے ہیں کہ جن لوگوں کے خلاف نام نہاد ٹریبونل میں مقدمات چل رہے ہیں وہ جنگی جرائم میں معاونت کے الزام میں چل رہے ہیں گویا اصل مجرم بنگلا دیشی حکومت کے نزدیک کوئی اور ہے جب وہ جنگی جرائم کے معاونین سے فارغ ہوجائیں گے تو پھر ’’اصل مجرموں‘‘ کی طرف رخ کریں گے اور دنیا جانتی ہے کہ وہ اصل مجرم کسے کہتے ہیں۔ ساری کہانی کس کے گرد گھمائی جاتی ہے اس کام میں ہمارے نام نہاد دانشور بھی شریک ہوتے ہیں لیکن ابھی وہ لوگ جنہیں مجرم کہا جارہاہے پاکستان میں گھر کی صفائی میں مصروف ہیں۔ جو کارروائی بنگلا دیش حکومت نے کی ہے اسے چیلنج کرنے کی ضرورت ہے اگر نہیں روکا گیا تو اس کے بعد ان کا رخ ادھر ہی ہوگا۔
ضروری نہیں کہ بنگلا دیش کی حکومت کو ہمیشہ کمزور اور بے وقعت سمجھا جائے یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ بنگلا دیش پر بھارت کا بے انتہا دباؤ ہے اور وہاں کی داخلہ، خارجہ اور حتیٰ کہ معاشی پالیسیاں بھی بھارتی دباؤ کے تحت چل رہی ہے۔ بنگلا دیش بھارت سے کم نرخوں پر چاول خرید سکتا ہے لیکن اسے مجبور کیا گیا ہے کہ برما سے چاول خریدے اور بین الاقوامی مارکیٹ سے زیادہ نرخوں پر خریدے۔ یہ تو معاشی پالیسی ہے لیکن برما کے حالات خراب کرکے بھارت بنگلا دیش کو بھی دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔ لہٰذا اس علاقے میں ہونے والے ہر واقعے اور اقدام پر پاکستانی حکومت کو گہری نظر رکھنی ہوگی کیونکہ یقینی طور پر اس کے پیچھے بھارت کی سازش ہوگی۔ پاکستان میں حکمران شاید اس لیے چین سے بیٹھے ہیں کہ بنگلا دیش میں سارا وبال جماعت اسلامی پر آیا ہوا ہے اس لیے وہ اسے بنگلا دیش کا داخلی معاملہ قرار دیتے ہیں لیکن پاکستان میں وہ جماعت اسلامی کی قربانیوں اور حب الوطنی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ یہ تضاد نام نہاد دانشوروں میں بھی ہے۔ وہ جماعت اسلامی کی قربانیوں کو تسلیم نہیں کرنے بلکہ پاکستان کا مخالف گرداننے کی پرانی روایت پر چلے آرہے ہیں اور بنگلا دیش کی قربانیوں کو داخلی معاملہ کہتے ہیں۔لیکن یہ تضاد اب منافقت کی حدود میں داخل ہوچکا ہے۔ وہاں جاکر بنگلا بندھو ایوارڈ وصول کیے جاتے ہیں یہاں حب الوطنی کے چیمپئن ۔ اِسے کیا کہا جائے گا۔