August 25th, 2019 (1440ذو الحجة24)

مرد حریت ڈاکٹر محمد مُرسی کی شہادت

 

جلال نورزئی
مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مُرسی سترہ جون 2019ء کو استبداد کی عدالت میں خالق حقیقی سے جا ملے ۔ ووٹ کا حق اور جمہور کی حکومت ان کا جرم ٹھہرا ۔ مصر کے اندر حسنی مبارک کی آمرانہ حکومت تھی ۔2011میں تیونیس میں عوام کے اندر بیداری کی لہر اُٹھی۔ جس سے مشرق وسطیٰ کے آمروں اور بادشاہوں کے محلات لرز اُٹھے۔ وہیں امریکہ اور اسرائیل کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ جنہیں مسلم دنیا کے ملوک اور ان کی حکومتیں عزیز ہیں۔ عوامی بیداری کی یہ لہردوسرے ملکوں کو پہنچی ۔اسی دوران مصر کے اندر لاکھوں مصری عوام شخصی حکومت سے خلاصی ، ملکی خود مختاری اور جمہور کی حکمرانی کا مطالبہ لے کر سڑ کوں پر نکل آئے۔ عدیم المثال عوامی احتجاج میں قومی استقلال ،دینی حمیت اور عوام کی حکومت کے نعرے بلند ہوتے۔ باجماعت نمازیں ادا کی جاتیں ، ذکر و اذکار اور نوافل کا اہتمام ہوتا۔ چناں چہ حسنی مبارک کو پسپا ہونا پڑا۔ اور2012 میں عام انتخابات ہوئے ۔ اخوان المسلمون کے سیاسی بازو فریڈم اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی اور اس کے اتحادی پچاس فیصد سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ۔تین جون 2012کو ڈاکٹر مُرسی مصر کے منتخب صدر بن گئے۔ اس وقت کے امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ اخوان المسلون اگر سو فیصد ووٹ بھی لیتی ہے تب بھی ان کی جیت اور حکومت تسلیم نہیں کرتے۔سعودی عرب نے اخوان المسلمون کو دہشت گردقرار دیا۔ یوںمصر کی عوامی حکومت کے خلاف سازشوں کے جال بُننا شروع کیے گئے۔ آخر کار تین جولائی 2013ء کو یہودی ماں کے بیٹے جنرل سیسی کی قیادت میں مصری فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔ جمہور کی حکومت کے خلاف مارِ آستین حزب النور بنی ۔ حزب النور اُن افراد اور جتھوں کی بنائی ہوئی جماعت ہے جو حسنی مبارک کی آمریت کے زیر سایہ پلے تھے۔ حسنی مبارک کی انٹیلی جنس سعودی کمک کے ساتھ سیاسی مقاصد کے لیے ان کے رکھوالی کررہی تھی۔ تاکہ ان کے ذریعے اخوان المسلمون کی مدا فعت کی جا سکے ۔ مُرسی حکومت کے خلاف آلِ سعود اور آل نہیان و دوسروں کی دولت سے ذرائع ابلاغ پر مہم شروع ہوئی ،مسائل بتائے جاتے ۔انہیں ناکام ثابت کیا جاتا ۔ گویا امریکی ، اسرائیل اور ان کے گٹھ جوڑ نے اخوانیوں یا مُرسی کی حکومت پر طرح طرح کے الزامات دھرنا شروع کر د یے ۔ ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ جنرل سیسی کی فوج نے جمہوریت اور اسلام پسند وں پرگولیاں برسائیں ،ٹینک چڑھا دئیے ، سینکٹروں مرد، عورتیں اور بچوں کو کچل دیا ۔عرب ملوک کی دولت کے بل پر تحریر اسکوائر پر لوگوں کو اکٹھا کر لیا۔ ان بغاوتی مظاہروں کی قیادت حزب النور کر رہی تھی ۔ جہاں مصری فوج اور جنرل سیسی کی شان میں نعرے لگتے ، بتایا جاتا کہ مصر کے عوام منتخب حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔فوجی قبضے کے ساتھ ہی مُرسی اور ہزاروں رہنمائوں و کارکنوں کو جیل خانوں میں ڈال کر بد ترین سلوک کا نشانہ بنایا گیا ۔ گویا استبدادی طاقتوں نے تیونس سے اُٹھنے والی عرب بہار کو مصر میں روک د یا ۔ اس تناظر میں اہم اور بد ترین کردار سعودی اور امارات کا رہا۔ یقینی طور پر انہیں اپنی استبدادی و طاغوتی حکومتوں کے گرنے کی پریشانی لاحق ہو گئی تھی۔ آزادی کے متوالوں کی حکومت کے خاتمے ،ان پر جور و ستم ڈھانے کے بعد واشنگٹن سے تل ابیب اور ریاض تک سکھ کا سانس لیا گیا۔تب کے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یکم اگست 2013کو کہا کہ ’’بلا شبہ مصری فوج نے مُرسی کو معزول کر کے جمہوریت کو بحال کر دیا۔‘‘اسرائیلی اخبار ’’دی آرمنس‘‘نے لکھا کہ ’’جنرل سیسی اسرائیل کے ہیرو بن چکے ہیں۔‘‘ ایک اور اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرانوت‘‘نے لکھا کہ ’’بلا شبہ اس انقلاب کے بعد اسرائیل میں امن اور سکون کا ماحول ہو گا۔‘‘حیرت ہے کہ جب عالمی طاقتوں کی زیر دست ان استبدادی حکومتوں کے خلاف آزادی اور جمہور کی رائے وحکومت کی بات کی جاتی ہے تو یہ ’’رو یبضہ ‘‘ ایران کی مدد اور دوستی کی تہمت لگاتے ہیں ۔ جبکہ خود ان کا ہر عمل مثل ابلیس ہے ۔ 2016ء میں امریکی پلان کے تحت صدر رجب طیب ایردوان کے خلاف’’ گولنیوں ‘‘نے ترکی فوج کے ساتھ مل کر بغاوت کردی ۔اس فوجی انقلاب میں ایردوان کا مارا جانا بندوبست کا حصہ تھا۔ ما بعد ہزاروں سیاسی رہنمائوں و کارکنوں کو بد ترین انجام سے دوچار کرنا ہو تا۔ افغانستان سے روسی انخلاء کے بعد پڑوس کے ممالک اور عرب ملوک نے حزب کے آگے بند باندھ کر افغانستان کو خانہ جنگی کی آگ میں دھکیل دیا۔ افغانستان پر امریکی حملے اور امارت اسلامیہ کی حکومت کے خاتمے میں انہی اشرار کا تعاون شامل تھا۔ پاکستان کے اندر اگر حقیقی اسلامی تحریکات ، جمہور کی رائے سے کسی مثبت تبدیلی کی امید رکھتے ہیں، تو انہیں ترکی، مصر اور افغانستان کا منظر نامہ مد نظر رکھنا ہو گا۔ اوربہر طور اپنی صفوں اور اتحادوں سے ملوک کے دسترخوانوں پر سیر ہونے والوںکو دور رکھنا ہو گا۔ یہ امر پیش نظر ہے کہ ترکی کی حزمت تحریک اور مصر کی حزب النور جیسی تنظیمیں پاکستان کے اندر موجود ہیں ۔ جو آمریت و استبداد یت کے تعاون میں حقیقی تحریکات کی پیٹ پر وار کرنے سے دریغ نہیں کرے گی۔ ڈاکٹر محمد مُرسی مرد حریت و جمہوریت تھے ۔جن کی شہادت سے مصر کی سیاست کو ایک نئی جہت ملے گی ۔ اور خدا کا اٹل قانون ہے کہ ایک دن اِ ستکبار اور استبدادیت کے ایوان ضرور گریں گے۔ مصر کے ایک دانشور نے کہا ہے کہ ’’ موجودہ بغاوت نے ہمیں بہارعرب کے بعد موسم خزاں کی طرف منتقل کر دیا، عنقریب یہاں شدید جاہلی ٹھنڈ ہو گی ،اور ہر ٹھنڈ کے بعد نیا خوشگوار موسم بہار ہے ۔‘‘