November 20th, 2019 (1441ربيع الأول22)

اپنوں کا ایک اورشکار ،مرسی

 

مصر کے واحد منتخب صدر محمد مرسی چھ برس قید تنہائی میں گزارنے کے بعد گزشتہ پیر کوعدالت میں سماعت کے دوران اپنے رب سے جاملے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔بے شک قران مجید میں رب العالمین نے مرسی جیسے لوگوں ہی سے ارشاد فرمایا ہے کہ ’ اے نفس مطمئن چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اپنے انجام نیک سے خوش اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ ہے ۔ شامل ہوجا میرے نیک بندوں میں اورداخل ہوجا میری جنت میں ۔‘ ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے مگر جس شان سے مرسی نے جان جان آفرین کے سپرد کی اور جس طرح سے آمر سیسی کے حربوں کا دلیرانہ مقابلہ کیا ، اس نے ان کا قد پوری دنیا میں بلند کردیا ہے ۔محمد محمد مرسی عیسی العیاط مصر کے عام انتخابات میں 52 فیصد کی اکثریت حاصل کرکے 30 جون 2012 کو مصر کے پہلے صدر منتخب کیے گئے تھے ۔ ان کی دلیرانہ قیادت نے عالم اسلام کے دشمنوں کو مضطرب کردیا تھا ۔ صرف ایک سال بعد 3 جولائی 2013 کو مصری جنرل عبدالفتاح السیسی نے اسرائیل اور دیگر اسلام دشمنوںکی حمایت سے ان کا تختہ الٹ دیا اور مرسی سمیت اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنان کو پابند سلاسل کردیا ۔ عقوبت خانوں میں اسیر کارکنان کے ساتھ ان کے قائد مرسی پر تشدد کے پہاڑ توڑ دیے گئے ۔ اب تک اخوان کے 50 سے زاید نوجوانوں کو پھانسی دی جاچکی ہے جبکہ ہزاروں کارکنان اب بھی پابند سلاسل ہیں ۔مرسی کو اقتدار سے محروم کرنے اور انہیں پابند سلاسل کرنے میں عرب ممالک کی اندرونی سیاست کا بھی بڑا دخل ہے۔ جن کو اپنے ملک میں اسلامی انقلاب کا خطرہ تھا۔ ۔ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اس وقت مسلمان ممالک بالخصوص عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ شیر و شکر ہیں اور اسرائیل کے مسلم دشمن معاملات میں خاموش رہ کر اس کی حمایت کررہے ہیں جبکہ بعض معاملات میں تو اسرائیل کا داہنا بازو بھی بنے ہوئے ہیں ۔ جب مرسی برسراقتدار آئے تھے تو اس وقت کے آمر حسنی مبارک پر ملک میں لوٹ مار کے مقدمات چل رہے تھے ۔ صرف برطانیہ میں ہی حسنی مبارک کے 70 ارب ڈالر مالیت کے اثاثو ں کا پتا چلا تھا ۔ سیسی کے اقتدار سنبھالتے ہی محب وطن مرسی تو پابند سلاسل کردیے گئے اور ملک کا مجرم حسنی مبارک آزادی کے مزے لے رہا تھا ۔ حیرت انگیز طور پر جمہوریت کی قوالی گانے والا یورپ اور امریکا آمر سیسی کی پشت پناہی کررہے ہیں ۔ ایک مجرم کو پھانسی دینے پر چراغ پا ہونے والا مغرب اخوان کے کارکنان کی پھانسی پر کہیں مدہوش پڑا ہے اور کہیں سے بھی سیسی کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں ہوئی ۔ حقوق انسانی کی تنظیموں نے کوئی واویلا کیا اور نہ ہی اقوام متحدہ نے کوئی سانس لی ۔ اس کے بعد اس آمر کے خلاف احتجاج کرنے والوں رابعہ العدویہ پر ٹینک چڑھا دیے گئے ۔اس سانحے میں چار ہزار لوگ شہید ہوئے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب بات کسی اسلامی ملک میں اصلاح پسند کی ہو تو سب اس کے خلاف ہوجاتے ہیں ۔ مرسی صرف مصر کے رہنما نہیں تھے بلکہ انہیں پورے عالم اسلام میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ۔ مرسی کی شہادت پر پاکستان میں بھی اسی طرح لوگ افسردہ ہیں جس طرح مصر میں ۔جس طرح سے مرسی کی تدفین کی گئی ہے ، وہی یہ بات بتانے کے لیے کافی ہے کہ شہید مرسی زندہ مرسی سے زیادہ طاقتور ہے ۔ یہ مرسی کے اہلخانہ اور مصر ی عوام کا حق تھا کہ انہیں مرسی کی تدفین میں شرکت کی اجازت دی جاتی اور یوں رات کے اندھیرے میں خفیہ طور سے تدفین نہ کی جاتی ۔ یقینا مرسی کا خون رائیگاں نہیں جائیگا اور مصر میں انقلاب آئے گا جو پورے عالم اسلام کو اپنی روشنی سے منور کرے گا ۔ مرسی کی قید کے بعد سے ہی اس طرح کی اطلاعات سامنے آنا شروع ہوگئی تھیں کہ انہیں راستے سے ہٹانے کے لیے زہر دیا جاسکتا ہے ۔ اس خدشے کا اظہار خود مرسی نے بھی کئی مرتبہ کیا ۔ اب بھی یہی خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ المرسی زہر کا شکار کیے گئے ہیں ۔ مصر کے آمر سیسی سے تو کوئی امید نہیں ہے اس لیے سیسی سے کوئی مطالبہ کرنا حماقت ہی ہوگی البتہ ہم اقوام متحدہ اوردیگر عالمی اداروں اور تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مرسی کی موت کی تحقیقات کی جائے ۔ مصر میں قید اخوان کے تمام کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور آمر سیسی کو تخت سے اتار کر مرسی کے قتل اور اخوان کے کارکنان کو پھانسیاں دینے کے جرم میں سزا دی جائے ۔ لیکن یہ ادارے سزا کیوں دیں گے یہ تو خود مجرم ہیں۔ایک منتخب صدر کو پنجرے میںعدالت میںلایا جاتا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس وقت گھاس چرنے گئی تھیں ۔توہین رسالت کے مجرم کو ہتھکڑی لگ جائے تو ان تنظیموں کا جینا دو بھر ہو جاتا ہے ، ہر میڈیا بے چین ہو جاتا ہے ۔ مرسی کے انتقال کی خبر پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا نے بہت معمولی اور مختصر سی چلائی ۔ بہر حال ہم مصری عوام اور خاص طور سے اخوان کے کارکنان کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ظلم کی اس گھڑی میں پاکستان کے مسلمان ان کے ساتھ ہیں ۔ یقینا ظلم کی یہ گھٹا جلد ہی چھٹ جائے گی اور صبح پر نور نمودار ہوگی ۔ مرسی اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے ہیں جلد ہی سیسی بھی اس دنیا سے رخصت ہوگا اور وہاں پر یقینا انصاف ہوگا ۔