August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

مغرب میں مسلمان نوجوانوں کی ’’دہشت ناکی‘‘

 

عمر ابراہیم

 

مغرب کے مسلمان نوجوانو! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم مذہبی نہیں ہو، مگر دہشت گرد بن چکے ہو! نماز اور مسجد سے دور ہو، مگر جدید عالمی نظام سے بغاوت پر اتر آئے ہو! بار میں بیٹھے نشے میں دھت رہتے ہو مگر دہشت گردی کررہے ہو! یہ بہت نا مناسب بات ہے۔

مسلمان نوجوانو! نظام بدلنے کی بات نہ کرو۔ جہاد کے ’’ایڈوینچر‘‘ سے توبہ کرلو۔ جدید عالمی نطام سے بغاوت کا خیال ترک کردو، اور ’’انقلابی سلام‘‘ کا ناسور کاٹ پھینکو، یہی مناسب بات ہے۔

نہیں نہیں کچھ نہیں ہوسکتا! اب داعش مسلمان نوجوانوں میں مقبول ہوچکی ہے۔ اب تمام جہادی گروہ داعش کے ماتحت بن چکے ہیں، داعش کے دیوانے ہیں۔ داعش دنیا بھر میں بالعموم اور مغرب میں بالخصوص مسلمان نوجوانوں کی دیشت گرد سرپرست بن چکی ہے۔ بس اب یہی حقیقت ہے!

مذکورہ مغربی بیانیہ مسلمان نوجوانوں میں دہشت اور اُن کے بارے میں ’دہشت ناکی‘ کا نیا فارمولا ہے۔ مغربی ماہرین، مفکرین، پالیسی ساز، استاد، تفتیش کار اور دانشور مسلمان نوجوانوں کی ’دہشت ناکی‘ کے فروغ میں مگن ہیں۔ یہ ’دہشت ناکی‘ مکمل پروگرام ہے۔ مسلمان نوجوانوں کی درجہ بندی اور ہدف بندی ہورہی ہے۔

یہ دہشت زدہ عام مسلمان نوجوان ہیں۔ یہ دینی رجحان والے باکردار مسلمان نوجوان ہیں۔ یہ جرائم پیشہ، آوارہ، بدمعاش مسلمان نوجوان ہیں۔ تینوں کی ہدف بندی مختلف طرز سے ہورہی ہے، تاہم مقصد ایک ہی ہے۔ مذکورہ بیانیہ اسی ایک مقصد کا ترجمان ہے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں پر حملہ آور تمام بیانیے اسی ایک مقصد کا اختصار یا تشریح ہیں۔ یہ مقصد ہے اسلامی تہذیب کی ترویج کو نوجوان جدوجہد سے محروم کرنا۔

مسلمان نوجوانوں کا یہ دہشت ناک تعارف مغربی اخبارات و جرائد میں منّظم انداز سے مسلسل سامنے آرہا ہے۔ فرید زکریا کی تحریر "Today's new terrorists were radical before ther were religious". اور فارن افیئرز میں ڈینیل بائی مین کے مضمون "ISIS GOES GLOBAL" سے منتخب متن کی نقل، اور بین السطور مسلمان ’دہشت ناکی‘ کا تجزیہ مدعا سمیٹ سکے گا

فرید زکریا لکھتا ہے۔:’’آج کے دہشت گرد گروہ مذہبی انتہا پسند نہیں جو انقلابی بن گئے ہوں، بلکہ وہ انقلابی ہیں جو مذہبی انتہا پسند بن چکے ہیں۔ یہ فرق بہت اہم ہے۔ ایک دہائی پہلے تک مجاہد بننے کے لیے سالوں دینی تعلیم و تربیت سے گزرنا پڑتا تھا، مگر آج تو داعش میں شمولیت کا فیصلہ یکا یک ہوجاتاہے۔ یہ مرد و خواتین یورپ کی دوسری نسل ہیں۔ یہ نوجوان اپنی شناخت کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہیں۔ چنانچہ معاشرے سے بغاوت میں جرائم اور پھر ’جہاد‘ کے ایڈونچر میں پڑ جاتے ہیں۔ یورپ کے مایوس مسلمان نوجوان داعش کے لیے رضاکارانہ خدمات بڑھ چڑھ کر پیش کررہے ہیں۔ یہ نئی قسم کے دہشت گرد ہیں جنہوں نے جدید عالمی نطام کے خلاف دہشت کا راستہ اپنالیا ہے اور اپنی خواہشات کو جواز فراہم کرنے کے لیے ایک نظریہ تراش لیا ہے۔نظریہ ’انقلابی اسلام‘ بُک شیلف میں نہیں بلکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بآسانی مل جاتا ہے۔ مسلمان سواداعظم پر ’انقلابی اسلام‘ سے جنگ واجب ہوچکی ۔ اس ناسور کو کاٹ پھینکنا ہوگا‘‘۔

ڈینیل بائی مین نے کئی قدم آگے جاکر تمام جہادی گروہوں کر سرپرستی کا سہرا’داعش‘ کے سر پر سجا دیا ہے۔ وہ کہتا ہے:’’داعش کے تحت دنیا بھر کے جہادی گروہ ’ولایت‘ سنبھالتے جارہے ہیں۔ داعش کے وفادار دہشت گرد عراق و شام سے نکل کر عالمی مقبولیت حاصل کرتے جارہے ہیں۔ سو اگر دنیا کو داعش سے نمٹنا ہے تو جہادِ اسلامی کو نشانہ بنانا ہوگا‘‘۔

غرض مغرب مین مسلمان نوجوانوں کی ’دہشت ناکی‘ کا عمل تین طریقوں پر آگے بڑھ رہا ہے۔

دہشت ناکی‘ سے دہشت زدہ مسلمان نوجوان وضاحتی اور دفاعی زندگی اختیار کررہے ہیں۔’دہشت ناکی‘ کے دوسرے متاثرین دینی رجحان والے باکردار مسلمان نوجوان ہیں۔ یہ رضوان فاروق اور تاشفین کی مانند جعلی واقعہ کی نزر کیے جارہے ہیں۔آخری شکار وہ جرائم پیشہ، مایوس اور باغی مسلمان نوجوان ہیں جو داعش کی’’دہشت ناکی‘‘ کے لیے بطور ایندھن جھونکے جارہے ہیں۔ پیرس اور برسلز کے ابراہیم، خالد،صلاح عبدالسلام چند نمایاں مثالیں ہیں۔

غرض مسلمان نوجوانوں کی ’دہشت ناکی‘ مغرب کی حکومتوں، فورسز اور ایجنسیوں کی اولین پالیسی بن چکی ہے۔

وجہ سادہ سی ہے۔ اسلامی تہذیب کی ترویج میں نوجوان جدوجہد کا راستہ روکنا، جہادِ اسلامی کو دہشت گردی اور مجاہد کو دہشت گرد کا ہم معنی بنانا ہے۔ یہ مسلمان نوجوان دہشت زدہ ہو، دینی باکردار ہو، یا جرائم پیشہ ہو۔یہ مغرب کے ’دہشت ناکی‘ پروگرام کا ہدف ہے، کیونکہ یہ ’انقلابی اسلام‘ کی امید ہے۔ یہ جوں جوں ’انقلابی اسلام‘ سے قریب ہوتا جائے گا، مغربی’دہشت ناکی‘ کے پروپیگینڈے کی زد سے آزاد ہوتا جائے گا