December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

شام میں بہتا لہو اور میڈیا کی حساسیت

 

غزالہ عزیز 

شام کی سرزمین بیرون وطن وہ پہلی سرزمین تھی جس نے پیارے نبی خاتم الانبیاؐ کے قدم چومے۔ آپؐ ایک بار نہیں بار بار شام تشریف لے گئے۔ نبوت سے قبل بھی اور نبوت کے بعد بھی۔ آج بھی وہاں آپؐ کے اور آپؐ کے صحابہ کے ااچار موجود ہیں۔ جنہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے بارود کے ڈھیر برسائے جارہے ہیں۔ لیکن یہ آثار صرف زمین پر نہیں شامیوں کے دل و دماغ مین بسے ہیں۔ سو اُن کا اور بربادی اولین مقصد ٹھیرتی ہے۔آپؐ نے شام کے لیے دُعا کی تھی کہ ’’یا اللہ ملک شام میں برکت عطا فرما‘‘ یقیناًآپ کی دُعا پوری ہوئی۔ آپؐ کی وفات کے چند سال بعد سن 16ھ میں شام کے اہم ترین شہروں پر مسلمان قابض ہوچکے تھے۔ وہاں مذہب اسلام کی برکتیں یوں عطا ہوئیں کہ آبادی کے دلوں میں اسلام بس گیا۔ حضرت عمر نے جابیہ کے مقام پر قیام فرمایا۔ شام کے روسا آپ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے اور آپ نے ان کے سامنے عہد نامہ لکھوایا جو آج بھی بیت المقدس میں موجود ہے۔ اس عہد نامے میں امیر المومنین کی طرف ان کی جان، مال، گرجے، صلیب سب کو امان دی گئی۔ اہل شام مسلمانوں کے اخلاق، کردار، وفائے عہد اور سادگی سے حد درجہ متاثر ہوئے۔
جنگ یرموک جس میں رومی بادشاہ ہرقتل نے لشکر اسلام کے مقابلے میں دو لاکھ چالیس ہزار فوج بھیجی تھی جب کہ مقابل میں مسلمان صرف چالیس ہزار تھے۔ مسلمانوں نے اس جنگ میں فتح حاصل کی۔ یرموک کی شکست نے ہرقل کو حواس باختہ کردیا۔ وہ اپنے کئی لاکھ آہن پوش لشکروں کا یوں مٹھی بھر مسلمانوں کے ہاتھوں تہس نہس ہونا سن کر ششدر رہ گیا۔ اس شکست کے بعد ہرقل کہیں نہ ٹھیر سکا۔ حمص، حلب، انطاکیہ، قیازیہ (جس کا نام ہی قیصر کے نام پر تھا) اجنادین، شام کے سارے ششہر ایک ایک کرکے مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوتے چلے گئے۔ فلسطین اور بیت المقدس اس وقت ششام کا حصہ تھے۔ بیت المقدس کے عیسائی مذہبی رہنماؤں نے شہر کے دروازے کھولنے کے لیے اور صلح کے لیے پیغام دیا، اس پیغام کی خاص شق یہ تھی کہ عہد نامہ خلیفہ وقت خود آکر لکھے۔ حضرت عمرؓ نے پیغام منظور کرلیا۔ ستوؤں کا تھیلا اور لکھڑی کا پیالا لے کر ایک غلام کے ساتھ ایک اونٹ پر بیت المقدس کی طرف روانہ ہوگئے۔ یہ اس عظیم الشان حاکم اور خلیفہ اسلام کا سفر تھا جس کی فوجیں قیصر و کسریٰ کے محلات اور تخت و تاج کو اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں سے روند چکی تھیں۔ 16ھ میں قیصر و کسریٰ کے دارالحکومت مدائن اور انطاکیہ فتح ہوچکے تھے۔وقت کی ساری ٹیکنالوجی تربیت یافتہ افواج اور لوہے میں ڈوبے لاکھوں لشکری انتہائی سادہ مختصر فوج سے شکست کھا جاتے ہیں اور ایسے ہی نہیں بلکہ دل و جان سے پابند وفا ہوجاتے ہیں۔ اسلام کے دامن میں کچھ یوں سماتے ہیں کہ صدیوں بلکہ بیسیوں صدیاں گزر جاتی ہیں وہ آج بھی اُسی کلمہ کے پیروکار ہیں۔ آج صدیوں بعد غیر اللہ کے متوالے مجتمع ہو کر اپنی قوت، اپنی ٹیکنالوجی اس ملک شام پر قبضے کے لیے آزما رہے ہیں۔ انہوں نے شہروں کے شہر کھنڈر بنادیے۔ لاکھوں مسلمانوں کا خون بہا ڈالا، ننھے بچوں کی لاشوں اور زخموں سے بہتے لہو سے اُن کا دل نہ بھرا، ننھے معصوم بچوں کو اپنا دشمن گردانتے ہیں، یہاں تک کہ چند ماہ کے بچے بھی انہیں خوفزدہ کرتے ہیں۔ انہیں ڈر لگتا ہے، دس لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کا لہو بہا چکے ہیں پھر بھی ان کی پیاس نہیں بجھی ہے۔
شام کا سب سے بڑا دشمن بشارالاسد ہے۔ وہ خود کو علوی کہتا رہے لیکن یہ نہ شیعہ ہے نہ زیدی نہ علوی۔ یہ تو کوئی اور ہی خونخوار مخلوق ہے۔ اس نے اپنے ہی ملک کو ٹینکوں سے روندا، ہزاروں بے گناہوں کو ٹینکوں کے نیچے کچل کر ہلاک کیا، اپنے ہی طیاروں سے نیپام بموں کی بارش برسائی۔ اب شہروں کے شہر بمباری کرکے تباہ کرتا چلا جارہا ہے۔ لیکن یہ تباہی بے گناہ معصوم بچوں کا بہتا خون ٹکڑے ٹکڑے اعضا اور ننھے بچوں کی لاشیں کسی انسانی حقوق کے چمپئن کو نظر نہیں آرہی ہیں۔ اقوام متحدہ صرف قراردادوں کی حد تک ہی پہنچ پاتا ہے۔ وہ بھی بہت مشکل سے سوچتا ہے، روس کا اسلحہ اور طیارے بشار کے لیے سب کچھ کرنے پر تیار ہیں، لبنان کی شیعہ پارٹی حزب اللہ ایران کی مدد سے شام کو خون میں نہلانے کے لیے آمادہ رہتی ہے۔ یہ سب جنگ کا تھیٹر رومی اکھاڑوں کا وسیع منظر ہی تو پیش کررہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ شام کی 90 فی صد آبادی سُنی مسلمانوں کی ہے، بشار کے ساتھی تو 10 فی صد سے بھی کم ہیں۔ اصل میں اس کو مہرہ بنا کر دوسری قوتوں کو شام کے حصے بخرے کرنا مقصود ہے۔ حزب اللہ ایک شیعہ ریاست قائم کرنا چاہتی ہے، اسرائیل کے ہمدرد ترکی کو سزا دینے کے لیے کرد ریاست کی داغ بیل ڈالنا چاہتے ہیں اسرائیل خود جولان کی پہاڑیوں پر عرصے سے قابض ہے، اب تو اس کی نظر دمشق پر ہے۔ باقی کسی چھوٹے سے حصے پر بشار کو بھی قائم رکھنا مقصود ہے۔
امریکا کا ارادہ بھی شام میں دریائے قرات کے مشرقی کنارے پر ایک نیم خود مختار ریاست قائم کرنا ہے تا کہ اس طرح شام میں اپنے قیام کو طول دے سکے۔ لہٰذا امریکی وزیر خارجہ کہہ رہے ہیں کہ امریکی فوج شام میں موجود رہے گی تا کہ بشار الاسد اور اتحادی ایران کی طاقت سے مزاحمت کی جاسکے۔ یہ کیسی مزاحمت ہے جس نے بشام کو تباہ اور بے گناہ شامیوں کو زندہ درگور کر ڈالا ہے۔ مقصد شام کی تقسیم ہے جس کے لیے وہاں کے معصوم لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے۔ بزعم خود مہذب دنیا اطمینان سے یہ سب دیکھ رہی ہے۔ پھر اس سے زیادہ حیرانی پاکستانی میڈیا کی خاموشی پر ہے جس کو بے حس کہا جائے تو پھر بھی بات پوری نہیں ہوتی کیوں کہ یہ حساس تو اس قدر ہے کہ سری دیوی کے دنیا سے چلے جانے پر خبریں بریکنگ نیوز ٹکر رپورٹ سب دھماکا دار دیا جارہا ہوتا ہے، بس خون مسلم کی ارزانی پر کوئی احساس نہیں جاگتا۔ ننھے منے لاشے خون میں ڈوبے معصوم بچے ، عورتیں اور جوان کسی توجہ کے مستحق نہیں ٹھیرتے۔