September 15th, 2019 (1441محرم15)

چڑیا کے بچے

 

شہنازرشید
گھنے جنگل کے پار افق پر سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور سورج کی شعاعیں درختوں کی اوٹ سے جھانکتے ہوئے جنگل کی نا ہموار زمین پر بمشکل پہنچ رہی تھیں۔گویا جنگل کی زندگی میں ہر سوا جالا پھیل چکا تھا اور تمام چرند پر ند بھی اپنی اپنی نگاہوں میں میٹھی اور معصوم سی انگڑائی لے کر بیدار ہو چکے تھے ،وہ سب اپنی سریلی اور خوب صورت آواز میں خدائے واحد کی حمد وثناء میں مصروف تھے۔
درختوں پر بسیراکئے پرندے بھی اپنے اپنے بچوں کو بیدار کرکے گزشتہ رات کے جمع کئے دانوں سے اْن کو ناشتہ کرار ہے تھے،ننھے ننھے پرندوں کے بابا جان آج کے دن کیلئے راشن تلاش کرنے نکل پڑے تھے۔
جبکہ ماما جان اپنے اپنے گھونسلوں کی صفائی ستھرائی کررہی تھیں۔
اِن ہی درختوں میں سے ایک پر چڑیا بی اپنے دو ننھے ننھے بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں ،بچوں کے ابا یعنی چڑے میاں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ دانہ دنکے کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے ،معمول کے مطابق چڑیا بی نے اپنے بچوں کو نہلا یا دھلایا اور دیگر کام کاج سے فارغ ہوکر اب وہ پڑوس کے درخت پر بی فاختہ کے بچوں کی طبیعت دریافت کرنے گئی ہوئی تھی۔
بی فاختہ کے بچے کئی روز سے سرد موسم کے باعث بیمار ہو گئے تھے۔
جاتے جاتے چڑیا بی اپنے بچوں کو کہہ کر گئی تھیں کہ دیکھو شرارت نہ کرنا ورنہ شیطان کے چیلے کوئے آکر تمہیں کچا کھاجائیں گے ،ادھر چڑیا بی کے جاتے ہی بچوں پر کوؤں کا خوف طاری تھا مگر یہ ڈر اْن کی شرارتی اور بے چین طبیعت پر زیادہ دیر طاری نہ رہ سکا اور دونوں بچوں نے کھیل کود شروع کر دیا۔
کھیل یہ تھا کہ وہ بیک وقت گھونسلے سے اْڑان بھرتے اور زمین پر آکر ایک تنکا اٹھا کر واپس گھونسلے میں لے جاتے ،جو پہلے واپس آتا وہ جیت جاتا۔
دو مرتبہ تنکے اْٹھا کر لانے کے بعد تیسری مرتبہ مقابلہ کیلئے دونوں نے اپنے پر تولے اور زمین پر آنے لگے ،ابھی وہ زمین سے کچھ فاصلے پر ہی تھے کہ یکا یک کسی چیز نے اْنہیں آگھیرا اور دونوں ایک مضبوط شکنجے میں پھنس گئے،ننھے بچوں کے حواس بحال ہوئے تو دیکھا کہ دونوں کسی انسانی قافلے کے ہاتھوں جکڑ لئے گئے ہیں ،اْنہوں نے سوچا کہ یہ شکاری ہمیں پکڑ کر لے جائیں گے ،بس یہ جاننا تھا کہ اْنہوں نے بچاؤ کیلئے چیخ وپکار شروع کردی۔
اْدھر چڑیابی کو جب چیخ وپکار سنائی دی تو پریشان ہو گئیں کہ اللہ خیر کرے کہیں یہ میرے بچے تو نہیں رورہے۔جب اْنہوں نے اپنے درخت کے قریب آکر یہ منظر دیکھا کہ اْن کے بچے انسانی شکار بننے جارہے ہیں تو اْن سے رہا نہ گیا،حلیے سے یہ انسان تو بہت اچھے معلوم ہوتے تھے مگر چڑیا بی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر اْنہوں نے اْن کے بچوں کو کیوں پکڑ لیا ہے اپنی جان خطرے میں ڈال کر وہ ان کے سروں پر منڈلانے لگیں اور ساتھ ساتھ اپنے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگی کہ اللہ تعالیٰ میرے بچوں کو ان نیک بختوں سے نجات دلادے ،یہ تو بے قصور ہیں ،ابھی چڑیا بی اپنے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ ہی رہی تھیں کہ دیکھا کہ ایک اور شخص اْس انسانی قافلہ کے ساتھ آملے۔
یہ شخص اْن سب میں بہت با اخلاق ،شریف اور بھلے معلوم ہوتے تھے اور اْس پورے گروہ کے سردار بھی شاید یہی تھے۔جیسے ہی انہوں نے دیکھا کہ چڑیا بی کے دو ننھے ننھے معصوم بچے اْن کے ساتھیوں کے قبضے میں ہیں اور ان بچوں کی ماں پریشان اْن کے گرد منڈلارہی ہے تو وہ فکر مند ہو گئے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کس نے اِن معصوم بچوں کو پکڑ کر بے زبان چڑیا کو تکلیف پہنچائی ہے ،قافلہ کے لوگوں نے اپنے سردار کو سارا ماجرا کہہ سنایا کہ جب آپ اپنی ضرورت کیلئے گئے تو ہم نے اِن بچوں کو پکڑ لیا تھا ،جب سے یہ چڑیا اپنے بچوں کے پیچھے ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے۔
قافلے کے سردار نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ فوراً ان معصوم بچوں کو چھوڑ دیا جائے۔چنانچہ ساتھیوں نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور یوں چڑیابی نے ان کے سردار کو تشکر آمیز نظروں سے دیکھا اور خوشی خوشی اپنے بچوں کو لے کر اپنے گھونسلے کی جانب اْڑ گئیں۔
پیارے بچو! کیا آپ جانتے ہیں یہ نیک لوگ کون تھے ،یہ نیک لوگ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے ساتھی ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہ تھے اور اس قافلہ کے سردار خود ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو تمام جہانوں کیلئے رحمت بن کر اس دنیا میں تشریف لائے۔