August 13th, 2020 (1441ذو الحجة23)

نفئ ذات کا پیکر

 

مرتب: اعظم طارق کوہستانی

سالہا سال پہلے کی بات ہے ان دنوں ملک میں ایوب خان مرحوم کا دور حکومت اپنی قہر مانی کے لحاظ سے اپنے عروج پر تھا، کہ ایک روز ہمارے قصبے کے ایک ممتاز کاروباری شخص ہمارے ہاں تشریف لائے …اثنائے گفتگو میں اُنھوںنے بتایاکہ وہ حال ہی میں راولپنڈی گئے تھے چنانچہ وہاں جاکر اُنھوںنے اپنے انہی دوست کمشنر صاحب کے ہاں قیام کیا، دوران قیام کمشنر صاحب نے اُن سے جو باتیں کیں ان میں سے ایک بات ان بزرگوار نے ہمیں بطور خاص سنائی کہنے لگے کہ کمشنر صاحب نے ایک روز مجھ سے کہاکہ میں نے زندگی میں اگر کسی کا کیریکٹر دیکھاہے تو وہ مولانامودودی ؒکاہے ، اس ضمن میں کمشنر صاحب نے مولانا کی صدر ایوب کے ساتھ انہی دنوں ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ مولانامودودی ؒ سے ملاقات کی خواہش خود صدر ایوب کی طرف سے پیش کی گئی تھی ، چنانچہ صدر کی اس خواہش کی تکمیل کے لیے مولانا جب ایوان صدرکے اندر ایوب خاں کے دفتر پہنچے ، تو اگرچہ وہ ان کامنتظر بیٹھاتھاتاہم حکمرانوں کے عام وتیرے کے مطابق کئی منٹوں تک اس نے میز سے سرنہ اٹھایا اور اپنی بے نیازی ظاہر کرنے کے لیے کاغذات کی اُلٹ پلٹ کرتا رہا۔ مولانا اس دوران خاموشی کے ساتھ اپنی نشست پر بیٹھے رہے،غالباً سوچتے ہوں گے کہ ملاقات کے خواہش مند کو اصولاً اپناعندیہ پہلے کرنا چاہیے، آخرکارصدر ایوب نےغالباً زچ ہو کر اپنا سراٹھایا اور پھر سلام دعا کے تبادلہ کے بعد وہ مولانا ؒ سے مخاطب ہوکر قدرے ناگواری سے بولا:
’’مولانا آپ تو ایک علمی شخصیت ہیں ،آپ سیاست کے گندے میدان میں کیوں آگئے؟‘‘
مولانا نے بڑے اطمینان کے ساتھ جواباً خود ایک سوال کر دیا۔ کیا آپ کا خیال ہے کہ اس میدان کو گندہ ہی رہنے دیاجائے؟
صدر ایوب پر یہ جوابی سوال خاصہ گراں گزرا ،تاہم اب اس نے دوسرا حربہ اختیار کیا اور بولا مولانا صاحب ! آپ کی کئی کتابیں میں نے پڑھی ہیں ، واقعی آپ نے دین کی بہت خدمت کی ہے۔ آپ کی تحریر سے میں خاصا متاثر ہواہوں۔
’’شکریہ۔ ‘‘ مولانا نے مختصر سا جواب دیا۔ ’’یہ اللہ کا فضل ہے کہ وہ اپنے اس بندے سے اپنا کوئی کام لے رہاہے۔ ‘‘
’’مولانا صاحب میری ایک تجویز ہے۔ ‘‘ صدر ایوب نے دوٹوک گفتگو کاآغاز کرتے ہوئے کہا: ’’آپ جیسی بڑی علمی شخصیت کو اپنی عمدہ صلاحیتیں سیاست میں ضائع کرنے کی بجائے، اُن سے قومی تعمیر کاکوئی ٹھوس کام لینا چاہیے۔ اس غرض کے لیے میں چاہتاہوںکہ ہم ملک کے اندر ایک شاندار اسلامی یونیورسٹی قائم کریں۔ آ پ نے اخبارات میں پڑھا ہوگاکہ یہ یونیورسٹی میں نے بہاولپور میں قائم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ اس کے لیے ابتدائی سرمایہ کے طور پر رواں بجٹ میں دوکروڑ روپے کی رقم بھی مختص کردی ہے۔ میں چاہتاہوںکہ اس یونیورسٹی میں بہترین استادوں اور عمدہ انتظامات کے ذریعے خالص دینی علوم اس طرح پڑھائے جائیں کہ اس یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے طلبہ دنیابھر میں اسلام کی تبلیغ کا فریضہ سنبھال کر پاکستان کانام روشن کرسکیں ، اس یونیورسٹی کی سربراہی کے لیے آپ کانام میرے ذہن میں آیا ہے ،کیا یہ اچھا نہ ہوگاکہ آپ سیاست ویاست کے جھنجھٹ سے الگ ہو کر اس کام کابیڑا اٹھائیں جو آپ کی اعلیٰ صلاحیتوں کے مطابق آپ کااصل کام ہے …میں یہ بھی بیان کردوں کہ یونیورسٹی کے لیے ہم نے دو کروڑ روپے کا جو ابتدائی فنڈ مختص کیاہے وہ رقم اور حکومت کی طرف سے اس کے بعد ملنے والی تما م گرانٹ سب پر آپ کو اپنی صوابدید کے مطابق مکمل تصرف کااختیارہوگا اور آپ کو قانوناً آڈٹ وغیرہ کی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیاجائے گا۔
ایوب خاں کی طویل گفتگو ختم ہوتے ہی مولانا مودودی ؒ نے جواب میں اپنے لب کھولنے چاہے، لیکن ایوب خاں نے اس کا موقعہ دیئے بغیر اپنا سلسلۂ کلام پھر جاری کردیا وہ بولا: ’’ اپناجواب آپ شوق سے سوچ کر مجھے بعد میں کسی وقت بتلا دیں یا بھجوادیں۔ ‘‘
’’صدر صاحب!‘‘ مولانا تیزی سے بول پڑے ۔ ’’ایسی باتوں پر نئے سرے سے سوچنے کی مجھے کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ۔ میں نے سالہا سال کی مسلسل سوچ بچار کے بعد اپنی نئی زندگی اور مقصد زندگی کے بارے میں ایک فیصلہ کررکھاہے ، اور وہ یہ ہے کہ مجھے اپنی زندگی کو صرف اپنے خالق کی رضا کے مطابق صرف کرنا ہے اس کی رضا یہی ہے کہ اس کابندہ ہونے کی حیثیت سے مجھے اس دین کے عملی نفاذکے لیے اس سرزمین میں سر دھڑ کی بازی لگا دینا چاہیے ۔ جس دین کو خالق نے اپنے بندوں کے لیے پسند فرمارکھا ہے…اپنے اس سوچے سمجھے فیصلے کے بعد مجھے اس سے ہٹ کر سامنے آنے والی کسی نئی تجویز پر سوچنے کی ضرورت کبھی لاحق نہیں ہوئی ، آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس اسلامی ملک پر حکومت اور فرمانروائی کا بلاشرکت غیر ے موقع دے رکھا ہے۔ ماشاء اللہ آپ بھی مسلمان ہیں ، آپ اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے جلد سے جلد اس ملک میں نظام اسلامی کو مکمل صورت میں نافذ کردیجیے ، اس کے بعد اگر آپ مجھے نظم حکومت کے اندر ایک چپڑاسی کاعہدہ بھی پیش کریں گے تومیں اسے اپنی سعادت سمجھوں گا۔ لیکن اگر آپ نظام اسلامی کے نفاذ کی بجائے یہاں حکمرانی کا موجودہ چلن ہی جاری رکھنا چاہیں اور اس غرض کے لیے مجھے اپنے عہدہ کے بعد ملک کا دوسرا بڑا عہدہ یعنی نائب صدر مملکت کا عہدہ بھی پیش کریں تو میں اس کے لیے بھی تیار نہیں ہوں گا اور اپنی موجودہ روش کو جاری رکھتے ہوئے ملک میں صحیح اسلامی نظام کے قیام کے لیے ایک عام شہری کی حیثیت سے اپنی جدوجہد کو جاری رکھوں گا… حتیٰ کہ مجھے موت آجائے اور میں اس دنیا سے رخصت ہوجائوں۔ ‘‘۔
مولانا کے آخری الفاظ کے ساتھ ہی ایوب خاں کے دفتر میں ایک گھمبیر سناٹا چھا گیا اور ہر شخص اپنی جگہ گم صم ہو کر رہ گیا، پھر چند لمحوں کے بعد صدر ایوب کی دبنگ آواز کمرے کے سناٹے کو چیرتی ہوئی فضا میں اُبھری۔
’’ٹھیک ہے مولانا صاحب۔ ‘‘ صدر ایوب اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا ۔’’لیکن کیا آپ کومعلوم ہے کہ انکار کی صورت میں آپ کاکیا انجام ہوگا؟‘‘
’’مجھے خوب معلوم ہے صدر صاحب۔ ‘‘ مولانا ؒ نے ایوب ہی مانند ایک ایک لفظ کو فضا میں کیل کی مانند ٹھونکتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ میں نے جس روز اپنے موجودہ مقصد زندگی کو اپنایاتھا اسی روز سے مجھے بخوبی معلوم ہے کہ اس مقصد سے وابستگی رکھنے والوں کے لیے دنیا والے کس انجام کے درپے رہتے ہیں۔‘‘
ہمارے ملاقاتی بزرگوار نے بتلایاکہ بقول کمشنر صاحب ملاقات اس نقطۂ پر آکر ختم ہوگئی اور دارالحکومت کے جس شخص نے بھی اس ملاقات کا حال دیکھایا اس کے دل پر مولانا ؒ کے رعب شخصیت کی دھاک بیٹھ گئی ، خود ہمارے بزرگوار ملاقاتی بھی کہ جن کو نہ سیاست سے واسطہ تھا،نہ کسی تحریک سے …اپنی بات ختم کرکے کھوسے گئے ، اور پھر آہ بھر کر بولے: ’’واہ مودودی صاحب ، تہاڈا جیہاپت وی ماں نے نہیں جمناں‘‘ (واہ مودودی صاحب ! آپ جیسا بیٹاکوئی ماں شاید ہی پیداکرے گی۔ )۔
ہماری اس مجلس میں پاکستان کے مشہور طبیب مولانا حکیم محمدعبداللہ صاحب مرحوم بھی شریک تھے ، حکیم صاحب کو مولانا مودودی ؒ سے خصوصی تعلق کا شرف حاصل تھا۔ موصوف اس کے چند ہی روز جب اپنے کام سے لاہور گئے تو وہاں حسب معمول مولانامودودیؒ سے بھی جا کر ملے۔ لاہور سے واپسی پر حکیم صاحب نے بتلایاکہ مولانامودودیؒ سے ملاقات کے وقت وہ ساری روداد اُن کے ذہن میں تھی جو قبل ازیں مولانا ؒ کی صدر ایوب سے ملاقات کے بارے میں وہ متذکرہ مجلس میں سن چکے تھے ۔ چنانچہ اس روداد کی تصدیق کی غرض سے حکیم صاحب نے مولانا مودودیؒ سے یہ پوچھاکہ ’’مولانا ! صدر ایوب کے ساتھ آپ کی ملاقات کے دوران کیاباتیں ہوئی تھیں ؟ ‘‘
’’کوئی ایسی قابل ذکر بات تو نہیں ہوئی ‘‘ مولانا نے جواباً فرمایا’’صدر ایوب نے اپنی خواہش پر ملاقات کے لیے مجھے بلوایاتھا ،چنانچہ جب میں ان کے پاس پہنچا تو مجھے یہ توقع تھی کہ وہ خود ہی پہلے اس ملاقات کی غرض و غایت بیان کریں گے ، لیکن جب کافی دیر تک اُن کی طرف سے گفتگو کاآغاز نہ ہوا تو مجھے کچھ اچبنھاہوا، پھر میں نے سوچاکہ شاید صدر صاحب حفظ مراتب کے خیال سے یہ چاہتے ہیںکہ بات چیت کاآغاز میری جانب سے ہو ،تاہم میں اپنی جگہ خاموش بیٹھا رہا اور ان کا منہ کھلنے کامنتظر رہا ،صدر صاحب نے خود ہی بات چھیڑی اور مجھ سے کہنے لگے کہ آپ کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں اور میں اُن سے متاثر بھی ہواہوں ،میں نے ان کاشکریہ ادا کیا ،اس کے بعد چند ادھرادھر کی باتیں ہوئیں اور آخر میں ملاقات ختم ہوگئی۔ ‘‘
یہ کہہ کر مولانا خاموش ہوگئے ۔حکیم صاحب نے ہمیں بتلایا کہ میں نے اس پر مولانا سے یہ کہا : ’’مولانا !میری اطلاع کے مطابق اس ملاقات کے دوران صدر ایوب اور آپ کے مابین کچھ اور باتیں بھی ہوئی تھیں … اور اس کے بعد میں نے وہ ساری رودارقریباً لفظ بہ لفظ مولانا کے گوش و گزار کردی جو میں اپنے ہاں اُن صاحب کی زبان سے سن کر گیاتھا۔ حکیم صاحب نے مزید بتلایاکہ میری بیان کردہ روداد کو سننے کے دوران اور اس کے بعد مولانا خاموش بیٹھے رہے۔ اُن کی زبان کو گویا قفل لگ گیا۔ اُن کاچہرہ مجھے ایک سادہ ورق کی مانند سپاٹ نظر آیا جس میں نہ دل کے کسی جذبے کا رنگ جھلکتا تھانہ کسی اندرونی احساس کا پر تو۔
میں نے صاف جان لیاکہ مولانا کی صدر ایوب خاں کے ساتھ ملاقات کی جو اندرونی کہانی میں نے سنی تھی وہ بالکل سچی تھی ، میں نے سوچا مولانا اس کی تردید کے لیے زبان اس لیے نہیں کھول سکتے کہ اس طرح انہیں غلط بیانی کاخوف تھا اوراس کی تصدیق اس لیے نہیں کرسکتے کہ ان کی عالی ظرفی اپنے منھ سے ایسی بات کے اظہار کو گوارا نہیں کرتی جس میں اُن کی تحسین کا پہلو نکلتاہو۔
مولانا کی ایوب خاں سے ملاقات کی اندرونی کہانی جب میں نے قبل ازیں ایک واقف حال کی زبانی سنی تھی تو اسے سن کر میرے دل میں مولانا کے لیے ایک بے کنار جذبہ عقیدت اُمڈ آیاتھا ،حکیم صاحب کی زبانی اس سلسلہ کا جو دوسرا واقعہ میں نے سنا اسے سن کر میں ششدر رہ گیا ، مولانا کے کردار کی معراج کا تصور کرکے میں سوچتاہی رہ گیاکہ کلائمکس وہ تھا جو میں نے پہلے سنا ، یا وہ جو حکیم صاحب نے مجھے لاہور سے آکر سنایا ؟ کیا مولانا ، اسی دنیا اور اسی بیسوی صدی کی مخلوق ہیں ، یا ان کاتعلق کسی دوسرے سیارے یا کسی پرانے سنہری زمانے سے ہے؟ اس دنیا کے ہر باشندے اور اس دور کے ہر فرد کی مانند یہ خواہش اُن کے دل میں کیوں موجود نہیں ہے کہ ان کی خوبیاں شہرت پائیں اور پھر لوگ انہیں چاہیں انہیں پوجیں ، اور ان کی عقیدت کو اپنے دلوں میں بسائیں۔
میں نے سوچاکہ ہر سیاسی لیڈر کو اپنی پروجیکشن کاکم و بیش احساس ہوتا ہی ہے صدر ایوب خان کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران مولانا مودودیؒ کو جو کچھ پیش آیا اور مولانا اس کے ساتھ جس طرح سے نمٹے ان کی جگہ اگر کوئی اور لیڈر ہوتاتو وہ اس ملاقات کے بعد خو د اپنی زبان سے اور اپنے حواریوں کی زبان سے اپنی عالی ظرفی اور بلند کرداری کی خوب ڈنڈی پٹواتا اور اس واقعہ کی پبلسٹی کرکے اپنے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ کی بھرپور کوشش کرتا ، لیکن مولانا کیسے عجیب وغریب لیڈر ہیںکہ وہ اپنی پروجیکشن کے ایک سنہری موقع سے ذرہ برابر فائدہ نہیں اٹھاتے ، عوام کے سامنے یا اپنی جماعت کے کسی اجتماع میں تو درکنار وہ اپنے ایک ہمدم دیرینہ کے ساتھ اپنی نجی ملاقات کے دوران بھی اپنی پروجیکشن سے اس طرح پرہیز کرتے ہیں جیسے کوئی آگ سے پرہیز کرتا ہے…میں یہ سوچ سوچ کر کئی روز تک حیران ہوتا رہا ، اور پھر میرا دل اس احساس کے باعث مسرت سے بھر گیاکہ ہمیں آج ایک ایسے نادر روزگار قائد کی زیارت ،رفاقت اور قربت کا شرف حاصل ہے جس کی مثال صرف تاریخ کی پارینہ داستانوں میں نظر آتی ہے اور اس دور ناہنجار میں اس کا کوئی ثانی کم ہی دکھائی دیتاہے۔
اپنی ذات کی پروجیکشن یعنی خود کو ابھارنے یا نمایاں کرنے سے عموماً صوفیاء ہی کو پرہیز ہوتاہے ، چنانچہ تصوف میں نفی ذات اور اثبات حق پر خاصا زور دیاجاتا ہے۔ مولانامودودی ؒ مروجہ معنوں میں تو ہر گز صوفی نہ تھے، تاہم اثبات حق کی خاطر نفیٔ ذات کاجس قدر زبردست اہتمام اُنھوںنے کررکھاتھا اس کی نظیر اہل تصوف کے میں شاذہی ملے گی۔
اور جس واقعہ کاتذکرہ کیاگیاہے ، اس کے علاوہ بھی ہر موقعہ پر خود ستائی اور خودنمائی سے مکمل پرہیز مولانا ؒ کاخاص شعار رہا ، وہ زندگی بھر نفی ذات کا پیکر بنے رہے ، ان کی تحریر،ان کی گفتگو ، حتیٰ کہ ان کی حرکات و اداء سے بھی خودنمائی کی کوئی ادنیٰ سی جھلک کبھی نظر نہ آئی ، یا تو اللہ تعالیٰ نے ان کاذہن ہی بے حد متوازن بنایاتھا یا پھر انہیں اپنے جذبات و احساسات پر بتوفیق الٰہی بے پناہ قابو حاصل تھا جس کے باعث وہ نہ کسی کی تعریف و تحسین سے مسرور ہوتے تھے نہ کسی کی تنقید و تعریض سے منغض …ان کے منہ پر کوئی اُن کی تعریف کرے یا اُن کی برائی …دونوں صورتوں میں مولانا ؒ کی زبان اور اُن کا چہرہ دونوں گویا پتھر بن جاتے تھے ، ایسا معلوم ہوتاتھا کہ وہ خواہ تعریف ہو یا طعن و تعرض ، ہر وہ بات جس کا تعلق صرف اُن کی ذات سے ہوتاتھا ، دوسروں کے قلم سے ٹپکنے یا لبوں سے پھوٹتے ہی وہ مولانا کی سماعت اور بصارت دونوں سے اُچٹ کر کہیں دور ویرانے میں جاگرتی تھی۔
مولانا کو اپنی توصیف و تعریف کرنے یا کرانے سے جو زبردست اور مکمل اجتناب تھا ، وہ اُن کے مخالفین کے لیے گویا عذاب جاں بن گیا۔ یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ معروف وممتاز لوگ اپنی ذات کے بارے میں گاہ بگاہ تعلی آمیز دعوے کیاکرتے ہیں ،پھر یہی دعاوی ان کے مخالفین کے لیے تنقید و تجزیہ کا سامان بن جاتے ہیں۔ مولانا کے مخالفین بارہا خوردبین لے لے کر ، اور کان دھر دھر کر مولانا کی تحریروں اور ان کی گفتگوئوں میں ایسے دعوئوں کی تلاش کرتے لیکن جب وہ اس تلاش میں بری طرح ناکام ہوجاتے تو اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے خود فریبی سے کام لیتے اور سٹپٹا کر یہ اعلان کرتے کہ اگرچہ مولانا مودودی نے تاحال اپنے بارے میں کسی خاص روحانی مقام و پر فائز ہونے کاکوئی دعویٰ نہیںکیا ، لیکن اے لوگو ! ہمیں یہ خوب اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ ایسا کوئی دعویٰ عنقریب کرنے ہی والے ہیں ، مولانامودودیؒ کو جب اپنے بارے میں اس قسم کی پیش گوئیوں کو خبر ملتی تو وہ ہمیشہ جواب میں یہی ارشاد فرماتے کہ ’’میں نے ایسی باتیں کرنے والوں کو سخت سزادینے کا فیصلہ کررکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ میں ان شاء اللہ قیامت کے دن مالک روز جزا کے حضور اس طرح حاضر ہوں گا کہ ہر قسم کے دعوئوں سے میرا نامۂ اعمال خالی ہوگا البتہ یہ لوگ وہاں غیب دانی کے اس دعویٰ کے ساتھ حاضر ہوں گے ، جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو زیباہے ، معلوم نہیں مولانا کے اس جواب لا جواب کے بعد اُن کے مخالفین میں سے کس کس نے اکیلے میں اپنی پیشانی سے عرق ندامت پونچھا ہوگا !
مرحوم ایوب خاں کے عہد حکومت میں ایک ایسا دور بھی آیا جب سیاسی جلسوں پر پاپابندی کے باعث مولانا کے رفقاء کو مولانا کے اعزاز میں شہر بہ شہر استقبالیہ مجالس کے انعقادکی صورت اپنی دعوت کاکام جاری رکھنا پڑا، ایسی مجلسوں میں صدر نشین ہو کر سپاسناموں کی صورت میں اپنی تعریف و توصیف سننا ان کے لیے زندگی کا گویا سب سے کٹھن کام تھا، تاہم دینی مصالح کے پیش نظر وہ اپنے ذوق طبع کے منافی اس مرحلۂ سخت سے گزرنے پر مجبور ہوگئے۔ اس سے پہلے جب کسی جلسہ ،جلوس یا کسی تقریب عام کے موقعہ پر کوئی شخص ان کی تعریف میں کوئی جملہ کہتا یا ان کا نام لے کر کوئی عقیدت مند ’’زندہ باد ‘‘کا نعرہ لگاتا ، تو موقع ملنے پر جھٹ سے مجمع سے مخاطب ہو کر تصحیح کے انداز میں فرماتے، حضرات! مجھے معلوم ہے آپ محض اس وجہ سے میرے ساتھ محبت رکھتے ہیں کہ آپ کو اصل محبت اللہ تعالیٰ کے دین سے ہے۔ جس کا میں ایک خادم ہوں’’فروتنی کے اس مستقل رویہ کے باعث مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے لیے اُن دنوں شہر بہ شہر جا کر سپاسنامے وصو ل کرنا ایک کاردشوار بن گیا ، تاہم فروغ دعوت کے لیے اس کے سوا اُن دنوں کوئی اور چارہ کار باقی نہ رہاتھا ۔ لہٰذا وہ یہ کڑی بھی سہہ گئے۔
ایک ایسا ہی استقبالیہ اُن دنوں ملتان شہر میں منعقد ہوا ، اس کااہتمام قانونی ضرورت کے تحت ایک صاحب کی کوٹھی کے وسیع لان میں کیاگیاتھا ،ہزاروں سامعین میں سے ایک میں بھی تھا اور اتفاق سے مجھے ڈائس کے بالکل قریب عین مولانا کی نشست کے روبرو جگہ مل گئی تھی ۔ استقبالیہ کے آغاز میں حسب دستور جو سپاسنامہ پیش کیاگیا س کی ابتدا میں اُن کی شاندار دینی خدمات کامناسب الفاظ میں اعتراف کیاگیا تھا اور اس کے بعد اس وقت درپیش ملکی و ملی مسائل و مشکلات کا اجمالی تذکرہ کرتے ہوئے یہ درخواست کی گئی تھی کہ وہ ان مسائل ومشکلات کے بارے میں سامعین کو اپنی رہنمائی سے مستفید فرمائیں۔ یہ سپاسنامہ جب تک پڑھا جاتا رہا، میری نگاہیں مولانا کے چہرے پر مرکوز رہیں،میں نے دیکھاکہ سپاسنامہ کے تعریفی حصہ کی خواندگی کے دوران مولانا جیسے مراقبہ کے عالم میں چلے گئے ۔ اس وقت ہزاروں کے مجمع میں مجھے مولانا سے زیادہ کوئی غائب دماغ نظر نہ آیا،البتہ جونہی سپاسنامہ کا وہ حصہ پڑھا جانے لگا جس میں اس وقت کے اجتماعی مسائل کاذکر چھیڑا گیا تھا ، مولانا یک دم چوکنے ہو کر بیٹھ گئے اور سپاسنامہ میں درج باتوں کوغور سے پڑھنے اور سننے لگے۔
سپاسنامہ ختم ہواتو اُنھوںنے جیسے سکھ کاایک سانس لیا اور پھر اس کا جواب دینے کا فریضہ اداکرنے کے لیے جب وہ اُٹھے ، تومیں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ ان کے چہرے پر ایک عجیب عاجزی کا احساس پرتو فگن دیکھا ،اپنے جواب میں مولانا نے سپاسنامہ کے اس حصہ سے تو قطعاً کوئی تعرض نہ کیا ، جس کاتعلق اُن کی ذات گرامی سے تھا ، البتہ اس حصہ کی تعریف بڑے حوصلہ افزا انداز میں کی جس میں ملکی و ملی مسائل و امور کاذکر کیاگیاتھا اور پھر مولانا نے حسب معمول ان مسائل کے بارے میں ایک بصیرت افروز رہنمائی کاحق ادا کردیا۔
مجمع کے سامعین میں میرا ایک شناسا نوجوا ن انگریزپادری بھی شامل تھے جسے میں نے ڈیڑھ دو ماہ پہلے مولاناکے ایک مضمون ’’دور جدید کی بیمار قومیں ‘‘کا انگریزی ترجمہ مطالعہ کے لیے دیاتھا ، استقبالیہ ختم ہواتو میں لپک کر اس کے پاس پہنچا علیک سلیک کے بعد اس تقریب کے بارے میں اس کا تاثر دریافت کیاتو اس نے بلاساختہ جواب دیا ۔ ’’آپ کی بیمار قوم کو ایک بہترین معالج میسر آگیا ہے ، پھر قدرے توقف سے اس نے مجھ سے سوال کیا ، کیامیری یہ بات صحیح نہیں ہے ؟ ‘‘
’’بالکل صحیح ہے پادری صاحب ، میں نے وثوق کے انداز میں کہا:لیکن اس فرق کے ساتھ کہ خود اس معالج کو بہترین ہونے کا دعویٰ نہیں ہے۔‘‘
’’تب تو یہ اس کے بہترین ہونے کاایک مزید ثبوت ہے۔ ‘‘ پادری نے تیزی سے کہا ۔ اور پھر مجھے سلام کرکے مجمع میں کھو گیا۔
سپاسناموں کے ساتھ ساتھ مولانا ؒ کو اپنے نام کے ساتھ وہ خطابات بھی دل سے ناپسند ہوتے تھے جو اُن کے عقیدت مند وفود عقیدت سے ان کے اسم گرامی کے ساتھ وابستہ کردیتے تھے ،اس ضمن میں وہ خاص طور پر ’’قائد تحریک اسلامی ‘ کے خطاب کو ناپسند فرماتے تھے کیونکہ اس میں تعلی کاایک ناروا پہلو مضمر تھا ، اپنے نام کے ساتھ مدظلہ العالی ، جیسے الفاظ کی تحریر کو بھی گوارانہ فرماتے تھے ۔ نوجوان طلبہ میں ’’مرشد ی مودودیؒ ‘‘کا نعرہ بہت مقبول ہے لیکن یہ نعرہ بھی مولانا کو طبعاً پسند تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میرے مشفق مرحوم حکیم محمدعبداللہ صاحب نے بیان کیاتھا کہ اُنھوںنے بعض اُمور سے متاثر ہو کر مولانا مودودیؒ سے اپنی ایک ملاقات کے دوران ان سے شکایتاً یہ کہاکہ مولانا ! اب تو ہمارے رفقاء میں بھی پیری مریدی کامرض نفوذ کرتاجا رہا ہے۔ حکیم صاحب کاکہناتھاکہ میری یہ بات سنتے ہی مولانا نے یوں تڑپ کر پہلو بدلا جیسے کسی نے انہیں سوئی چبھو دی ہو اور پھر انتہائی تشویشناک لہجہ میں مجھ سے دریافت کیا اس مرض کا کیسے پتا چلا ہے آپ کو ؟ اس پر جب میں نے اپنے اندیشے کی تائید میں ایک دوو اقعات پیش کیے ، تو مولانا نے فوراً آئدہ کے لیے ان کااعادہ نہ ہونے کاانتظام کردیا ۔ ان تصریحات سے یہ واضح ہے کہ مولانامودودیؒ کو اہل تصوف کانظریہ ’’نفیٔ ذات ‘‘ جس قدر عزیز تھا ، اسی قدر ان حضرات کے دوسرے نظریہ یعنی وجوب شخصیت کے وہ مخالف تھے۔
پیری مریدی یا شخصیت پرستی کے خاتمہ کے لیے اور نفی ذات کی سعی کے طور پر مولانا نے اپنی بنائی ہوئی تنظیم میں عام رفقاء کی جانب سے خود اپنے اور دیگر عہدیداران کے ’’محاسبہ ‘‘ کا وہ اہتمام خاص بھی کیاجس کی مثال کسی دیگر ہمعصر تنظیم میں موجود نہیں ہے۔ باخبر حضرات جانتے ہیںکہ باہمی محاسبہ کے اس مستقل آئینی اہتمام کے ذریعہ مولانا نے اس عام تصور کی مکمل طور پر بیخ کنی کردی کہ دینی اکابر ’’ملائے اعلیٰ‘‘ ، قسم کی مخلوق ہوتے ہیں جن کی سمت تنقید کی نگاہ اٹھانا گناہ سے کم نہیں۔ مولانا نے اپنی تنظیم میں خود کو تنقید کامستحق قرار دے کر جمہوریت کاایک اعلیٰ تصور ذہنوں میں راسخ کیا اور حریت فکر کی ایسی شمع جلائی جو قیام ازل نے صرف اپنے پسندیدہ دین اسلام ہی کے مقدر میں کی ہے۔
مولانا نے تفہیم القرآن کے نام سے قرآن مجید کی جو معرکۃ الآراء اور مہتمم بالشان تفسیر لکھی ہے ، اس کے نمایاں اوصاف میں یہ خصوصی وصف بھی شامل ہے کہ کتاب اللہ کی تشریح و تعبیر کرتے ہوئے کسی ایک مقام پر بھی صاحب کتاب اور قاری کے درمیان اپنی ذات کو حائل نہیں ہونے دیا۔ مولانا نے قرآن پاک کے الہامی الفاظ میں محض دنیائے معنی کی عالم آرائی ، نیز کلام اللہ کی گرہ کشائی کا صرف یہی ایک مقصدملحوظ خاطر رکھاہے کہ وہ اس طرح اور اس کے بندے کے درمیان ایک براہ راست تعلق قائم کردیں ، اور یہ تعلق قائم کرنے کے فوراً بعد خود بیچ میں سے ہٹ جائیں۔ یہ طرز خاص اہل علم کی اس عام روش کے بالکل برعکس ہے جس کے تحت وہ اپنی تحریر میں اپنی شان علم و فضل کا بے جا مظاہرہ کرتے ہوئے زرق برق الفاظ کے ساتھ ایک ایسا مینابازار سجادیتے ہیں کہ قاری کی نگاہ بس اسی کی سج دھج میں الجھ کر رہ جاتی ہے ، اور اس طرح بالآخر مصنف کے ساتھ ساتھ قاری کی نگاہ سے بھی وہ مقصد حقیقی اوجھل ہوجاتا ہے جس کی خاطر وہ تحریر وجود میں لائی گئی تھی! مولانا نے اپنی یاد گارِ زمانہ تفسیر میں عام اہل قلم کی اس روش خودنمائی سے مکمل پرہیز اختیارکرکے اپنی نفیٔ ذات کی انتہائی کامیاب سعی کاایک ایسا ثبوت فراہم کردیاہے ۔ جو انشاء اللہ ان کی تفسیر کے ساتھ رہتی دنیا تک قائم اور باقی رہے گا۔
کہتے ہیں شوق خود نمائی میں گرفتار شخص اصل میں احساس کمتری کا مریض ہوتاہے اور اس کامقدر یہی ہے کہ وہ ہمیشہ پابگل رہے ،عظمت کاکوئی مقام رفیع اس کی قسمت میں نہیں ہوتا ،مولانا مودودیؒ نے اس شوق فضول سے احتراز کیا ، اور احساس کمتری کے مرض سے بفضلہ عمر بھر محفوظ رہے اور یہ اسی کاایک منطقی نتیجہ ہے کہ وہ آج ہمیں برتری و عظمت کاایک اتنااونچا …بہت ہی اونچا …مینار نظر آتے ہیں کہ اس کی چوٹی کااندازہ لگاتے وقت آدمی کی اپنی ٹوپی سر سے گر جاتی ہے۔