June 18th, 2019 (1440شوال14)

 بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابولا علیٰ مودودیؒ

پیدائش اور خاندان
سید ابوالاعلٰی مودودی کا سنِ ولادت 1321ھ بمطابق 1903ء ہے۔ جائے پیدائش اورنگ آباد دکن ہےاور آبائی تعلق سادات کے ایک ایسے خاندان سے ہے جو ابتداء میں ہرات کے قریب چشت کے معروف مقام پر آکر آباد ہوا تھا۔ اس خاندان کے ایک مشہور بزرگ خواجہ قطب الدین مودود چشتی تھے جو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے شیخ الشیوخ تھے۔ سید مودودی کا خاندان خواجہ مودود چشتی کے نامِ نامی سے منسوب ہوکر ہی مودودی کہلا تا ہے۔

انہوں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ ایک مکمل مذہبی گھرانا تھا۔ ان کے والدِ محترم اور والدہ ماجدہ دونوں کی زندگی مذہبی رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔ سید مودودی کی تربیت ان کے والد نے خاص توجہ سے کی۔ وہ انہیں مذہبی تعلیم خود دیتے تھے۔

اردو، فارسی اور عربی کے ساتھ ساتھ فقہ اور حدیث کی تعلیم بھی اتالیق کے ذریعے گھر پر دی جانے لگی۔ تعلیم کے ساتھ اخلا قی اصلاح کا بھی وہ خاص خیال رکھتے تھے۔ اسی لیے سید مودودی کے والد نے انہیں کسی مدرسے میں داخل نہیں کرایا، بلکہ گھر پر ہی پڑھاتے رہے۔
بتدائی دور کے پورے گیارہ برس انہوں نے اپنے بیٹے کو براہِ راست اپنی نگرانی میں رکھااور کسی مکتب یا مدرسہ میں بھیجنا گوارہ نہ کیا بلکہ ان کی تعلیم کا گھر پر اتالیق رکھ کا انتظام کیا تاکہ مدرسے اور اسکول میں زمانے کی بگڑی ہوئی رو سے وہ اپنے بچے کو بچا سکیں۔

ماحول اور تربیت

سید مودودی کے والدِ محترم نے ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دی اور ان کی بہت اچھے اور عمدہ طریقے سے تربیت کی۔ سید صاحب کے گھر میں دہلی کے شرفاء کی صاف ستھری زبان بولی جاتی تھی۔ سید مودودی کے والد نے اس چیز کا بہت خیال رکھا کہ اُن کی زبان پرکوئی غیر مناسب بازاری لفظ نہ چڑھ پائے۔ جب کبھی وہ ایسا کوئی لفظ ان کی زبان پر چڑھا ہوا محسوس کرتے تو ٹوکتے اور صحیح لفظ بولنے کی عادت ڈالتے۔
جہاں تک ذہنی ساخت اورتربیت کا تعلق ہے، سید صاحب کے والد محترم انہیں رات کو اکثر پیغمبروں کے قصے اور تاریخ اسلام کے اہم سبق آموز واقعات سنایا کرتے۔ ہندوستان کی تاریخ کی سبق آموزکہانیاں اور نیک لوگوں کی زندگی کے حالات بتاتے۔ ظاہر ہے کہ ان باتوں کا سید مودودی کے ذہن نے گہرا اثر قبول کیا اور ان میں نیکی، بھلائی،عظمت،بزرگی،اسلام کی سربلندی اور ایثار و قربانی کے جذبات پیداہوئے اور ساتھ ہی ان میں بزرگوں کے نقش قدم پرچلنے کا فطری رحجان بھی پیدا ہوگیا۔

مدرسہ کی تعلیم

سید صاحب کو گیارہ سال کی عمر میں گھریلو تعلیم کی مناسب تکمیل کے بعد مدرسہ فرقانیہ اورنگ آباد کی آٹھویں جماعت میں براہِ راست داخل کیاگیا۔ اس وقت ان کی معلومات تمام مضامین میں اپنے ہم جماعتوں سے بہت زیادہ تھیں، حالانکہ وہ آٹھویں جماعت میں سب سے چھوٹی عمر کے طالب علم تھے۔
مولوی کلاس میں آنے کے بعد سید صاحب کو جدید علوم کیمیا،طبیعیات،ریاضی وغیرہ سے واقفیت اور دلچسپی پیدا ہوئی۔اور پھر جدید معلومات میں بھی وسعت پیدا ہوتی چلی گئی۔

بچپن کے سنہرےدروازے

سید صاحب نے 1914ء میں مولوی کا امتحان دیا اور کامیاب ہوئے لیکن یہ وہ دور تھا جب سید صاحب کے والدِ محترم کی مالی مشکلات بہت بڑھ گئیں تھیں۔ وکالت سے اجتناب اور دینداری میں شدید انہماک کے باعث گھر کے مالی حالات میں وہ اورنگ آباد چھوڑ کر حیدرآباد تشریف لےگئے اور سید صاحب کو مولوی عالم کی جماعت میں داخل کرا دیا۔ اس زمانے میں دار العلوم کے صدر مولاناحمید الدین فراہی تھے جومولانا امین احسن اصلاحی کے بھی استاد تھے۔ سید صاحب کے والد انہیں دارالعلوم میں داخل کراکے خود بھوپال تشریف لے گئے اورسید صاحب دارالعلوم میں زیرِ تعلیم رہے لیکن تعلیم کا یہ سلسلہ چھ ماہ سے زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہ سکا، ایک روز بھوپال سے اطلاع آئی کہ سید صاحب کے والد محترم پر فالج کا سخت حملہ ہوگیا ہے۔
چنانچہ مدرسے کی رواجی تعلیم ختم ہوگئی اور ڈیڑھ دوسال کے تلخ تجربات نے یہ سبق سکھایا کہ دنیا میں عزت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا لازمی ہے۔
بہرحال والدِ محترم کے انتقال کے بعد سید مودودیؒ کو معاش کی فکر لاحق ہوئی۔ والد محترم کوئی جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے تھے۔ یہ کوئی رؤسا کا خاندان نہ تھا نہ دربارداری ان کا پیشہ تھا۔ ان کا خاندان ایک سیدھا سادا دیندار اور شریف خاندان تھا جو جاگیروں پر نہیں بلکہ اپنی قوت بازو پراپنی معاش کی بنیاد رکھتا تھا۔

ذریعہ معاش

والد کے انتقال کے بعد اس چھوٹی سی عمر میں پہلی بار سید مودودی کو بھی احساس ہوا کہ دنیا میں عزت کےساتھ زندگی بسرکرنےکےلئےاپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں لکھنے کی زبردست قابلیت عنایت فرمائی تھی چنانچہ انہوں نے ارادہ کرلیا کہ قلم کے ذریعے ہی اپنے خیالات کو لوگوں تک پہنچائیں گے اور اسی کو ذریعہ معاش بھی بنائیں گے۔ اس طرح ایک تو مسلمانوں کی بھلائی اور اسلام کی خدمت کاکام ہوگا اور دوسرے معاش کا وسیلہ بھی ہوجائے گاچنانچہ ایک صحافی کی حیثیت سے انہوں نے اپنے کیرئیرکاآغاز کیا اور پھر متعدد اخبارات میں ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیاجن میں اخبار" مدینہ" بجنور(یوپی)"تاج" جبل پور اور جمعیت علماء ہند کا روزنامہ "الجمعیۃ"دہلی خصوصی طور پر شامل ہیں۔ ایک بارمولانا محمد علی جوہر نے بھی سید مودودی کو اپنے اخبار"ہمدرد" میں کام کرنے کی دعوت دی تھی مگر"الجمعیۃ" والوں سے آپ کے پرانے تعلقات تھے،اس لیے آپ مولانا محمد علی جوہرکی پیش کش کو قبول نہ کرسکے۔اگرچہ سیاسی اختلافات کی بنا پر انہیں بعد میں روزنامہ الجمعیۃ کوبھی چھوڑنا پڑا۔ سیاسی تصورات میں سید مودودیؒ مولانا جوہر کے خیالات سےزیادہ ہم آہنگ تھے۔
بچپن میں آپ نے سب سے پہلے علامہ اقبالؒ کی مشہور نظم"شکوہ"پڑھی تھی۔ والد محترم سید احمد حسن صاحب نے آپ کو ہندوستان کی سیاسی تاریخ بھی پڑھا دی تھی۔چنانچہ جب وہ صحافی بنےتوا نہوں نے ملکی حالات کا براہِ راست مطالعہ کیا۔ ویسے بھی ان کا گھرانہ بہت تعلیم یافتہ اور باشعور تھا۔ خاص طور پر انگریزوں سے نفرت تو اس گھر میں بہت زیادہ تھی۔ان وجوہات کی بنا پر اس زمانے میں ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جو تحریکیں اٹھیں مثلاً تحریکِ خلافت، تحریک ستیہ گرہ اور تحریک ترک موالات وغیرہ، سید مودودیؒ نے مسلمانوں کی بھلائی کے خیال سے ان میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ انہوں نے ترک مسلمانوں کی حمایت میں انگریزوں کے خلاف بڑے پُرجوش مضامین لکھے، ہندی مسلمانوں میں جو اخلاقی برائیاں پائی جاتی تھیں انہیں واضح کیا اور اس کے ساتھ ہی مسلمان لیڈروں کی سیاسی غلطیوں سے بھی آگاہ کیا۔ مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کےلیےبہت سے مفید اور قابلِ عمل مشورے دیےاور ہمیشہ مسلمانوں کی اصلاح کےلیےکام کیا۔
اخبار نویسی کے زمانے میں سید مودودی نے اپنی ذاتی کوشش سے انگریزی بھی سیکھ لی اور جدید علوم پڑھنے کے ساتھ ساتھ مختلف اساتذہ سے عربی ادب،تفسیر،حدیث،فقہ، منطق اور فلسفے کی کتابیں بھی پڑھیں۔ اس طرح ان کی علمی قابلیت میں بہت اضافہ ہوگیا اوروہ قدیم اور جدید علوم میں ماہر ہوگئے۔
ہندی مسلمانوں کے حالات سید مودودی کے لیے بہت تکلیف دہ تھے. وہ ان کی بدحالی، بے بسی اور بےحسی پر بہت کڑھتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ اسلام کے سچے پیروکار بن کر دنیا میں حقیقی اسلامی زندگی کا نمونہ پیش کریں۔ اس زمانے میں انہوں نے ایک مضمون لکھا کہ آج جتنی کمزوریاں بھی مسلمانوں میں پیدا ہوگئی ہیں صرف اس لیے ہیں کہ ان میں سے اسلامی روح نکل گئی ہے اور وہ بھول گئے ہیں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے وہ کیا ہیں۔ اگر مسلمان اسلام کی پیروی کریں تو ساری دنیا کو مسلمان بناسکتے ہیں اور دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی بھلائی کی مختلف تدبیروں پر اکثر غور کیاکرتے۔ اسی اثناء میں 1925ء میں جب جمعیت علماء ہند نے کانگرس کے ساتھ اشتراک کا فیصلہ کیا تو سید مودودی نے بطور احتجاج اخبار"الجمعیت" کی ادارت چھوڑ دی اور اس سے الگ ہوگئے۔ اس لیے کہ وہ متحدہ قومیت کے سخت مخالف تھے اور کانگرس کومسلمانوں کے مفادات کے خلاف جماعت سمجھتے تھے۔

پہلی تصنیف

جس زمانے میں سید مودودی"الجمعیۃ" کے ایڈیٹر تھے۔ ایک شخص سوامی شردھانند نے شدھی کی تحریک شروع کی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندو بنالیا جائے۔ چونکہ اس تحریک کی بنیاد نفرت، دشمنی اور تعصب پر تھی اور اس نے اپنی کتاب میں حضورﷺ کی توہین کی تھی جسے کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتااس لیے کسی مسلمان نے غیرت ایمانی میں آکر سوامی شردھانند کو قتل کردیا۔ اس پر پورے ہندوستان میں ایک شور برپا ہوگیا۔ ہندو دینِ اسلام پر حملے کرنے لگے اور اعلانیہ یہ کہا جانے لگا کہ اسلام تلوار اور تشدد کا مذہب ہے۔ سید مودودی اس صورتِ حال پر بہت رنجیدہ تھے۔ ان کے دل میں اسلام کی محبت اور مسلمانوں کا درد بھرا ہوا تھا۔ اسلام کی خدمت کرنے کے لیے ان کے دل میں بہت اضطراب تھا۔ انہی دنوں مولانا محمد علی جوہر نے دہلی کی جامع مسجد میں تقریر کی جس میں بڑی دردمندی کے ساتھ انہوں نے اس ضرورت کا اظہار کیا کہ کاش کوئی شخص اسلام کے مسئلہ جہاد کی پوری وضاحت کرے تاکہ اسلام کے خلاف جو غلط فہمیاں آج پھیلائی جارہی ہیں وہ ختم ہوجائیں۔ اس پر سید مودودی کو خیال آیا کہ کیوں نہ میں ہی یہ کام کروں۔ چنانچہ انہوں نے "الجہاد فی الاسلام" کے نام سے ایک کتاب لکھی۔اس وقت سید مودودی کی عمر24برس تھی۔ اس چھوٹی سی عمر میں ایسی معرکۃ الآراکتاب آپ کا ایک حیرت انگیز اور عظیم الشان کارنامہ تھا جس پر ہر طرف سے آپ کو داد ملی۔ اس کتاب کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایاتھا:۔
"اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے"

اصلاحِ قوم کاعزم

سید مودودی کے دل میں اسلام کا بہت درد تھا اور وہ اس کے لیے دن رات سوچتے رہتے تھے۔ ان دنوں ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت آج سے بھی زیادہ خراب تھی۔ سید مودودی مسلمانوں کی اصلاح کرنا چاہتے تھےچنانچہ روزنامہ الجمعیت جو کانگرسی مسلمانوں کا اخبار بن گیا تھا اس کی ادارت اور اخبار نویسی چھوڑکر سید مودودی حیدرآباد دکن چلے گئے۔ حیدرآباد میں قیام کے زمانے میں سید مودودی نے مختلف کتابیں لکھیں، اس کے ساتھ ہی وہ ہندوستان کے سیاسی حالات اور مسلمانوں کی حالت کا بھی گہرا مطالعہ کرتے رہے ، اس دوران وہ قوم کے اصلاحِ احوال کی مختلف تدبیروں پر بھی مسلسل غور کرتے رہے۔ آخر کار انہوں نے اصلاحِ قوم کے مقصد کے لیے 1932 میں حیدرآباد سے رسالہ"ترجمان القرآن"جاری کیا۔ مسلمانوں کی بھلائی کےلیے وہ جو کام کرنا چاہتے تھے ان کے ذہن میں اس کی ترتیب یہ تھی کہ پہلے مسلمانوں کے ذہنوں سے مغربی قوموں کی نقالی اور مرعوبیت،یورپ کے خیالات اور ان کے طور طریقوں کازور توڑا جائے پھر ان کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جائے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر مسئلے میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔
چنانچہ  1935ء میں آپ نے "پردہ" کے نام سے اسلامی پردے کی حمایت میں ایک شاندار کتاب لکھ کر ان لوگوں کا منہ بند کردیا جو اسلامی پردے پر یورپ سے مرعوب ہوکر طرح طرح کے اعتراض کیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ "تنقیحات" اور"تفہیمات" کے مضامین لکھے جن کے ذریعے انہوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں میں سے فرنگی تہذیب کی مرعوبیت ختم کردی۔

اسلامی قومیت کا نقیب

1938ء میں کانگرس کی سیاسی تحریک اس قدر زور پکڑ گئی کہ بہت سے مسلمان اور خود علماء کرام کی ایک بہت بڑی تعداد بھی ہند وؤں کے ساتھ مل گئی۔ کانگرس یہ کہتی تھی کہ ہندوستان کے مسلمان اور ہندو سب مل کر ایک قوم ہیں۔ یہ ایک ایسی خطرناک بات تھی کہ اگر اسے مان لیا جاتاتو ہندوستان میں مسلمانوں کی علیحدہ حیثیت بالکل ختم ہوجاتی اور ان کا دین بھی خطرے میں پڑ جاتا۔ کانگرس کے اس نظریہ کو "متحدہ قومیت" یا "ایک قومی نظریہ" کانام دیا جاتا تھا۔ سید مودودی نے اس خطرے کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے اس کے خلاف بہت سے مضامین لکھے جو کتابوں کی صورت میں "مسئلہ قومیت" اور "مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش" حصہ اول و دوم کے ناموں سے شائع ہوئے۔ ان مضامین میں سید مودودی نے زور دار دلائل سے ثابت کردیا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں کیونکہ دونوں کا تصور خدا ، مذہبی عقیدہ، رہن سہن اور طور طریقے سب جدا جدا ہیں۔ انہیں ایک قوم کہنا بالکل غلط بات ہے۔ 1940ء کی قرار داد پاکستان کے بعد مسلمانوں کے بڑےبڑے رہنما اور مسلم لیگ کے دوسرے لیڈر بھی یہی بات کہنے لگے ۔ اسے"دو قومی نظریہ"کہاجاتا ہے۔ سید مودودی نے مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کے نظریے کو اتنے اچھے اور عمدہ طریقے سے پیش کیا کہ اس خوبی کے ساتھ اب تک کوئی اور شخص مسلمانوں کے علیحدہ قومی تصور کی مدلل وکالت نہیں کرسکا تھا۔ سید مودودی نے قرآن و حدیث سے دلائل دیے۔ تمام مسلمان لیڈر سید مودودی کی ان کتابوں پر بہت خوش ہوئے اور مسلم لیگ نے انہیں بار بار چھپوا کر عام مسلمانوں میں خوب پھیلایا۔ ان مضامین سے مسلم لیگ کے علیحدہ پاکستان کے مطالبے کو بہت مدد ملی۔ اس طرح سید مودودی پہلے شخص تھےجنہوں نےنظریہ پاکستان کو علمی سطح پر دلائل کے ساتھ پیش کیااور پاکستان کے حق میں دو قومی نظریہ کے لیے زبردست عقلی اور اسلامی دلائل فراہم کے۔ ان دلائل کا کانگرس کے ساتھ وابستہ علماء کے پاس بھی کوئی جواب نہ تھا۔ اس کے بعد پاکستان کا تصور مسلمانوں میں پختہ ہوگیا اورمسلم لیگ کے علیحدہ اسلامی اور قومی وطن کی مہم کو سید مودودی کے ان دلائل سے زبردست تقویت ملی۔ اب یہ مضامین"تحریک آزادی ہند اور مسلمان" کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ پاکستان کے حق میں سید مودودی کی یہ زبردست خدمت ہے جو انہوں نے علمی میدان میں سرانجام دی ۔

اصلاحِ ملت کے لیےجماعت اسلامی کا قیام

1935ء سے 1947ء کے درمیانی دور میں ہندوستان کے حالات بہت نازک تھے۔ خصوصاً مسلمان بہت پریشان تھے۔ مسلمانوں کے مقابلے میں ہندؤں کی تعداد زیادہ تھی اور ان کی طاقت اوراثرورسوخ بھی مسلمانوں سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا تھا، دوسری طرف ہندوستان کی آزادی کے لیے بھی کوشش ہورہی تھی،اگر انگریز ہندوستان کو اکثریت کے حوالے کر کے جاتے اوروہاں ہندوؤں کی حکومت بن جاتی تو پھر مسلمانوں کی قابلِ رحم حالت کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہ تھا،اگر انگریز مسلم لیگ کے مطالبے کو مان لیتے اور پاکستان بن جاتا، تو سوال یہ تھا کہ ہندوؤں کے ماتحت ہندوستان میں رہ جانے والے تقریباً ایک تہائی مسلمانوں کی حالت کیا ہوگی اور وہ کس طرح زندگی بسر کریں گے اور ان کا سیاسی سہارا کون ہوگا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ایک اسلامی حکومت کے قائم ہونے کی کیا امید تھی کیونکہ جولوگ پاکستان کی تحریک چلا رہے تھے ان میں چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب وہ تھے جو اپنی عملی زندگی میں اسلام کے بنیادی فرائض بھی پورے نہیں کرتے تھے۔ اس لیے ایسی کسی ٹیم کے ذریعے پاکستان میں اسلامی نظام کا قیام ممکن نظر نہ آتا تھا۔ چنانچہ سید مودودیؒ کے اس اندیشے کوبعد کے زمانے نے سو فیصدی سچا بھی ثابت کردیا۔ ان حالات کی روشنی میں مسلمانوں کو ایک ایسی جماعت کی اشد ضرورت تھی جو انہیں آنے والے خطرات اور مشکلات کا مقابلہ کرنےکےلیے تیار کرے۔ جو تقسیم کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کو سنبھالے اور جو پاکستان بن جانے کے بعد وہاں اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے اور اگر ملک تقسیم نہ ہوتومسلم لیگ کی ناکامی کے بعد مسلمانوں کی دوسری دفاعی لائن ثابت ہوسکے۔ چنانچہ سید مودودی نے ترجمان القرآن کے ذریعے ایک پابندِ اسلام جماعت کے قیام کی تجویز پیش کی اور اس سلسلے میں ترجمان القرآن میں مضامین بھی شائع کیے۔ جو لوگ اس تجویز سے اتفاق رکھتے تھے وہ 26 اگست 1941 ء کولاہور میں جمع ہوئے اور"جماعت اسلامی" قائم کی گئی، جس کامقصد قرآن پاک کے الفاظ میں یہ تھا۔

ان اقیمو الدین ولَاتتفرّقُوا فیہ
"یعنی آپس میں اکٹھے ہوکراللہ کے دین کو قائم کرو"

جس وقت جماعت اسلامی قائم ہوئی تو اس میں پورے ہندوستان میں سے صرف 75 آدمی شامل ہوئے تھے۔ اس اجتماع میں سید مودودی کو جماعت کا سربراہ منتخب کیاگیا۔

حمایت پاکستان

سید مودودی نے جماعت اسلامی قائم کرنے کے باوجود کانگرسی مسلمانوں کی طرح پاکستان کی مخالفت نہیں کی بلکہ اپنا سارا زور مسلمانوں کواصلی مسلمان بنانے پر صرف کیا۔ ایک طرف پاکستان کےقیام کی کوششیں ہورہی تھیں۔ دوسری طرف سید مودودی اور جماعت اسلامی کے لوگ ایک تبلیغی جماعت کی طرح اسلام کی تعلیمات عام کرنے کے لیے کام کر رہے تھے اور مسلمانوں کو خلافتِ راشدہ کے نظام کو بحال کرنے کے لیے ابھار رہے تھے۔ سب جانتے ہیں کہ مسلمان قوم پاکستان بھی اسی لیے حاصل کرنا چاہتی تھی کہ یہاں اسلام کی حکومت قائم کی جائے۔ اس طرح جماعتِ اسلامی اور سید مودودی پاکستان کو اسلام کی بنیادپرمضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔ اس سے پہلےوہ نظریہ پاکستان کی حمایت میں بھی پُرجوش مضامین اور کتابیں لکھ چکےتھےاورکانگرس کے ایک قومی نظریہ کےپر خچےاڑا چکے تھے۔ سید مودودی نے کانگرس کے اس نظریہ کہ "اقوام اوطان سے بنتی ہیں" کی دھجیاں بکھیر دیں اور بڑے بڑے کانگریسی علماء ان دلا ئل کے سامنے گنگ ہوگئے۔

سید مودودی پاکستان میں

مسلمانان پاکستان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ تقسیمِ ملک کے وقت سید مودودی ہندوستان سے منتقل ہوکر پاکستان میں تشریف لے آئے،لیکن یہاں آکر بھی انہوں نے کمانے، جائیدادیں بنانے یا عہدے حاصل کرنے کی فکر نہیں کی۔ان کو فکر پاکستان کی تھی اور پاکستان کے لیے اسلام کی تھی۔

پاکستان میں پہنچتے ہی سید مودودی نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ انہوں نے پنجاب کے اس وقت کے وزیر اعلٰی سے رابطہ قائم کیااور انہیں مشورہ دیا کہ وہ پٹھان کوٹ سے کشمیر کو جانے والی سڑک پر فوراً قبضہ کرنے کا بندوبست کریں، کیونکہ اگر اس سڑک پر پاکستان نے قبضہ کرلیا تو پھر ہندوستان کےلیے کشمیر کاراستہ بند ہوجائےگا اور کشمیر پر اس کے حملے اور قبضہ کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا لیکن افسوس کہ حکومت نے اس مفید تجویز کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور دور اندیشی سے کام نہ لیا جس کانتیجہ یہ ہوا کہ کشمیر حاصل کرنے کا ایک مفید اور بہترین موقع پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اس وقت نئی حکومت مہاجرین کے مسئلے میں زیادہ مصروف تھی یا شاید اسے صحیح اندازہ نہیں تھا کہ سید مودودی کا مشورہ کتنا قیمتی اوربروقت تھا. اس پر عمل درآمد سے پاکستان کا دردِ سرختم ہوجاتا اور45لاکھ کشمیری مسلمانوں کوآزادی مل جاتی۔ اگر ان کی بات کو بروقت مان لیا جاتا توآج کشمیر پاکستان کے قبضے میں ہوتا۔

قائد اعظم اور سید مودودی

قائداعظم سید مودودی کو ایک نیک مخلص،دیانتداراورقابل انسان سمجھتے تھے۔ قائد اعظم کی علامہ اقبال کے ساتھ بھی دوستی تھی،دونوں ہندوستانی مسلمانوں کی آزادی اور پاکستان کے حصول کےلیے آپس میں صلاح مشورے کیاکرتےتھے۔ قائد اعظم، علامہ اقبال کی بڑی عزت کرتے تھے اور ان کی باتوں کو بہت اہم سمجھتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اقبال ہی نے سید مودودی کو حیدر آباد دکن سے پنجاب بلایا تھا چنانچہ ایک دفعہ جب ابھی پاکستان نہیں بنا تھا، لوگوں نے قائد اعظم سے پوچھا کہ مودودی کیسا آدمی ہے تو قائد اعظم نے جواب دیا کہ وہ بہت مخلص،نیک اور قابل شخص ہے۔ مسلم لیگ پاکستان بنائے گی، اور جب پاکستان بن جائے گا توپھر ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ پاکستان کو اسلامی سلطنت کیسے بنائیں۔ سید مودودی اور ان کی جماعت اسلامی اس وقت کی تیاری کررہی ہے۔ اس لیے وہ بہت ہی ضروری اور مفید کام کر رہے ہیں۔ یہی بات قائداعظم نے جماعت اسلامی کے ایک وفد سے دہلی میں بھی کی تھی،جب جماعت اسلامی کا وفد قائد اعظم سے ملا، اور ان کے سامنے جماعت اسلامی کے اغراض و مقاصد پیش کیے تو قائد اعظم نے فرمایا:
"مسلم لیگ ہنگامی حالات سے دوچار ہے اور ضروری کام میں مصروف ہے البتہ جب پاکستان قائم ہوجائے گا تو جماعت اسلامی کاکام شروع ہوجائےگا۔"انہوں نے جماعت اسلامی کے کام کوبھی پسند کیاتھا۔

اسلامی نظام کے راستے کی رکاوٹیں

پاکستان میں اسلامی نظام کا مطالبہ اور وہ بھی مسلمان حکمرانوں سے اگرچہ تعجب کی بات تھی لیکن وہ بھی سید مودودی کو مہم بنا کر اٹھانا پڑا چونکہ حکمران اس پر آمادہ نظر نہ آتے تھے۔ یوں تو مسلمان اسلام کا شیدائی ہوتا ہے لیکن سید مودودی نے جب اسلامی نظام کا مطالبہ پاکستان میں کیا تو اس کے بجائے کہ پاکستان کی حکومت اس کام کو فوراً کرتی اور سید مودودی کاتعاون حاصل کرتی اس نے اسلام کے لیے حاصل کیے ہوئے پاکستان میں اسلامی نظام کا مطالبہ کرنے کی یہ سزا سید مودودیؒ کو دی کہ انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیاگیا۔ یہ بڑی زیادتی تھی جب تک قائد اعظم زندہ رہے انگریز کے تربیت یافتہ افسر اور لیڈر سید مودودی کے خلاف کچھ نہ کر سکے مگر جب قائد اعظم فوت ہوگئے تو ان کی وفات کے چند دن بعد ہی سید مودودی اور ان کے ساتھیوں کواکتوبر1948ء میں اسلامی نظام کا مطالبہ کرنے کے جرم میں گرفتار کرلیاگیا۔ گرفتاری سے ایک ڈیڑھ ماہ پہلے ان کی جماعت کے اخبارات"کوثر"جہان نو اور روزنامہ "تسنیم"بھی بند کردیے گئے تاکہ کوئی آوازِاحتجاج بلند نہ ہو۔

زندگی کی پہلی جیل

اسلامی نظام کا مطالبہ اٹھانے کے جرم میں سید مودودی کو گرفتار کیاگیا لیکن الزام یہ دھرا گیا کہ وہ جہادِ کشمیر کے مخالف تھے۔ اس جیل جانے کی روداد انہوں نے خود ہی ایک مجلس میں بیان کی جو انہیں کے الفاظ میں درج کی جاتی ہے۔
"دراصل میرے اسلامی نظام کے مطالبے کو دبانے کےلیےہی میرے خلاف مختلف کارگزاریاں کی جاتی رہی ہیں۔ کبھی میری کردار کشی کی گئی اور کبھی مجھ پر سیاسی بہتان لگائے گئے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ایسی کوئی چیز کبھی بھی مجھے میرے مؤقف سے نہیں ہٹا سکی۔ جب قرار داد مقاصد پاس ہوئی تواس کا متن مجھے ملتان جیل میں پہلے دکھایا گیا تھا لیکن میرے مطالبات کو تسلیم کرلینے کے باوجود حکومت میری نظر بندی میں بار بار چھ چھ ماہ کی مسلسل توسیع کرتی رہی۔ میری نظربندی میں چوتھی بار توسیع ہوچکی تھی جب بائیں بازو کے ایک دانشور کی درخواست پر عدالت نے یہ فیصلہ سنایا کہ کسی کی نظر بندی کو تین بار سے زیادہ توسیع نہیں دی جاسکتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ درخواست میری طرف سے کی جاتی تو فیصلہ شاید وہ نہ ہوتا جو اب ہوا تھا۔ بہر حال بائیں بازو کے ایک نظربند کے صدقےپاکستان کو یہ نعمت نصیب ہوئی کہ اٹھارہ ماہ سے زیادہ کسی کو نظر بند نہیں رکھا جاسکتااور اس طرح میں بیس ماہ کے بعد1950ء میں رہاہوا"

اپنی پہلی قید و بند کے بارے میں اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے سید صاحب نے فرمایا:۔
"میں نے اپنی پہلی نظر بندی میں لکھنے پڑھنے کاخاصا کام کیا۔ مسئلہ ملکیت زمین مرتب کی،تفہیم کامقدمہ لکھا، حدیث کی کتاب ابوداوٗد کا انڈکس تیارکیا، کتاب "سود" اور اسلام اور جدید معاشی نظریات بھی وہیں مکمل کیں۔ خدا کا شکر ہے کہ میرا وہاں ایک دن بھی ضائع نہ ہوا"
سید مودودی کی گرفتاری رنگ لائی اور مارچ49ء میں قرار داد مقاصد پاس ہوگئی۔ اس طرح یہ بات مان لی گئی کہ پاکستان میں اسلامی قوانین کا ہی نفاذ ہوگا۔

قادیانی سازش

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اشتراکی سازش کے بعد  1953 ء میں ملک میں پہلی قادیانی سازش ہوئی. مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیاجائے لیکن حکومت کے مخصوص عناصراور قادیانیوں نے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا تاکہ ایسا مطالبہ اٹھانے والوں سے انتقام لیا جاسکے۔ اسلامی نظام کا راستہ روکنےکا یہ حکومت کادوسرا حربہ تھا۔

اس موقع پر سید مودودی نے "قادیانی مسئلہ"کے نام سے ایک چھوٹی سی کتاب لکھ کراصل مسئلے کو واضح کردیا اور ساتھ ہی اپیل کی کہ یہ ایک دستوری مسئلہ ہے اس پر فساد اور خون خرابے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے دستور کے ذریعے حل کیاجائےلیکن حکومت تو خود فساد کرنے پرتُلی ہوئی تھی چنانچہ اس نے بڑے پیمانے پر فسادات کرائے۔ ہزاروں مسلمانوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کیا اور اس طرح مسلمانوں کو بتا دیا کہ ان کے لیے دین کی بنیاد پرکوئی مطالبہ اٹھانا اور حکومت سے منوانا ممکن نہیں ہے۔ جولوگ ملک میں دین کانام لیں گےانہیں سزا ملے گی۔

دارو رسن کی آزمائش

حکومت کے بے دین افسروں نے قادیانی مسئلے پر فسادات سے خوب فائدہ اٹھایا. حکومت اور اس کے افسر تو سید مودودی سے پہلے ہی ناراض تھےانہوں نے سید مودودی کو بھی قادیانی مسئلہ نامی کتابچہ لکھنے کے جرم میں گرفتار کرلیا اور پھرفوجی عدالت کے ذریعے انہیں یہ کتابچہ(جو ہر جگہ فروخت ہورہا تھااور اب تک فروخت ہورہاہے اور کبھی خلافِ قانون نہیں ہوا) لکھنے کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنادیا۔ یہ حکومت کابدترین جرم تھا وہ تمام لوگ جواسلام اور پاکستان کے مخالف تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست بن جائے حکومت کی اس کارروائی سے بہت خوش ہوئے کہ پاکستان میں اسلام کے سب سے بڑے سپاہی کو ختم کیاجارہاتھا۔ مگر عام مسلمان تو صدق دل سے اسلام کو پسند کرتے تھے اور اس کارروائی کو جرم کہتے تھے۔ سید مودودی کی سزا کی خبر سن کر انہیں بہت افسوس اور دُکھ ہوا۔ پورے ملک میں حکومت کے اس فیصلے پر ناراضگی کی زبردست لہر دوڑ گئی۔ بڑے بڑے شہروں اور چھوٹے چھوٹے قصبوں تک میں ہرجگہ ہڑتالیں ہوئیں، جلوس نکلے،جلسےہوئے۔ حکومت کوتار اورخطوط بھیجے گئے۔ پاکستانی اخبارات اور رسائل کے ایڈیٹروں نے ایک مشترکہ بیان میں اس فیصلے پر حکومت سے سخت احتجاج کیا۔ پاکستان کے وکیلوں،طالب علموں،اساتذہ اور دوسرے مختلف طبقوں کی انجمنوں اور مجلسوں نے بھی سید مودودی کو سزائے موت کا حکم سنائے جانے پر حکومت کے خلاف سخت ناراضگی اور غم وغصے کا اظہار کیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ملک کے اندر اور باہر عالم اسلام کی بے شمار شخصیتوں اور اخبارات نے نام نہاد فوجی عدالت کے حکم کو جو کہ ایک سیاسی انتقام تھا غلط قراردیا اور اس سزا کو منسوخ کرنے کا مسلسل مطالبہ کیا۔ ساری دنیا کے مسلمانوں نے حکومت پاکستان کو احتجاجی تار دیے۔ غرض اتنا زبردست احتجاج کیا گیا کہ ہند و پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان کے علاوہ دوسرے ملکوں سے بھی بڑے بڑے علماء اور مسلم لیڈروں نے حکومت پاکستان پر اس سزا کی وجہ سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اوراس سزا کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ سزا حیرت ناک اور غیر متوقع تھی اور خالص سیاسی وجوہ کی بنا پر دی گئی تھی، جو سراسر ظلم پر مبنی تھی۔

مولانا مودودی کی سزائے موت پر عالم اسلام کا احتجاج و اضطراب
سید مودودی کو موت کی سزا کا حکم کوئی معمولی بات نہ تھی اس پر ہرانسان تڑپ اٹھا، ہر مسلمان چیخ اٹھا، لوگ دھاڑیں مارمار کر رونے لگے۔ سارے عالم اسلام میں اضطراب پھیل گیا،ہرشخص سراپا احتجاج بن گیا۔
مصر کی سب سے بڑی اسلامی جماعت الاخوان المسلموں کے رہنما اور ایک بہت بڑے قانون دان علامہ حسن الہضیبی نے حکومت پاکستان کو ایک تار روانہ کیا جس میں لکھا تھا"سیدابو الاعلٰی مودودیؒ کی سزا کا حکم دراصل تحریک اسلامی کو سزا دینے کے برابر ہے۔ یہ ایک بہت بڑا جرم ہے. اقصائے عالم کے سارے مسلمان اس حکم کو نفرت و بیزاری کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کی تنسیخ کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ پاکستان کے ساتھ مسلمانان عالم کی ہمدردیاں اور روابط اسلام کی اساس پر قائم ہیں۔ عالم اسلام کے ایک اور ممتاز عالم حضرت علامہ نور المشائخ المجددی نے بھی کابل سے ایک تار بھیجا جس میں لکھا تھا:
"سید مودودی کا شمار جلیل القدر علمائے دین میں ہوتا ہے۔ علمائے حق میں سے ایک دینی شخصیت کی سزا درحقیقت سزا کے روپ میں دین کی توہین وسزاہے"

لجزائر کے علماء نے سید مودودی کی سزائے موت پرایک بیان میں کہا :
" سید مودودی کو سزائے موت کا حکم محض ایک فرد بشر کی موت کافیصلہ نہیں ہے بلکہ اسلام کی تلواروں میں سے ایک تلوار کو توڑ دینا ہے۔ اسلام کی آوازوں میں سے ایک آواز کو خاموش کردینا ہے اور اسلام کے وقار و اعزاز کو مٹادینا ہے۔ ہم جمعیۃ العلماء الجزائرکی جانب سے اور مغرب اقصٰی کے تین کروڑ مسلمانوں کی طرف سے مولانا مودودی کی سزائے موت اورسزائےقید کے احکام فی الفور واپس لینے کی درخواست کرتے ہیں"
انڈونیشیا کی ساٹھ مسلم جماعتوں نے اپنے بیان میں کہا :
"مولانا مودودی صاحب کی اگر پاکستان کو ضرورت نہیں تو دنیا ئے اسلام کو ان کی زبردست ضرورت ہے. ہم انڈونیشیا کے مسلمان ان کے ساتھ ہیں اور ان کے خیالات کی آج مسلم دنیا کو اشد ضرورت ہے۔ مولانامودودی دنیائے اسلام کی قیمتی امانت ہیں"
فلسطین کے مفتی اعظم الحاج محمد الحسینی نے پاکستان کے گورنر جنرل اور وزیر اعظم کے نام ایک تار بھیجا جس میں درج تھا:
"الاستاذ سیدابوالاعلٰی امیر جماعت اسلامی پاکستان کے متعلق سزا کی خبر نےان تمام مسلمانوں کو جنہیں پاکستان سے محبت ہے اور جو پاکستان سے اچھی توقعات رکھتے ہیں، شدید صدمہ پہنچایا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان دانشمندی سے کام لے گی اور استاذ مودودی کی سزا کو فوراً منسوخ کردے گی"
افغانستان کے مشہور عالم نور المشائخ ملا شور بازارنے تار میں کہا:۔
"مولانا مودودی کی سزا کا حکم شریعت اسلام سے علانیہ بغاوت ہے اور ان باطل پرستوں کی ہمت افزائی ہےجو اسلام کے خلاف نبردآزما ہیں"
شیعانِ عراق کے مجتہد اعظم حضرت الامام محمد الخاص اور عراق کے اہل سنت والجماعت کے پیشوائے اعظم علامہ الزہادی نے عراق،سعودی عرب،مصراور ایران کے حکمرانوں کوایک تار بھیجا جس میں ان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ مولانا مودودی کی سزا منسوخ کرانے کی کوشش کریں۔
دمشق(شام)میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے شامیوں نے سید مودودی کی سزا کے خلاف مظاہرے کیے۔ ماریشیس کے مسلمانوں نے بھی تاروں اور خطوط کے ذریعے حکومت پاکستان سے زبردست احتجاج کیا۔

سید مودودی کی جیل میں استقامت و پامردی

سید مودودی کی سزا کے خلاف دنیا بھر میں تو اس قدر احتجاج ہو رہا تھامگر سید مودودی کو فوجی عدالت کے اس فیصلے پر ذرہ برابر بھی گھبراہٹ نہیں تھی . جب ان کے ساتھیوں نے جیل میں ان سے پوچھا کہ کیا حکومت کے فیصلے کے خلاف آپ کی طرف سے رحم کی اپیل دائر کی جائے تو انہوں نے پھانسی کی کوٹھڑی میں کھڑے ہوکر فرمایا:
"نہیں،ہرگز نہیں۔ میں نہیں چاہتاکہ میری طرف سے یا میرے خاندان کے کسی فرد کی طرف سےیا خود جماعت کی طرف سےکوئی رحم کی درخواست پیش کی جائے"
اس کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے عمرفاروق کو تسلی دیتے ہوئےفرمایا"بیٹا ذرانہ گھبرانا! اگرمیرے پروردگار نے مجھے اپنے پاس بلانا منظورکرلیا ہے تو بندہ بخوشی اپنے رب سے جاملے گا اور اگر اس کا ہی ابھی حکم نہیں آیا تو پھر چاہے یہ لوگ الٹے لٹک جائیں مجھ کو نہیں لٹکا سکتے"
چنانچہ سید مودودی نے اپنی سزا کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی۔ انہوں نے کہا اگر میں ظالم حکمرانوں کے سامنےدب گیا،اور اپیلیں کرنے لگا تو پھر اس ملک سے انصاف کا جنازہ اٹھ جائے گا۔ بالآخر حکومت نے خود ہی سزائے موت کوچودہ سال کی قید میں تبدیل کردیا۔
سید مودودی کے ساتھی تو کچھ عرصے کے بعد جیل سے رہا کردیے گئے اور انہوں نے واپس آکر دین کے کام کو آگے بڑھایا لیکن سید مودودی کو مزید دوسال اور گیارہ ماہ تک جیل میں رکھا گیا،اور بالآخر وہ عدالتِ عالیہ کے ایک حکم کے ماتحت ہی رہا ہوئے۔

روداد زنداں

دوسری بار جیل جانے کی روداد اور اس کی وجوہ کا تذکرہ کرتے ہوئے سید مودودی نے ایک مجلس میں بتایا۔
"یہ غلط فہمی ہے کہ مجھے قادیانی مسئلےکے فسادات کے سبب گرفتار کیاگیا ، حقیقت یہ ہے کہ وہ قید بھی اسلامی دستور کی جدوجہد ہی کی ایک سزا تھی جس کے لیےپہلا بہانہ ملتے ہی فائدہ اٹھایا گیا۔ یہ سازش اس لیے کی گئی تھی کہ اس ملک میں سے اسلام اور جمہوریت دونوں کو بیک وقت رخصت کردیا جائے۔ ظاہر ہے کہ قرار داد مقاصد پاس ہونےکے بعد بھی اسلامی دستور بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ چنانچہ جماعت اسلامی نے باقاعدہ طور پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ دسمبر52ء کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ملک کو دستور دیاجائے اوراس دستور میں جماعت اسلامی کے آٹھ نکات ضرور شامل ہوں۔ وہ آٹھ نکات یہ تھے۔
1 ۔   ملک کا قانون اسلامی شریعت کے مطابق ہوگا۔
2.  کوئی ایسی قانون سازی نہیں کی جائے گی جو قانونِ شریعت کے خلاف ہو.
3. تمام ایسے قوانین کو منسوخ کیاجائےگا جو شریعت کے احکام یا اصولوں سے متصادم ہوں۔
4۔  حکومت کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ان برائیوں کو مٹائے جنہیں اسلام مٹانا چاہتا ہے اوران بھلائیوں کوفروغ دے جنہیں اسلام فروغ دینا چاہتا ہے۔
5۔   لوگوں کی شہری آزادیوں کو ان کا جرم کھلی عدالتوں میں ثابت کیے بغیر اور انہیں صفائی کا موقع دیے بغیر، سلب نہیں کیاجائے گا۔
6۔   لوگوں کو حق ہوگا کہ انتظامیہ یا مقننہ اگر اپنے حدود و اختیارات سے تجاوز کریں تو وہ ملک کی عدالتوں سے قانونی چارہ جوئی کرسکیں۔

7۔    عدلیہ انتظامیہ کی مداخلت سے آزاد ہوگی۔

 8 ۔   حکومت اس بات کی ضامن ہوگی کہ ملک میں کوئی شخص بنیادی ضروریات زندگی یعنی غذا،لباس مکان اورعلاج سے محروم نہ رہے۔