December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا علمی اور فقہی مقام

 

ڈاکٹرسلس سلطانہ چغتائی

حضرت عائشہ ؓ تعالیٰ عنہا بنت ابوبکر ؓ اسلامی تاریخ میں ام المؤمنین اور مسلمان فقیہہ کی حیثیت سے مشہور ہیں ۔ آپ ؓ کا لقب صدیقہ اور حمیرہ او ربھانجے کے حوالے سے ام عبداللہ کنیت تھی ۔ حضرت عائشہ ؓ اسلام کے ان برگزیدہ لوگوں میں سے ہیں جن کے کانوں’’نے کبھی کفر و شرک کی آواز نہیں سنی ۔ آپ ؓ کی پیدائش سے چار سال قبل حضرت ابو بکر ؓ اسلام قبول کر چکے تھے ۔
ایک مسلمان عورت کے لیے سیرت عائشہ ؓ میں عورت کی زندگی کے تمام پہلو شادی ، رخصتی ۔ شوہر کی خدمت و اطاعت ، سوکن سے تعلقات ، لاد لدی ، بیوگی ، غربت ،خانہ داری ، رشک و حسد غرض کہ ہر حالت کے لیے تقلید کے نمونے موجود ہیں ۔ آپ ؓ کی زندگی علمی ، عملی ، اخلاقی ہر قسم کے گوہر گراں مایہ سے مالا مال ہے ۔ یہ ایک ہجلہ نشین حرم نبوت ؐ کی پاک زندگی کا نمونہ ہے جو9سال نبوت عظمی کے حامل دنیا کے افضل ترین انسان کی شریک حیات رہیں ۔
حضرت عائشہ ؓ نے اپنی پوری زندگی عورتوں اور مردوں میںا سلام اور اس کے احکام و قوانین اور اس کے اخلاق و آداب کی تعلیم دینے میں صرف کر کے بیش بہا خدمات انجام دیں حضرت عائشہ ؓ کے ذریعے سے جتنا علم دین مسلمانوں کو پہنچا اور فقہ اسلامی کی معلومات حاصل ہوئیں عہد نبوت ؐ کی عورتیں تو در کنار مرد بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ ان سے 2210 احادیث مروی ہیں وہ صرف احادیث روایت کرنے والی ہی نہیں تھیں بلکہ فقیہہ اور مفسرہ اور مجتہد بھی تھیں ۔ انہیں بالاتفاق مسلمان عورتوں میں سب سے بڑی فقیہہ جانا جاتا ہے ۔ ان کا شمار مدینہ کے ان چند علماء میں ہوتا تھا جن کے فتوے پر لوگوں کو کلی اعتماد تھا ۔ وہ غیر معمولی ذہانت کی مالک تھیں جنہیں اپنی عظیم ذہنی صلاحیتوں کی بناء پر اس انقلابی معاشرے میں حضور ؐ کے ساتھ مل کر اتنا بڑا کام کرناتھا جتنا دوسری تمام ازواج مطہرات سمیت اس وقت کی کسی عورت نے نہیں کیا بلکہ دنیا کے کسی رہنما کی بیوی بھی اپنے شوہر کے کام کی تکمیل میں ایسی زبر دست معاون و مدد گار نہیں بنی جیسی حضرت عائشہ ؓ ثابت ہوئیں ۔ ان ؓکے بچپن میں ان کی صلاحیتوں کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہ تھا ۔ اس بناء پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ؐ کی معیت کے لیے ان کا انتخاب خود کیا تھا ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور اکرم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ مجھے خواب میں تم کو دو دفعہ دکھایا گیا اور کہا گیا کہ یہ آپ ؐ کی بیوی ہے ۔
آں حضرتؐ کی کثرتِ ازواج اور خصوصاً حضرت عائشہ ؓ کی کمسنی کی شادی میں بڑی مصلحت ہے ۔ اگرچہ آنحضرت ؐ کے دائمی فیضان صحبت نے سینکڑوں مردوں کو سعادت کے درجے پر پہنچایا لیکن فطرتاً یہ موقع عام عورتوں کو میسر نہیں آ سکتا تھا ۔ صرف ازواج مطہرات ہی اس فیض سے متمتع ہو سکتی تھیں اور یہ نور آہستہ آہستہ انہی ستاروں کے ریعے سے پوری کائنات نسوانی میں پھیل سکتا تھا ۔ حضرت عائشہ ؓ کا لڑکپن حضور اکرم کی صحبت میں گزرا ۔ حضرت ابو بکر ؓ صدیق سارے قریش میں علم و انساب کے ماہر تھے ۔ شعر و ادب میں ان کا جواب نہیں تھا ۔ حضرت عائشہ ؓ نے بھی اسی باپ کی گود میں پرور پائی تھی ۔ اس لیے علم الانصاب کی واقفیت اور شاعری ان کا خاندانی وصف تھا ۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ اپنی اولاد کی تربیت میں بہت سخت تھے ۔ شادی کے بعد بھی حضرت عائشہ ؓ پر روک ٹوک کرتے تھے ۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی تعلیم و تربیت کازمانہ شادی کے بعد شروع ہوا ۔ انہوں نے اسی زمانے میں قرآن پڑھنا سیکھا ۔ آپ ؓ کو علم دینیہ کے علاوہ تاریخ ، ادب اور طب میں بھی ید طولیٰ حاصل تھا ۔ علم دینیہ کی تعلیم ہر لمحہ معلم شریعت سے حاصل کی تھی ۔ حضور اکرم ﷺ کی تعلیم و ارشادات کی مجلس روزانہ مسجد نبوی ؐ میں منعقد ہوتی تھیں ۔ یہ مسجد حجرۂ عائشہ ؓ سے ملحق تھی اس بناء پر آپ ؓ اپنے حجرے ہی میں بیٹھ کر اس مجلس میں ذہنی طور پر شریک رہتی تھیں ۔
اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تو بعد میں حضور اکرم ﷺ سے دریافت فرما لیں ۔ آپؓ نے عورتوں کی درخواست پر ہفتہ میں ایک دن ان کی تعلیم و تلقین کے لیے مخصوص کر دیا تھا ۔ حضرت عائشہ ؓ کی یہ عادت تھی کہ ہر مسئلہ کو بلا تامل آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کرتیں اور جب تک تسلی نہ ہو جاتی سوال کرتی رہتیں ۔ وہ فہم مسائل ، اجتہاد فکر اور حفظِ احکام میں تمام ازواج سے ممتاز تھیں ۔ حضرت عائشہ ؓ انسانیت کی تکمیل ، اخلاق کا تزکیہ ، ضروریات دین سے واقفیت اسرار شریعت کی آگاہی ، کلام الٰہی کا تزکیہ ، ضروریات دین سے واقفیت ، اسرارِ شریعت کی آگاہی ، کلام الٰہی کی معرفت احکام نبوی ؐ کے علم سے مکمل طور پر بہرہ ور تھیں ۔ آپ ؓ کے نکاح کے ذریعے عرب کی بہت سی لغو رسموں کو توڑا گیا ۔ سب سے پہلی تو یہ کہ عرب منہ بولے بھائی کی بیٹی سے نکاح کر کے یہ تصور غلط قرار دیا ۔ دوسری رسم یہ تھی کہ اہل عرب ماہ شوال میں شادی کو منحوس سمجھتے تھے کیونکہ شوال میں کبھی یہاں طاعون پھیلا تھا ۔ حضرت عائشہ ؓ کی شادی اور رُخصتی دونوں شوال میں ہوئیں ۔ عرب میں قدیم دستور تھا کہ دلہن کے آگے آگے آگ جلاتے تھے ۔ اس رسم کو بھی ختم کیا گیا ۔
حضرت عائشہ ؓ کا گھر مال و اسباب سے خالی تھا ۔ مگر آپ ؓ کو اس کی پرواہ نہیں تھی ۔ آپ ؓ روایت کرتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ہم کو پانچ چیزوں کے استعمال سے منع فرمایا ۔ ’’ ریشمی کپڑے ، سونے کے زیور ، سونے اور چاندی کے برتن ، نرم گدا یا کتان آمیز ریشمی کپڑے‘‘ آپ ؓنے ہمیشہ ان چیزوں سے اجتناب فرمایا ۔ آپؓ اپنے شوہر کی محبوب بیوی تھیں ۔ شوہر کی زندگی اکثر عورتیں اطاعت گزار ہوتی ہیں ۔ لیکن شوہر کے انتقال کے بعد وہ آزاد ہو جاتی ہیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ مرتے دم تک اطاعتِ رسول ؐ پر قائم رہیں ۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی تھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’عورتوں کا جہاد حج ہے ‘‘ اس حکم کے سننے کے بعد وہ اس کی پابندی تا حیات کرتی رہیں ۔ اور کوئی سال حج سے خالی نہ گیا ۔ حضرت خدیجہ ؓ حضور اکرم ﷺ کی پہلی زوجہ محترمہ تھیں ۔ حضرت عائشہ ؓ سے نکاح کے وقت وہ حیات نہیں تھیں مگر حضور اکرم ﷺ کے قلب مبارک میں ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہی ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ان پر رشک کرتی تھیں ۔ اور فرماتی تھیں کہ ’’ جس قدر خدیجہ ؓ پر مجھ کورشک آتا ہے کسی دوسری بی بی پر نہیں آتا تھا ‘‘ اس لیے کہ آپ ﷺ ان کو بہت یاد کرتے تھے ۔ اور سال میں ایک مرتبہ ان کی طرف سے قربانی کرتے تھے اور ان کی تمام سہیلیوں کو تحفہ بھیجتے تھے ۔ حضرت عائشہ ؓ نے ان کی فضیلت اور شرف سے کبھی انکار نہ کیا ۔
حضرت عائشہ ؓ ہر سال حج کے لیے مکہ جاتیں آپ ؓ کے خیمے میں سائلوں کا ہجوم رہتا جن سائل میں صحابہ میں اختلاف ہوتا تھا ۔ لوگ فیصلے کے لیے انہی کی عدالت میں رجوع کرتے ۔ آپﷺ کے زیادہ تر مسائل زن و شوہر کے تعلقات ، حضور اکرم ﷺ کی عبادات ذاتی اخلاق کے متعلق ہیں ۔
حضرت عائشہ ؓ نے مذہب اخلاق اور تقدس کے ساتھ مذہبی ، علمی ، سیاسی ، فقہی حدیث ، فرائض ، احکام ، حلال و حرام ، طب و حکمت غرض کہ بہت سے علوم کی جامع اور اپنے زمانے میں ان علوم میں سب سے آگے تھیں ۔آپ ؓ نے اپنی زندگی کے کارناموں سے خدا پرستی کے نمونوں سے ، اخلاق کی عملی مثالوں سے ، روحانیت کی پاک تعلیمات سے ، دین و شریعت اور قانون کی تعلیم و تشریح سے دنیا کی عورتوں کے لیے ایک کامل زندگی کا بیش بہا نمونہ چھوڑا ہے ۔ ابو مسلم عبدالرحمن کا قول ہے ’’ کہ رسول اللہ کی احادیث و سنن ، فقہی آراء آیات کے شانِ نزول اور فرائض میں حضرت عائشہ ؓ سے بڑھ کر کوئی عالم نہ تھا ‘‘
علمی کمالات دین کی خدمات اور حضوراکرم ﷺ کی تعلیمات و ارشادات کی تبلیغ و اشاعت میں ام المومین کا کوئی ثانی نہیں ۔ آپ ؓ کے مرتبہ کے تعین کے لیے حضور اکرم ﷺ کی یہ حدیث کافی ہے ’’عائشہ کو عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جس طرح ثرید کو عام کھانوں پر ‘‘۔